پاکستان میں نظام خلافت کیسے ممکن ہے ؟ از طارق اقبال سوہدروی


بعض دینی جماعتیں اور انفرادی طور پر کئی علماء  لوگوں کو نظام خلافت کی طرف بُلاتے نظر آتے ہیں ۔ جمہوریت کے نقصانات اور خلافت کے فوائد کے حق میں طویل دلائل دیتے نظر آتے ہیں  مگر افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ کسی کے  پاس موجودہ  جدید سیاسی حالات کے لحاظ سے کوئی بظاہرعملی لائحہ عمل موجود نہیں ہے ۔   یا  شاید ابھی تک میرے مطالعہ میں نہیں آیا ہے ۔ مجھے بھی نظام خلافت پسند ہے ،میں بھی چاہتا ہوں کہ موجودہ نظام کی بجائے وہ نظام دوبارہ قائم ہو جائے کہ جس کے دوبارہ قائم ہونے کی  بشارت نبی رحمت ﷺ  ،چودہ سو سال قبل فرما چکے ہیں ۔تاہم اس حوالے سے میری عاجزانہ رائے کے مطابق درج ذیل طریقے سے نظام خلافت قائم کیا جاسکتا ہے ۔

نظام خلافت  کے لیے غیر جمہوری ممکنہ صُورتیں

انفرادی طور پر تمام دینی جماعتیں نظام خلافت کی داعی ہیں  اور اس کو قائم کرنےکے لیے ضروری لوازم  سے بھی آگاہ  ہیں ۔ اور اس کے لیے وہ یہ بھی جانتی ہیں کہ تمام دینی جماعتوں کا ایک امیر ہومگر مسئلہ یہ پیدا ہو جاتا ہےکہ پاکستان میں کئی مکاتب فکر موجود ہیں  اور اس سے بھی قابل افسوس حقیقت یہ ہے کہ ہر ایک مکتبہ فکر بھی کئی  گروہوں میں تقسیم ہے ،تو پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ تمام مکاتب فکر باہم رضامندی سےاپنا ایک امیر منتخب کرلیں ۔  اور اگر کسی طریقے سے یہ مسئلہ بھی حل ہوجائے  تو پھر یہ سوال باقی رہ  جاتا ہے کہ کیا اس نئے سیٹ  اَپ کو موجودہ  پارلیمنٹ اور فوج تسلیم کر لے گی ؟ تاہم اس حوالے سے بھی میرے نزدیک تین صورتیں ممکن ہو سکتی ہیں ۔فرض کریں ،پاکستان کی بڑی دینی جماعتوں میں سے  جمعیت علماء اسلام(فضل الرحمٰن گروپ)، جمعیت علماء پاکستان (نورانی گروپ)،جماعت الدعوۃ،پاکستان عوامی تحریک اور جماعت اسلامی مشترکہ طور پرا یک امیر  کا انتخاب کرلیتے ہیں ،مجلس شوریٰ، صوبوں کے گورنرز اور جملہ شعبہ جات کے سربراہان کا انتخاب کر لیا جاتا ہے۔

پہلی صورت

 منتخب امیر اور اس کی مجلس شوریٰ ،وزیر اعظم اوراس کی کابینہ سے ملاقات کریں  اورا نہیں اس بات پر قائل کریں کہ وہ ہمارے سیٹ اَپ کو قبول کر لیں ، ریفرنڈم کی رائے پر بھی غور کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ  یہ منصفانہ ہو اور اس میں حصہ لینے والا طبقہ صرف  تعلیم یافتہ ہو ۔

دوسری صورت

اگر پُرامن طریقے سے موجودہ  وزیراعظم اور پارلیمنٹ اس  سیٹ اَپ کو قبول نہیں کرتی تو پھر منتخب امیر اور اس کی مجلس شوریٰ  ، پرامن طورپر پورے پاکستان میں دھرنا دیں اور لوگوں کی تعداد سے دنیا اور فوج کو بھی بتادیں کہ ہوا کا رُخ کس طرف ہے  اور پاکستان کی عوام کی اکثریت کیا چاہتی ہے ۔

تیسری صورت

اگر مندرجہ بالادونوں صورتوں سے پُرامن طریقے سے اقتدار کی منتقلی نہیں ہوتی  تو پھر ایک ہی طریقہ رہ جاتا ہےکہ زبردستی موجودہ پارلیمنٹ کو معزول کیا جائے  اور اس صوُرت میں کافی خون خرابہ بھی ہو گا اور آپ کو اس کےلیے کافی پلاننگ اور قربانی بھی دینا پڑے گی۔

موجودہ جمہوریت کے ذریعے نظام خلافت کا قیام

آخری صورت (میر ے نزدیک) یہ ہے کہ موجودہ جمہوری نظام میں موجود نقائص کو دور کیا جائے اور درج ذیل بنیادی تبدیلیوں کے بعد انتخابات میں حصہ لیا جائے ۔تاہم ایک بات کا  میں برملا اظہارکرنا چاہتاہوں کہ اگر اوپر ذکرکردہ دینی جماعتیں واقعتاً نظام خلافت کو قائم کرنے کےلیے مخلص اور قربانی کاجذبہ پیدا کرلیں تو  صرف چند دن میں پاکستان میں اسلام کا نفاذ ممکن ہو سکتا ہے ۔۔ یہ جماعتیں ملکر بہترین خلافت کا نظام قائم کر سکتیں ہیں مگر افسوس کہ یہ مغربی جمہوریت کے چکر میں اپنے وسائل اور کارکنان کی محنتوں کو ضائع کر رہی ہیں اور شاید یہی وجہ کہ  یہ اللہ کی نصرت سے کوسوں دور ہیں ۔ دینی جماعتیں ہر وقت سیکولر لوگوں اور جماعتوں اور امریکہ کو گالیاں دیتی رہتی ہیں مگر اپنے گریباں میں منہ ڈال کر نہیں دیکھتیں کہ ان کا اپنا کردار کیا ہے اور وہ اسلام کے ساتھ کتنی مخلص ہیں ۔۔ کیا نواز شریف یا عمران خان میں سے کسی ایک کے ساتھ مل کر اسلام کا نفاذ ممکن ہے ؟؟؟ اگر نہیں تو پھر یا تو سب مل کر نظام خلافت قائم کرو یا ڈاکٹر اسرار احمد صاحب کی تجاویز کے مطابق مروجہ جمہوریت میں بنیادی تبدیلیوں کے ساتھ اجتماعی طور پر الیکشن میں حصہ لو وگرنہ عوام کو صاف بتادو کہ ہم ایک اچھی فلاحی حکومت دینے کا وعدہ تو کرتے ہیں مگر اسلام کے نفاذ کی امید ہم سے رکھنا چھوڑ دو تاکہ لوگ بھی آپ کو سچا جانیں اورآپ اللہ کے دربار میں اس کی پکڑ سے بھی محفوظ رہیں ۔  
میری رائے میں نظام میں تبدیلی کرائے  بغیر انتخابات میں حصہ لینا ،گویا دینی جماعتوں کے لیے سیاسی خود کُشی کے مترادف ہے ۔ تاہم اس حوالے جب میں نے غوروفکر کیا  تو درج ذیل نکات سامنے آئے ۔۔۔ بعد میں جب ڈاکٹر اسرار صاحب کی کتب کا مطالعہ کیا تو  یہ جان کر حیرت انگیز فرحت محسوس ہوئی کہ الحمد للہ ان کی سوچ اور میری کم فہم  سوچ میں کافی مماثلت تھی ، جس سے مجھے کافی  حدتک اپنے مؤقف کی پختگی کا احساس ہو ا ۔۔۔ا ور دُکھ بھی ، کہ ہماری دینی جماعتیں ۔۔۔ ڈاکٹر اسرار صاحب جیسے دور اندیش اور مفکر سے کیونکر راہنمائی حاصل نہ کر سکیں ۔
 میری پختہ رائے  یہ ہے کہ   دینی جماعتیں موجودہ باطل نظام سے الگ ہوجائیں ۔۔تمام جماعتیں باہم مشورے سے اس نظام کی خرابیاں عوام الناس کے سامنے بیان کریں اور اس نظام کو درست کرنے کے لیے اپنےمطالبات پیش کریں اور منوائیں ، احتجاج کریں۔۔۔ ریلیاں نکالیں ۔۔۔دھرنے دیں ۔۔۔ضرورت پڑے تو سول نافرمانی کریں ۔۔۔ وغیرہ وغیرہ ۔۔۔ مطالبات یا تجاویز  کی شکل کچھ اس طرح ہو سکتی ہے مثلا
  • ·         صرف پڑھے لکھے لوگوں کو ووٹ دینے کا اختیار دیا جائے یعنی میٹرک پاس اور عمر کم از کم 25 سال ہو ، ڈاکٹر اسرار صاحب کی رائے کےمطابق 40 سال ہونی چاہیے ۔۔ یہ بات نہایت اہم ہے اور یہی مغربی جمہوریت کی جڑ کاٹتی ہے ۔ووٹر کسی عدالت سے سزا یافتہ نہ ہو ۔ اس لیے کہ ووٹ بھی کسی بندے کے حق میں گواہی ہوتی ہے اور اسلام میں کسی  فاسق کی گواہی قبول نہیں ہوتی ۔
  • ·        انتخابات کروانے والی انتظامیہ سول لوگوں اور تمام جماعتوں کے متفقہ لوگوں پر مشتمل ہو ۔
  • ·        طریقہ کار متناسب نمائندگی ہو ۔ یعنی الیکشن پارٹیاں لڑیں ، افراد نہیں ۔
  • ·        انتخابی مہم محدود اور پیسے کے استعمال سے آزاد ہو ۔
  • ·        الیکشن الیکٹرونک مشین کے ذریعے ہوں ۔
  • ·        صدارتی نظام ہو نا چاہیے  کیونکہ اس میں عدلیہ ،انتظامیہ اور مقننہ پر خارجی دباو نہیں ہوتا ۔ صدر پارلیمنٹ سے باہر کسی بھی شخص کو وزیر بنا سکتا ہے جبکہ پارلیمانی نظام میں جو ہمارے ملک میں رائج ہے ، اس کے برعکس ہوتا ہے ۔
  • ·        انتخابات جداگانہ تشخص پر ہوں ۔
  • ·        دفعات 61 اور 62 میں موجود خامیوں کو دور کرکے اس کا نفاذ عملی طور پر ممکن بنایا جائے ۔
  • ·        صدر ، گورنر، وزیر اعلی ، وزیر وغیرہ   کسی کو بھی کسی قسم کا کوئی استثناء  حاصل نہ ہو ۔
  • ·        موجودہ آئین میں قرآن و سنت  بطور سپریم لاکے عملی نفاذ سے متصادم تمام آئینی شقوں کو ختم کروایا جائے ۔
  • ·        اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز کو حرف آخر مانا جائے ،محض سفارش کا درجہ نہ دیا جائے اورا س کو فی الفور قانون کا حصہ بنایا جائے ۔
  • ·        قرآن وسنت سے متصادم کسی قانون کو اسلامی نظریاتی کونسل کو رپورٹ کرنے کے لیے طریقہ کار سادہ اور آسان بنایا جائے ۔بلکہ اسلامی نظریاتی کونسل کو ازخود نوٹس لینے کا اختیار دیا جائے ۔
  • ·        ریاست کے تمام پالیسی ساز اداروں کے سربراہ صرف مسلم ہوں گے ۔
  • ·        خواتین  کی نمائندگی کم سے کم کی جائے اور مخصوص سیٹیں ختم کی  جائیں ۔
  • ·        الیکشن کے بعد جماعتیں اعلی کردارو اخلاق کے حامل تعلیم یافتہ لوگوں کو  پارلیمنٹ کے لیے نامز د کریں    ۔
  • ·        لسانی ،علاقائی  اور محض فرقہ وارانہ عصبیت کے نام پر بننے والی جماعتوں پر پاپندی ہو
  • ·        صوبوں کی تعدا د میں باہم  مشور ے سے اضافہ کیا جائے ،ا گر ڈویزن لیول پر بنا دئیے جائیں تو بہت اچھا ہے ۔
جب سب قابل لوگ مل کر بیٹھیں گے تو اس سے بھی عمدہ تجاویز سامنے آ سکتی ہیں اورجب تک حکومت یہ مطالبات نہ مانے ۔عوام الناس کو ان فراڈیا انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے آمادہ کریں ۔ تاکہ کم از کم اس ڈرامے کے ذریعے منتخب ہونے والا ، اکثریت سے منتخب ہونے کا نعرہ نہ لگا سکے ۔یقیناً ان تجاویز پر عمل در آمد کروانا کوئی آسان کام نہ ہو گا ۔ یو رپ ،امریکہ ، نام نہاد این جی اوز ، انسانی حقوق کے ٹھیکیدار اور سیکولر عناصر آپ کے راستے میں روڑے اٹکائے گئے اور میڈیا پر آپ کی تضحیک ہو گی ۔ مگر مجھے  بتائیے کہ یہ بہتر نہ ہوگا کہ آپ یکطرفہ کسی گیم کا حصہ بن کر ہارنے کی بجائے باہر ہی رہیں  اور اپنی کوششیں جاری رکھیں ۔۔ جب اللہ نے ہم پر صرف کوشش کو فرض کیا ہے تو پھر کامیاب نہ ہونے کی پریشانی کیوں ؟؟؟ جمہوری یکطرف کھیل میں حصہ نہ لینے سے دینی جماعتوں کی عزت ، ضمانت ، صلاحیتیں اور پیسہ وغیرہ بھی محفوظ رہے گا۔۔۔ اس نظام کی مثال اس درخت کی سی ہے کہ جس کا بیج ہی کڑوا ہے ۔۔۔ محض اس کی شاخیں کاٹنے سے کچھ تبدیلی نہ آئے گی بلکہ درخت کو گرا کراس کا بیج بدلنا پڑے گا۔تاہم میں پورے وسوق سے  کہتا ہوں اور اللہ کے بھروسے پر یہ امید رکھتا ہوں کہ اگر سب دینی جماعتیں مل کراس تحریک کو اٹھائیں تو اللہ ان کی مدد ضرور  کرے گا ۔ ان شاء اللہ۔
علاوہ ازیں ان مطالبات اور احتجاج کے ساتھ ساتھ دینی جماعتیں ۔۔۔ غریب بچوں کے لیے اسکول اور کالج کھولیں جہاں نہایت کم فیس پر یہ بچے پڑھ سکیں ۔۔۔۔ صرف امرا کے بچوں کے لیے دار ارقم جیسے سکول کافی نہیں ہیں ۔۔۔جو بچے قابل ہوں ان کو وظائف دیے جائیں کہ وہ سی آئی ایس جیسے مقابلہ کے امتخانوں کے لیے تیاری کرسکیں ۔۔۔ دینی جماعتیں ان قابل اور دینی لوگوں پر پیسہ خرچ کرکے ان کو اعلی سول اور فوجی  عہدوں کے لیے تیار کریں تاکہ ان اداروں میں بھی ایسے افسر آئیں جو دینی جماعتوں کا راستہ روکنے اور انہیں ناکام کرنے والے نہ ہوں ۔۔۔ جتنا پیسہ دینی جماعتیں ان فراڈیا جمہوریت پر خرچ کرتی ہیں وہ اگر ان غریبوں پر خرچ کیا جائے تو غریب آپ کو اپنا ہمدرد بھی مانے گا ۔۔۔۔ اور بیوروکرسی اور فوج بھی بہتر ہو گی ۔
قارئین کرام : ۔ میرےنزدیک غیر جمہوری طریقے اور جمہوری طریقے سے نظام خلافت کے قیام کی جو مجوزہ  صورتیں اختیا ر کی جا سکتی ہیں ان کو آپ کے سامنے رکھ دیا ہے ۔ اب آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کون سا راستہ اور لائحہ عمل درست ہے ؟، اول الذکر طریقہ زیادہ عملی ہے یا آخر الذکر۔

ترمیم  و اضافہ

قارئین کرام ۔۔ جیسا کہ آپ میرا مندرجہ بالا مضمون پڑھ چکے ہیں کہ کچھ عرصہ قبل میری سوچ اور خیالات یہی تھے اور میں سمجھتا تھا کہ اس طرح پاکستان میں نظام خلافت قائم کیا جا سکتا ہے ۔ تاہم بعد میں مزید مطالعہ اور مشاہدات کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مندرجہ ذیل وجوہات کی بنا پر جمہوری طریقے سے نظام خلافت کے قائم ہونے کی امید رکھنا بھی فضول ہے ۔۔ مولانا محمد زاہد اقبال صاحب نے بلاشبہ بہت ہی اہم نکات اُٹھائے ہیں کہ جن پر ہمیں سوچ و بچار کرنے کی سخت ضرروت ہے تاکہ ہم اپنی منزل کا تعین درست طور پر کرسکیں ۔ مزید بات نکات پڑھنے کےبعد کرتے ہیں ۔

مولانامحمد زاہد اقبال اپنی کتاب "عصر حاضر میں غلبہ دین کا نبوی طریقہ کار"میں فرماتے ہیں
موضوع   بحث  یہ ہے کہ جمہوری طریقہ نظام   خلافت قیام کا منہج ہے یا نہیں ؟ جمہوری   طریقہ یعنی انتخابات ، نظام خلافت کے قیام کا منہج نہیں ہے کیونکہ
  • ا)جمہوری نظام کابنیادی فکر " عوام کی حکومت ،عوام کے زریعے ،عوام کے لئے "اسلامی فکر سے متصادم  ہے۔اسلامی نظام کے نفاذ کے نام پر عوام سے ووٹ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ عوام کے قانون سازی اور حکومت کے حق کو تسلیم کیاجارہا ہے اور انہیں یہ اختیار دیا جارہا ہے کہ وہ اسلام   کو قبول کریں یا اس کے بالمقابل ومتصادم باطل نظام کو۔ عوام کو اس بات کا حق دینا اور ان کے اس حق کو تسلیم کرنا اسلامی فکر و نظریہ کے صریح خلاف ہے۔
  • ب)پارلیمینٹ میں اکثریت رکھنے والی سیاسی جماعت کو قانون سازی کا حق ہوتا ہے ۔ جب تک دینی سیاسی جماعت کو اکثریت حاصل نہیں ہوتی تب تک وہ قانون سازی نہیں کرسکتی ۔ جب تک دینی سیاسی جماعت اقلیت میں ہے،اس وقت تک مقابل اکثریت کے قانون سازی کے حق کو تسلیم کیا جارہا ہے کہ وہ چاہے تو اسلام سے متصادم قانون سازی کرسکتی اور پالیسیاں بناسکتی ہے ( کیونکہ  انتخابات میں اکثریت   حاصل کرنے والی جماعت کو عوام کی طرف سے دیے جانے والے مینڈیٹ کو تسلیم کرنا جمہوری سیاست کا حصہ ء لازمہ ہے )   حالانکہ ان کا یہ حق تسلیم کرنا سراسر خلاف اسلام ہے۔
  •  ج) اقتدار تک پہنچنے کے لئے جمہوری نظام کے باطل دستور پر حلف اٹھانا لازم ہے کیونکہ حلف اٹھائے بغیر کوئی جماعت حکومت نہیں بناسکتی ، جمہوری دستور پر حلف اٹھانا لازم ہے کیونکہ حلف اٹھائے بغیر کوئی جماعت حکومت نہیں بناسکتی ، جمہوری دستور پر حلف اٹھانا خلاف شریعت ہے ۔
  • د)انتخابات میں اکثریت حاصل  کر کے اقتدار میں آنے والی جماعت کو پانچ سال تک حکومت کرنے کا حق ہے۔ مقتدر جماعت کو یہ شرط قبول کرنا اورا س پر عمل کرنا لازم ہے کیونکہ یہ جمہوری نظام کا بنیادی اصول ہے ، بالفرض اگر جمہوری طریقے سے کسی دینی سیاسی جماعت کا اقتدار قائم ہوجاتا ہے اور وہ اسلامی نظام بھی نافذ کردیتی ہے تو اسلامی نظام پانچ سال تک کے لئے ہوگا، جس کے بعد مقتدر جماعت کو اقتدار سے دستبردار ہونا پڑے گا جو کہ اجماع کے خلاف ہے کیونکہ خلیفہ( جب تک اہل ہے ) تاحیات حکمران ہوتا ہے ، نیز یہ نص کے بھی خلاف ہے کیونکہ شریعت کی بالادستی اسلامی نظام کا بنیادی اصول ہے ۔پانچ سال بعداقتدار سے دستبردار ہونے کا مطلب عوام کو پھر سے نظام اسلام یا باطل نظام کے انتخاب کا حق دینا ہے۔ نیز یہ کہ باطل نظام   اور اس کی حامل سیکولر جماعتوں کو دوبارہ سے برسر اقتدار آنے کا موقع فراہم کرنا ہے ۔
  • س)اسلامی نظام خلافت اور جمہوریت  دو متوازی نظام ہیں۔دینی سیاسی جماعتوں کی جمہوری سیاست میں شرکت سے باطل جمہوری نظام کی تائید وتوثیق ہوتی ہے ۔ عوام یہ سمجھنے لگتے ہیں کہ جب علماء اس جمہوری سیاست کا حصہ بن رہے ہیں تو اس کا مطلب یہی ہے کہ یہ نظام حق ہے اور اسلام سے متصادم نہیں ، ورنہ علماء اسلام اس میں شرکت نہ کرتے ۔دینی سیاسی جماعتوں کے رہنما لاکھ تاویلیں کریں کہ ہم اس نظام کو نہیں مانتے اور مجبور اً اس میں شریک ہیں لیکن عوام ایسی باتیں سمجھنے سے قاصر ہیں اور معروضی حقائق بھی ان تاویلات کی تصدیق نہیں کرتے،کیونکہ انتخابات میں کامیابی کے بعد پارلیمیٹ اور سیاسی عمل میں سیکولر اور دینی سیاسی جماعتوں کے طرز عمل میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہوتا ہے ۔
  • ط)ہر نظام کی ایک اساسی فکر ہے۔ اس نظام تک پہنچنے کے لئے طریقہ ء کار اسی فکر سے ماخوذ ہوتا ہے جو اس فکر کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ جمہوری نظام کا اساسی فکر سیکولرازم  ہے اور اس فکر سے ماخوذ طریقہ انتخابات ہیں، جو اسی فکر کے ساتھ خاص ہے۔ اسی طرح نظام خلافت کا اساسی فکر اسلام ہے ۔اس نظام تک پہنچنے کا طریقہ بھی اسلام نے بتادیا ہے جو اس فکر یعنی اسلام کے ساتھ خاص ہے۔ جیسا کہ آگے چل کر واضح ہوجائے گا ۔ عقل کا تقاضا یہ ہےکہ انتخابات کے ذریعے نظام جمہوریت تک پہنچا جا سکتا ہے نہ کہ نظام خلافت تک ۔ لہذا جس طرح اسلامی نظام کے ساتھ دوسرے نظام ہا ئے باطلہ جمہوریت ، سوشلزم وغیرہ کی پیوند کاری نہیں ہوسکتی اسی طرح نظام خلافت کے قیام کے لئے دوسرے نظاموں کے طریقہ کار بھی کار گر ثابت نہیں ہوسکتے ۔ یعنی اسلامی نظام، اسلام کے نام یعنی اپنی اصل اور مکمل شکل وصورت کے ساتھ اور اسلامی طریقہ سے ہی آسکتا ہے ۔ اس میں دوسرے باطل نظاموں کی پیوند کاری کرنا اور انہی باطل نظاموں  کے باطل طریقوں سے قائم کرنے کی کوشش کرنا غیر شرعی ، غیر فطری اور خلاف عقل ہے ۔
  •  (ظ ) جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام کی فرع ہے ۔اس لئے جمہوری سیاست میں شرکت سے نہ صرف جمہوری نظام کی تائید وتوثیق ہوتی ہے بلکہ در حقیقت سر مایہ دارانہ نظام دو متوازی نظام ہیں ۔ لہذا اسلام میں براستہ جمہوریت، سرمایہ دارانہ نظام کی پیوند کاری نہیں کی جاسکتی ۔اگر بالفرض دینی قیادت جمہوری طریقے سے بر سر اقتدار آتی بھی ہے تو وہ آہستہ آہستہ سرمایہ دارانہ نظام کا حصہ بن جائے گی۔ جس سے سرمایہ دارانہ نظام کو ہی تقویت ملے گی ۔
  • (ع)جمہوری سیاست ایک ایسی دلدل ہے   جس میں ایک دفعہ داخل ہونے کے بعد  نکلنا انتہائی مشکل ہوتا ہے ۔دینی جماعتوں کی جمہوری سیاست میں شرکت سے اسلامی نظام خلافت  کے قیام کے لئے انقلابی جدوجہد  پس منظر   میں چلی جاتی ہے ۔ دینی جماعتیں  اس سے کنارہ کشی اختیار کر کے جمہوری سیاست پر تکیہ کر لیتی ہیں اور جمہوری سیاست سے امیدیں وابستہ کر لی جاتی ہیں کہ اس کے ذریعے اسلامی نظام کا نفاذ ہوجائے گا، نیز وہ یہ یقین کرلیتے ہیں کہ اس طرح اسلامی نظام کے احیاء کا فریضہ سر انجام دیا جارہا ہے لہذا علیحدہ سے اسلامی انقلاب کے لئے جدوجہد کی ضرورت نہیں ہے ۔ یہ خطرناک سوچ اسلامی   انقلاب کی راہ میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے جس کو دور کیے بغیر اسلامی انقلاب ممکن نظر نہیں آتا۔
  • (ق )اگرتمام رکاوٹیں   ختم ہوجائیں اور دینی جماعتیں انتخابات کےذریعے اکثریت حاصل کر کے برسر اقتدار آجائیں تو وہ متعلقہ ملک کے جمہوری  دستور و آئین کی پابند ہوں گی کیونکہ وہ خود جمہوری راستے سے ایوان اقتدار تک پہنچی ہیں۔ اس صورت میں دینی سیاسی مقتدرہ کس قدر اسلامی   نظام  نافذ کر سکے گی ؟ حالانکہ دستور وآئین کی بیڑی اس کے پاؤں میں ہے جو اسے ادھر ادھر   ہلنے نہیں دیتی ۔ اگر وہ دستور وآئین سے بالاتر ہو کر اسلامی نظام نافذ کرنا چاہے گی تو اپو زیشن اسے ایسا کرنے کی اجازت نہ دےگی ، دوسری بات یہ کہ جمہوری قوتوں کے نزدیک ایسا کرنے سے  دینی مقتدرہ کے اقتدار میں رہنے کا کوئی جواز باقی نہ رہے  گا کیونکہ یہ تو جمہوریت کے بنیادی   اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
  • (ف)دینی سیاسی جماعتوں میں ایک قدر مشترک یہ بھی ہے کہ انہوں نے احیاء اسلام کے لئے اسؤہ رسول اکرم اور منہج نبوی ‍ صلی اللہ علیہ وسلم کو اختیار کرنے کی بجائے باطل نظام جمہوریت کا انتخابی راستہ منتخب کیا ۔نام نہاد مغربی جمہوریت کی بنیاد سرمایہ دارانہ نظام ہےاور جمہوریت کا ڈھانچہ ہی ایسا ہےکہ اس میں جاگیردار ، تاجر ،سرمایہ دار، صنعت کار ، امراء، وڈیرے ،سردار ،سابق بیورو کریٹ وغیرہ ہی ایوانِ اقتدار تک پہنچ سکتے ہیں۔عام آدمی اور دولت کے انبار سے محروم شخص انتخابات  میں شرکت کے لئے کاغذات ِ نامزدگی  جمع کرانے کی فیس ادا کرنےکی استطاعت بھی نہیں رکھتا۔ چناچہ مذکورہ طبقے کے علاوہ کوئی دوسرا شخص اسمبلیوں میں کیونکر پہنچ سکتا ہے ( اگرچہ بعض دفعہ عوامی طبقے میں سے بھی چند افراد سامنے آ جاتے ہیں لیکن ایسا شاذ ونادر ہوتا ہے ) کوئی قانون یا بل پاس کرانے کے لئے کم ازکم دوتہائی اکثریت کی حمایت ضروری ہے۔ سامراجی طاقتوں سے آزادی کے بعد سے آج تک جن مسلم ممالک  میں جمہوری نظام ہے، دینی جماعتوں کو مرکز میں دو تہائی اکثریت کبھی حاصل نہیں ہوئی ۔ اگر حاصل بھی ہوئی تو ان کا مینڈیٹ تسلیم کرنے سے انکار کر کے حکومت تشکیل دینے پر پاپندی لگاد ی گئی یا اسمبلیاں برخاست کردی گئیں ۔ متعدد مسلم ممالک میں دینی جماعتیں کئی دہائیوں سے انتخابات میں شریک ہو رہی ہیں جس کے نتیجے  میں چند امیدوار منتخب ہوجاتے ہیں ۔ اسلامی نظام کا خواب تو شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکا ، البتہ مسلسل انتخابی راستے کو اختیار کئے رکھنے اور منہج نبویﷺ کو نہ اپنانے کی وجہ سے حکومت ِ الٰہیہ کی منزل دور ہوتی جارہی ہے ۔
  • دینی جماعتوں کا مقصد اسلامی نظام کا احیاء ہے ۔ ہمارے اکابر اور اسلاف رحمہم اللہ نے اسی مقصدکے پیش نظر جماعتیں تشکیل دی تھیں ۔استعماری طاقتوں سے آزادی کے بعد بعض حضرات نے یہ سمجھا کہ چونکہ ملک میں جمہوری نظام رائج ہے اور دیگر سیاسی جماعتیں انتخابی  راستے سے اسمبلیوں میں پہنچ  کر اپنے مقاصد اور پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرتی ہیں اور لادینی جماعتیں  خلافِ اسلام قوانین  اور پالیسیاں منظور کرانے اور ملک کو سیکولر بنانے کے لئے کوشاں ہیں ، لہٰذا ہمیں بھی اسی راستے سے اسلامی نظام کے نفاذ اور خلاف ِ اسلام سازشوں کی روک تھام کے لئے کوشش کرنی چاہیے ،چناچہ انہوں نے اسلامی نظام کے نفاذ کے مقصد کے پیش نظر انتخابی راستہ منتخب کیا جو نسبتاً آسان اور مختصر تھا ، لیکن یہی حضرات اس بات پر یقین رکھتے اور اس کا برملا اعتراف اور اظہار بھی کرتے تھے کہ اسلامی نظام کے نفاذ کا یہ اصل راستہ نہیں ہے اور اصل رستہ "اسلامی انقلابی جدوجہد" ہے ۔
  • یہ بات مسلم ہے کہ مقاصد اور ذرائع میں فرق ہوتا ہے ۔ مقصد کے حصول کے لئے مختلف ذرائع اور طریقے اختیار کئے جا سکتے ہیں ۔ ہمارے اکابرو اسلاف نے اسلامی نظام کے نفاذ کے لئے جمہوری سیاست کو اضطرار بطور ایک ذریعے اور راستے کے اختیار کیا تھا ۔ انتخابی  سیاست میں شرکت ان کا مقصد تھا اور نہ منزل۔ انہوں نے اس راستے کو منزل مِن اللہ قرار دیا اور نہ اسے مستقل طور پر اختیار  کئے رکھنے کا کہا ۔ لیکن افسوس !بعد میں آنے والوں نے مقصد اور ذریعہ کے اس فرق کو فراموش کرتے ہوئے انتخابی راستے کو مستقل طورپر اپنا لیا اور اسی کو حصولِ مقصد کا واحد ذریعہ باور کیا جانے لگا ۔
  • دراصل سالہا سال کے تجربے اور مقصد کے حاصل نہ ہونے کی وجہ سے دینی جمہوری جماعتوں کی قیادت انتخابی سیاست سے خود  بھی مطمئن نہیں ہے  جس کا ان کی طرف سے وقتاً فوقتاً اظہار ہوتا رہتا ہے  اور مرکزی رہنما بھی اپنی نجی  مجلسوں میں اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ انتخابی حضرات اس راستے کو ترک کرنا چاہتے ہیں لیکن کچھ بے جا اور من گھڑت مصلحتیں آڑے آ جاتی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ انتخابی سیاست نظام ِ اسلام کے نفاذ کی راہ میں حائل ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے ۔ کفریہ طاقتیں جمہوری نظام اور انتخابی سیاست کے ذریعے نظام ِ اسلام کا راستہ روکے ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی پوری کوشش ہے کہ مسلم ممالک میں نام نہاد جمہوری جماعتوں کو انتخابی  سیاست کے جھمیلوں میں پھنسا کر انقلابی جدوجہد کو پروان  چڑھنے سے روکا جائے ۔ جب یہی صورتِ حال ہے تو ایسے میں کیا یہ دانشمندی نہ ہوگی  کہ جب اس سے بہتر اور مناسب راستہ موجود ہے تو اسے اختیار کرکے دشمن  کی سازشوں سے بچ کر منزل ِ مقصود تک پہنچایا جائے ؟ چاہیے  تویہ تھا کہ جب  باربار کے تجربے کے بعد بھی مقصد حاصل نہیں ہورہا بلکہ اس راہ میں حیران  وسرگرداں  رہنے  کی وجہ سے منزل دور ہوتی جا رہی ہے تو اس راستے کو ترک کر کے کوئی دوسرا  ایسا راستہ اپنایا جاتا جس سے حصولِ مقصد ہوتا ۔
  • جمہوری راستے کو انقلابی راستے کی بنسبت  آسان اور مختصر سمجھا جاتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے  کہ کیا انقلابی راستے کو محض  اس لئے ترک کیا جائے  کہ وہ انتخابی راستے کی بنسبت  مشکل ،کٹھن اور طویل ہے اور جمہوری راستے  کو محض آسان اور مختصر ہونے کی وجہ سے اختیار کیا جائے ، چاہے یہ منزل  تک نہ  پہنچتا  ہو بلکہ اس کی وجہ سے قافلہ اصل راستے سے بھٹک کر "وادی تیہ" میں حیران و سرگردان پھرتا رہے ؟
  • ہمیں چاہیے  کہ ہم ایسے راستے کو ترک کر دیں  جو بظاہر سیدھا ، آسان  اور مختصر  معلوم ہوتا ہے  جبکہ درحقیقت  یہ راستہ منزل  کو جاتا ہی نہیں اور ایسی  راہ منتخب کریں  جو اگرچہ نسبتاً طویل ، کٹھن  اور مصائب  و آلام سے بھری  ہو  لیکن آخرکار اس کے ذریعے قافلہ منزل  مقصود تک پہنچ  جاتا ہو ۔ جس راستے پر کئی  دہائیوں تک چلنے  کے باوجود ہم آج بھی نقطہ آغاز پرکھڑے ہیں بلکہ ہمارے دشمن ہمیں  اس سے بھی دور لے جانا چاہتے ہیں تو کیا ہم اس کی بجائے ایسا راستہ منتخب نہ کریں جس کے ذریعے  ہم گرتے پڑتے منزلِ مقصود کو پالیں ؟

 خلیفہ کا انتخاب بذریعہ انتخابات

جب ہم جمہوریت کا رد کرتے ہیں اور نظام خلافت کی بات کرتے ہیں تو اکثر لوگ تمسخرا نہ طور پر اور کچھ پورے اخلاص کے ساتھ سوال کرتے ہیں‌ کہ اچھا خلیفہ کا اتنخاب کون کرے گا اورکیسے ہوگا۔ دینی جماعتیں خود تقسیم در تقسیم ہیں‌تو پھر عملی طور پر کیسے ممکن ہے ؟ ماضی میں بھی چاروں خلیفہ کا انتخاب تقریبا لوگوں کی راے سے ہی ہوا تھا ۔ اور جموریت میں‌ بھی تو لوگ اپنے ممبران کا انتخاب اپنے ووٹوں‌کے ذریعے  ہی کرتے ہیں‌ تو پھر اس میں‌ کیا بُرائی ہے ؟؟

گزارش ہے اگر تو ہماری دینی جماعتوں میں اتفاق و اتحاد ہو اور انہیں نظام خلافت قائم کرنے کی ذمہ داری کا احساس بھی ہو تو پھر یہ کوئی مشکل کام نہیں‌ ہے ۔۔ سب ملکر کسی ایک بندے کو اپنا خلیفہ مقرر کر لیں اور اگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو اور ہر کوئی کہے کہ ہماری جماعت میں سے خلیفہ ہونا چاہیے تو پھر لا محالہ ہمیں انتخابی طریقے پر ہی متفق ہونا پڑے گا مگر اس کے لیے میری کم علمی کے مطابق درج ذیل طریقہ کار اختیار کرنا ہو گا۔ 
 اگر ہم اپنے خلفاء اربعہ کے انتخاب کی تاریخ پر غور کریں اور اس کو موجودہ جمہوری طریقہ انتخاب پر لاگو کریں‌ تو پھر ہمیں‌ درج ذیل نکات کو سامنے رکھنا ہوگا ۔  یاد رہے خلفاء کا انتخاب اسلام کے نفاذ کو جاری و ساری رکھنے کے لیے ہوا تھا اور اگر ہماری جمہوریت کا مقصد و منشاء اسلام کا نفاذ ہے تو پھر لبرل ، سیکولر ، قوم پرست ،  جاگیردار ، کرپٹ‌ مافیا کو باکل اجازت نہیں‌ ہو گی کہ وہ اُمیدار بنیں‌۔ اور نہ ہی ہر بندہ ووٹ دینے کا مجاز ہوگا۔ چناچہ سب سے پہلے ایوان عام کا انتخاب ہو گا،جس کی تعداد دس ہزار یا کم و بیش ہو اور وہ مستقل ہوں ۔ جس میں حصہ لینے کے لیے درج ذیل شرائط ہوں‌۔ 

  •   لبرل سیکولر اور قوم پرست بطور امیدوار حصہ نہیں‌ لے سکتے ۔
  • امیدوار کے پاس دینی اور دنیاوی علوم کی ڈگری ہو ۔ ( جس کے پاس صرف دینی علوم کی ڈگری ہو مگر دنیاوی نہیں‌ تو وہ بھی امیدوار نہیں‌ بن سکتا )
  •  کسی عدالت سے سزا یافتہ نہ ہو ۔
  •  قوم پرستی یا فرقہ پرستی میں‌ شدت پسند نہ ہو ۔ وغیرہ وغیرہ 
 اسی طرح‌ ووٹ دینے والے بھی درج ذیل اہلیت کے حامل ہوں‌۔

  •  کسی عدالت سے  سزا یافتہ نہ ہوں ۔
  •  کم از کم تعلیم بی اے یا اس کے مساوی ہو ۔ وغیرہ وغیرہ 
اب یہ منتخب ہونے والے لوگ اپنے میں‌سے  خلیفہ کا انتخاب کریں گے 
منتخب ہونے والا خلیفہ اپنے لیے مجلس شورٰی کا انتخاب ایوان عام سے ہی کرے گا جس کی تعداد بھی مقرر شدہ ہو گی۔
خلیفہ اپنی مجلس شورٰ‌ی کے ساتھ مشورے سے تمام صوبوں کے لیے گورنرز وغیرہ کا انتخاب کرے گا۔ جس کا فیصلہ اکثریت کی بنا پر نہیں‌ بلکہ اراکین کے دلائل کی روشنی میں خلیفہ خود کرنے کا مجاز ہو گا ۔
خلیفہ 5 سال کے لیے نہیں‌ بلکہ تا حیات ہوگا ۔تخفظات کے پیدا ہونے پر اس کو ایوان عام ہی اپنے عہدے سے برخاست کر سکتی ہے اور پھر نئے خلیفہ کا انتخاب بھی کر سکتی ہے ۔ 
نوٹ ۔ انتظامی عہدے اور دفتری اُمور کے چلانے کے لے بھی ایسے افراد کو ترجیح حاصل ہوگی جو دینی اور دنیاوی ڈگریاں رکھتے ہوں‌ تاہم دنیاوی اُمور کے لیے خالص دنیاوی ڈگری کے حامل لوگوں‌کو بھی ملازمت دی جا سکے گی ۔ وغیرہ وغیرہ 
قارئین گرام مجھے اپنی کم علمی اور نافمہی کا شدت سے احساس ہے تاہم اس سلسلے میں‌ اب تک مجھے دین سے جو فہم حاصل ہوا ہے اسی کے ییش نظر یہ  انتہائی مختصر سا خاکہ آپ کے سامنے رکھنے کی جسارت کی ہے ۔(اس میں‌ ترمیم و اضافہ اور رنگ بھرنا اہم علم کا کام ہے) مندرجہ بالا خاکے سے واضع ہو گیا ہوگا کہ موجودہ جمہوری ڈھانچہ اور اس کے اُصول و طریقہ کار اسلام کے نفاذ‌ میں سخت رکاوٹ ہیں ۔ اور مجھے اس بات کا بھی شدت سے احساس ہے کہ اس خاکے پر عمل درآمد کرانا ناممکن ہے ۔ اس لیے کہ جنہوں نے اس نظام کو ہمارے ملکوں‌ میں‌ نافذ کیا ہوا ہے انہیں‌ کو اگر اس میں‌شرکت سے نکال دیں‌ تو وہ کیسے اس کو تسلیم کریں‌ گے ۔۔ چناچہ اس خاکے کو بیان کرنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ جو لوگ موجودہ جمہوری طریقہ انتخاب کو اسلامی طریقہ کار ہی گردانتے یا باور کراتے ہیں‌ ، کو اپنی غلطی کا احساس ہو کہ دونوں‌ طریقہ ہائے کار میں زمین و آسمان کا فرق ہے ۔
آخر میں پھر سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ اگر دینی جماعتیں بھی اپنی زمہ داری کا احساس نہ کریں اور اس خاکے کے مطابق بھی‌ حکومت وقت عمل نہیں‌ کرتی ۔۔۔ تو پھر کیا کیا جائے ؟؟ میرا جواب یہی ہے کہ پھر جو لوگ اور جماعتیں‌ اس حقیقت کو سمجھ لیں تو پھر وہ لوگوں کو بیدار کریں ۔۔۔ اس جمہوری نظام میں‌ خود حصہ بن کر اس کو تقویت فراہم نہ کریں‌ اور لوگوں‌ کو بھی حقیقت حال سمجھانے اور بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دیں‌۔ آخر 65 سالوں سے ہم جمہوری نظام کے پیچھے بھی تو چل رہے ہیں‌ تو پھر اب کسی شارٹ کٹ‌ کی توقع کیوں رکھتے ہیں‌ ۔ صبر ، حوصلے اور سنجیدگی سے اپنی منزل کی طرف گامزن رہیں ۔۔ اللہ ہمیں‌ ہماری کوششوں کے مطابق ہی اجر دے گا ۔۔ اور کوشش ہی ہمارا فرض ہے ۔۔ نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں‌ ہے ۔ 
قارئین کرام ۔۔ حاصل کلام یہ کہ جمہوری انتخابات کے ذریعے نظام خلافت کو قائم نہیں کیا جا سکتا ، اورلامحالہ ہمیں اوپر بیان کردہ تین طریقوں میں سے ہی  کسی ایک طریقے پر  عمل کرنا پڑے گا(واللہ اعلم بالصواب) ۔۔۔  تمام دینی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کا احساس کریں ۔۔ اس انتخابی سیاست سے باہر نکلیں اور دینی جماعتوں کے درمیان اتحا د و اتفاق کی تحریک چلائیں ۔۔ ماضی میں   چوٹی کے علماء نے جن  22 نکات پر اتفاق کیا تھا اسی کام کو آگے بڑھایا جائے بلکہ ان نکات کو وسعت دے کر نظام خلافت کے قیام کے لئے مرحلہ وار مسلسل انقلابی جدوجہد کا آغاز کیا جائے ۔ موجودہ نظام سے لوگوں کو متنفر کیا جائے ۔۔ اگر علماء خود اپنے رویے اور سلوک سے عوام کو بیدار کریں گے تو بے شک یہ کام بہت جلد او رآسان ہو گا اور اگر اسی طرح تفرقہ بازی اور پارٹیوں میں بٹے رہے تو پھر یہ منز ل کبھی بھی حاصل نہ ہوگی ۔ ہمارا کام صحیح سمت میں کوشش کرنا ہے ۔۔ نتائج کی ذمہ داری ہم پر نہیں ۔۔انتخابی سیاست کے ذریعے کوشش کرنا ایک غلط سمت میں اپنی توانائیاں اور مال ضائع کرنے کے متراد ف ہے ۔۔ یہ توانائیاں اور مال  لوگوں کو بیدار کرنے اور ان کے کام آنے پر لگائیے تاکہ ہم اللہ سے اجر کی صحیح امید رکھ سکیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری صراط مستقیم  کی طرف رہنمائی فرمائے ۔ ہمارےاندر بغض ، کینہ کو رفع کرے ، ہمارے دلوں کے اندر تمام دینی دوستوں کے لے دلی محبت اور رشک کا جذبہ پیدا کرے ۔ آمین
 احقر العباد
طارق اقبال سوہدروی
ینبع البحر سعودی عرب
 
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

4 comments so far,Add yours

  1. ما شاء اللہ زبردست مضمون ہے ۔ شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. اللہ آپ کو حفظ و امان میں رکھے ۔ بہت اچھی تحریر ہے ۔جزاک اللہ

    جواب دیںحذف کریں
  3. میرے نزدیک پہلے طریقے کے مقابلے میں دوسرا طریقہ زیادہ بہتر ہے ....لکن اس میں بھی کچھ اشکالات موجود ہیں........نظام کی تبدیلی ضروری ہے اس میں کوئی شق نہیں ...اور اس کے بھی دو طریقے ہمارے سامنے ہیں.....ایک تو دھرنوں ،ریلیوں اور سول نافرمانی کا طریقہ ہے اور دوسرا طریقہ یہ ہے کے کسی طریقے سے الیکشن میں دو تہائی اکثریت لے لی جائے اور آین میں ترمیم کرکے وو تبدیلیاں کر دی جاےیں جن کا ذکر آپ نے اپنے مضمون میں کیا ہے .......اب سوال یہ ہے کے کیا دھرنو اوراعتجاج سے معاملات پرامن رہینگے ؟....یقینن نہیں ....خاص طور پر اگر آپ نظام خلافت یا شریعت کے نفاذ کی بات کریں...گولوں اور فاسفورس بموں سے آپ کا نام و نشان مٹا دیا جائے گا ....لال مسجد والے یقینن یاد ہونگے آپ کو .....آجکل جو PTI ور PAT کے دھرنے چل رہے ہیں وو ابھی تک صرف اس لئے سلامت ہیں کیونکے ان کا مطالبہ شریعت کے نفاذ کا نہیں ہے.....اگر خون خرابہ ہونا ہی ہے اور جانیں دینی ہی ہیں تو پھر القاعدہ یا طالبان والا منجج کیوں نہ اختیار کیا جائے ؟......یہ بات بہت اهم ہے کے خوں مسلم نہ بہے ....اگر ایسا ہوجاے کے الیکشن فوج کی نگرانی میں ھو اور دھاندلی سے سارے دروازے بند کر دیے جاییں اور پھر تمام مذہبی جماعتیں جن کا ذکر آپ نے کیا ، ایک ساتھ مل کر الیکشن میں حصّہ لیں اور بھرپور عوامی مہم چلا کر عوام کو اسلامی نظام کے لییں تیارکریں تو اچھے نتائج آسکتے ہیں .....اور اگر دو تہائی اکثریت مل جائے تو آپ کی بیان کردہ تجاویز کو نافذ کیا جا سکتا ہے......

    جواب دیںحذف کریں
    جوابات
    1. میرے بھائی صرف فوج کی نگرانی میں انتخابات کا ہونا کوئی حل نہین ہے ۔۔ پہلے پورا نطام ٹھیک ہو ۔ اصلاحات کی جائیں ۔ جیسا کہ عمران خان کئی مطالبات مانے جا رہے ہیں ۔ اسی طرح اگر دینی جماعتیں اپنی کامیانی چاہتی ہیں تو انکو اپنے لحاظ سے انتخابی اصلاحات کے لیے کوشیش کرنی ہوں گی وگرنہ کوئی فائدہ نہیں ہے ۔ نظام میں رہ کر نظام بدلنے کی باتیں وہاں اچھی لگتی ہیں کہ جہاں واقعتاً کوئی نظام چل رہا ہو ۔ مگر بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے ۔

      حذف کریں