پاکستانی آئین میں‌ اسلامی دفعات کی حیثیت از حامد کمال الدین



بلاشبہ اپنے ہاں جمہوریت کو اسلام کے کچھ جوڑ (Patches) بھی لگائے گئے ہیں ۔۔۔۔
مغرب کی کسی آزاد خیال عورت کا لباس مستعار لے کر مشرق کی ایک باحیا مسلم خاتون کے استعمال کے لائق بنانا ایک مشقت طلب کام ہے بلکہ مضحکہ خیز۔ اس میں آپ کو اتنے جوڑ لگانا پڑیں گے کہ ایک ازسرنو لباس تیار کرنا آپ کیلئے کہیں آسان ہوتا۔ پرائی چیز جتنی بھی بدل لی جائے پہچان میں پھر بھی آتی ہے۔ یہ بھی تب ہے اگر آپ واقعی اس میں تمام تر ’اسلامی تبدیلیاں‘ کر دینے پر مصمم ہوں۔ پھر اگر آپ اس کو بدستور وہ ’عالمی نام اور تاثر‘ دے رکھنے پر بھی بضد ہوں جو کہ اِس لبادۂ وقت کیلئے دنیا میں ’چلتا‘ ہے تب تو یہ عقدہ اور بھی بڑا ہو جاتا ہے۔ آپ کی ’ادھیڑ بن‘ پھر چلتی ہی رہتی ہے۔ کچھ یہی معاملہ اپنی اس جمہوریت کا بھی ہے۔

سلطانیِ جمہور کے اس عالمی شہرت یافتہ نظام میں برائے نام اسلامی تبدیلیاں کچھ ہو چکیں کچھ کی تجاویز ہر وقت زیر غور رہتی ہیں۔ اس عمل نے اب تک بہت سے مدوجزر دیکھے ہیں۔ بہت سی ادھیڑ بن ہو چکی ہے۔ رہی یہ بات کہ اس میں کوئی بہت ہی واضح اور اساسی تبدیلی کرکے اس کو اسلام کے ہم آہنگ ہی کر لیا جائے تو اس پر اعتراض یہی ہے کہ پھر اس کو جمہوریت کون کہے گا؟!!! منی سکرٹ کو اگر برقعہ ہی بننا ہے تو اس ’اسکرٹ‘ میں پھر کیا کشش رہ جاتی ہے!!! جمہور اور نمائندگان جمہور کے سب اختیارات اس حد تک محدود کر دیئے جائیں کہ اللہ اور رسول جہاں کوئی بات کر دیں وہاں کسی کو بحث تک کی اجازت نہ ہو اور کسی مخلوق کا اختیار صرف وہاں معتبر ہو جہاں شریعت خاموش ہو البتہ جہاں شریعت کی نص واضح ہو وہاں سب مخلوقات کے سب اختیارات کالعدم اور سب کو سرتسلیم خم کر لینا ہو ۔۔۔۔ تو ایسی ’جمہوریت‘ کو دُنیا میں کون پہچانے گا!؟
سو یہ اسلامی تبدیلیاں برائے نام ہی ہو سکتی ہیں۔ ان میں سب سے اہم دو ہیں۔ ان ہر دو نقاط پر کچھ نظر ہم اس مضمون میں بھی ڈالتے چلیں گے۔۔۔۔
1) پاکستان کے آئین میں اللہ تعالیٰ کو حاکم اعلیٰ (Soverign) مانا گیا ہے۔
اصل دیکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ کیا اس بات نے خالق کے سامنے مخلوق کے سب اختیارات ختم کر دیے ہیں۔۔۔۔ یا مخلوق کا اختیار بہ مقابلہ فرمانِ خالق ابھی باقی ہے؟
جائزہ یہ لیا جانا ہے کہ کیا اس بات نے جمہوریت کا یہ عالمی اور آفاقی اصول کالعدم کردیا ہے کہ جملہ انسانی معاملات میں کسی مسئلے کا تعین __خالصتاً یہ دیکھنے کی بجائے کہ اس معاملے میں حق کیا ہے اور باطل کیا __اکثریت کے ووٹوں سے کیا جائے گا؟ کیا اس بات نے نمائندگانِ جمہور کے اختیارات کو پروردگارِ جمہور کے ’نازل کردہ‘ کا واقعتا پابند کردیا ہے اور کیا ’حاکمِ اعلیٰ‘ کے لفظ سے مراد انکے ہاں یہ لی جاتی ہے کہ خدا کے فرمائے ہوئے کے سامنے اب کسی کو دم مارنے کی کوئی مجال نہیں! یا پھر یہ ایک ’برائے نام‘ تبدیلی ہے اور جمہوریت کا عالمی کفر اس میں ابھی باقی ہے؟
’حاکم اعلیٰ‘ سے مراد کیا ہے۔۔۔۔؟
اصل بات یہ ہے کہ قانون کی ایک اپنی زبان ہے۔ دستور کسی کو کیا ’عہدہ‘ دیتا ہے، یہ ایک الگ بحث ہے اور دستور کسی کو عملاً کیا ’اختیار‘ دیتا ہے، بالکل ایک الگ بحث۔ ’عہدہ‘ اور ’اختیار‘ دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ ان میں سے ایک ہو تو وہ دوسرے کو ہر حال میں مستلزم نہیں۔ مثلاً ’صدر‘ ایک عہدہ ہے۔ ’وزیر اعظم‘ ایک عہدہ ہے۔ اپنے ملک میں یہ دونوں ہی مستقل عہدے ہیں البتہ ان کے اختیارات میں ہم جانتے ہیں آئے روز اَدل بدل ہوتا ہے اور آئے روز ہی کسی نہ کسی کے ’اختیارات‘ میں نقب لگتا ہے۔ یہاں صدر ہمیشہ صدر ہی کہلاتا ہے اور وزیر اعظم وزیر اعظم ہی رہتا ہے مگر ’اختیارات‘ ہیں جو گردش کرتے رہتے ہیں۔ کسی وقت صدر یہاں حد درجہ با اختیار بلکہ سیاہ وسفید کا مالک دیکھا گیا ہے تو کسی وقت محض ایک اعزازی منصب۔ صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن لائے جانے کی کوششیں ہمارے سامنے یہاں ہوتی ہی رہتی ہیں۔
چنانچہ مسئلہ اس نظام کے اندر یہ نہیں کہ کسی کو یہاں کیا عہدہ یا کیا لقب حاصل ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کسی کو یہاں کیا اختیار حاصل ہے؟ یہاں سینٹ اور اسمبلی کے مابین ’اختیارات‘ کی تقسیم پر بحث ہوتی ہے۔ پارلیمنٹ اور کابینہ کے عملی اختیارات کا مسئلہ اٹھ آتا ہے۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے مابین ’اختیارات‘ کی تقسیم آئے روز موضوع بحث بنی رہتی ہے۔ کوئی بھی یہاں ایسا نہیں جو یہ دیکھے بغیر کہ اس کا اختیار کیا ہے محض ایک عہدے پر ریجھ جائے!
دستو راور قانون کی زبان واقعی بڑی عجیب ہے۔ اس زبان میں آپ کسی کو بادشاہ کہ دیں __جیسا کہ برطانیہ میں چلتا ہے__ تو ضروری نہیں ’اختیارات‘ کے معاملہ میں بھی اس سے مراد ’بادشاہ‘ ہی ہو۔ آپ سوچئے جمہوریت میں ’بادشاہ‘ کا کیا کام؟ دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر اس کو عملاً کیا اختیار دیا جاتا ہے۔ عہدہ یا القاب تو نرا اعزاز ہے!
پس یہ نہایت غور طلب نکتہ ہے۔ ملوک یعنی بادشاہ اور شہنشاہ تو ملوکیت میں ہوتے ہیں، جمہوریت میں ’بادشاہ‘ کہاں سے آگئے؟! مگر برطانیہ سمیت کئی یورپی ملکوں میں، کہ جو جمہوریت کے باب میں ایک مرجع اور حوالہ کی حیثیت رکھتے ہیں، آج تک ’بادشاہ‘ پائے جاتے ہیں! ’جمہوریت‘ میں ’بادشاہ‘؟!!! مگر اِس پر متعجب نہ ہوں۔ اِس کا جواب جمہوریت کے ’ہدایتکار‘ یہ دیتے ہیں کہ برائے نام عہدوں سے کچھ فرق نہیں پڑتا، اصل چیز پارلیمنٹ کا اختیار ہے!
اب جب اصل مسئلہ عہدہ واعزاز کا نہیں بلکہ ’اختیارات‘ کا ہے اور اصل واردات ’اختیارات‘ کے مسئلہ پر ہی ہاتھ صاف کرکے ڈالی جاتی ہے تو ’حاکم اعلی‘ کے موضوع پر بھی ہمیں عہدہ والقاب کو نہیں بلکہ ان اختیارات کو دیکھنا ہے جو اس نظام کی رو سے ’حاکم اعلی‘ کو بالفعل حاصل ہیں۔
بنیادی طور پر یہاں جو بھی شرعی قوانین کی بحثیں اور شرعی بل زیر غور آتے ہیں۔۔ یا مثلاً آپ دیکھیں کہ ملک کی متعدد دینی جماعتیں تہتر کا آئین پاس کر دیا جانے کے بعد بھی، یعنی خدا کو ’حاکمِ اعلیٰ‘ تسلیم کر لیا جانے کے بعد بھی، کئی سال تک ’شریعت بل‘ کیلئے سڑکوں پر نکلی دیکھی جاتی ہیں۔۔۔۔ تو اِن سب بحثوں اور مطالبوں کا موضوع دراصل ’حاکم اعلی‘ کا ’اختیار‘ ہی ہوتا ہے۔ کوئی پوچھے ’خدا کو حاکم اعلیٰ مان لیا گیا اور دستور میں باقاعدہ لکھ دیا گیا‘ تو اب مسئلہ پیچھے کیا باقی رہا؟! ’حاکم اعلیٰ‘ حکم دینے کیلئے ہی تو ہوتا ہے! پس آپ دیکھتے ہیں القاب سے قطع نظر، عملی اختیارات کے حوالے سے ’حاکم اعلی‘ کی بابت بھی اِس لحاظ سے ایک بحث یہاں چلتی ہی رہتی ہے۔ سو یہ سوال اب بھی باقی ہے کہ آپکے یہاں واضح انداز میں کس چیز پر ’حاکم اعلی‘ کا اختیار تسلیم کیا گیا ہے؟
قانون دان اور ماہر آئین پس ہمیں دستور میں ’حاکم اعلی‘ کا لفظ دکھانے کی بجائے یہ بتائیں کہ ’حاکم اعلی‘ کا عملاً کیا اختیار ہے؟؟؟؟
قبل اس کے کہ قانون دان اور ماہرین آئین ہمیں اس سوال کا جواب دیں، بات کو آسان کرنے کیلئے ہم اس بات کا پہلے تعین کرلیتے ہیں کہ دین اسلام میں خدا کو ’حاکم اعلی‘ (Soverign) ماننے کاکیا مطلب ہو سکتا ہے اور قرآنی آیت اِنِ ال ´حُک ´مُ اِلَّا لِلّٰہ کا کیا مفہوم ایک صاحبِ ایمان کے ذہن میں آسکتا ہے۔ پھر ہم قانون دانوں اور ماہرین آئین سے صرف اتنا جاننا چاہیں گے کہ ان کے اس آئین اور نظام میں بھی ’حاکم اعلی‘ کا کیا یہی مفہوم ہے جو ہم دین اسلام میں پاتے ہیں یا ان کے ہاں اس کا کوئی دوسرا مفہوم ہے؟
واضح بات ہے کہ خدا نے بنی نوع انسان سے جو کلام کرنا تھا وہ اس نے نبی آخر الزمان پر نازل فرما دیا ہے اور اپنے اس نبی کی زندگی زندگی اس نے ’دین‘ مکمل کردیا اور اپنی اس نعمت کا اتمام فرما دیا ہے۔ اَحکَمُ الحَاکِمِین، جس کا ایک ترجمہ Soverign بھی بنتا ہے یعنی حاکم اعلی، اپنی مخلوق سے جو بھی بات کرے گا وہ اپنے رسول ہی کے ذریعے کرے گا، جو کہ وہ کر چکا ہے۔ انسانوں کی سیاسی زندگی میں دین اسلام کی رو سے اسکے احکم الحاکمین ہونے کا یہی مطلب ہے کہ اس کا فرمایا ہوا حرف آخر ہو۔۔۔۔ حرف آخر یعنی اس کے بعد کسی کی بات نہیں۔ اسکے بول دینے کے بعد کوئی نہیں بولے گا اور اسکے فیصلہ کر دینے کے بعد کسی کا فیصلہ نہیں حتی کہ بحث تک نہیں۔
یوں اَحکَمُ الحَاکِمِین (حاکم اعلیٰ) کا یہ واضح اختیار ہے کہ وہ آسمان سے کوئی واضح اور قطعی آیت اتار کر __جو کہ وہ اتار چکا ہے __ یا اپنے رسول کی زبان سے واضح اور قطعی نص کہلوا کر __جو کہ وہ کہلوا چکا ہے__ پارلیمانی مخلوقات کا پاس کیا ہوا کوئی بھی قانون کالعدم کر دے یعنی ملک کی قانون ساز ہستیوں کا جاری کیا ہوا قانون قرآن کی ایک آیت یا رسول اللہ ﷺ کے فرمان سے واضح اور قطعی طور پر متصادم ہونے کی بنا پر آپ سے آپ کالعدم ٹھہرے۔
اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكُم مِّن رَّبِّكُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِهِ أَوْلِيَاء (الاَعراف: 3)
”جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے سوا دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو“۔
خدا جو اتار دے، وہ خود بخود قانون ہو اور خدا کے اتارے ہوئے سے جو چیز متصادم ہو ___خواہ وہ پارلیمنٹ کا ’اتارا‘ ہوا ہو یا کسی اور ہستی کا___ وہ خودبخود کالعدم ہو اور ’قانون‘ و ’دستور‘ کہلانے کا تو حق تک نہ رکھے۔
یہ ہے دینِ اسلام۔ قانون دان بتائیں کیا آپ کا آئین اور نظام بھی یہی کہتا ہے یا ’اختیارات‘ کے معاملے میں ’حاکم اعلی‘ کی بابت ان کا جواب کچھ اور ہے؟
ابھی ہم اَحکَمُ الحَاکِمِین کے ’اختیارات‘ کی بابت دو باتیں دین اسلام میں دیکھ آئے ہیں۔ یعنی اس کا اتار ہوا خودبخود __اور کسی اضافی شرط کے بغیر __ قانون ہو اور اس سے متصادم ہر کسی کی بات خودبخود کالعدم۔ ان دونوں باتوں کیلئے کوئی شرط ہو سکتی ہے تو صرف ایک اور وہ یہ کہ کسی بات کی نسبت اس سے یا اس کے نبی سے بہرحال پایۂ ثبوت کو پہنچتی ہو اور اس کی دلالت متعین ہو۔
آپکی اس جمہوریت میں اللہ وحدہ لاشریک کیا عین اسی معنی میں ’حاکم اعلیٰ‘ ہے جوکہ اُسکے احکم الحاکمین ہونیکا شرعی مفہوم ہے۔۔ یا انکے نظام میں یہ _معاذ اللہ _ محض ایک اعزازی منصب ہے؟
آپ کی جمہوریت اِس سوال کا جواب کیا دیتی ہے؟ ”خدا کا فرمایا ہوا“ یہاں مذہبی تقدس تو آپ سے آپ رکھتا ہے مگر قانونی حیثیت آپ سے آپ نہیں رکھتا۔ ”قانونی حیثیت“ پانے کیلئے ”خدا کے فرمائے ہوئے“ کو بہرحال ”اکثریت“ کے ہاں سے پاس ہونا ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں، اکثریت اگر ”خدا کے فرمائے ہوئے“ کو پاس نہیں کرتی تو ”خدا کا فرمایا ہوا“ صرف ”مذہبی تقدس“ رکھے گا نہ کہ کوئی ”قانونی حیثیت“!!!
وَتَعَالَى عَمَّا يَقُولُونَ عُلُوًّا كَبِيرًا
 انکا شرک یہی ہے۔ جب تک کوئی چیز اللہ اور اسکے رسول کی نسبت سے پایۂ ثبوت کو نہیں پہنچتی یا جب تک کسی بات کی شرعی دلالت متعین نہیں ہوتی تب تک اسلام میں اس کو ”مذہبی تقدس“ بھی حاصل نہیں۔ مگر جب اس کا ثبوت اور دلالت شرعی ضابطوں کی رو سے متعین ہو جائے ۔۔۔۔ یعنی جب ایک بار اس کو ’مذہبی تقدس‘ حاصل ہو گیا تو ’قانونی حیثیت‘ خودبخود حاصل ہو گئی۔ ان دو باتوں کو الگ الگ کرنا ہی ان کا وہ شرک ہے جو عالمی طور پر ”سیکولرزم“ کے نام سے معروف ہے۔ سیکولرزم جمہوریت کا ایک جزولاینفک ہے اور وہ ’اپنی‘ اس جمہوریت میں بھی پوری طرح ساتھ آیا ہے۔
ہاں پارلیمنٹ کو __بلکہ ہر مخلوق کو __ یہ پورا حق ہے کہ وہ یہ سوال کرے کہ خدا نے فلاں بات کہی ہے یا نہیں کہی اور آیا اس کی یہ دلالت بنتی ہے یا نہیں؟ حتی کہ ان دونوں میں سے کسی ایک بنیاد پر کسی بات کے رد کرنے کا بھی اس مخلوق کو پورا پورا حق ہے کیونکہ ہمارا دین پوپ کا دین بہرحال نہیں اور نہ ہی ہم تھیو کریسی پر ایمان رکھتے ہیں __ بشرطیکہ اس کو رد کرنے والی وہ مخلوق شریعت کی کسی بات کے ثبوت یا دلالت کا تعین کرنے کی فقہی صلاحیت رکھتی ہو __مگر یہ کہ ایک بات کی نسبت اور دلالت کا اللہ و رسول سے ثبوت تو واضح ہو لیکن پھر بھی اس کو صرف ’مذہبی تقدس‘ ملے اور ’قانونی حیثیت‘ پانے کیلئے وہ ہنوز کسی مخلوق کی منظوری (Approval) کی محتاج ہو اور اسکی یہ ”احتیاج“ پوری ہوئے بغیر وہ قانونی حیثیت سے محروم ہی رہے تو اسکا کفر ہونا اظہر من الشمس ہے۔
خدا کے ہاں سے جب کوئی چیز اترتی ہے تو وہ ’مذہبی تقدس‘ اور ’قانونی حیثیت‘ ہر دو کے ساتھ بیک وقت نازل ہوتی ہے اور رسول کے حکم کو بھی بیک وقت یہ دونوں حیثیتیں حاصل ہوتی ہیں۔ رسول صرف ’مذہبی‘ معنی میں پیروی کرانے کیلئے مبعوث نہیں کیا جاتا بلکہ مطلق اطاعت کیلئے مبعوث ہوتا ہے۔
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ لِيُطَاعَ بِإِذْنِ اللّهِ وَلَوْ أَنَّهُمْ إِذ ظَّلَمُواْ أَنفُسَهُمْ جَآؤُوكَ فَاسْتَغْفَرُواْ اللّهَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُولُ لَوَجَدُواْ اللّهَ تَوَّابًا رَّحِيمًا  فَلاَ وَرَبِّكَ لاَ يُؤْمِنُونَ حَتَّىَ يُحَكِّمُوكَ فِيمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لاَ يَجِدُواْ فِي أَنفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ وَيُسَلِّمُواْ تَسْلِيمًا  (النساء: 65 ۔ 64)
”ہم نے جو بھی رسول بھیجا ہے وہ اس لئے تو بھیجا ہے کہ خدا کے حکم سے اس کی اطاعت وفرمانبرداری کی جائے۔ اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کیلئے معافی کی درخواست کرتا، تو یقینا اللہ تعالیٰ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ نہیں اے محمد۔ تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں بلکہ سربسر تسلیم کرلیں“۔
٭٭٭٭٭
”حاکم اعلیٰ“ ، ”سلطانیِ جمہور“ اور ”سیکولر ازم“ کے ضمن میں اس مسئلے کی کچھ اور وضاحت کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے ۔۔۔۔
خطابات اور القابات کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے۔۔۔۔ تو فحوائے جمہوریت یہی ہے کہ اکثریت کا فرمایا ہوا ہی مستند ہوگا اور زیادہ ووٹوں سے پاس کیا جانے والا ہی ”قانون“ کہلائے گا اور یہ کہ اکثریت کی موافقت حاصل ہوئے بغیر کوئی چیز بھی، خواہ وہ خدا کا فرمایا ہوا کیوں نہ ہو، آپ سے آپ قانون کہلانے کا حق نہ رکھے گا ۔۔۔۔ اگرچہ وہ خدا اور رسول کا واضح ترین حکم کیوں نہ ہو اور اپنی دلالت میں قطعی ترین کیوں نہ ہو اور خواہ چودہ سو سال سے لے آج تک فقہائے اسلام میں سے کسی ایک نے بھی کبھی اس پر اختلاف نہ کیا ہو جس کی ایک مثال __اور نہایت واضح مثال __ سود کی حرمت ہے، اور اس کی ایک اور مثال فحاشی و عریانی کی شناعت۔
چنانچہ خطابات اور القابات کو اگر ایک طرف رکھ دیا جائے۔۔۔۔ تو اس نظام کی رو سے مذہب مذہب ہے اور قانون قانون۔ واقعتا یہ نظام اس پر معترض نہیں کہ ”مذہب“ کی کوئی بات کسی وقت ”قانون“ بنا دی جائے۔ مگر اس کی رو سے ہیں یہ دو الگ الگ چیزیں۔ اور یہی بات غور طلب ہے۔ ”مذہب“ یہاں قانون بن ضرور سکتا ہے البتہ ”مذہب“ خود بخود ”قانون“ نہیں۔ دوبارہ یہ جملہ نوٹ فرما لیجئے: مذہب قانون بن ضرور سکتا ہے مگر مذہب خودبخود قانون نہیں۔۔۔۔
جبکہ اللہ کے ہاں ’دین‘ وہ ہے جو بیک وقت ”مذہب“ بھی ہو اور ”قانون“ بھی۔ اللہ کے ہاں سے جو کچھ اتر آیا ہے، کسی بھی اضافی شرط کے بغیر، وہ آپ سے آپ ”مذہب“ ہے اور آپ سے آپ ہی ”قانون“۔ جتنا وہ ”مذہب“ ہے اتنا ہی وہ ”قانون“ ہے۔ اس کی ایک حیثیت کو ماننا اور دوسری کو نہ ماننا خدا کے ساتھ کفر ہے۔
خدا کے ہاں سے جو نازل ہوا یعنی ”مَا أَنزَلَ اللّهُ“ جس طرح کسی مخلوق کے ”پاس“ کرنے یا نہ کرنے پر اس کا ”مذہب“ ہونا موقوف نہیں __بس صرف اس کا ثبوت اور دلالت واضح ہونا ضروری ہے __ اسی طرح کسی کے ”پاس“ کرنے یا نہ کرنے پر اس کا ”قانون“ ہونا بھی موقوف نہیں، صرف اس کا ثبوت اور دلالت واضح ہونا ضروری ہے۔
”سیکولرزم“ اور ”سلطانی جمہور“ البتہ اسلام سے متصادم نظام ہیں ۔۔۔۔
”سیکولرزم“ کی رو سے دین خود بخود اور کسی بھی اضافی شرط کے بغیر ”مذہب“ مانا جا سکتا ہے ”قانون“ نہیں۔ اس کے قانون ہونے کیلئے البتہ ایک اور شرط درکار ہے۔
یہ ’اور شرط‘ کیا ہے؟ اس کا جواب ”سلطانیِ جمہور“ کا عقیدہ دیتا ہے: ”مذہب“ کو ”قانون“ کا رتبہ ملنے کیلئے ”شرط“ یہ ہے کہ وہ ”اکثریت“ کے ہاں سے پاس ہو۔
آپ کی جمہوریت نے، دیکھ لیجئے، ’حاکم اعلی‘ سے اپنے یہ دونوں خواص کسی نہ کسی طرح بچا ہی لئے!!!!
یوں ”دین“ کو ”مذہب“ اور ”قانون“ میں بانٹ کر سیکولرازم ہمیں عملاً کلیسا کے دھرم میں داخل کر دیتا ہے بے شک ہم اس بات کو ’ذرا مشکل سے‘ ہی محسوس کریں۔
سیکولرزم زندگی کو عملاً دو خداؤں کے بیچ میں بانٹ دیتا ہے۔ ایک وہ خدا جو ”مذہب“ کے دائرے میں پوجا جاتا ہے اور ایک وہ خدا جو ”قانون“ کے دائرے میں پوجا جاتا ہے۔ ”مذہب“ کے خدا کو ”قانون“ کے دائرے میں بہرحال ”قانون“ ہی کے خدا کی منظوری درکار رہتی ہے۔ ”قانون“ کے خدا کی منظوری کے بغیر ”مذہب“ کا خدا جو مرضی کہہ لے اسکا کہا ”مذہب“ تو ہوتا ہے ”قانون“ نہیں۔ یہ سیکولرزم تقریباً پورے کا پورا آپکی جمہوریت میں بھی ساتھ ہی درآمد ہوا ہے۔
یہاں ”سیکولرزم“ کا کام ختم ہو جاتا ہے۔ اب ”سلطانیِ جمہور“ کا عقیدہ یہاں اس ’خدا‘ کا تعین کرتا ہے جس کو ”قانون“ کے دائرے میں پوجا جانا ہے اور جس کے ہاں سے صادر ہونے والا ”قانون“ کہلاتا ہے اور جس کے ”پاس“ کئے بغیر ”مذہب“ کی بات کو صرف مذہبی تقدس ہی حاصل رہتا ہے ۔۔۔۔ یہ ”نمائندگان جمہور“ ہے۔
جبکہ دین اسلام یہ ہے کہ ”مذہب“ کا معاملہ ہو یا ”قانون“ کا اللہ اور اس کا رسول جب کسی بات کا فیصلہ کر دیں تو سب پارلیمانی وغیر پارلیمانی مخلوقات صرف دو لفظ کہنے کی مجاز و روادار پائی جائیں: سَمِعنَا وَ اطَعنَا”ہم نے سنا اور ہم تابع فرمان ہوئے“۔ اس دائرے میں کسی مخلوق کو اختیار کہاں؟ اللہ کے ہاں دین بس یہ ہے۔ اِنَّ الدِّی ´نَ عِن ´دَ اللّٰہِ ال ´ِاس ´لاَم ”دین اللہ کے ہاں فرماں بردار ہوجانے کا نام ہے“۔ ”فرمانبرداری“ کے سوا ہر روش بس شیطان کا بہکاوا ہے۔
ِإِنِ الْحُكْمُ إِلاَّ لِلّهِ أَمَرَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يَعْلَمُونَ (یوسف: 40) ”فرماں روائی کا اقتدار، اللہ کے سوا کسی کیلئے نہیں ہے اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ طریق زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں“۔
وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الإِسْلاَمِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ  (آل عمران: 85) ”اس فرماں برداری کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا“۔

2) شریعت کی تعلیمات کے خلاف کوئی قانون نہ بنایا جائے گا!
ایک مجموعی تفسیر an overall interpretation کو سامنے رکھتے ہوئے، دستور کی ایک نہایت غیر مؤثر دفعہ، جس کے Legal effect میں دستور ہی کے اندر جگہ جگہ نقب لگا رکھے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں، اسلامی عقیدہ کی رو سے ما انزل اللہ کی جو آپ سے آپ قانونی حیثیت Legally binding status ہے اس کی بابت ہنوز جواب ندارد۔
اصل واردات ’قانون بنانے کا حق‘ رکھ کر ہی ڈال لی جاتی ہے(1)۔ قانون ’بنانے‘ کا کیا مطلب؟ خدا کی شریعت ہی تو قانون ہے بلکہ سب سے اٹل قانون ہے۔ مسلمان قرار پانے کیلئے آپ کو اسی بات پر تو ایمان لانا ہے کہ خدا نے جو شریعت اتار دی، آپ کیلئے اور آپ کے پورے معاشرے کیلئے __ مرتے دم تک __ اب وہ ہر قانون سے بالاتر قانون ہے اور ہر دستور سے بالاتر دستور۔ یہ خدا کے ہاں سے ’پاس‘ ہو کر ہی تو زمین پہ اتری ہے، اس کو ’پاس‘ کرنا اور اس کا ’قانون‘ قرار پانا کسی مخلوق کے ہاتھوں ’پاس‘ ہونے پر موقوف رہنا چہ معنیٰ؟
یعنی ’پاس‘ کرنے کا حق اب بھی ظالموں نے اپنے ہی پاس رکھ چھوڑا ہے البتہ ہمیں یہ اطمینان دلایا جا رہا ہے کہ شریعت کی تعلیمات کے خلاف کوئی چیز ’پاس‘ نہیں کر دی جائے گی تاکہ ہم اِن کے اس ’حق‘ کو کہ یہ شریعت کو ’پاس‘ کریں گے اور یہ کہ یہی لوگ ’پاس‘ کریں گے تو شریعت کو ’قانون‘ ہونے کا رتبہ حاصل ہوگا، ایک بار تسلیم کر لیں۔ اِدھر ہم اِن کا یہ ’حق‘ تسلیم کر لیں گے، اُدھر یہ اپنے اِس ’حق‘ کو ’توسیع‘ دینے لگ جائیں گے اور وہ بھی باقاعدہ ’آئینی‘ طریقے سے ہی!
اچھا تو اگر پھر بھی یہ مالک الملک کی شریعت کے خلاف کچھ ’پاس‘ کر دیں اور بہت سے خلاف شریعت قوانین کو بھی پوری طرح ’برقرار‘ رکھیں، جیسا کہ اِس وقت ہے، تو اِن کو اِس فعل سے روکنے اور اِن کے اِس اقدام کو ’غیر آئینی‘ اور ’کالعدم‘ قرار دینے کیلئے آپ کے اِس آئین کے پاس کیا ہے؟۔۔۔۔ وہ بہت کچھ جو قانون اور آئین کے نام پر مالک الملک کی شریعت کی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے شریعت کی اس کھلم کھلا خلاف ورزی کو اگر یہ برقرار رہنے دیتے ہیں، اور جوکہ کوئی مفروضہ نہیں بلکہ سامنے کی حقیقت ہے۔۔۔۔ تو ذرا یہ بھی تو معلوم ہو کہ اس صورت میں کوئی ان کا بگاڑ کیا سکتا ہے؟! کیا یہی کہ شریعت کے پرستار ’پانچ سال‘ تک انتظار کریں اور وہ بھی صرف اس واقعۂ عظیم کو روپزیر کرانے کیلئے کہ ووٹ کی ایک عدد پرچی ان کی بجائے اب کسی اور کی نذر کر کے آئیں گے اور پھر ’پانچ پانچ سال‘ کر کے اپنا یہ ’جمہوری حق‘ استعمال کرتے چلے جائیں گے!!!!!؟ کہا گیا کہ ’انتظار‘ کرنے کے علاوہ، اس دوران، ہم فیڈرل شریعت کورٹ جا کر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ’دستور کا طے کردہ‘ یہ طریقہ بھی ہم نے آزما ڈالا، شریعت کو ’قانون‘ کا رتبہ دلوا لانے کا یہ راستہ بھی تھوڑا سا چل کر آگے کہیں گم ہو جاتا ہے اور کوئی دو عشرے سے مسلسل گم چلا آتا ہے۔۔ اور شریعت ’دیارِ پاکستان‘ میں پھر ’قانون‘ کا رتبہ پائے بغیر رہتی ہے! شریعت ’نافذ‘ ہونے کی بات ابھی ہم نہیں کر رہے، شریعت کا ’نافذ‘ ہونا ابھی بعد کی بات ہے، ابھی تو شریعت کو صرف ’قانون‘ کا رتبہ ملا ہونے کا سوال ہے!!! اور ’آئین کا اسٹیٹس‘ تو خیر قانون سے بھی بڑی ایک چیز ہے!!!
تصور کیجئے خدا کی نازل کردہ بین شریعت اِس ملک میں آپ سے آپ نہ صرف ’قانون‘ شمار ہو بلکہ ’آئین‘ کا رتبہ رکھے بلکہ آئین سے بھی بلند تر رتبہ رکھے اور ماہرینِ آئین جس طرح آج ’آئین‘ کا نام لے کر ہر کسی کو چپ کراتے ہیں، عین اسی طرح بلکہ اس سے بھی کہیں بڑھ کر یہ ایک دوسرے کو ”شریعت“ کا نام لے کر چپ کرایا کریں!!! تصور کیجئے ان عدالتوں اور ایوانوں پر کوئی دن ایسا آئے کہ یہ کہہ دیا جانے کے بعد کہ فلاں بات کا فیصلہ اللہ اور اسکے رسول نے کر دیا ہے، زبانیں بند، بحثیں ختم اور گردنیں جھک جائیں! کون اختلاف کر سکتا ہے کہ ”اسلامی آئین“ اصل میں یہ ہے؟! کوئی پوچھے یہ خوبصورت ’دفعہ‘ جو ہمیں سنانے کیلئے رکھی گئی ہے اور جس کو غیر مؤثر کر رکھنے کیلئے اس آئین کے اپنے ہی اندر ان گنت انتظامات باقاعدہ محنت اور قصد کے ساتھ کر رکھے گئے ہیں، یہ دفعہ آئینی دستاویز کے مجموعی مفہوم کے لحاظ سے مؤثر و قطعی کتنی ہے؟
آئین کے ماہرین بھی یہیں ہیں اور آئین کے حمایت کنندگان بھی یہیں تشریف فرما ہیں، براہ مہربانی وہ ہمیں دستور سے کسی انشائیہ جملے پر مبنی دفعہ پڑھ کر نہ سنائیں یہ دفعات ہم نے بہت سن لی ہیں وہ ہمیں صرف یہ بتائیں کہ جو لوگ مالک الملک کی اتاری ہوئی شریعت کو اس ملک میں قانون کا رتبہ ملا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں مگر وہ اس بات کی طاقت نہیں رکھتے کہ الیکشن میں ’بھرپور کامیابی‘ حاصل کر کے وہ پارلیمنٹ میں اپنی ’اکثریت‘ شو کر ڈالیں، آپ کے آئین کی رو سے ان کو اب مزید کیا کرنا ہے؟ کوئی جواب۔۔۔۔؟؟؟؟؟
اگر وہ یہ فرمائیں کہ حوصلہ رکھیں دستور کی ایک اپنی زبان ہوتی ہے اور ایک اپنا طریق کار، تو پھر یہی تو وہ بات ہے جو ہم اپنے اسلام پسند بھائیوں پر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ دستور کی ایک اپنی زبان اور اپنا طریقۂ کار ہے اس سے کسی ایک خوش نما دفعہ کو پڑھ لینا اور اس سے ماقبل و مابعد کو نظر انداز کرتے ہوئے، خصوصاً دستور کی ’خاص زبان‘ اور ’طریق کار‘ کو نظر انداز کر رکھتے ہوئے، اس ایک ہی دفعہ سے اپنے سب مطالب ثابت سمجھنا نادرست ہے۔ قانون کی زبان میں ایک بات ایک جگہ کیجاتی ہے اور اس سے متعلقہ ’اگر مگر‘ اور ’شوشے شذرے‘ پوری دستاویز میں بکھیر رکھے جاتے ہیں(2)۔ بہت سی باتیں ایک ہاتھ سے دے کر دوسرے ہاتھ سے واپس بھی لے لی جاتی ہیں۔ آئین کی ایک دفعہ میں فیڈرل شریعت کورٹ کا جاں فزا مژدہ سنایا جا سکتا ہے اور کسی دوسری دفعہ میں اسی فیڈرل شریعت کورٹ کے ہاتھ پیر باندھے جاسکتے ہیں۔ پس اصل بات یہ ہے کہ کسی دستاویز کا ایک مجموعی مفہوم لیا جائے اور پھر ہی کسی چیز کی آئینی یا قانونی حیثیت کا تعین کیا جائے۔
پس سوال صرف یہ ہے کہ کوئی خلافِ شریعت قانون ’نہ بن سکنے‘ اور موجودہ خلافِ شریعت قوانین کے ’لازماً شریعت کی مطابقت میں لائے جانے‘ کے اس مژدۂ جانفزا کی آئینی قطعیت کس درجے کی ہے اور یہ کہ اس بات کی قطعیت کو ’محل نظر‘ ٹھہرا دینے یا متاثر کر دینے والی اشیاءتو آیا اِس دستور کے اپنے ہی اندر نہیں پائی جاتیں؟؟؟ یعنی، مثال کے طور پر، آپ کا آئین جب کہتا ہے کہ کوئی شخص تیسری بار ملک کا وزیر اعظم نہیں بن سکتا تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ واقعتا کوئی شخص تیسری بار وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ اور آئین نے ’واقعی‘ جب یہ کہہ دیا ہے تو کوئی لاکھ اس کو وزیر اعظم بنائے وہ وزیر اعظم بن ہی نہیں سکتا۔ جی ہاں، ’آئین‘ ایسی ہی ایک چیز ہے۔ اس کو پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اندر اکثریت حاصل ہو تو بھی وہ وزیر اعظم بننے کا سوچے گا تک نہیں، جب تک کہ وہ یہ آئینی رکاوٹ ہی آئینی طریقے سے دور نہ کر لے۔ ایوان کا کوئی فلور اس کو وزیر اعظم بنانے کی قرارداد ’ووٹنگ‘ کیلئے تو کیا ’بحث‘ کیلئے ہی قبول نہ کرے گا۔ کیونکہ آئین اس مسئلے پر واقعی بہت واضح ہے! یہاں ہم کہیں گے: آئین کی رو سے ایک چیز واقعتا نہیں ہو سکتی کیونکہ دستور کی کوئی اگر مگر یا کوئی شوشہ شذرہ اس بات کے معارض ہے ہی نہیں۔ مگر ’خلاف شریعت قانون نہ بن سکنے‘ اور ’خلاف شریعت قوانین کو شریعت کے موافق بنانے‘ کا مطلب بھی کیا ویسا ہی قطعی ہے کہ آئین کی ایک دفعہ نے اگر کہہ دیا کہ ایک چیز نہیں ہوگی تو وہ چیز اب کسی قیمت پر کبھی ہو ہی نہ سکے، یا پھر اس باب میں ’اگر مگر‘ کا مفہوم دینے والے کئی حصے آپ کے اِسی آئین میں ہی باقاعدہ طور پر پائے جاتے ہیں بلکہ اس مقصد کیلئے باقاعدہ طور پر رکھے گئے ہیں؟ آپ خود ہی سوچئے یہ بات آئین میں اتنی ہی واضح اور قطعی ہوتی کہ شریعت کے واضح مسلمات سے متصادم ایک قانون کی یہاں کسی صورت گنجائش ہی نہیں تو یہ سب غیر اسلامی قوانین کیا یہاں کالعدم نہ ہو گئے ہوتے!؟ لیکن جب یہ خلافِ اسلام قوانین کالعدم نہیں ہوئے بلکہ پوری طرح ساری المفعول ہیں تو آخر کوئی تو بنیاد ہوگی جس کے بل پر ان ’خلافِ اسلام‘ قوانین کی آئینی حیثیت باقی رہتی ہوگی! خود ہمارے اسلام پسند بھائی ہی ان بنیادوں کا رونا روتے کئی بار دیکھے گئے ہیں! یہ انکار نہ کریں گے کہ ’شریعت بل‘ کی ضرورت بھی ایسے ہی کچھ رونوں کے باعث پڑی تھی ورنہ سیکولروں کے اس الزام سے بچنا بہت مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ تو محض جونیجو و دیگر ’جمہوری‘ قوتوں کے مقابلے میں ضیاءالحق کے ہاتھ مضبوط کرنے کی ایک کوشش تھی!
ہمارے اسلام پسند بھائیوں کا کوئی طبقہ ایک دستوری قسم کی جدوجہد پر ہی یقین رکھتا ہے تو ضرور رکھے، مگر اس نظام کو یہ سرٹیفیکیٹ دے دینا پھر بھی صحیح نہ ہوگا کہ یہ شرک سے نکل آیا ہے اور مالک الملک کے آگے گھٹنے ٹیک چکا ہے اور اُسکی شریعت کو قبول کر چکا ہے۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہیں کہ دستوری جدوجہد کا جو راستہ ہم نے اختیار کر رکھا ہے جاری ہے، کچھ پیش رفت بھی ہوئی ہے اور جب تک یہ مالک کی شریعت کے آگے تسلیم نہیں ہو جاتا ہماری جدوجہد ختم نہیں ہو گی۔ البتہ جب ہمارے یہ بھائی اس نظام کے حق میں یہ سرٹیفکیٹ دے دیتے ہیں کہ یہ نظام مالک الملک کے آگے تسلیم ہو گیا ہے تو تب البتہ ایک بہت بڑا خلط مبحث جنم لیتا ہے اور تب خود ہمارے ان بھائیوں کی جدوجہد کی راہیں بھی تنگ ہوتے ہوتے کہیں روپوش ہو جاتی ہیں اور انکو اپنی سرگرمی کا کوئی مؤثر و زوردار میدان چننے میں ہی دشواری پیش آنے لگتی ہے۔ اور تب یہاں کے سیکولر طبقوں کو دستور میں ایک نہایت غیر مؤثر صلاحیت کی حامل اس ’اسلامی دفعہ‘ کو ڈال دینے کا احسان قیامت تک ہم پر جتاتے رہنے کیلئے بھی ایک نہایت خوب بنیاد ہاتھ آتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ یہ تاثر دینے میں کامیاب رہتے ہیں کہ اس نظام کو ’اسلامی‘ کرنے کے معاملہ میں اسلام پسندوں کی جو کوئی منزل ہو سکتی تھی وہ تو کب کی آکر گزر چکی، یعنی نظام اب یہ پوری طرح اسلامی ہے صرف ’عمل‘ رہ جاتا ہے
اور اس پر کون کسی کو مجبور کر سکتا ہے؟ ہم بھی مسلمان ہیں، ایک کام خدا کیلئے کرنا ہے اور وہ حسب توفیق ہی ہو سکتا ہے، ہاں کوئی خلافِ آئین چیز ہے تو جائیں اس کو عدالتوں میں چیلنج کریں، باقی، اسلام پسند چاہیں تو کس نے روکا ہے اپنی اکثریت لے آئیں اور اس پر ’عمل‘ بھی کروا لیں!
یعنی مسئلہ ’عمل‘ رہ جاتا ہے نہ کہ ’نظام کا انحراف‘! باطل کو اسکے سوا کونسی شہادت درکار ہے؟
بہرحال ان سب دفعات کے باوجود، کہ جن کی بدولت کہ یہ نظام اپنا کچھ بھی تبدیل کئے بغیر لوگوں کی ایک تعداد کے نزدیک ’اسلامی‘ ہونے کی سند پا گیا ہے، یہ سوال جوں کا توں باقی ہے کہ خدا کے اتارے ہوئے واضح و قطعی احکامات کی اس نظام کے اندر ’قانونی حیثیت‘ کیا ہے؟
اب جہاں تک ’کتاب و سنت کے برخلاف ہرگز کوئی قانون نہ بن سکنے‘ کا تعلق ہے تو محض ایک مثال کے طور پر، اور ظاہر ہے اس پر بے شمار مثالیں دی جا سکتی ہیں کہ ’کتاب وسنت کے برخلاف کوئی قانون نہ بن سکنے‘ کے معاملہ میں دستور کی یہ ایک نہایت غیر مؤثر دفعہ ہے۔۔۔۔ ہمارے سامنے پیس ٹی وی پر پاکستان کے ایک معروف ترین داعیِ دین جناب ڈاکٹر اسرار احمد بھارت کے ایک عظیم جلسہ عام میں خطاب کر تے ہوئے ’بھارتی مسلمانوں‘ کو یہ خراج عقیدت پیش کر کے آتے ہیں کہ بھارت ایسے ’سیکولر‘ ملک میں رہتے ہوئے بھی آپ لوگوں نے کسی کو اپنے ”مسلم عائلی قوانین“ کو ہاتھ نہیں لگانے دیا، جبکہ ہم پاکستانی مسلمان شرمندہ ہیں کہ اتنا بھی نہ کر سکے اور ہمارے وہ مسلم عائلی قوانین جن کو ہاتھ لگانے کی انگریز بھی کبھی جرأت نہ کر سکے تھے، پاکستان کے اندر اُن میں اب کئی ایک کھلی کھلی خلافِ شریعت اشیاءڈال دی گئی ہیں۔ (روایت بالمعنیٰ) ڈاکٹر اسرار صاحب کی یہ بات کہ انگریز بھی ہمارے جن عائلی قوانین کو ہاتھ نہیں لگا سکے تھے ’ہمارے‘ اِس نظام کے اندر تو وہ بھی سلامت نہ رہنے دیے گئے اور خود انہی کے اندر خلافِ اسلام قوانین ڈال دیے گئے، اس قدر سچ ہے کہ کوئی واقفِ حال اس سے انکار نہ کر سکے گا۔
غرض کون نہیں جانتا کہ جس دستور کی ایک دفعہ ہمیں وہ مژدہ سناتی ہے کہ کوئی قانون خلاف شریعت نہ بنے گا، اسی دستور کی ایک دوسری دفعہ، علاوہ کچھ دیگر اشیائ، مسلم عائلی قوانین کے موضوع تک پر ’فیڈرل شریعت کورٹ‘ کے ہاتھ باندھ کر آتی ہے؟!
دستور کی اِس ’امید افزا‘ دفعہ پر ہم کسی فنی بنیادوں پر یہاں بات نہیں کر رہے، البتہ یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ دستور کی اس دفعہ کو ’بیلنس‘ کرنے کیلئے بہت کچھ اِس دستور کے اپنے ہی اندر موجود ہے۔ جہاں ہم اسلام پسند دستور سے حوالہ دینے کیلئے بہت کچھ پاس رکھتے ہیں وہاں ملک کے سیکولر طبقے بھی اپنی بات کے حق میں حوالہ دینے کیلئے اِسی دستور سے ہی بہت کچھ پاس رکھتے ہیں۔ یہ تو پارلیمنٹ میں کچھ پیش ہو پھر آپ دیکھیں گے کہ دستور کی یہ ’اسلامی دفعات‘ جو ابھی تک صرف ہمیں ہی سنانے کیلئے رکھی گئی ہیں اِن کا صحیح صحیح قانونی و آئینی اقتضاءدرحقیقت کیا ہے!
سوال یہ ہے کہ اگر یہ ’اسلامی دفعات‘ اپنے معنی و اقتضاءمیں اتنی ہی واضح اور دوٹوک ہیں تو پارلیمنٹ میں کچھ ’اسلامی قوانین‘ کے بل پیش کر کے اور کچھ ’خلافِ شریعت قوانین کو کالعدم ٹھہرانے‘ کے بل پیش کر کے آخر دیکھ ہی کیوں نہیں لیا جاتا کہ ’کیا بنتا ہے‘؟ اسکے نتیجے میں ملکی قوانین اگر شریعت کی موافقت میں لے آئے جاتے ہیں تو سارا مسئلہ ہی حل ہوجاتا ہے، اور اگر یہ دفعات پارلیمنٹ کے فلور پر کھڑے ہو کر کام نہیں دیتیں تو بھی ان ’اسلامی دفعات‘ کی تاثیر و قطعیت کی بابت دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی تو ہو ہی سکتا ہے، یہ بھی کوئی چھوٹی پیشرفت تو نہیں! تاہم یہ بات نوٹ کی جائے کہ دستور کی یہ اسلامی دفعات اگر پارلیمنٹ کے فلور پر کام نہیں دیتیں اور ’پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوؤں‘ کو خاموش نہیں کرا سکتیں، تو کیا یہ انصاف ہوگا کہ ان ’اسلامی دفعات‘ کا حوالہ دے کر صرف ہم ایسوں کو ہی خاموش کرایا جاتا رہے؟!!!!
کہا جاتا ہے یونان کے فلسفی بڑی صدیوں تک ’نظری‘ بحثیں کرتے رہے کہ دو مختلف وزن کے پتھر ایک سی بلندی سے گرائے جائیں تو ہلکے پتھر کی نسبت بھاری پتھر زمین پر پہلے گرے گا، البتہ ’فلسفی‘ ہونے کے باعث اتنا نہ کر پائے کہ دو مختلف وزن کے پتھر اٹھائیں اور گرا کر دیکھ لیں! بجائے اسکے کہ 1973ء سے لے کر اب تک، کہ تقریباً چار عشرے مدت بنتی ہے، ان ’اسلامی دفعات‘ کی آئینی صلاحیت و قطعیت پر صرف ’نظری‘ بحثیں کی جاتی رہیں، پارلیمنٹ میں جا کر ان دفعات کی یہ ’آئینی صلاحیت‘ آزما کیوں نہیں لی جاتی، کہ پتہ چل جائے ان دفعات میں فنی اعتبار سے جان کتنی ہے اور ان کو بے جان کر دینے کے انتظامات خود اسی دستور کے اندر کیا کیا ہیں؟؟!


(1) کوئی ریاست اپنی روزمرہ ضروریات کیلئے قواعد و ضوابط بناتی ہے، خصوصا ان امور کے اندر جن کو ’بائی لاز‘ کہا جاتا ہے، تو یہ بات کسی کے ہاں بھی محل اعتراض نہیں۔ اصل اعتراض اس بات پر ہے کہ شریعت کے معروف و زبان زد عام امور بھی کہ جنہیں مسلماتِ شریعت کہا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ مسلماتِ شریعت تک کسی نظام میں ’قانونی و آئینی حیثیت‘ پانے کیلئے پارلیمنٹ کے ہاں سے پاس ہونے کے ضرورت مند رکھے جائیں اور جب تک پارلیمنٹ انہیں ’پاس‘ نہ کر دے ان کی کوئی قانونی حیثیت ہی نہ ہو!
شریعت کے معروف مسلمات، مانند:
- شرک، سود، فحاشی وعریانی اور موالاتِ کفار وغیرہ کی حرمت، یا
- نماز، حیاداری اور عدل اجتماعی ایسی اشیاءکا وجوب، یا
- جہاد اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر وغیرہ ایسے امور کا مشروع و مطلوب ہونا۔
 یہ ایک واضح امر ہے کہ مسلماتِ شریعت کو آپ سے آپ آئینی و قانونی حیثیت حاصل نہ ہونے کے باعث یہاں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے کثیر شرعی امور کہ جن سے فقہائے احناف کی کتب بھری پڑی ہیں بلکہ سب کے سب اسلامی مذاہب کی کتبِ فقہ ان سے بھری ہوئی ہیں، اور کتاب و سنت کی نصوص بھی ان کے حق ہونے پر نہایت واضح دلالت رکھتی ہیں۔۔۔۔ مسلماتِ شریعت کو اس نظام میں آپ سے آپ ’آئینی و قانونی حیثیت‘ حاصل نہ ہونے کے باعث، حسبہ و امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ایسے کثیر شرعی امور بلکہ واجباتِ دین تک یہاں آئین کے ’بنیادی حقوق‘ والے باب کے ہی صاف متعارض قرار پائیں گے۔ یعنی شریعت میں جو چیز فرض کا درجہ رکھے گی آپ کے آئین کے ’بنیادی حقوق‘ والے چیپٹر کی رو سے وہ ’جرم‘ قرار پائے گی۔ اس کی زیادہ وضاحت کسی اور وقت کی جائے گی، البتہ اس کی صرف ایک مثال ذیل میں دی جاتی ہے:
ایک باپ اپنی بیٹی کو جو قانون کی نظر میں بالغ ہے، کسی ایسی اردو یا پنجابی یا پشتو فلم میں ڈانس سے روک دینا چاہتا ہے جس کو یہاں کے سنسر بورڈ نے ’پاس‘ کر دیا ہوا ہے یا جس پر سنسر بورڈ معترض نہیں! بیٹی اگر اپنا یہ ڈانس ریکارڈ کرانے پر ہی بضد ہے تو چونکہ قانون کی نظر میں پنجابی اور پشتو فلموں کا یہ ڈانس (جوکہ آپکو کچھ اندازہ ہوگا کہ کیا ہوتا ہے!) ایک ’جائز‘ کام ہے لہٰذا باپ اور اس کا پورا قبیلہ مل کر بھی اگر لڑکی کو اس حیا باختہ عمل سے روکنا چاہیں تو قانون بہرحال یہاں لڑکی کے ساتھ کھڑاہوگا۔ اور اگر لڑکی کا پورا محلہ یا پورا قبیلہ مل کر بھی اسکو اس بے حیائی سے روکنے میں ’زبردستی‘ کا مرتکب ہوتا ہے تو قانون کی نظر میں (جس کی رِٹ کو ماننا نہایت ضروری ہے!) لڑکی حق پر ہے اور قبیلہ جرم کا مرتکب! آپ جس بھی ماہر آئین سے پوچھنا چاہیں پوچھ کر دیکھ لیں، نہی عن المنکر کا ایک کام، جوکہ شریعت میں بقدرِ استطاعت مطلوب ہے، اس حالت میں آئین کے ’بنیادی حقوق‘ کے باب سے صاف متصادم ہے اور قانوناً منع۔ اور جہاں شریعت اور آئین میں تصادم آجائے وہاں ترجیح __ اِ س نظام کے اندر __ بھلا کس کو حاصل ہوگی؟ ہمارا خیال ہے اس کا جواب یہاں ہر شخص کو معلوم ہے، فَحَسبُنَا اللّٰہُ وَنِعمَ الوَکِیل۔
(2) اس زاویے سے دستور کا ایک مطالعہ پیش کرنا، ایک مکتبِ تحقیق وجود میں لے آنے کے بعد، ادارہ ایقاظ کے بھی پیش نظر ہے ۔ مگر یہ مطالعہ ظاہر ہے بحث و تحقیق سے متعلق ہے، البتہ ایک عمومی معنی میں اس نظام کی بابت یہ  حقیقت اظہر من الشمس ہے۔ اِس نظام کی نظر میں خدا کا فرمایا ہوا آپ سے آپ قانون نہیں، یہ اس قدر واضح حقیقت ہے کہ کسی ’تحقیق‘ یا ’مطالعے‘ کی محتاج نہیں۔ پھر بھی، ’ریکارڈ درست‘ رکھنے کیلئے، یہ چیز مفید ہوسکتی ہے۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours