جمہوریت کے ذریعے نظام خلافت کس طرح قائم کیا جا سکتا ہے ۔۔۔از ڈاکٹر اسرار احمد


جہاں تک تعلق ہے ریاست کے دستوری خاکے کا  ، تو اس کی ایک تقسیم تو پارلیمانی  جمہوریت اور صدارتی جمہوریت کی صورت میں کی گئی ہے ۔ دوسری تقسیم وفاقی ، وحدانی  اور ایک بہت ہی کم رائج نظام کنفیڈرل (یا میثا قی )نظام میں کی گئی ہے ۔ ان میں سے جس کوبھی آپ اپنے حالات کےلحاظ سے پسند کریں  اس کے اندر تین چیزیں شامل کر کے اس کو خلافت میں تبدیل کر سکتے ہیں ۔


ان تین چیزوں کی وضاحت سے پہلے ایک اور اصولی بات یہ سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کا آئیڈیل نمونہ خلافت راشدہ ہے  ۔اس خلافت راشدہ سے قریب تر اور عقلی اعتبار سے زیادہ معقول اور مسلم ،صدارتی نظام ہے ' پارلیمانی  نہیں ہے ۔ خلافت راشدہ میں اختیارات  کا ارتکاز خلیفہ کی ذات میں تھا ۔ عہد حاضر میں امریکہ کا صدارتی نظام اس کے بہت قریب پہنچ گیا ہے ۔ ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ خلافت  راشدہ میں خلیفہ کا انتخاب تاحیات ہوتا تھا جبکہ  یہاں معاملہ 4 تا 5 سال کے لئے ہوتا ہے ۔ امریکہ کے صدر کومنتخب  ہونے کے بعد کانگریس کی ضرورت نہیں رہتی  ۔ امریکہ کےبارے میں یہ بات ہم مانتے ہیں  کہ وہ دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک ہے ۔ اس حوالے سے بطور دلیل سمجھ لینا چاہئے کہ صدارتی نظام پارلیمانی نظام کی نسبت عمرانی ارتقاء کی بلند تر  سطح پر ہے ۔
(نوٹ:۔ قارئین کرام ، ڈاکٹر صاحب کے مؤقف کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ان کی کتاب " خلافت  کی حقیقت اور عصر حاظر میں اس کا نظام" کا مطالعہ کیا جائے ۔ جسے آپ یہاں سے ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں ۔ شکریہ )

























Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours