اسلامی نظام سياست اور جمہوريت کے مابين فرق
ایک مکالمہ  ۔ تحریر عبد القدوس سلفى   
حصہ اول

 
 
آپ کا خیال ہے کہ موجودہ سیاست سے ہم بالکل لاتعلق ہوجائیں۔
نہیں ہمارا تو موجودہ سیاست سے بڑا گہرا تعلق ہے ہم ہی نے اس کفر کی سیاست کو مسلمان کرنا ہے لیکن جہاں تک اس سیاست سے سمجھوتہ کرنے والی بات ہے ایسا ستم ہم نہیں کرسکتے ہماری سیاست دعوت وجہاد کے ذریعے خلافت وامارت کے قیام کی جدوجہد ہے۔۔۔
ہم نے آخر اس ملک میں زندہ رہنا چاہتے ہیں اگر آپ جمہوریت کو ترک کردیتے ہیں تو آپ اپنے حقوق کی حفاظت نہیں کرسکتے۔
کیوں نہیں!۔ جمہوریت ہمارے حقوق کی قطعا محافظ نہیں آپ سمجھتے ہیں کے ہم الیکشن میں حصہ لے کر اپنے حقوق کی حفاظت کر لیتے ہیں یہ محض دھوکہ ہے ہم اگر اپنے حقوق لینا چاہتے ہیں تو ہمیں ایک امیر کے تحت منظم ہونا ہوگا حکومت کوئی بھی ہو وہ منظم گروہ کی بات سنتی ہے مثلا قادیانیوں یا اسماعیلیوں کو دیکھ لیجئے کے ان کی کوئی سیاسی جماعت نہیں مگر وہ اپنے حقوق منواتے ہیں اور پھر ہمارا سب سے بڑا حق یہ ہونا چاہئے کے ہمیں تو صرف اسلام چاہئے حکومت کسی کی بھی کیوں نہ ہو ہم اس کو دعوت دیں کے وہ اسلامی نظام حکومت اپنائے اگر وہ ایسا نہیں کرتی تو ہمیں کلمہ حق کہنا چاہئے خواہ ہمیں اس کے لئے قید وبند کی صعوبتیں ہی کیوں نہ برداشت کرنا پڑیں۔۔۔



ہم حکمرانوں کو بتائیں کے خلافت کا نظام ہی اسلام کا نظام ہے جس کے بغیر حکومت کفر کی حکومت ہوتی ہے حکومت اور مملکت کا دستور صرف کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو قرار دیا جائے اس کے علاوہ کوئی چیز دستور نہیں ہوسکتی اور نہ ہی اس کو دستور تسلیم کیا جا سکتا ہے لیکن یہ تب ممکن ہے جب ہم خود اپنی جماعت میں ایسا مثالی نظام (نظام امارت) قائم کردکھائیں ہمارا امیر ایک ہو اور اس کی سمع وطاعت میں زندگی گزاریں ہر مسجد کی سطح پر بھی ایک امیر ہو جو اپنے علاقہ کے لوگوں کے لئے قاضی کا کام بھی کرے ہمارے باہمی جھگڑوں کا فیصلہ وہ امیر کتاب وسنت کے مطابق کرے۔ ہم کفر اور انگریز کے قانون کی عدالتوں کا عملا بائیکاٹ کریں لوگ ہمیں دیکھیں اور پکار اٹھیں کے یہ اسلام کا نظام ہے ہم یہی تربیت جماعت کے افراد کی کررہے ہیں اور قائدین کو بھی ہی سمجھا رہے ہیں۔۔۔
مشن تو آپ کا زبردست ہے مگر یہ کام بڑا مشکل ہے۔
دیکھئے مشکل کو آسان کرنے والا اللہ وحدہ لاشریک ہے ہم اگرچہ منزل پر دیر سے ہی کیوں نہ پہنچیں لیکن ہمیں صحیح راستہ میں قدم اٹھانا چاہئے۔
موجودہ حالات میں ہم جہاد کیسے کرسکتے ہیں؟؟؟ِ۔۔۔
 
جہاد کے لئے محض اسلحہ نہیں اٹھانا ہوتا کلمہ حق کو بلند کرنا بھی جہاد ہے بلکہ جابر سلطان کے سامنے تو یہ افضل جہاد ہے اپنے ملک میں ہم جہاد کی یہی شکل اختیار کریں اور بوسنیا اور کشمیر وغیرہ کے علاقوں میں جاری مسلح جہاد میں شریک ہوکر یہ فریضہ سرانجام دیں۔ مگر ہمارے بزرگ تو کلمہ حق کہنے کی بجائے نظام کفر سے صلح کر بیٹھے ہیں۔
صلح تو نہیں کی ہمارے اکابرین کلمہ حق تو کہتے ہی رہتے ہیں
جمہوریت کے ساتھ سمجھوتہ کرنے کے بعد کلمہ حق کہنے کا کوئی وزن نہیں رہتا اور نہ ہی یہ درست طریقہ ہے۔۔۔۔۔۔ جمہوریت کو قبول کرکے کلمہ حق بلند کرنے کی کوشش کرنا اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے آپ دیکھتے نہیں جمہوریت نے ایک عورت کو سربراہ مملکت بنا دیا کتنے علماء ہیں جنہوں نے کلمہ حق کہا لیکن ان سب کا جواب وہ یہ دیتی رہی کہ میں ٧٣ء کے آئیں کے مطابق جمہوریت کے ذریعے برسراقتدار آئی ہوں۔
73ء کا دستور قرآن وسنت سے بالاتر تو نہیں ہوسکتاہے۔
رونا تو اسی بات کا ہے کے ہم نے قرآن وسنت کو چھوڑ کر  73ء کا خود ساختہ دستور قبول کرلیا ہے اگر ہمارے ملک کا دستور کتاب وسنت ہوتا تو عورت کبھی سربراہ نہ بن سکتی۔
علماء نے کلمہ حق تو کہا ہے کے یہ غیر شرعی حکمرانی ہے۔
لیکن وہی علماء انہی اسمبلیوں میں موجود ہیں اسی آئین کا حلف دے چکے ہیں جس نے عورت کو حکمران بنایا ہے اب بتائیے اس کلمہ حق کو کلمہ حق کہا جاسکتا ہے جس میں جمہوریت سے محبت بدستور موجود ہو نہ شیطان ناراض ہو اور راضی رہے رحمان بھی؟؟؟۔۔۔ یہ کھلی منافقت ہے اور یہ جمہوریت کا تحفہ ہے جو دینی سیاسی جماعتوں کو نصیب ہوا۔
ہماری جمہوریت تو اسلامی ہے مغربی نہیں کے اس میں قرآن سے ہٹ کر بھی فیصلہ کیا جا سکے
آپ کتنے بھولے ہیں کفر کو اسلامی بنارہے ہیں!۔ کفر بھی کبھی اسلامی ہوتا ہے؟؟؟۔۔۔ جمہوریت کفر ہے خواہ وہ امریکہ وفرانس میں ہو یا پاکستان میں جس طرح سے سوشلزم اور کمیونزم کافروں کے نظام ہیں یہ اسلامی نہیں ہوسکتے اسطرح جمہوریت کافروں کا نظام ہے یہ کبھی اسلامی نہیں ہوسکتا جس طرح اسلام کا کمیونیزم وسوشلزم سے تصادم ہے۔۔ ۔بعینہ جمہوریت سے بھی تصادم ہے۔
آپ اسلامی جمہوریت کو بھی کافرانہ سیاسی نظام سمجھتے ہیں؟؟؟۔۔۔
آپ اسلامی سوشلزم کو کافرانہ معاشی نظام سمجھتے ہیں؟؟؟۔۔۔
سوشلزم تو اسلامی ہوہی نہیں سکتا۔
پھر جمہوریت کس طرح اسلامی ہوسکتی ہے؟؟؟۔۔۔
جمہوریت تو محض حکومت کی تبدیلی کا ایک ذریعہ ہے یہ کوئی خاص نظام نہیں جس کو ہم اسلام سے متصادم سمجھیں۔۔۔
جمہوریت ایک نظام ہے محض حکومت عوام کی حاکمیت ہے آپ کہتے ہیں جمہوریت اسلام کے منافی نہیں۔۔۔ حالانکہ۔۔۔ جمہوریت تو اسلامی بنیادی عقیدے ان الحکم الا اللہ (قانون اللہ کا ہے) سے متصادم ہے کیونکہ جمہوریت میں قانون انسان کا چلتا ہے انسان کے لئے انسان ہی قانون بناتے ہیں جبکہ اسلام میں قانون بنا بنایا آسمان سے نازل ہوا ہے قانون سازی کا اختیار تو اللہ نے اپنے بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں دیا اور یہاں انسان اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا اختیار رکھتے ہیں۔۔۔
تعجب ہے! یہ کون بیوقوف کہتا ہے کے جمہوریت میں اللہ کے مقابلے میں قانون سازی ہوتی ہے ہمارے دستور 1973ء میں یہ بات طے کی گئی ہے کے اسمبلی کوئی قانون قرآن وسنت کے منافی نہیں بناسکتی۔۔۔
آپ کیسی بات کرتے ہیں ہمارے دستور میں قرآن وسنت کو بعنیہ اس طرح تسلیم کیا گیا ہے جس طرح  ہمارے ہاں بریلوی مکتب فکر کے لوگ غلطی سے اپنے آپ کو اہلسنت والجماعت کہتے ہیں حالانکہ اصلی اہلسنت والجماعت وہ لوگ ہیں جو صرف قرآن وحدیث کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں اور صحابہ کرام کے طریقے کو اختیار کرتے ہوئے فرقہ وارنہ تقلیدی سیاسی گروہ بندیوں سے الگ تھلگ دعوت جہاد کو نبوی منہج پر گامزن ہیں جبکہ بریلوی حضرات احمد رضا خان بریلوی کے عقائد اختیار کرتے ہی جو قرآن وسنت اور صحابہ کرام کے طریق کے منافی ہیں لہذا یہ اہلسنت نہیں۔ توحید کو تسلیم کرتے ہیں کوئی بریلوی ایسا نہیں آپ کو نہیں ملے گا جو یہ کہتا ہو کے فلاں بزرگ ہمارا معبود ہے یا ہم فلاں بزرگ کی عبادت کرتے ہیں حالانکہ وہ جو کچھ بزرگوں سے کرتے ہیں ہوتی اُن کی عبادت ہی ہے مثلا یہ حضرات یاعلی مدد اور یارسول اللہ مدد کے نعرے لگاتے ہیں جو کہ غائبانہ پکار ہے اور غائبانہ پکار عبادت ہے اور عبادت صرف اللہ کی ہوتی ہے اس لئے یہ شرک ہے لفظ بدل دینے سے حقیقت تو نہیں بدل سکتی اسی طرح ٧٣ء کے دستور میں اللہ کی حاکمیت اور قرآن وسنت کو تسلیم کیا گیا ہے اور عملا پارلمنٹ جو کچھ کرتی ہے وہ اللہ کی حاکمیت میں شرک پوتا ہے کے صرف اللہ کو حاصل قانون سازی کا خدائی اختیار خود پارلمینٹ استعمال کرتی ہے۔
میرے بھائی! ہماری جمہوریت سیاست کا اصل بگاڑ یہی دستور سازی ہے کتاب وسنت جو اللہ کی وحی ہے کے علاوہ کسی بھی چیز کو دستور قرار دینا خواہ وہ قرآن وسنت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو شرک ہے کیونکہ اللہ نے حاکم کو ماانزل اللہ (جو کچھ اللہ نے نازل کیا) کا پابند کیا ہے اب جو چیز ماانزل اللہ نہیں وہ دستور نہیں ہوسکتی۔۔۔
 
کیا مطلب!۔ کتاب وسنت کے مطابق اگر دستور بنایا جائے تو وہ کیسے شرک ہے؟؟؟۔۔۔
کتاب وسنت کے مطابق بہت کچھ بنایا جاسکتا ہے مجتہد کی فقہ اور قاضی کا فیصلہ یہ سب چیزیں کتاب وسنت کے مطابق ہوسکتی ہیں اور ہوتی بھی ہیں لیکن کتاب وسنت کا فہم جو کسی مجتہد یا قاضی کو حاصل ہوتا ہے اس میں غلطی کا امکان ہوتا ہے اس لئے وہ شریعت نہیں کہلا سکتا۔۔۔ کتاب وسنت سے اخذ کردہ کوئی بھی چیز کیوں نہ ہو اُسے آپ فقہ کہہ لیں یا مختلف فقہاء کی آراء پر مشتمل ایک دستاویز یہ سب غیروحی ہیں تو کسی غیر وحی کو وحی کا درجہ دراصل اللہ کے اختیار میں غیر اللہ کو شریک کرنے کی جسارت ہے اور یہ صریح شرک ہے وحی اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ دستور ہے جس کی پابندی ہر حکومت پر لازم ہے اب کوئی شخص اپنی فہم یا کسی بھی انسانی فہم کو دستور مملکت قرار دیتا ہے تویا وہ اس کو شریعت کے مقابلے میں لارہا ہے اور اللہ کے مقابلے میں قانون سازی کا دعویدار ہے اس لئے یہ شرک ہے۔
یہ بات سمجھ نہیں آرہی کے آخر ملک کو چلانے کے لئے حالات حاضرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ قواعد وضوابط تو وضع کرنا ہی پڑیں گے مثلا مختلف محکموں کی تشکیل ان کے اختیارات کی تقسیم وغیرہ یہ سب چیزیں من وعن کتاب وسنت میں تو نہیں پائی جاتیں ان میں تو صرف یہ دیکھنا ہوگا کے کوئی ایسا ضابطہ نہ بنایا جائے جو کتاب وسنت کے منافی ہو۔
بات دستور کی ہورہی ہے قواعد وضوابط کی نہیں۔
کیا مطلب میں سمجھا نہیں
میرے بھائی!۔ دستور وہ ہوتا ہے جس کی پابندی پوری حکومت پر لازم ہوتی ہے عدالتوں کو اس دستور کو سامنے رکھ کر فیصلے کرنا ہوتے ہیں قواعد وضوابط دستور کا حصہ نہیں ہوتے انگریزی میں دستور کو Constitution اور قواعد وضوابط کو Rules and Regulations کہا جاتا ہے Constitution (دستور) اقتدار اعلٰٰی کا مظہر ہوتا ہے جمہوریت میں مقتدر اعلٰی چونکہ عوام ہوتے ہیں اس لئے عوام ہی کے منتخب نمائندوں کو یہ حق دیا جاتا ہے کے وہ ملک کا دستور بنائیں جبکہ اسلام میں مقتدر اعلٰی صرف اللہ تعالٰی کی پاک ذات ہے اس لئے دستور سازی کا حق بھی صرف اسی کا ہے مملکت براہ راست اللہ کے وضع کردہ، نازل کردہ، دستور کتاب وسنت کی پابند ہے قاضی (جج) جب بھی فیصلہ کرے گا وہ کتاب وسنت کا ہی پابند ہوگا۔ اگر قاضیوں کو کسی غیر منزل من اللہ انسانی وضع کردہ دستور کا پابند کیا جائے تو حکومت اسلامی نہیں رہے گی بلکہ طاغوت کی حکومت ہوگی۔۔۔
 
یہ بڑا باریک نکتہ آپ نے بیان فرمایا۔۔۔ لیکن یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کے اگر کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر دستور مرتب صورت میں تیار کرہی لیا جائے تو اس میں حرج کیا ہے؟؟؟۔۔
آپ کو معلوم ہونا چاہئے کے ہم ماشاء اللہ اہلسنت اہلحدیث ہیں یعنی ہمارا مسلک صرف کتاب وسنت ہے ہم کسی فرقہ وارانہ فقہی پابندی کو قبول نہیں کرتے ہمارا مقلدین سے ہمیشہ یہ ہی جھگڑا رہا ہے کے وہ نصوص فقہ کی پابندی کرتے ہیں اور ان کا دعوٰی یہی ہے کے ہماری فقہ کتاب وسنت کے مطابق مرتب کی گئی ہے ہم کہتے ہیں فقہ اول وآخر انسانی کاوش ہے جس میں صواب وخطا کا احتمال ہے یہی وجہ کے فقہ کو شریعت کوئی نہیں کہتا حتٰی کے ہمارے، حنفی دوست بھی فقہ حنفیہ کو شریعت کا نام نہیں دیے سکتے شریعت صرف کتاب وسنت ہے اور فقہ انسانی سمجھ بوجھ کو کہتے ہیں۔ کسی ایک انسان یا متعدد انسانوں کی اجتماعی سمجھ کو شریعت قرار نہیں دیا جاسکتا جب وہ شریعت نہیں تو وہ کسی اسلامی مملکت کا دستور نہیں بن سکتی۔۔۔ حنفی حضرات یہی نعرہ تو لگاتے ہیں کے حنفی فقہ کو پاکستان کا دستور قرار دیا جائے اور اہلحدیث ان کے مقابلے میں کتاب وسنت کے نفاذ کا نعرہ بلند کرتے ہیں لیکن جب جمہوریت کی بات آتی ہے تو حنفی اور اہلحدیث باہم بلغگیر ہوجاتے ہیں دونوں ١٩٧٣ء کے انسانی دستور کی پابندی کا حلف اٹھا کر اہلحدیث کتاب وسنت کو اور حنفی اپنے فقہ کو فراموش کردیتے ہیں۔۔۔
لیکن دستور میں ترمیم کی گنجائش کو سب ہی مانتے ہیں یعنی دستور میں جو بات کتاب وسنت کے مخالف ہو اس میں ترمیم ہوسکتی ہے حتی کے حنفی حضرات بھی فقہ حنفی میں ترمیم کے قائل ہیں۔
ترمیم کی یہ گنجائش دستور کی ناپائیداری کی دلیل ہے آپ ہزار ترمیمیں کرتے رہیں وہ اول وآخر انسانی کاوش ہی قرار پائے گی اور وہ صاف ظاہر ہے شریعت نہیں بن سکتی اس طرح کی بےشمار انسانی کاوشیں ہوسکتی ہیں ان سے استفادہ ہوسکتا ہے راہنمائی بھی لی جاسکتی ہے۔۔۔۔ لیکن ان کو نہ شریعت قرار دیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ملک کا دستور بنایا جاسکتا ہے اگر ملک کا دستور کتاب وسنت کو قرار دیا جائے تو پھر ترمیم وتنسیخ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔آپ ذرا خلافت راشدہ کو ملاحظہ کیجئے اس وقت کیا دستور تھا وہاں کونسی پارلمنٹ دستورسازی کے لئے بیٹھی تھی؟؟؟۔۔۔
 
جب ہم کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر کوئی چیز اخذ کرہی نہیں سکتے نہ دستور بنا سکتے ہیں تو پھر اجتہاد کس چیز کا نام ہے خلافت راشدہ میں صحابہ کرام اجتہاد کرتے تھے اور آج پارلمنٹ یہ کام کرلیتی ہے۔۔۔
میرے بھائی!۔ آپ ایک بہت بڑے مغالطہ میں مبتلا ہیں میں نے یہ کہا کے کتاب وسنت کو سامنے رکھ کر ہم کچھ اخذ نہیں کرسکتے ہم بہت کچھ اخذ کرسکتے ہیں اور اخذ کرتے بھی ہیں لیکن سوال یہ ہے کے ہم جو کچھ بھی کتاب وسنت سے اخذ کریں گے وہ کیا ہوگا آیا وہ منزل من اللہ ہے۔۔۔ صاف ظاہر ہے وہ منزل من اللہ نہیں ہے وہ تو ہماری سمجھ ہے لہذا وہ شریعت نہیں۔۔۔ فہم شریعت ہے اس لئے اس کو اسلامی مملکت کا دستور نہیں بنایا جاسکتا۔۔۔ اور آپ کو یہ بھی زبردست غلط فہمی ہے کے پارلمنٹ کا دستور سازی کا شغل اور صحابہ کرام کا مسائل واحکام میں اجتہاد ایک جیسی چیزیں معلوم ہورہی ہیں اس سے پتہ چلا ہے آپ کو اجتہاد کا صحیح مفہوم بھی واضح نہیں۔۔۔۔ اجتہاد کا مطلب دستور سازی نہیں ہوتا اور نہ ہی صحابہ کرام نے کوئی دستور اپنے اجتہادات سے مرتب کیا تھا اگر وہتا تو آج ہمارے تاریخ اس دستور کا پتہ دیتی۔۔۔
 
جمہوریت میں پارلمینٹ ایک دستور ساز ادارہ ہوتا ہے جبکہ اسلام میں شورٰی ہوتی ہے جس کا دستور سازی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا اس کا کام امیر المومنین کو ضرورت کے وقت تدبیری امور میں مشورے دینا ہوتا ہے اور یہ بھی ضروری نہیں کے شورٰی کے ارکان کی تعداد مقرر ہو نہ ہی ان ارکان کا نامزد یا منتخب ہونا ضروری ہے۔۔۔ اصل مصیبت یہ ہے کے ہم مغربی تصور کو مشرف بہ اسلام کرنے پر تلے رہتے ہیں پہلے جمہوریت کو اسلامی بناتے ہیں پھر اس کے تمام متعلقات کو اسلامی اور ووٹ کے تصور کو برابر ثابت کرنے کی زحمت فرماتے ہیں۔۔۔۔ یہ سب تکلفات اس لئے کرنے پرتے ہیں کے اسلام کا اپنا مثالی نظام ہماری نظروں سے اوجھل ہے۔۔۔ آپ مجھے بتائیے یہ جمہوریت آئی کہاں سے ہے؟؟؟۔۔۔ کتاب وسنت میں اس کا کہیں کوئی نام ونشان ملتا ہے صحابہ کرام کی زندنگی یا سلف صالحین میں کوئی اس کا وجود ہے پھر ہم کیوں اس کے اتنے دیوانے ہوگئے ہیں؟؟؟۔۔۔ ہمیں سلف کی طرف نسبت کرتے ہوئے سلفیت وجمہوریت کی باہمی تعلق وتصادم کو ذہن میں رکھنا چاہئے۔۔۔
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کے کوئی ملک کسی دستور کے بغیر کیسے چل سکتا ہے؟؟؟۔۔۔
میں نے کب کہا ہے کے کوئی ملک دستور کے بغیر چل سکتا ہے میں تو کہہ رہا ہوں کے مسلمانوں کا دستور اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہے انسانوں کا بنایا ہوا نہیں اور وہ کتاب وسنت ہی ہے۔۔۔
میرا مطلب یہ ہے کے حالالت کے مطابق جب تک کوئی دستور مرتب نہ کیا جائے کیسے چلے گا یہ بات ٹھیک ہے کے کتاب وسنت کو دستور ہونا چاہئے اور وہ مستقل دستور ہے اور ایک دستور رہے جو ملک کا نظام کے لئے بنانا ضروری ہے۔۔۔
آپ کے خیال میں دستور دو ہیں ایک بڑا دستور یعنی کتاب وسنت اور دوسرا اس کی روشنی میں مرتب کردہ چھوٹا دستور!۔
ہاں بالکل ایسے ہی کہہ رہا ہوں۔۔۔
پھر آپ دستور کو سمجھے ہی نہیں آپ بالکل بریلویوں والی توحید بیان کرنے لگ گئے ہیں وہ کہتے ہیں اللہ تو ایک ہے مگر یہ بزرگ اسی اللہ کے عطاء کردہ اختیارات سے تصرف فرماتے ہیں یہ بڑے الہ کیساتھ چھوٹے الہوٰں کا تصور ہی شرک کی اصل بنیاد ہے جیسے بریلوی توحید سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ نے تمام اختیارات بزرگوں میں تقسیم کردیئے ہیں اب اللہ کا بظاہر کوئی کردار نہیں اسی طرح آپ اللہ کو دستور ساز مان کر انسان کو بھی ساتھ ساتھ مرتب کرلیں جس کی پابندی انسانوں پر واجب ہو۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ انسان کو انسان کے آگے جھکانا نہیں تو اور کیا ہے؟؟؟۔۔۔
 پھر بتائیے آپ ملک کا نظام کیسے چلائیں گے۔۔۔
دراصل آپ کے ذہن میں یہ الجھن ہے کے جب تک حالات حاضرہ کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی دستور مرتب نہ کرلیا جائے اس وقت تک کوئی حکومت چل ہی نہیں سکتی حالانکہ اس کی بہت سی مثالیں تاریخ میں اور موجودہ دور میں موجود ہیں اس کی سب سے بڑی مثال تو مسلمانوں کی خلافت کی عظیم تاریخ ہے اس دور میں کوئی مرتب ومدون دستورمملکت جو انسانوں نے مل کر بنایا ہو موجود نہ تھا خلفائے راشدین ہوں یا خلفائے بنی امیہ اور اس کے بعد بھی مسلمان حکمرانوں نے بعض شخصی کمزوریوں کے باوجود کتاب وسنت کو ہی دستور قرار دیا ہوا تھا قاضی کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کرتے تھے آج سعودی عرب کا کوئی تحریری دستور موجود نہیں وہاں سب قاضی کتاب وسنت کے مطابق فیصلے کرنے کے پابند ہیں جب کے ہمارے ملک میں جج صاحبان ١٩٧٣ء کے دستور کو سامنے رکھ کر فیصلے کرتے ہیں۔۔۔ ہماری شرعی عدالتیں بھی ١٩٧٣ء کے دستور کے خلاف کوئی مقدمہ سننے کی مجاز نہیں جیسا کے حال ہی میں عورت کی سربراہی کا مسئلہ کھڑا ہوا بعض لوگوں نے وفاقی شرعی عدالت کی طرف رجوع کیا اُن کی درخواست اس بناء پر خارج کردی گئی کے ١٩٧٣ء کے دستور کے منافی عدالت کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی اسمبلی ہی دستور میں ترمیم کرے تو کرے وہ چاہئے تو شریعت کے کسی حکم کو قانون بنائے ورنہ شریعت کا کوئی حکم ازخود یہ صلاحیت نہیں رکھتا کے اسے ملکی قانون تصور کیا جائے گویا شریعت پر پارلیمنٹ کی بالادستی ہے نہ کے پارلمنٹ پر شریعت کی۔۔۔
یہ تو میں نے آج سنا ہے کے بعض ممالک میں بغیر کسی تحریری دستور کے بھی نظام چل رہا ہے۔۔۔
یہ صرف اسلامی ملک کی بات نہیں برطانیہ جو بہت بڑا جمہوری ملک ہے وہاں بھی کوئی تحریری دستور موجود نہیں یہ کم بختی صرف مسلمانوں کے لئے ہے کے وہ اللہ کے نازل کردہ دستور ( جو ہر قسم کی غلطیوں سے پاک ہے) کی موجودگی میں خود دستور بنانے لگتے ہیں۔۔۔
یہ بات تو واضح ہوگئی کے اسلامی مملکت میں دستور صرف اور صرف کتاب وسنت ہی ہوسکتا ہے لیکن یہ ذرا سمجھائیے کے قاضی جو فیصلہ کتاب وسنت کے مطابق کرے گا اس کی کیا قانونی اور دستوری حیثیت ہوگی؟؟؟۔۔۔
قاضی کا فیصلہ کبھی دستور نہیں کہلاسکتا مجتہد کا اجتہاد کا فیصلہ اور مفتی کا فتوٰٰی یہ سب چیزیں فہم شریعت ہیں نہ کے شریعت قاضی کا فیصلہ نافذ العمل تو ہوتا ہے لیکن اس کو شریعت قرار نہیں دیا جاسکتا کیونکہ اس میں بھی غلطی کا احتمال ہے۔۔۔
جب اس میں بھی غلطی کا احتمال ہے تو نافذ العمل کیسے ہوگا؟؟؟۔۔۔
غلطی کا احتمال ہونے کا مطلب یہ ہر گز نہیں کے وہ نافذ العمل بھی نہ ہو مقدمات کے فیصلے تو آخر انسانوں کو ہی کرنے ہوتے ہیں قاضی فیصلہ کرتے وقت صرف کتاو سنت کا ہی پابند ہوتا ہے وہ وقتی ہوتا ہے وہ دستور نہیں بن جاتا اور نہ ہی اس کو دلیل بنا کر مزید فیصلے کئے جاسکتے ہیں ہر قاضی براہ راست کتاب وسنت سے دلیل اخز کرے گا اگرچہ وہ فقہاء اور مجتہدین کی آراء سے راہنمائی لے سکتا ہے لیکن کسی انسانی راہنمائی کو دلیل وحجت کے طور پر پیش نہیں کرسکتا یہی تو فرق ہے اہلحدیث اور اہل الرائے کے طرف فکر میں کے اہلحدیث ایک اجتہاد سے دوسرا اجتہاد نہیں کرتے ہر دور میں ہر نئے مسئلہ کے لئے کتاب وسنت سے ازسرنو اجتہاد ہوگا اور سابقہ اجتہادات سے صرف راہنمائی لیجاسکے گی۔۔۔ یہ ہی وجہ ہے اہلحدیث مفتی فتوٰٰی لکھتے وقت آئمہ دین کی آراء سے راہنمائی لیتے ہیں لیکن دلیل کے طور پر کتاب وسنت کو ہی پیش کرتے ہیں کیونکہ شریعت کی دلیلیں صرف دو ہیں کتاب وسنت یہاں یہ بات بھی خوب سمجھ لیں کے اجتہاد دین وشریعت میں قطعاََ کوئی اضافہ نہیں کرتا۔ اجتہاد کا مطلب نئے پیش آمدہ مسائل کا حل کتاب وسنت سے تلاش کرنا ہے دین وشریعت مکمل ہے احکامات بھی سب موجود ہوتے ہیں شریعت میں موجود احکامات کو نئے حالات میں منطبق کرنے کا نام اجتہاد ہے نہ کے حالات کے مطابق شریعت کو تبدیل کرنے کا نام۔۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours