لفظی‘ مشابہت کا خمیازہ!
حامد کمال الدین

لفظی مشابہت کا ’بے ضرر‘ معاملہ ابھی اور بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے۔
ہمارے بعض راہنما ہمیں بتاتے رہے کہ مغربی جمہوریت اور ہماری اسلامی جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ ان میں اگر کچھ مشابہت ہے تو وہ محض لفظی قسم کی ہے۔ ان کی یہ بات تو بالکل درست ہے کہ’مغربی جمہوریت‘ اور ’ہماری جمہوریت‘ میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ اور یہ تو ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ تاہم کفار سے اس ’بس ذرا سی مشابہت‘ نے ہمیں جو مار دی، وہ ایک طویل داستان ہے۔ پیچھے ہم اس پر کچھ بات کرچکے۔ لفظی مشابہت کے چند اور پہلو یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:


مغرب کے ہاں ’’گندم نمائی و جو فروشی‘‘ کوئی ایسی نئی ریت نہیں، مگر جمہوریت کے نام پر ہم نے اُس کا جو دھڑادھڑ مال خریدا وہ ’لفظی مشابہت‘ کے چکر میں ہی خریدا۔ مال سرے سے اصلی نہیں تھا، یہ تو سب مانتے ہیں، مگر ہمارے بےدینوں کی رغبت اس دلربا ’مشابہت‘ سے تھی جبکہ دینداروں کا زور ’لفظی‘ پر تھا! آپ کے خیال میں وقت کے ایک رائج فیشن ’ڈیموکریسی‘ کا کوئی حوالہ دیے بغیر آپ کے گھر میں پورے چالیس چور گھس آئے ہوتے اور آپ سے ’ملتمس‘ ہوتے کہ حضرات اپنے  گھر میں پڑے سامان کی گٹھڑیاں باندھ باندھ کر ہمارے باہر کھڑے ٹرکوں پر لادنے کی اِس رضاکارانہ کارروائی میں ’بڑھ چڑھ کر‘ حصہ لیں اور ’ثوابِ دارین‘ حاصل کریں تو کیا آپ ان کی ’اپیل‘ پر اس جوش و خروش سے شریک ہوتے؟ اِس بلا کا کوئی اور نام رکھا ہوتا تو کون اس کا خریدار بنتا؟ اس کےلیے تو وقت کا ایک ’معتبر عالمی حوالہ‘ ہی درکار تھا اور وہ ’ڈیموکریسی‘ کے سوا کچھ نہ ہوسکتا تھا۔ چنانچہ ہم بھی کب کہتے ہیں کہ  یہ ’وہ‘ ڈیموکریسی تھی؛ ہم تو خود کہتے ہیں کہ یہ اَلفاظ اور اَشکال کا ہی بظاہر ایک بےضرر کھیل تھا۔اِس کی دھڑادھڑ فروخت اسی طرح ہوسکتی تھی۔ آپ جانتے ہیں نقل صرف ایک ’چلنے والی چیز‘ کی بنائی جاتی ہے۔ دو نمبر مال تیار کرنے والے بھی کچھ ایسے کندذہن نہیں ہوتے؛ ان کو خوب معلوم ہوتا ہے کہ ایک چیز کی مانگ کتنی ہے؛ ایک نہ چلنے والی چیز پر وہ کبھی انوسٹمنٹ نہیں کرتے!
چنانچہ جمہوریت کے معاملے میں یہاں جو ہاتھ کی صفائی دکھائی گئی ہم نے اُس سے ’لفظی مشابہت‘ کے شبہے میں ہی مار کھائی اور بہت بری مار کھائی۔ لوگوں نے ہمیں نالائق سمجھا کہ مغرب جس نظام سے یہ دلکشثمرات حاصل کرتا ہے ہم اس بنے بنائے نظام سے وہ بھی لینے کے قابل نہیں۔ مگر دراصل معاملہ کیا تھا؟ ہمیں جو جمہوریت ملی وہ مغرب میں ہوتی تو وہاں بھی یہی گل کھلاتی۔ مغرب نے ہمیں وہ جمہوریت دی کب ہے جو اُس کے اپنے ہاں رائج ہے؟ اس کی تو آج تک اس نے ہمیں ہوا تک نہیں لگنے دی۔ اس اصل واردات سے تو ظاہر ہے کم ہی لوگ واقف تھے کہ ہمیں دکھایا کچھ گیا اور دیا  کچھ گیا۔ ہم نے ایک غلطی کی کہ وہ لیا حالانکہ ہمارے دین نے ہمیں سختی سے روکا تھا کہ کفار سے کچھ نہیں لینا۔ دوسری غلطی کی کہ بغیر یہ دیکھے کہ ہمیں یہ ملا کیا، اس سلطانیِ جمہور پر ریجھ گئے اور اپنے سب ’نقش کہن‘ اپنے ہی ہاتھوں مٹانے پر آمادہ ہوگئے۔ پھر تیسری غلطی یہ کی کہ اپنی سب فصل خود اپنے ہاتھوں تلف کرلینے کے بعد ادھار کے اس بیج سے اپنے ہاں بھی اس خوشحالی کا دور دورہ ہوجانے کی آس کرنے لگے جو یورپ کی سر زمین میں ہمارا دل لبھاتی رہی تھی۔ پھر جب نتیجہ اسکے برعکس رہا تو بھی ہماری نظر واردات کے اصل سبب پر نہیں گئی کہ ہمارے ساتھ جو ہوا وہ ہمارے اپنے ہی دین کو فراموش کر بیٹھنے سے ہوا ۔ تب بھی ہمیں اس بدیشی بیج کی صلاحیت پر تو کوئی شبہہ نہ ہوا۔ البتہ اپنی ہی اہلیت ہماری نظروں میں مشکوک ٹھہری اور ہم نے سمجھا کہ ہمیں ہی فصل کاشت کرنا نہیں آئی آخر مغرب جو کاشت کرتا ہے وہ بھی تو یہی  بیج ہے!
ہمیں مغرب سے ایک نمبر مال بھی نہیں لینا تھا مگر ہمیں دونمبرمال ملا اور ہم نے خوشی سے لیا۔ اس سامنے کی چیز پر تو ہماری نظر نہ جاسکی ۔ ہم نے سبب تلاش کیا بھی تو یہ کہ مغرب کی تو گرد کو پہنچنا بھی ہمارے بس میں نہیں ہم کہا ں اور مغرب کہاں۔ بھائی مغرب کے مقابلے کا خیال چھوڑدو ہم تو انکی نقل تک نہیں کرسکتے۔ مغرب کی بہترین مصنوعات کے استعمال کا بھی ہمیں سلیقہ نہیں ورنہ ایک ہی جمہوریت سے یورپ نے وہ ترقی کی اور ہم نے یہ تنزلی!
’ایک ہی جمہوریت‘ تھی کب!؟ محض یہ تو کفار سے لفظی مشابہت کا خمیازہ تھا ورنہ اس آفت کانام ہم آفت ہی رہنے دیتے اور قوم کا بچہ بچہ اسے آفت ہی کے نام سے جانتا تو کم از کم اتنی بڑی سزا تو ہم نہ جھیلتے!
اب بھی کچھ اور ممکن نہیں تو یہ نام کی درستی تو کی جاسکتی ہے۔ کیا بعید کہ اصل کام کی بازیافت  بھی اسی کے ساتھ شروع ہوجائے!
الفاظ کے درست استعمال پر اسلام بلاوجہ اتنا زور نہیں دیتا۔ درستیِ الفاظ کودرستیِ اعمال کے ساتھ دیکھئے قرآن کس طرح جوڑتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا  يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۗ وَمَن يُطِعِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا (الاحزاب ٠٧۔١٧)
اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور سیدھی درست بات کیا کرو؛ اس سے اللہ تمہارے اعمال درست کردےگا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص یوں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔
تفسیر ابن کثیر سے آیئے اب سورۃ البقرۃ کی ایک آیت کی تفسیر بھی سمجھتے ہیں:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ  (البقرہ١٠٤)
اے لوگو ، جو ایمان لائے ہو  رَاعِنَا نہ کہا کرو بلکہ انظُرْنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو یہ کافر تو عذاب الیم کے مستحق ہیں۔
آیت کی تفسیر میں دیکھئے امام ابن کثیرؒ کس طرح ایک سبق کا باربار اعادہ کراتے ہیں:
تفسیرِ آیت کے بالکل شروع میں امام صاحب فرماتے ہیں:
نھی ﷲتعالی عبادہ المومنین ان یتشبھوا بالکافرین فی مقالھم وفعالھم
اللہ تعالی نے یہاں اپنے مومن بندوں کو منع فرمایا ہے کہ وہ کافروں کے الفاظ یا اقوال میں ان سے مشابہت رکھیں۔
ذرا آگے چل کر ابن کثیرؒ پھر لکھتے ہیں:
والغرضُ أن ﷲ تعالی نھی المومنین عن مشابھة الکافرین قولاً و فعلاً فقال: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو کافروں کے ساتھ قولاً یا فعلاً مشابہت اختیار کرنے سے منع کیا، چنانچہ فرمایا:”اے ايمان والو  رَاعِنَا  کالفظ نہ بولو بلکہ انظُرْنَا کہا کرو اور بات کو غور سے سنو ان کافروں کیلئے توایک دردناک عذاب ہے۔
اس کے بعد ابن کثیرؒ اپنی اسی تفسیر میں مسند احمدسے بروایت عبداللہ بن عمرؓ رسول اللہﷺ کی ایک حدیث لاتے ہیں جوان الفاظ پرختم ہوتی ہے:
وَمَنۡ تَشَبَّہَ بِقَوۡمٍ فَھُوَ مِنۡھُمۡ
اور جو کسی قوم سے مشابہت کرے وہ ا نہی میں سے ہوگا
اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد امام ابن کثیرؒ فرماتے ہیں:
ففیهِ دلالةٌ علی النھی الشدید، والتھدید ،والوعید ،علی التشبه بالکفار فی أقوالھم وأفعا لھم و لباسھم و أعیادھم و عباداتھم وغیر ذلک من أمورھم التی لم تُشرع لنا ولا نُقَرُّ علیھا۔
 یہ حدیث بھی اس بات پرواضح دلیل ہے کہ شریعت میں اس گناہ کی شدید ممانعت بھی ہے ، اس پر تنبیہ بھی ہے اور اس پر عذاب کی وعید بھی  ہے، کہ کفار سے ان کے اقوال، ان کے افعال، ان کے پہناوے ، ان کے عید میلے اوران کی عبادات یا کسی بھی ایسی چیز میں مشابہت رکھی جائے جو نہ ہماری شریعت میں اتری ہے اور نہ ہماری شریعت میں اسے برقرار رکھا گیا ہے۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours