خلافت و جمہوریت میں کیا فرق ہے ؟

از       طارق اقبال سوہدروی

ایک عام مسلمان خلافت و جمہوریت میں فرق کو زیادہ نہیں‌ جانتا ۔ ان کے لیے اختصار کے ساتھ چند بنیادی نکات پیش کرتا ہوں‌ کہ جن کو پڑھکر کوئی بھی جان سکے گا کہ ان دونوں‌ میں‌اختلاف کی اصل نوعیت کیا ہے ۔
اول ۔خلیفہ کے چناؤ میں‌ عام پبلک حصہ نہیں‌ لیتی بلکہ ملک کے بااثر لوگ یعنی علماء ، اپنے اپنے علاقوں کے قائدین ، قبائلی سردار، معاشرے کے بااثر افراد وغیرہ وغیرہ حصہ لیتے ہیں (بااثر افراد کون ہوں‌اور ان میں‌کیا صفات ہوں‌، ان پر قرآن وسنت سے رہنمائی لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اگر نیت اور ارادے درست ہوں‌) اور جب وہ خلیفہ کا انتخاب کر لیتے ہیں تو عام پبلک صرف بیعت کرتی ہے۔ جبکہ جمہوریت میں ان پڑھ ،جاہل، ڈاکو ، چور اور نیک لوگ سب شریک ہوتے ہیں‌ اور سب کا ووٹ‌برابر ہے ۔




دوم ۔خلافت میں ملک کا قانون خود بخود قرآن وسنت قرار پاتا ہے ، اللہ کے قانون کو لاگو ہونے کے لیے اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں‌ ہوتی اور نہ ہی وہ اسمبلی کے اراکان کے پاس کرنے کا محتاج ہوتا ہے ، مثلا اسلام میں سود حرام ہے ۔ اب اس کو لاگو کرنے کرنے کے لیے اگر اسمبلی کا محتاج کر دیا جائے گا تو یہ اللہ کے فیصلے کی توہین ہے اور اسی کو شرک کہتے ہیں‌۔ جبکہ آج عملی طور پر ہماری جمہوریت میں یہی چیز ہو رہی ہے ۔
سوم ۔ خلافت میں اکثریت کی رائے کو ہر وقت قبول نہیں‌ کیا جاتا اور نہ ہی اسے اُصول بنایا جاتا ہے بلکہ کسی فیصلے کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے ۔ جبکہ جمہوریت میں‌ اول و اخر اکثریت کو ہی فیصلہ کن مانا جاتا ہے۔
چہارم ۔ جمہوریت میں انسان کو قانون بنانے کی اجازت ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد کس حد تک ہو اس کا فیصلہ بھی اسمبلی کے ممبران کرتے ہیں‌ جبکہ خلافت میں انسان کوئی قانون نہیں بنا سکتا کیونکہ قانون بنانا اللہ کا کام ہے جو قرآن وسنت کی شکل میں‌ ہمارے سامنے موجود ہے ۔ ہاں اس کے نفاذ کے لیے عملی قدامات تجویز کرنا یہ اہل شورٰ‌ی کی مدد سے کیا جاتا ہے اور اللہ کا قانون سب پر یکساں نافذ ہوتا ہے ۔
پنجم۔ اسلام میں جو ایک دفعہ خلیفہ بن جائے منتخب ہو یا غیر منتخب اس کا ہٹانا جائز نہیں‘ الا یہ کہ وہ کفر کا ارتکاب کرے۔ایک خلیفہ کی وفات کے بعد ہی دوسرا خلیفہ بن سکتا ہے۔جمہوریت میں تین یا پانچ سال بعد انتخابات ضروری ہیں۔ منتخب شدہ صدر یا وزیر اعظم کیسا ہی اچھا اور کامیاب کیوں نہ ہو الیکشن ضروری ہیں، اس طرح‌ اگر کوئی جماعت اسلام نافذ‌بھی کردیتی ہے تو اگلے 5 سال کے لیے کوئی سیکولر پارٹی بھی حکومت بنا سکتی ہے ۔ بنگلہ دیش کی مثال آپ کے سامنے ہے کہ حسینہ واجد نے اللہ کی حاکمیت کو ختم کر دیا ہے اور ریاست کو سیکولر قرار دیا ہے ۔
ششم۔ جمہوریت میں مذہب سے آزادی ہے‘ ہر کوئی جو چاہے مذہب رکھے۔ کوئی پابندی نہیں‘ جس طرح چاہے مذہب بدلے‘ کوئی رکاوٹ نہیں‘ کوئی سزا نہیں۔ اس لیے جمہوریت میں لوگ پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔باطل کو مٹانا اسلا م کا فرض ہے اور یہی جہاد ہے‘ جو قیامت تک فرض ہے ‘جمہوریت میں باطل سے جہاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جمہوریت جہاد کو ختم کرتی ہے۔
ہفتم ۔ اسلام میں عورت حاکم نہیں ہو سکتی ‘ سربراہ مملکت ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جمہوریت میں عورت بھی سربراہ مملکت ہو سکتی ہے‘ کوئی پابندی نہیں۔
ہشتم۔ اسلام میں طاقت کا سرچشمہ اﷲ ہے۔جمہورت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
نہم۔ اسلام میں نہ حز ب اقتدار کا تصور ہے ‘نہ حزب اختلاف کا۔ اسلام پارٹیوں کے سخت خلاف ہے۔ خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کی تو قطعاً اجازت نہیں۔جمہوریت پارٹیاں بنانا سکھاتی ہے اور پارٹیوں کے بل بوتے پر چلتی ہے۔ پارٹیوں کے بغیر جمہوریت چل ہی نہیں سکتی۔ حزب اقتدا ر اور حزب اختلا ف کا ہونا لازمی ہے۔
دہم۔ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام ہے ۔ الیکشن میں‌حصہ لینے والی جماعت کو اربو‌ں‌روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں‌ اور جو جتنا زیادہ پیسہ لگاتا ہے ،کامیاب ہوتا ہے ، غریب ، ایماندار اور شریف بندے کی اس میں کوئی قدر نہیں ۔ جبکہ خلافت میں ان سب دھندوں‌کی کوئی ضرورت نہیں‌ہے ۔
اس کے علاوہ بھی کچھ اور نکات بھی ہیں‌ اور ان کی مزید وضاحت بھی موجود ہے ۔ تاہم اشارے کے لیے میں‌ انہی پر اکتفا کرتا ہوں‌۔
 
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours