اسلامی نظام سياست اور جمہوريت کے مابين فرق
ایک مکالمہ  ۔ تحریر عبد القدوس سلفى   
حصہ دوم
 
 
جمہوری انتخابات اور قیام خلافت؟
اچھا آپ یہ بتایئے کے جمہوریت میں جو انتخابات کا تصور ہے کیا وہ بھی اسلام سے متصادم ہے؟؟؟۔۔۔
جی ہاں!۔ اسلام اور جمہوریت جوہری فرق انتخابات کے تصور پر مبنی ہے جمہوریت میں عدد کو اہمیت حاصل ہے اسلام میں عدد کی کوئی حیثیت کسی بھی درجہ میں نہیں۔۔۔بلکہ اسلام اہلیت کو اہمیت دیتا ہے یہ ہے بنیادی تھیوری جہاں اسلام جمہوریت سے ممتاز ہوتا ہے۔
آپ کا مطلب یہ ہے اگر ووٹروں کی اہلیت کی شرط مقرر ہو تو پھر انتخابات درست ہیں؟؟؟۔۔۔
نہیں پھر بھی غلط ہیں کیونکہ آپ جو بھی اہلیت مقرر کریں گے پھر ان اہل لوگوں کی تعداد کو اہمیت دینا ہوگی دراصل ووٹنگ کا تو اسلام میں سرے سے تصور نہیں یہ الیکشن کا نظام ہی ایسا ہے کے یہاں اول وآخر عددی اکثریت کو اہمیت دینا پڑتی ہے۔۔۔
تعداد کو اسلام میں اہمیت کیوں نہیں؟؟؟۔۔۔ بس شرط یہ ہے کے وہ تعداد اہل علم وتقوٰی لوگوں کی ہو ہماری فقہ وتفسیر کی کتابوں میں جمہور کا لفظ عام پایا جاتا ہے کے فلاں مسئلہ جمہور کے نزدیک اس طرح ہے آپ کہتے ہیں اسلام میں جمہوریت نہیں۔۔۔
فقہ وتفسیر کی کتب میں جب علماءاسلام کی آراء نقل ہوتی ہیں تو ان کا مقصد محض یہ وضاحت کرنا ہوتا ہے کے فلاں مسئلہ کے بارے میں فلاں فلاں علماء کی یہ رائے ہے اور جمہور اس طرف گئے ہیں اب اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کے آیا جمہور نے جو موقف اختیار کیا ہے اس کی ان کے پاس کیا دلیل ہے؟؟؟۔ وزن یہاں بھی دلیل کا ہوتا ہے اگر جمہور کے مقابلے میں کسی دوسرے عالم کی رائے دلیل سے ثابت ہوتو اسی کو اختیار کیا جاتا ہے۔۔۔اصول فقہ میں کوئی ایسی اصل موجود نہین جہاں جمہور کے مؤقف کو دلیل بنایا گیا ہو کتنے مسائل ایسے ہیں جنہیں جمہور کے کمزور استدلال کی بناء پر آج تسلیم نہیں کیا جاتا۔۔۔



جب جمہور کی بات دلیل نہیں تو پھر کتابوں میں بیان کیوں کیا جاتا ہے؟؟؟۔۔۔
کتابوں میں تو اقلیت کی آراء بھی نقل ہوتی ہیں یہاں قلت وکثرت کا مقابلہ مقصود نہیں ہوتا بلکہ اہل علم کو علماء اسلام کی آراء سے آگاہ کرنا مقصود ہوتا ہے تھوڑے لوگوں کے نام لے کر بیان کردیا جاتا ہے تاکہ علماء استفادہ کرتے وقت اپنی رائے قائم کرسکیں جس مسئلہ پر جمہور کا عمل ہو تو اس کا یہ مطلب کوئی بھی نہیں لیتا کہ اب دوسرے علماء کی آراء کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ جمہور کے مقابلہ میں کوئی ایک امام مضبوط دلیل پیش کردے تو پھر اس کی دلیل کو قبول کیا جائے گا فقہ کی کتب میں جمہور کا مسلک بیان ہونے سے ان کی پابندی مقصود نہیں ہوتی اور نہ ہی اصول فقہ میں کوئی اصل ایسی ہے جس میں اجتہاد کرتے وقت جمہور کو دلیل بنایا جاسکے۔
اسلام کا سیاسی نظام
اچھا تو پھر بتائیں اسلام کا اپنا سیاسی نظام کیا ہے؟؟؟۔۔۔
اسلام کا سیاسی نظام خلافت ہے جس میں الیکشن یا سلیکشن کا کوئی چکر نہیں نہ ہی دستور سازی کی مصیبت ہوتی ہے اسلام کے سیاسی نظام (خلافت) میں خلیفہ اور عوام سب دستور الٰہی (شریعت) کے پابند ہوتے ہیں شورٰی کا کام بوقت ضرورت خلیفہ کو مشورہ دینا ہوتا ہے۔۔۔۔
یہ خلافت قائم کس طرح ہوتی ہے؟؟؟۔۔۔
خلافت خلیفہ کے وجود سے قائم ہوتی ہے جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سیاسی جانیشن ہوتا ہے۔
خلیفہ کا وجود کس طرح ہوگا؟؟؟۔۔۔
مشورے سے۔۔
مشورہ کون لوگ دیتے ہیں؟؟؟۔۔۔
جو لوگ مشورہ کے اہل ہوں وہی مشورہ دیتے ہیں۔۔۔
ان لوگوں کی اہلیت کا پتہ کیسے چلتا ہے۔
ان کے تقوٰی اور علم وبصیرت سے۔۔۔
یہ کون معلوم کرے گا کے فلاں شخص متقی اور عالم ہے یا نہیں؟؟؟۔۔۔
یس یہی وہ جوہری فرق ہے جو جمہوریت اور خلافت میں پایا جاتا ہے تقوٰی اور علم بصیرت ایک کیفیت ہے جس کی گنتی ہوسکتی ہے نا پیمائش کے لوگ متقویوں کو ووٹوں کے ذریعے منتخب کرتے پھریں اور نہ ہی تقوٰی کی کوئی تحریری سند کہیں سے حاصل کی جاسکتی ہے کے اس بناء پر نامزدگی ہوسکے ایمان وتقوٰی ایسی کیفیات ہیں جن کو اسلامی معاشرہ خود جج کرتا ہے۔۔۔
دیکھئے! اسلام نے مسلمانوں کو وحدت عقیدہ کی بناء پر ایک ملت قرار دیا ہے ملت افراد معاشرہ کا نام ہے ان افراد میں سے ملی ودینی خدمات کی بجاء پر ملی راہنماءخود بخود فطری طریق سے ابھرتے ہیں اور ایسا ہر معاشرہ میں ہوتا ہے معاشرہ اسلامی ہوگا تو وہاں جس کی دینی خدمات زیادہ ہونگی مسلمان اس کو دینی راہنما تصور کرتے ہوں گے یہ راہنما نہ پیسے کے زور پر اُبھرتے ہیں نہ جمہوری ہلڑبازی ان کو میدان میں لاتی ہے آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین دکھائی نہیں دیتے یہ جو آپ نام سنتے ہیں عشرہ مبشرہ، اصحاب بدر، اصحاب شجرہ، انصار ومہاجرین یہ سب گروہ کس طرح وجود میں آئے یہ مسلمانوں کے وہ ملی راہنما تھے جو منتخب ہوتے تھے نہ کے نامزد یہ لوگ دینی خدمات کی بدولت معاشرے میں ابھر کر سامنے آگئے تھے یہی لوگ مشورہ دینے کے اہل سمجھے گئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جب لوگوں نے خلیفہ بنانا چاہا تو آپ نے انکار کرتے ہوئے فرمایا شوریٰ میں تو مہاجریں وانصار کے لئے ہے انکو لاؤ یہ غلط فہمی بھی آپ کے ذہن سے نکال دوں کے بعض لوگ انصار ومہاجرین کو سیاسی جماعتیں باور کراتے ہیں حالانکہ یہ صحابہ کے اوصاف کی بناء پر نام پڑ گئے تھے ورنہ انصار وہ مہاجرین ایک ہی جماعت ہیں اگر یہ سیاسی جماعتیں ہوتی تو بتایئے کیا کوئی انصاری مہاجر بن سکتا ہے یا کوئی مہاجر انصاری بن سکتا کیونکہ سیاسی جماعتوں کے افراد ایک جماعت کو چھوڑ کر دوسری جماعت میں جاسکتے ہیں۔۔۔ انصار ومہاجرین کو سیاسی جماعتیں باور کرانا محض جہالت ہے۔۔۔ انصار ومہاجرین کو انکی ملی خدمات کی بناء پر مسلمانوں کی قیادت ملی اور ایسی قیادت ہی ملت کی نمائندگی کا حق ادا کرسکتی ہے جمہوریت میں قیادت علاقہ کی بناء پر اکثریت کی بنیاد پر ابھرتی ہے جو بعض لوگوں کی نمائندہ ہوتی ہے پوری قوم کی نمائندگی کا جو تصور اسلام میں ہے وہ جمہوریت میں اس کا پاسنگ بھی نہیں اسلام میں ملی راہنما ملت کے خیر خواہی کا خذبہ لے کر کام کرتے ہیں جبکہ جمہوریت خواہشات پرستی کو جنم دیتی ہے اسلام میں دلیل کی بنا پر اپنا موقف منوایا جاتا ہے جمہوریت میں دو تہائی اکثریت ثابت کرکے اپنا موقف کوئی منوانے تو منوائے ورنہ یہاں دلیل وبرھان نام کی کوئی چیز نہیں۔۔
دیکھئے!۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے سامنے حق مہر مقرر کرنے کے مسئلہ پر ایک عورت نے کھڑے ہوکر قرآن کریم کی آیت پڑھی اور امیر المومنین کو اس عورت کی دلیل کے سامنے سرجھکانا پڑا اگر وہاں جمہوریت ہوتی تو اس عورت کی آواز صدائے الصحراء ثابت ہوتی مسئلہ پارلمنٹ میں پیش ہوتا پھر اس پر دو تہائی اکثریت متفق نہ ہوتی تو شریعت کا فیصلہ رد کردیا جاتا قرآن کی آیت کو کوئی نہ سنتا جس طرح ہماری قومی اسمبلی میں عورت کی سربراہی کے مسئلہ پر کسی صاحب درد نے حدیث رسول سنانی چاہی تو یہ کہہ کر اُسے چپ کروا دیا گیا کے یہ غیر آئینی ہے۔۔۔
کبر کلمۃ تخرج من افواھم۔
آپ نے بڑی تفصیل سے میری کافی الجھنیں دور کی ہیں جزاکم اللہ خیرا اچھا تو فرمایئے کے انصار ومہاجرین تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں فطری طور پر ابھر کر سامنے آگئے تھے لیکن ہمارے لئے اس وقت انصار ومہاجرین کہاں ہیں کیسے وجود میں آسکتے ہیں؟؟؟۔۔۔ اس لئے واحد طریقہ انتخابات کا ہی ہوسکتا ہے جو ملی قیادت کو سامنے لائے۔
آپ اس بات پر غور کر لیں تو بات واضح ہوجائے گی کے آخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں انصار ومہاجرین کیسے وجود میں آگئے تھے دراصل ہم وہ کام کرنا نہیں چاہتے جس کے نتیجہ میں انصار ومہاجرین جیسے کردار وجود میں آئیں ہم جمہوری کام کو ہی دینی خدمت سمجھ بیٹھے ہیں اور اس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔۔۔
وہ کام کیا ہے جو ہمیں کرنا چاہئے؟؟؟۔۔۔
وہ کام وہی ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا تھا یعنی دعوت وجہاد یہ نبوی منہج ہے جس کا جمہوریت سے زبردست تصادم ہے۔
یہ کام تو پہلے ہی تبلیغی جماعت کررہی ہے۔
وہ کیسے!۔ تبلیغی جماعت تو جہاد مخالف تحریک ہے رہی دعوت تو ان کی دعوت میں سیاست شجرممنوعہ ہے حکمرانوں کو کلمہ حق کہنا ان کا مشن ہی نہیں وہ تو لوگوں کو محض صوفی بناتے ہیں ہم جب دعوت وجہاد کا نام لیتے ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں کے ہم صرف عوام کو اسلام کی دعوت دیں گے اور ارباب سیاست کو چھٹی ہوگی جو مرضی کرتے پھریں نہیں ہمارامسلک جس قدر جامع ہے اسی قدر ہماری دعوت بھی جامع ہے ہر جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا اور طاغوتی نظام کی علی الاعلان تردید ونفی ہماری دعوت کا حصہ ہے ہمیں چاہئے کے ہم حکمرانوں، سیاستدانوں اور عوام سب کو دین حق پہنچائیں ان لوگوں کو اسلام کی حاکمیت اعلٰی کا تصور بتائیں۔ یہ ہماری دعوت کا اہم ترین موضوع ہو دعوت جب اس سطح پر آتی ہے تو جہاد بن جاتی ہے تبلیغی جماعت کی طرح فضائل کو ہی دعوت کا موضوع بنانے کی بجائے عقائد ومسائل ہماری دعوت کا عنوان ہوں دعوت کا کام ایسا فطری عمل ہے جو داعیوں کو جنم دیتا ہے یہی داعیان الی اللہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ملت کے راہنما متصور ہوتے ہیں یہ دعوت اگر جاندار ہو (تبلیغی جماعت کی دعوت کی طرح بےجان نہ ہو) تو پھر دعوت ہجرت وجہاد کے مقامات کو قریب لاتی ہے حق وباطل کی کشمکش میں مجاہدین پیدا ہوتے چلے جاتے ہیں یہی مجاہدین اور داعی لوگ انصار ومہاجرین ہیں جنہیں شورٰی کا حق ہے یہ لوگ جب مل کر بیٹھتے ہیں تو ہر ایک کی یہ خواہش ہوتی ہے کے مجھے خلافت نہ ملے اس لئے خلیفہ کا انتخاب فورا ہوجاتا ہے سب لوگ بلا اختلاف ایک شخصیت پر جمع ہوکر بیعت کرلیتے ہیں اور خلافت کا نظام قائم ہو جاتا ہے۔۔۔
شورٰی کے لوگ خلیفہ کا انتخاب کیسے کریں گے؟؟؟۔۔۔
آپ کے ذہن میں دراصل جمہوری انتخاب بیٹھا ہوا ہے اور یہ سمجھ رہے ہیں کے ووٹنگ کے بغیر انتخابات ممکن ہی نہیں شورٰی کا مطلب رائے کو پختہ کرنا ہوتا ہے شہد کی مکھیاں جو شہد بناتی ہیں اس عمل کو عربی میں شورٰی کہتے ہیں جس طرح وہ مختلف پھولوں اور پھلوں سے شہد تیار کرتی ہیں اسی طرح مسلمان اہل شورٰی بیٹھ کر مختلف تجاویز دیں گے وہ تجاویز پختہ ہوتی چلی جائیں گی چونکہ ہر شخص کے دل میں ملت کا درد ہوگا وہ خلوص سے اختلاف بھی کرے گا اور اتفاق بھی بلآخر مسئلہ حل کرہی لیا جائے گا چونکہ اس وقت ہم نظری بحث کررہے ہیں اس لئے یہ مسئلہ سمجھنا مشکل ہو رہا ہے دراصل اس کا تعلق عمل وتجربہ سے ہے آپ دیکھیں جب ہم سفر کرتے ہیں اپنا امیر کیسے بناتے ہیں آپ نے کبھی نہیں سنا ہوگا کے لوگوں نے ووٹنگ کے ذریعہ اپنے سفر کا امیر منتخب کیا ہو تمام ساتھی مشورہ کرتے ہیں خود بخود ایک شخصیت پر لوگ جمع ہوجاتے ہیں کبھی ایک آدمی کسی کا نام لیتا ہے تو سب اس کی تائید کر لیتے ہیں یا کبھی چند آدمی کسی کا ہاتھ پکڑ کر اُسے آگے کردیتے ہیں اور وہ امیر بن جاتا ہے اسی طرح آپ خلفائے راشدین کے انتخاب کو دیکھیں آپ کو کہیں یہ دکھائی نہ دے گا کے شورٰی نے الیکشن کے ذریعہ خلیفہ کا انتخاب کیا ہو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ کا انتخاب ہوا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ہاتھ آگے کر کے بیعت کر لی اور باقی تمام انصار ومہاجرین فوار متفق ہوگئے حالانکہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جو جھگڑا صحابہ کرام میں چل رہا تھا اس کا یہ حل پیش کیا جاسکتا تھا کے ابھی ہم ووٹنگ کروالیتے ہیں جس کی اکثریت ہو وہ خلیفہ منتخب ہو۔۔۔
حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے شوری کو اعتماد میں لے کر نامزد کیا جن لوگوں نے اختلاف کیا اُن کی آراء کو ہموار کرتے رہے حتی کے سب متفق ہوگئے پھر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی کوئی ہدایت ایسی نہیں کے جس طرف زیادہ ہوں بعض لوگوں میں حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں یہ بات مشہور ہوگئی کہ انہوں نے اکثریت کے مطابق فیصلہ کی وصیت کی تھی ثبوت کے لئے سند درکار ہے اس کو خلافت دینا اور نہ ہی حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو اکثریت کی بنیاد پر منتخب کیا گیا۔۔۔ عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عالٰی عنہ سے اور حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ دونوں سے الگ الگ انٹرویو کیا اس انٹرویو نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ کی راہنمائی کی کے خلافت کس کو ملنی چاہئے چنانچہ انہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کو خلیفہ بنادیا اسی طرح آپ کو حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ کا معاملہ پہلے ہی بتا چکا ہوں۔۔۔
حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے بارے میں تو کہا جاتا ہے عوام سے پوچھا گیا تھا اکثریت نے ان کو پسند کیا اس لئے انہیں خلیفہ بنایا گیا۔۔۔
کیا خلیفہ مقرر کرنے کے بعد پوچھا گیا یا پہلے؟؟؟۔۔۔
یہ تو معلوم نہیں حضرت عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ تعالٰی عنہ یہ فیصلہ کرچکے تھے کے خلیفہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ ہونگے۔۔۔
انہوں نے اپنے اس فیصلے کو توثیق کے لئے ان قافلوں سے جو حج کی طرف آرہے تھے سر راہ پوچھا کے تم حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ میں سے کس کو خلافت کے لئے پسند کرتے ہو تو تمام لوگ نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے حق میں تھے یہ نہیں کے حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ کے خلیفہ بننے کی بنیاد ہی یہ تھی۔۔۔۔
اچھا تو ہم پھر خلافت کو کیسے قائم کریں۔
میں تفصیل سے عرض کرچکا ہوں کے ہمیں منہج نبوی صلی اللہ علیہ وسلم یعنی خالص سلفیت کو اختیار کرنا ہوگا اور وہ دعوت وجہاد ہے۔۔۔
دل کو یہی لگتا ہے کے اصل کام کرنے کا یہی ہے لیکن اس سے خلافت کا قیام بہت دور ہوجائے گا۔۔۔
دور ہونے کو نہ دیکھیں راستہ صھیح ہونا چاہئے خواہ فاصلہ تھوڑا ہی طے ہو غلط راستہ پر دوڑنا خواہ مخواہ اپنی دنیا اور آخرت کو برباد کرنا ہے۔
لیکن مسئلہ یہ ہے کے موجودہ سیاست سے بھی تو ہم کنارہ کش نہیں ہوسکتے نا۔
ہم کب کہتے ہیں کنارہ کش ہوں آپ موجودہ سیاست کو مسلمان بنائیں آپ اپنی دعوت کے میدان میں سیاستدانوں کو کھینچ لائیں کوئی بات سنے یا نہ سنے سب کو توحید وسنت کی کھری کھری بات سنائیں ہوسکتا ہے کوئی برسراقتدار ہی دعوت کو سمجھ جائے اور انقلاب لے آئے یہی طریقہ ہمارے سلف نے اختیار کیا امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ، ابن تیمیہ رحمہ اللہ علیہ، ابن وہاب رحمہ اللہ علیہ ان سب لوگوں نے حکمرانوں کو دین پہنچایا قربانیاں بھی دیں اور اُن کی مساعی کے بڑے مثبت نتائج بھی نکلے یہی وہ شرعی سیاست ہے جو ہمارے سلف نے اختیار کی اور ہم بھی اس کو اختیار کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
آپ نے فرمایا ہے وحی کے علاوہ کسی بھی چیز کو دستور قرار دینا خواہ وہ قرآن وسنت کے مطابق ہی کیوں نہ ہو شرک ہے اگر ہماری اسمبلی دستور بنائے کے چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا وغیرہ وغیرہ تو کیا یہ بھی شرک ہوگا؟؟؟۔۔۔
ہاں یہ بھی شرک ہوگا آپ نے ہمارا مضمون (مکالمہ) غور سے نہیں پڑھا ورنہ آپ یہ سوال نہ کرتے ہم نے سارا مکالمہ اسی نکتہ کی وضاحت کے لئے ہی لکھا تھا آپ بتائیے چور کا ہاتھ کاٹنا کس کا حکم ہے؟؟؟۔۔۔ اسمبلی کی منظوری کے بغیر یہ دستور کیوں نہیں؟؟؟ کیا کسی جمہوری ملک کی عدالت اللہ کے اس نازل کردہ دستور کے مطابق چور کا ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کرسکتی ہے جبکہ اسے اسمبلی نے قانون نہ بنایا ہو آخر اسمبلی کو یہ اختیار کس نے دیا ہے کے وہ اللہ کے نازل کردہ دستور وقانون پر پھر سے غور کرے جس کا جی چاہئے تو اس کو قانون بنادے جی چاہئے تو ٹھکرادے اسمبلی کو یہ اختیار دینا ہی شرک فی الحاکمیہ ہے اسمبلی کی منظوری کے بعد دستور مانا تو کیا مانا۔۔۔ یہ اللہ کی اطاعت ہوئی یا اسمبلی کی۔۔۔
آئیے اب آپ کو ایک مثال سے سمجھاتا ہوں اہلحدیث نماز میں رفع یدین کرتا ہے اور ایک شافعی بھی نماز میں رفع یدین کرتا ہے اب آپ بتائیں کی دونوں کی نماز سنت کے مطابق ہے ہرگز نہیں ہمارے نزدیک شوافع کا رفع یدین کرنا اور حنفیوں کا رفع یدین نہ کرنا دونوں برابر ہیں حالانکہ شوافع نے سنت کے مطابق رفع یدین کیا ہے چونکہ انہوں نے اس کو سنت امام شافعی کی تقلید میں تسلیم کیا ہے اس لئے ان کا یہ عمل سنت پر عمل نہیں بلکہ امام شافعی کی تقلید ہے عمل کتنا بھی مطابق سنت کیوں نہ ہو اس کے پیچھے جذبہ اتباع کا نہ ہو بلکہ تقلید کارفرما ہوتو عمل کی حیثیت متاثر ہوتی ہے آپ سارا اسلام نافذ کردیں لیکن اس کی منظوری پارلیمنٹ سے لیں تو وہ اسلام اسلام نہیں رہے گا مسلمان کا کام کلمہ پڑھنے کے بعد اسلام کو قبول کرتے چلے جانا ہے نہ کے اسلام کو قانونی حیثیت دینے کے لئے خود حاکم بن بیٹھنا اس سے اسلام کی حاکمانہ حیثیت پر حرف آتا ہے۔۔۔۔ تمام حُکام شریعت سے پوچھ کر چل سکتے ہیں نہ کے شریعت ان حُکام سے پروانہ نفاذ حاصل کر کے نافذ ہوگی۔۔۔
میرے بھائی آپ ذرا غور تو کریں اللہ نے دستور نازل ہی اس لئے کیا ہے کے حکمران اور عوام سب اس پر عمل کریں اب ہم اللہ کے بنائے ہوئے دستور کو پھر دستور بنائیں تو یہ قانون سازی اور تشریح ہے کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی اللہ کے نازل کردہ کسی حکم کے بارے میں صحابہ کرام سے کبھی مشورہ کیا تھا کے اس دستور کو مانیں یا نہ مانیں یہ مشورہ کرنا ہی شرک فی التشریح تھا۔۔۔۔ اگر آپ سلفی مہنج کے حامل ہیں تو کچھ تو سوچنا چاہئے کے وہ لوگ جو انسان کو اللہ کا خلیفہ نہیں مانتے کے اس سے شرک لازم آتا ہے وہ اسمبلی کو حق حاکمیت کس طرح دے سکتے ہیں ہمارا مشورہ ہے آپ اپنے اسلاف کا مطالعہ کریں اور خصوصا امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بغور پڑھیں آپ کا یہ سوال اور اس قسم کے دوسرے اشکالات ان شاء اللہ رفع ہوجائیں گے۔۔۔
اسلام کا سیاسی نظام خلافت ہے جس میں الیکشن یا سلیکشن کا کوئی چکر نہیں؟؟؟۔۔۔
اگر ایسا نہیں تو پھر خلفاء راشدین کا تقرر کیسے ہوا اگر نامزدگی تھی (جیسے حضرت ابوبکر صدیق ہوئے بقول آپ کے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی نے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو نامزد کیا) تو اسلام کے مطابق یا خلاف؟؟؟۔۔۔
یہی سوال آپ پر بھی ہے کے کیا خلفائے راشدین کا تقرر جمہوری طریقے سے ہوا ہے؟؟؟۔۔۔ پوری خلافت اسلامیہ کی تاریخ میں ایک مثال نہیں ملتی مثال تو دور کی بات ہے جمہوریت کا لفظ کہیں نہیں پایا جاتا رہا یہ کے پھر خلفاء کا تقرر کیسے ہوا تو اس کا جواب یہ ہے کے وہ غیر جمہوری طریقے سے ہوا ہے اور مسلمانوں کا خلیفہ جب بھی بنے گا وہ جمہوریت سے نہیں بننے گا امام مہدی جو خلیفہ المسلمین ہوں گے وہ بھی غیر جمہوری طریقے سے برسراقتدار آئیں گے اور ہمارے بچے جمہورے اس وقت بھی یہی راگ الاپیں گے کے یہ غیر آئینی حکمران ہے ہم اس کی حکومت کو تسلیم نہیں کرتے اب رہا یہ سوال کے یہ غیر جمہوری طریقہ کس بلا کا نام ہے جس کے ذریعے خلیفہ کا تقرر ہوتا ہے تو بھائی ہم نے اپنے اس مکالمہ میں اس کی خوب وضاحت کردی تھی کے وہ اسلام کا مسلمہ اصول “شورٰی“ ہے شوریٰ ایک ایسا فطری عمل ہے جس کو نہ آپ نامزدگی قرار دے سکتے ہیں اور نہی ہی سلیکشن یا الیکشن۔۔۔۔
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی۔
شوریٰ اسلام کا ایک منفرد انداز ہے اس کو کسی مغربی طاغوتی عینک سے نہ دیکھا جائے خلافت کی کرسی پر بٹھانے کے لئے اہل شورٰی مل بیٹھتے ہیں مخلصانہ تجاویز سامنے آتی چلی جاتی ہیں اور ایک رائے پختہ ہوتی چلی جاتی ہے اور اللہ کے فضل سے سب اہل حل وعقد ایک شخصیت پر متفق ہوجاتے ہیں اور فیصلہ ہوجاتا ہے یہ فیصلہ اور اتفاق کس طرح ممکن ہوتا ہے اس کے لئے خلفاء کا تقرر آپ سامنے رکھیں آپ نے پوچھا ہے کے حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کو جو نامزد کیا تھا وہ اسلام کے مطابق تھا یا مخالف۔۔۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کے کیا وہ جمہوریت کے مطابق تھا یا مخالف۔۔۔۔۔۔ ہم کہتے ہیں وہ اسلام کے مطابق تھا اس طرح کے اس میں باقاعدہ مشورہ کیا گیا تھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ مسلسل متعدد صحابہ کرام سے مشورہ دینے والے لوگوں کے دلائل لیتے رہے اور اپنے دلائل بھی دیتے رہے انہوں نے مشورہ دینے والے لوگون کی گنتی کر کے فیصلہ نہیں کیا مشورہ کے بعد ایک عزم پر جم گئے اور حضرت عمررضی اللہ تعالٰی عنہ کا تقرر ہوا نہ یہ مطلقا نامزدگی تھی اور نہ انتخاب۔۔۔
اب رہی یہ بات کے اگر کوئی حکمران جمہوری طریقے سے آجائے تو اسلام کی ہدایت کیا ہے اسلام کی ہدایت یہ ہے کے اس کی اصلاح کی جائے اگر وہ اسلام نافذ کرتا ہے تو اس کی حمایت کی جائے اسی طرح کوئی مارشل لاء کے ذریعے یا کسی اور ذریعے سے برسراقتدار آجائے تو اس حکمران کو اسلام کی دعوت کے ذریعے یا کسی اور ذریعے اس بات کا قائل کیا جائے کے وہ اسلام نافذ کرے اسلام جمہوریت کی طرح یہ نہیں کہتا کے وہ ایک غیرآئینی حکمران ہے اس کو ہٹاؤ خواہ وہ کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو اور اگر جمہوریت کے ذریعے کوئی بےدین حکمران بھی مسلط ہوجائے تو اسے بصد خوشی قبول کرلو حتٰی کہ ایک عورت کی حکمرانی بھی قبول کرلو اسلام نے اُمت کو سیاسی انتشار سے بچانے کے لئے کس قدر ٹھوس اور مبنی برحقیقت ہدایات دی ہیں حتی کے اگر نماز کا امام فاسق وفاجر ہو تو اس کے پیچھے نماز ہوجاتی ہے بشرطیکہ کفروشرک کی کوئی واضح صورت اس میں نہ پائی جاتی ہو جمہوریت تو تشیع اور خارجیت سکھاتی ہے جس نے اُمت کو آج تک سُکھ کا سانس نہیں لینے دیا۔۔۔۔
آپ فرماتے ہیں خلیفہ نبی کا سیاسی جانشین ہوتا ہے مگر مذہبی جانشین کون ہوتا ہے کیا یہ بقول اقبال۔۔۔
 
جدا ہودین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی والا تصور تو نہیں؟؟؟۔۔۔
میرے بھائی خلیفہ نبی کا سیاسی جانشین ہوتا ہے کا مطلب یہ نہیں کے خلیفہ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا اس کا صرف یہ مطلب ہے کے منصب نبوت میں جو حکومت کا پہلو ہوتا ہے وہ نبی سے خلیفہ کو منتقل ہوتا ہے یعنی نبی کی نبوت خلیفہ کو نہیں ملتی نبی بیک وقت اللہ کا نمائندہ (رسول) بھی ہوتا ہے اور ایک حکمران یعنی امیر المومنین بھی جب یہ کہا جاتا ہے کے فلاں شخص نبی کا خلیفہ ہے تو اس کا مطلب ہے حکومت کی جو کرسی ہوتی ہے خلیفہ اس کو سنبھالتا ہے رسالت کی کرسی پر رسول ہی بیٹھ سکتا ہے خلیفہ نہیں۔۔۔
جن لوگوں نے خلیفہ کو نبی کا مذہبی ودینی جانشین سمجھا اُن کو یہ مشکل پیش آئی کے نبی اور خلیفہ میں کیا دینی قدرمشترک ہے نبی تو صاحب وحی اور معصوم ہے اس کا ہر حکم وحی کا امر ہے ان لوگوں کے نزدیک امام حکومت کے علاوہ تشریع کے اختیارات بھی رکھتا ہے اس کی ہربات نبی کی طرح وحی ہے کیونکہ وہ نبی کا جانیشن جو ہوا اسی عقیدے کی ایک بگڑی ہوئی شکل تصوف میں پائی جاتی ہے آپ نے دیکھا سنا ہوگا کے صوفیا میں بھی ایک قسم کی خلافت چلتی ہے وہ بھی نبی کی روحانی جانشینی ہے جو آج دین طریقیت کی شکل میں موجود ہے اس بنیاد پر ہی مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی نبوت کا دعوٰی کیا تھا اور اپنے آپ کو نیا نبی نہیں کہتا تھا محمد کا ظل قرار دیتا ہے یعنی اپنے آپ کو نبی کا جانشین ان معنوں میں سمجھتا ہے کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی کرسی اُسے مل گئی ہے اس لئے خلیفہ (خصوصا امت محمدیہ میں) نبی کے اس جانیشن کو کہتے ہیں جو نبی کے طریقے پر حکومت کرے اور آپ نے یہ حدیث تو پڑھی سنی ہوگی۔۔۔
عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال کانت بنو اسرائیل تسوسھم الانبیاء کلمامات منھم نبی “خلفہ نبی“ وانہ لانبی بعدی وسیکون خلفاء فیکثرون۔۔۔۔ الخ 
 
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت بیان کرتے ہیں کے آپ نے فرمایا بنی اسرائیل کی سیاست انبیاء کرتے تھے جب کوئی نبی فوت ہوتا ایک نبی اس کا جانشین بن جاتا اور میرے بعد کوئی نبی نہیں میرے بعد کثرت سے خلفاء ہوں گے اسی طرح ایک دوسری حدیث میں ہے علیکم بسنتی و سنۃ الخلفاء الراشدین آپ نے اپنی سنت کے ساتھ خلفائے راشدین کی سنت کو ملایا ہے اس کا یہی مطلب ہے کے خلفائے راشدین سے مراد ان کا طرز خلافت وحکومت ہے جس کو ہم نے لازم پکڑنا ہے صاف ظاہر ہے خلفائے راشدین کا نظام جمہوریت نہیں تھا۔۔۔
رہی بات اقبال کے اس قول کی کے!۔
جدا ہو سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
 
تو ہم اس کے من وعن قائل نہیں اگر اس کا مطلب یہ ہے کے سیاست کو دین کے مطابق ہونا چاہئے تو یہ درست ہے اور اگر اس کا مطلب یہ ہو کے پورا دین ہی سیاست کا نام ہے تو ہم اس کے ہرگز قائل نہیں ہمارے نزدیک سیاست اسلام کے دوسری پہلوؤں معیشت ومعاشرت کی طرح ایک انتظامی پہلو ہے اور ظاہر ہے کے وہ دین سے الگ نہیں۔۔۔
آپ نے فرمایا پوری قوم کی نمائندگی کا جو تصور اسلام میں ہے وہ جمہوریت میں اس کا پاسنگ بھی نہیں وہ کیا ہے اور کس طریقہ سے عملا پوری قوم کی نمائندگی ہوتی ہے؟؟؟۔۔۔
میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا دوبارہ عرض کئے دیتا ہوں اسلام کے نظام خلافت میں سیاسی قیادت ایمان وتقوٰی کی بناء پر ابھرتی ہے اسلامی معاشرہ ایک ملت ہوتا ہے دینی وملی خدمات کی بدولت کچھ شخصیات ابھر کر سامنے آجاتی ہیں ان کو ابھارنے کے لئے کوئی انتخابی مہم نہیں چلتی اور نہ سچے جھوٹے وعدے ہوتے ہیں نہ نعرہ بازی اور اسٹیج شو ہوتے ہیں بس اللہ سے تعلق کی بناء پر لوگوں کی انگلیاں خود بخود ان شخصیات کی طرف اٹھتی ہیں عوام کیلئے یہی لوگ مرجع بن جاتے ہیں یہ ایک فطری عمل ہے جیسا کے دور نبوی میں صحابہ میں انصارومہاجرین کو ایک خاص اہمیت حاصل ہوگئی تھی ان کی اہمیت ان کی ملی خدمات کی بدولت ابھر کر سامنے آئی ان میں ہر شخص پوری ملت کا درد اپنے اندر رکھتا تھا ان میں سے کوئی شخص کسی علاقہ کے بعض لوگوں کا منتخب شدہ نہ تھا وہ جب بھی نمائندگی کرتے تھے تو وہ پوری ملت کی نمائندگی کرتے تھے ان میں ہر شخص پر ملت کے ہرفرد کو اعتماد تھا ظاہر ہے جب یہ لوگ مل کر بیٹھتے ہوں گے اور خلیفہ کو مشورہ دیتے ہوں گے تو اس میں پوری ملت کی بھرپور نمائندگی کا حق ادا کرتے ہوں گے نہ کے اپنی پارٹی یا علاقہ کی نمائندگی جمہوریت میں نمائندگیاں قطار اندر قطار اپنے اپنے حقوق کے حصول کے لئے کوشاں ہوتی ہیں یہ ہے اسلام کی نمائندگی کا تصور جس کو ہم جمہوریت میں نمائندگی کے تصور کا پاسنگ بھی نہیں سمجھتے۔۔۔۔
آپ نے فرمایا ہے کے آپ موجود سیاست کومسلمان بنائیں گویا جمہوری سیاست کو اسلامی بنایا جاسکتا ہے اور یہ اسلام کا کوئی نظام سیاست نہیں؟؟؟۔۔۔ کیونکہ بنانے اور اپنانے میں بہت فرق ہے۔۔۔
ہم نے جہاں یہ فرمایا ہے کے آپ موجدہ سیاست کو مسلمان بنائیں تو اس سے آگے یہ بھی فرمایا کے کس طرح بنائیں اس سے کسی طرح بھی اسلامی جمہوریت کا کوئی تصور نہیں نکلتا موجدہ سیاست جب مسلمان ہوگئی تو وہ خلافت کہلائے گی جس طرح جب کوئی کافر مسلمان ہوتا ہے تو کفر اسلامی نہیں ہوتا بلکہ کافر مسلمان ہوتا ہے یعنی کفر کو چھوڑ کر اسلام اختیار کرتا ہے اس طرح جب جمہوریت مسلمان ہوگئی تو وہ اسلامی نہیں اسلام ہوجائے گی۔۔۔
آخر انتخاب امیر کا کوئی طریق تو ہوگا؟؟؟۔۔۔
ضرور ہوگا۔۔۔
کیا اس کو دستور نہیں کہیں گے؟؟؟۔۔۔
نہیں! دوستور وہ ہوتا ہے جس کی پابندی امیر جماعت کو بھی کرنی ہوتی ہے اور امیر جماعت کے فوت ہونے کے بعد بھی وہ دستور زندہ رہتا ہے نئ امیر کا انتخاب اسی کے مطابق کرنا ہوتا ہے جبکہ یہ مقام صرف کتاب وسنت کو حاصل ہے کے وہ ہمیشہ زندہ ہے اور مستقل ہے۔۔۔
اگر ایسا ہو بھی جائے تو اس میں کیا حرج ہے آخر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی خلیفہ کے انتخاب کے لئے ایک طریق کار خود وضع کیا ہی تھا کیا وہ دستور نہ تھا؟؟؟۔۔۔
اس میں بہت حرج ہے سب سے بڑا حرج یہ ہے اس کا کوئی ثبوت کتاب وسنت اور طریقہ سلف سے نہیں ملتا اور یہ جو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی بات کی جاتی ہے کے انہوں نے آئندہ خلیفہ کے انتخاب کا طریق وضع کیا تھا یہ درست ہے لیکن اس کو دستور نہیں بنایا تھا مسئلہ کا کوئی وقتی حل نکالنا دستور نہیں ہوتا یہی وجہ ہے اہلحدیث اجتہاد کو وقتی حل سمجھتے ہیں مقلدین اس کو مستقل حیثیت دیتے ہیں مقلدین اجتہاد پر اجتہاد کرتے ہیں جبکہ اہلحدیث ہر نئے مسئلہ کے لئے نیا اجتہاد کرتے ہیں یہ دستور اگر حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بنایا تھا تو پھر حضرت علی رضی اللہ تعالٰی عنہ اور ان کے بعد کے خلفاء کا انتخاب اس طریقے کے مطابق کیوں نہیں ہوا ہر خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ حالات کے ساتھ بدلتا رہا ہے یہی فرق ہے دستور اور وقتی طریق کار میں۔۔۔
اس کا مطلب ہے آپ امیر کے انتخاب کے لئے کوئی طریقہ کار متعین نہیں کرنا چاہئے۔۔۔
ہاں!۔ جب شریعت (کتاب وسنت) نے کوئی طریق کار متعین نہیں کیا تو ہم کس طرح متعین کرسکتے ہیں البتہ کوئی سا بھی طریقہ حالات کو سامنے رکھتے ہوئے اختیار کیا جاسکتا ہے بشرطیکہ وہ کتاب وسنت کے منافی نہ ہو لیکن اس کا متعین کرکے دستوری حیثیت نہیں دی سکتی۔۔۔
جب آپ یہ مانتے ہیں کے امیر کے انتخاب کا طریق کار کوئی بھی اختیار کیا جاسکتا ہے شریعت نے پابندی نہیں لگائی تو پھر پاکستان کے مسلمانوں نے ایک طریق کار بنایا ہوا ہے اس سے آپ اختلاف کیوں کرتے ہیں؟؟؟۔۔۔
پہلا اختلاف تو یہ ہے کے انہوں نے ایک طریق کار کثرت رائے والا متعین کردیا ہے اور اس کو دستور بنادیا ہے حالانکہ کتاب وسنت نے آزاد چھوڑا ہے امیر کے انتخاب کے متعدد طریقے ہوسکتے ہیں حالات کے مطابق کوئی سا بھی طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے دوسرا اختلاف یہ ہے کے جو طریق کار حکومت نے متعین کیا ہے وہ بھی سراسر کتاب وسنت کے منافی ہے کیونکہ اس طریق کار کے مطابق پہلے رُکن سازی کے ذریعے چھوٹے یونٹوں میں کچھ لوگ بااختیار منتخب ہوجاتے ہیں آخر میں صدر کا انتخاب محض کثرت رائے سے ہوتا ہے مغربی جمہوری انداز پرووٹنگ ہوتی ہے صدر اور وزیر اعظم دونوں کا انتخاب الگ الگ بذریعہ ووٹنگ ہوتا ہے حالانکہ شریعت میں امیر کے علاوہ کوئی منصب ایسا نہیں جس کا الگ سے انتخاب ہو پھر صدر کے اختیارات مزید تقسیم کرکے وزیر اعلٰی کو دے دئے جاتے ہیں اس طریقے سے بےاختیار صدر سامنے آتا ہے جو وزیر اعظم پر بھی حکم چلانے کا اختیار نہیں رکھتا ہم اس سارے ڈھانچے اور طریق کار کو شریعت کے منافی سمجھتے ہیں جب تک ہمارے اکابرین اس طریق کار سے رجوع نہیں فرماتے ہم ان کا ساتھ کس طرح دے سکتے ہیں؟؟؟۔۔۔
اگر یہ سب کچھ غلط ہے تو آپ کے پاس متبادل کیا ہے؟؟؟۔۔۔
ہمارا دستور کتاب وسنت ہو کتاب وسنت کی روشنی میں امیر کا انتخاب اہل علم کے صلاح مشورے سے کر لیا جائے پھر وہ امیر ملکی اُمور کو چلانے کے لئے جو قواعد و ضوابط بنائے ہم ان کی پابندی کریں یہ امیر کی سمع وطاعت کہلائے گی جو کتاب وسنت کا حکم ہے۔۔۔
امیر کا انتخاب کرنے میں اگر کوئی اختلاف ہوجائے تو پھر؟؟؟۔۔۔
اختلاف تو طریق کار کا متعین کرنے میں بھی ہوسکتا ہے اور یہ اختلاف اس اختلاف سے کہیں زیادہ شدید ہوگا جو امیر کے انتخاب کے وقت وقتی طور پر پیدا ہوگا اہلحدیث اور اہل الرائے کے طریق میں تو یہی بنیادی فرق ہے کے اہلحدیث مسئلہ پیدا ہونے پر اس کا حل نکالتے ہیں اس لئے جب اہل الشورٰی مل بیٹھیں گے امیر کے انتخاب کی بات چلے گی تو ہوسکتا ہے اتفاق رائے ہی سے مسئلہ حل ہوجائے اور اگر کوئی اختلاف پیدا بھی ہوگیا تو وہی مجلس اس کا حل بھی ان شاء اللہ نکال لے گی شورٰٰی کا مطلب ہی یہ ہوتا ہے کے پیدا شدہ مسائل کا حل ڈھونڈا جائے اس وقت ہمارے سامنے مسئلہ یہ نہیں کے امیر کا انتخاب کا کون ساطریقہ متعین کیا جائے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کے امیر کس کو بنایا جائے اہل علم جمع ہو کر یہ کام کریں جو جو مسائل پیدا ہوتے رہیں ان کو بھی ساتھ ساتھ حل کیا جائے۔۔۔
امیر کے لئے شخصیت کے چناؤ میں اختلاف واقع ہوجائے اور ایک سے زیادہ گروپ بن جائیں تو اس کا حل کیا ہے؟؟؟۔۔۔
صحابہ کرام وہ مسائل پیدا ہونے پر ہی ان کا حل سوچتے تھے محض تصور میں نہ تو اختلاف پیدا کرتے تھے اور نہ اُس کو حل کرنے کا تکلف فرماتے تھے کیونکہ جب بھی تدبیری معاملات میں اختلاف روننما ہوتا ہے تو اس کے کچھ اسباب ہوا کرتے ہیں اور اسباب کا تعلق حالات سے ہوا کرتا ہے اس لئے اُن اختلافات کا ان حالات میں ہی اسباب دور کرکے حل نکال لیا جاتا ہے یہی وجہ ہے شریعت نے اس میدان میں آزادی دی ہوئی ہے ہم خواہ مخواہ پابندی اختیار کرنا چاہتے ہیں دارصل ہم جمہوری ماحول سے اس حد تک متاثر ہیں کے اب ہم یہ سمجھتے ہیں کے شاید امیر کا انتخاب ایک بہت بڑا معرکہ ہوتا ہے اور دنگل کا سا سماں ہوتا ہے حالانکہ جب شرعی امیر کا تصور اور اس کی ذمہ داریاں سامنے ہوں تو کوئی شخص جو اللہ کا خوف رکھنے والا ہو امیر بننے کی خواہش تو کچا اس سے بھاگنے اور کترائے کی کوشش کرے گا جمہوری ماحول میں جس قدر امیر بننے کی خواہش پیدا ہوتی ہے للہیت کی شرعی اور دینی ماحول میں اسی قدر امیر نہ بننے کی تمنا ہوتی ہے اس لئے اول تو اس ماحول میں اختلاف سراٹھاتا ہی نہیں عموما اتفاق رائے ہوجایا کرتا ہے اور اگر تھوڑا بہت اختلاف ہو بھی جائے تو اہل علم نہایت اخلاص کے ساتھ اس کو دور کرلیا کرتے ہیں۔۔۔ انما یخشی اللہ عبادہ العلموٰا اور اللہ کی نصرت بھی نازل ہوا کرتی ہے۔۔۔
لگتا ہے آپ کسی ایسے امیر اور ایک ایسی شورٰی کا تصور پیش کررہے جو کم ازکم اس دور میں ممکن نہیں۔۔۔
ہم اللہ کے فضل سے یہ ایمان رکھتے ہیں کے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق طائفہ منصورہ ہر دور اور ہر زمانے میں قائم رہے گی اگرچہ اُن کی تعداد قلیل کیوں نہ ہو طائفہ منصورہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت ہے گویا یہ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے طرز کے لوگوں پر مشتمل ہے۔۔۔
یہ تو عقیدہ ڈاکٹر اسرار اور دوسرے لوگوں کا ہے کے صحابہ کرام کے بعد اب دوبارہ خلافت راشدہ قائم ہونا ممکن ہے وہ خلافت عامہ کی اصطلاح استعمال کرکے جمہوریت کو تحفظ فراہم کررہے ہیں ہم تو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کے خلافت راشدہ ان شاء اللہ پھر دنیا میں قائم ہوکررہے گی اس کے لئے ہر زمانے میں معیاری لوگ مل سکتے ہیں اس کی تیاری کے لئے شخصیات کے افکار وواقعات کو بنیاد بنانے کی بجائے خالصتاََ قرآن وحدیث کی بنیاد پر افراد سازی کرنا ہوگی اس کے لئے ہم کو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں اس وقت اگر ایسے معیاری لوگ نہیں ہیں یا کم تعداد میں موجود ہیں تو ہم خود اس کے لئے محنت کریں۔۔۔
آپ کے نزدیک امیر کی ذمہ داریاں کیا ہیں؟؟؟۔۔۔
امیر کی ذمہ داریاں یہ ہیں مثلا جماعت کو منظم کرنا، جہاد میں عملا شرکت اور دنیا بھر کی جہادی تحریکوں سے رابطے اور اُن کا تعاون بیت المال قائم کرنا جماعت کے غرباء ومساکین کی کفالت کا بندوبست مدارس اور مساجد کے نظام کو بہتر بنانا تعلیم وتربیت کے لئے پالیسی تربتی دینا اور اس کی منصوبہ بندی کرکے عمل درآمد کرانا۔۔۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours