کیا  خلافت راشدہ میں خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ کار جمہوری ہوتا تھا ؟؟مختصر جائزہ
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی


جمہوریت کے دلدادہ لوگ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کا دور سب سے زیادہ جمہوری دور تھا۔خلفائے راشدین کا انتخاب بھی جمہوری طریقے سے ہواتھااور تمام عوام نے بیعت کرکے ان چاروں کو خلیفہ مقرر کیاتھا ۔چناچہ جمہوریت اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بلکہ بعض لوگ یہ کہنے کی جسارت کر بیٹھتے ہیں مغرب میں رائج جمہوری نظام دراصل خلافت راشدہ میں رائج جمہوری نظام سے اخذ کردہ ہے۔انا للہ والیہ راجعون۔ حالانکہ یہ بات قطعاً غلط اور سفید جھوٹ ہے ۔چناچہ اس شبہ کو رد کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے ہم خلفائے راشدین کے طریقہ ٔ انتخاب کا مختصراً جائزہ لینا پڑے گا تاکہ اصل صورتحال معلوم ہوسکے 


  • جب انصار کے لوگوں نے کہ کہا کہ خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہیے تو حضرت ابوبکر صدیق ؓ‏‏ نے حدیث رسولﷺ پیش کی کہ حلیفہ قریش میں سے ہو ۔چناچہ سب صحابہ خاموش ہو گئے ۔۔ ۔ کیا یہ جمہوریت تھی ؟؟
  • حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا ’’میں چاہتا ہوں کہ تم ان دونوں میں سے (یعنی حضرت عمرفاروق اور حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ)میں سے کسی ایک کی بیعت کرلو۔‘‘۔لیکن دونوں نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی موجودگی میں خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا ۔حضرت عمرفاروق ر ضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کہا کہ آپ اپنا ہاتھ اٹھائیے ،انہوں نے ہاتھ بڑھایا اور حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے ان کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی ،اس طرح بیعت انعقاد خلافت ہوگئی۔اس کے بعد تمام حاضرین مجلس نے بیعت کی ۔۔۔ کیا یہ جمہوریت تھی ؟؟
  • حضرت عمر ؓ کو حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے چند صحابہ کرام سے مشورہ کرنے بعد خلیفہ نامزد کیا ۔۔۔ کیا یہ جمہوریت تھی ؟؟
  • ’’جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ پر خنجر کا وار ہوا تو آپ سے کہاگیا کہ کسی کو خلیفہ بناجائیں۔آپ نے فرمایا کہ اگر ابوعبیدہ بن الجرح رضی اللہ عنہ زندہ ہوتے تو میں ان کو خلیفہ بنا جاتا‘‘۔۔۔ کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
  • حضرت عمر ‌ؓ نے   اصحاب عشرہ مبشرہ میں سے باقی رہ جانے والے  چھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی کمیٹی بنادی ۔حضرت مقداد رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تھا کہ جب تک یہ لوگ اپنے میں سے کسی کو خلیفہ نہ چن لیں ،کسی کو اندر آنے یا جانے کی اجازت نہ دی جائے ۔۔۔حضرت عمرؓ کے نام پر جھوٹ بولنے والے بتائیں کہ کیا آپ ‌ؓ کا یہ طریقہ کار جمہوری تھا ؟؟
  • چھ صحابہ کی اس کمیٹی نے شورائی انداز میں کام کیا اور ایسے کردار کا مظاہرہ کیا جو ان کے شایان شان تھا۔ ان صحابہ کا کردار اس معاملے میں غیر معمولی تھا کہ چار صحابہ تو خود ہی دستبردار ہو گئے جس سے ان کی بے غرضی کا اندازہ ہوتا ہے۔ حضرت عثمانؓ سے پوچھا گیا کہ آپ خلیفہ نہ بنیں تو کسے بنایا جائے تو انہوں نے حضرت علی ؓ کا نام لیا۔ یہی سوال حضرت علیؓ سے کیا گیا تو انہوں نے حضرت عثمان ؓکا نام لیا۔ عبدالرحمٰن بن عوف ؓنے ان سے کہا: "اس معاملے میں میں آپ سے تنازعہ نہیں کروں گا (یعنی میں خلیفہ نہیں بنوں گا۔) اگر آپ چاہیں تو آپ ہی میں سے کسی کو آپ کا خلیفہ منتخب کر دوں۔ " چنانچہ انہوں نے یہ معاملہ عبدالرحمٰن بن عوف پر چھوڑ دیا۔۔ انہوں نے مدینہ کے ہر ہر شخص کے علاوہ حج سے واپس آنے والے دیگر قبائل کے لوگوں کی رائے بھی معلوم کی۔ اکثریت کی رائے حضرت عثمان کے حق میں تھی، جس کی وجہ سے انہوں نے حضرت عثمان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کر دیا۔ ۔۔  اس معاملے میں تھوڑی سی جمہوری جھلک  یقیننا ملتی ہے جس کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا جاتا ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ کو الیکشن کمشنر مقرر کیا گیا اور انہوں نے تمام افراد جن میں مرد ،عورتیں اور بچے بھی شامل تھے  ، سے مشورہ کیا اور پھر اکثریت کی رائے جان کر فیصلہ کیا ۔چناچہ یہاں پر چند ایسے نقات ہیں کہ جن کو سمجھنا ضروری ہے کہ :
  • حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ  کا شورٰی سے ایک دوسرے کےحق میں دستبردار ہونے کا کہنا ا ن کا ایک ذاتی فیصلہ تھا ، اگراہل شوریٰ متفق ہو کر کسی ایک کو خلیفہ کے طور پر نامزد کر دیتی تو پھر عام افراد سے مشورہ کرنے کی نوبت ہی   پیش نہ آتی ۔۔ ۔ تو کیا جمہوری اقدام ہو تا ؟؟
  • حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ؓ    نے بہتر فیصلے کے لیے جس  کو بھی موزوں سمجھا ،اس سے مشورہ کیا ۔ اس کے متعلق صحابہ نے ان کو کوئی ہدایات دی تھیں ، ان کا تاریخ سے کوئی  حوالہ نہیں ملتا ۔
ذرا سوچئے کہ نہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ٗ نہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے بلکہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ آپ رضی اللہ عنہ کو عوام کی رائے کے مطابق فیصلہ کرنا چاہیے یا آپ کو تمام مسلمانوں سے مشورہ کرنا چاہیے اور جسے وہ چنیں اسے خلیفہ مقرر کریں۔اگر حضور ﷺکا کوئی ایسافرمان ہوتا جس میں تمام مسلمانوں سے مشورہ کرنے کی گنجائش ہوتی تو پوری خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کی تاریخ میں کوئی ایک صحابی تو اس کا ذکر کرتے۔مگر کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی ایک صحابی نے بھی کہا ہو کہ عوام سے مشورہ لیا جائے اور جس کی طرف زیادہ مسلمان ہوں اس کو خلیفہ بنایا جائے۔
چناچہ  انقعاد خلافت عثمانؓ کے پورے واقعہ کو اگر تفصیلی طور پر دیکھا جائےاور سمجھا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہو جاتی ہے کہ اس کو موجودہ جمہوری  الیکشن کےطریقہ کار سے تشبیہ دینا سراسر زیادتی اور گمراہی ہے اور عوام الناس کو دھوکہ دینے کےمترادف ہے ۔اور اس کو صحابہ کرام  ؓ  کا اجماع کہنا بھی بالکل غلط ہے ۔
  •  حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں ہی عبدالرحمن بن عوف کو خلیفہ نامزد کیا تھا لیکن جب وہ ان کی زندگی میں ہی فوت ہوگئے تو انہوں نےحضرت زبیر رضی اللہ عنہہ کے نامزد کرنے کا اردہ کیا تھا۔۔۔کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
  • ’’شہاد ت حضرت عثمان ؓ کے بعد جب حضرت علی ؓ سے خلیفہ بننے کے لیے کہا گیا تو آپ ؓ نے فرما یا کہ "یہ اہل شوریٰ اور اہل بدر کا کام ہے ۔جسے وہ منتخب کریں وہی خلیفہ ہوگا۔پس ہم جمع ہوں گے اور اس معاملے پر غور کریں گے‘‘۔دوسرے الفاظ میں آپ کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ خلیفہ بنانے کا حق اہل حل وعقد اور صائب الرائے اشخاص کا ہے۔لیکن اس کا موقع ہی نہیں ملااور ایک شخص اشتر نخعی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور خلافت کرلی۔۔۔ کیا انعقاد خلافت علی ؓ بھی  جمہوری طریقے سے ہوئی تھی؟؟
  • البدایہ میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے قریب آپ سے لوگوں نے کہا کہ اپنا ولی عہد مقرر کردیں۔آپ نے فرمایا ’’مسلمانوں کو اسی حالت میں چھوڑوں گا جس حال میں رسول اللہ ﷺنے چھوڑا تھا ‘‘۔۔۔۔۔۔کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
  • حضرت جندب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ’’اے امیر المومنین !اگر آپ فوت ہوجائیں تو ہم حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کرلیں تو آپ  نے فرما یا ’’میں نہ تمہیں اس کا حکم دیتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں،تم خود بہتر سمجھتے ہو‘‘۔۔۔کیا یہ جمہوری سوچ تھی ؟؟
  • امام ابن جریر طبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ’’حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد قیس بن سعد نے حضرت حسن ضی اللہ عنہ سے کہا ٗ اپنا ہاتھ آگے اٹھائیے ،میں آپ کے ہاتھ پر اللہ کی کتاب اور اس کے نبی ﷺکی سنت پر بیعت کرتا ہوں چناچہ ان کی بیعت کے بعد سب نے بیعت کرلی۔۔۔ کیا یہ جمہوری طریقہ تھا ؟؟
چناچہ ان تمام طریقہ کارسے یہ بات کہیں بھی ثابت نہیں ہوتی کہ خلفائے راشدین کا انتخاب یا نامزدگی جمہوری بنیادوں پر ہوتی تھی بلکہ اس سے تو یہ ظاہر ہوتا تھا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک’’کثرتِ رائے یا عوامی رائے دہندگی ‘‘ کوئی معنی نہیں رکھتی تھی۔


Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours