کیا دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں اہم امور کے فیصلے کثرت رائے سے کیے جاتے تھے ؟؟




 کیا دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں اہم امور کے فیصلے کثرت رائے سے کیے جاتے تھے ؟؟



داعیانِ جمہوریت جہاں ایک طرف یہ مغالطہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کثرتِ رائے یا عوامی رائے دہندگی کی بنیاد پر ہوتا تھا ،وہاں یہ فریب کاری بھی کرتے ہیں کہ دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں ہونے والے فیصلوں کو توڑ مروڑ کر زبردستی جمہوریت کے حق میں دلیل بنانے کی مذموم ومردود کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں بھی فیصلے کثرتِ رائے اور عوامی رائے کے مطابق ہوتے تھے۔چناچہ ہم یہاں مختصراً اس بات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہوتا تھا یا صورتحال اس کی برعکس ہے۔


دورِ نبوی ﷺ

اس سے پہلے کہ ہم یہ بات جاننے کی کوشش کریں کہ کیا دورِ نبوی ﷺمیں فیصلے جمہوری اصولوں کی بنیاد پر کثرتِ رائے سے ہوتے تھے ۔یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آیا خلیفہ کو کسی بھی معاملہ فیصلہ کرنے کا کتنا اختیار حاصل ہے؟
اس ضمن میں سب سے پہلی بات یہ کہ اسلام کے نظام خلافت میں خلیفہ کے لئے کسی بھی معاملے میں فیصلہ کرنے سے پہلے صائب الرائے افراد پر مشتمل شوریٰ سے مشورہ اور رائے لینا ضروری قرار دیاگیا ہے۔البتہ خلیفہ کو اس بات کا پابند نہیں بنایا گیا کہ وہ اہل شوریٰ کی رائے کے مطابق فیصلہ کرے ،چہ جائے کہ وہ اپنے فیصلے اکثریت کی رائے کے مطابق کرنے کا پابند ہواور دوسری بات یہ کہ اہل شوریٰ سے مشاورت جب لی جائے گی جب کسی معاملے میں شریعت کا کوئی واضح حکم موجود نہ ہویا پھر شریعت کے کسی حکم کے نفاذ کے طریقہ کار یا اس کے مقدم و مؤخر کرنے کا معاملہ ہو۔
غزوہ بدر
غزوۂ بدر کے موقع پر جب قریشِ مکہ کے ستر بڑے سردار قیدی بن کر دربارِ نبوی ﷺمیں پیش کئے گئے توآپ ﷺنے حسبِ عادت مجلسِ شوریٰ طلب کی اور پھر معاملہ زیرِ بحث آیا۔چناچہ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں ان کی رائے دریافت کی۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان دونوں ہی سے کیوں رائے معلوم کی۔اس وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
))لواجتمعاماعصیتکما)) (عن ابن عباس ؓ،درمنثورج:۳ص:۲۰۲(
’’اگر تم دونوں کسی ایک رائے پر متفق ہوجاتے تو میں اس کے خلاف نہیں کرتا‘‘۔
چناچہ اس معاملے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یہ رائے دی کہ چونکہ یہ ہمار ے قرابت دار ہیں چناچہ ان کو ’’فدیہ ‘‘لے کر چھوڑدیا جائے اور اس رقم کو جہاد اور دوسرے دینی امور میں استعمال کیاجائے کیونکہ یہ ممکن ہے کہ اللہ ان کی اولاد کو اسلام کی نعمت سے نوازے۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بالکل اس کے برعکس رائے دی ۔انہوں نے کہا کہ ان سب کو قتل کردیا جائے بلکہ ہم میں سے ہر ایک ان میں سے اپنے قریبی رشتہ دار کو اپنے ہاتھوں سے قتل کرے۔
رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند کیا۔لیکن اللہ رب العزت کو کچھ اور ہی مقصود تھا ۔دوسرے دن رسول اللہ ﷺاور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے روتے ہوئے پایا تو اس کی وجہ پوچھی؟تو آپﷺنے فرمایا :
’’مجھ پر مسلمانوں کے لئے عذاب اس درخت سے بھی قریب دکھا یا گیا ہے۔پھر اللہ تعالیٰ نے یہ آیا ت نازل فرمائیں۔

)
مَا کَانَ لِنَبِیٍّ اَنْ یَکُوْنَ لَہٗٓ اَسْرٰی حَتّٰی یُثْخِنَ فِی الْاَرْضِ تُرِیْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ یُرِیْدُ الْاٰخِرَۃَ وَاللّٰہُ عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ o لَوْلاَ کِتٰبٌ مِّنَ اللّٰہِ سَبَقَ لَمَسَّکُمْ فِیْمَآ اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ} (الانفال:۶۷تا۶۸{
’’ نبی کے لئے یہ مناسب نہیں تھا کہ ان کو قیدی بناتے جب تک کہ وہ زمین میں خوب خون ریزی نہ کر لیتے ۔اے مسلمانوں کیا تم دنیا کا سازوساما ن چاہتے ہو ؟جبکہ اللہ تعالیٰ آخرت چاہتا ہے اور اللہ تعالیٰ زبردست ہے کمال حکمت والا ہے اور اگر ایک حکم اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے گزر نہ چکا ہوتا۔یقیناً جو تم نے لیاتم کو اس کی وجہ سے پہنچتابڑا عذاب‘‘۔ (دیکھئے صحیح مسلم ،کتاب الجہاد ،باب اباحۃ الغنائم (
اس واقعہ سے یہ پتہ چلاکہ رسول اللہ ﷺجب شیخین یعنی حضرت ابوبکر وعمررضی اللہ عنہماکی رائے جب کسی معاملے میں ایک ہوجاتی تواس کے خلاف نہ کرتے ،چاہے دوسری طرف کتنے ہی صحابہ کرامرضی اللہ عنہم موجودہوں۔یہ بات اس چیز کی واضح دلیل ہے کہ مشورہ کرتے وقت کثرتِ رائے کے بجائے مشورہ دینے والے مشیر کی اہلیت و قابلیت کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ کسی بھی معاملے میں اصل فیصلہ کثرتِ رائے کے بجائے امیر کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے۔
نماز کے لئے منادی پر مشورہ
اسی طرح بخاری ومسلم میں ہے کہ نماز کی منادی کرنے کے لئے مختلف طریقہ کار سامنے آئے ۔کسی نے کہاکہ نصاریٰ کے طریقے کو اور کسی نے یہودیوں کے طریقے کو اپنانے کا مشورہ دیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ مشورہ دیا کہ کسی ایک آدمی کو نماز کے لئے بلانے کے لئے مقرر کردیا جائے۔چناچہ رسول اللہ ﷺنے اس کام کے لئے حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو مقرر کیا۔اس واقعہ سے بھی یہ پتہ چلا کہ رسول اللہ ﷺان امور بھی صحابہ کرام سے مشاورت کرتے تھے جس کے بارے میں بذریعہ وحی کوئی واضح دلیل موجود نہ ہواور یہ بھی کہ مختلف آراء سننے کے بعد کسی رائے کا اقرب الی الحق یا رضائے الٰہی کے قریب ہونا پسندیدگی کا معیار تھا۔رائے دینے والوں کی تعداد نہیں گنی جاتی تھی۔
غزوۂ احد
غزوہ ٔ احد کے موقع پر جب قریشِ مکہ تین ہزارکا لشکرِ جرار لے کر مدینہ منورہ کے قریب پہنچے تو آپﷺنے اس امر پر صحابہ کرامرضی اللہ عنہم مشاورت کی کہ جنگ مدینہ میں رہ کر مدافعانہ طور پر لڑی جائے یا شہر سے باہر نکل کر میدان میں لڑی جائے۔رسول اللہ ﷺکی رائے تھی کہ جنگ شہرمیں رہ کر لڑی جائے اور کبارصحابہ رضی اللہ عنہم کی رائے بھی یہی تھی ۔رئیس المنافقین عبد اللہ بن ابی بھی یہی چاہتا تھا۔لیکن چند نوجوان صحابہ جنہوں نے غزوۂ بدر میں شرکت نہیں کی تھی ،ان کا اصرار تھا کہ جنگ باہر میدان جاکر لڑی جائے۔چناچہ رسول اللہ ﷺنے ان کی رائے کااحترام کرتے ہوئے باہر لڑنے کا اعلان فرمایا ۔رسول اللہ ﷺہتھیار منگوائے اور دوہری زرہ پہن کر تشریف لائے۔اسی اثناء میں کبارصحابہ رضی اللہ عنہم نے ان نوجوان صحابہرضی اللہ عنہم سے کہا کہ رسول اللہ ﷺنے جس بات کو پسند کررہے تھے اسی کو اختیار کرنے میں خیر تھی۔چناچہ جب ان نوجوان صحابہ نے بھی رسو ل اللہﷺسے معذرت کی اور آپ ﷺکو اپنی سابقہ رائے کے مطابق ہی فیصلہ کرنے کا مشورہ دیا۔لیکن آپﷺنے فرمایا:
’’کسی نبی کو یہ لائق نہیں کہ اسلحہ جنگ زیبِ تن کرے اور دشمن کی طرف نکلنے کا اعلان کرے تو اس سے لڑے بغیر واپس ہو۔میں نے تمہیں یہ بات کہی تھی تو تم نے اسے تسلیم نہ کیا اور باہر نکل کر لڑنے پر اصرار کیا ۔اب تم پر لازم ہے کہ اللہ سے ڈرو اور جب دشمن سے مقابلہ ہو تو جنگ میں ثابت قدم رہواور اس بات کا خیال رکھو کہ جیسے اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے ، اسی طرح کرو‘‘۔(البدایہ والنھایہ ج:۴ص۱۲(
اس واقعہ سے بھی یہ بات پتہ چلتی ہے کہ لوگوں کی اکثریت مدینہ میں رہ کر جنگ لڑنے کی قائل تھی مگر رسول اللہ ﷺنے ا ن چند نوجوان صحابہ رضی اللہ عنہم کی دلجوئی کے لئے مدینہ سے باہر نکل کر لڑنے کا فیصلہ کیا مگر جب بعد تمام صحابہ کرام بشمول نوجوان صحابہ بھی مدینہ میں رہ کر جنگ لڑنے کا مشورہ دینے لگے تو رسول اللہ ﷺنے اکثریت کی بات کو رد کرتے ہوئے اپنافیصلہ برقرار رکھا۔
 دورِ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم
دین جمہوریت کے دلدادہ دورِ خلفائے راشدین کے بارے میں بھی یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان میں بھی تمام امور جمہوری بنیادوں پر طے ہوتے تھے ۔اس حوالے سے بھی چند مثالیں سامنے رہیں جن سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ایسے کسی بھی جمہوری اقدار کا دور دور تک کوئی شائبہ بھی دورِ خلفائے راشدین میں نہیں ملتا جس کاڈھنڈورہ یہ جمہوریت کے داعی پیٹتے رہتے ہیں۔
جیش اسامہ رضی اللہ عنہ کا معاملہ
رسول اللہﷺکی وفات کے بعد جب عرب کے قبائل مرتد ہونے لگے اور کچھ قبائل نے زکوٰۃ دینے سے انکار کردیا ۔جھوٹے داعیانِ نبوت کھڑے ہونے لگے اور آئے دن اُ ن کی قوت میں اضافہ ہونے لگا۔دوسری طرف جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کامسئلہ بھی سامنے تھا جس کو خود نبی کریم ﷺنے اپنی زندگی میں ترتیب دیا تھا۔ان حالات کے پش نظر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے پہلے جیشِ اسامہ رضی اللہ عنہ کی روانگی کے متعلق مشورہ کیا تو ان نازک حالا ت میں شوریٰ فوری طور پر لشکر کی روانگی کے خلاف تھی لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنا دوٹوک فیصلہ ان الفاظ میں فرمایا
’’اس ذات کی قسم!جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔اگر مجھے یہ یقین ہوکہ درندے آکر مجھے اٹھالے جائیں گے،تو بھی میں اسامہ کا لشکر ضرور روانہ کروں گا۔جیساکہ نبی کریم ﷺنے حکم دیا تھااور اگر ان آبادیوں میں میرے سوا کوئی شخص بھی باقی نہ رہے تو بھی میں یہ لشکر ضرور روانہ کروں گا‘‘۔(طبری جلد۳ص۲۲۵(چناچہ آپ رضی اللہ عنہ کے اس دوٹوک فیصلہ کے بعد بااتفاق یہ لشکر بھیجا گیا جو چالیس دن کے بعد کامیاب ہوکر واپس لوٹا۔
مانعین زکوٰۃ کا معاملہ
اس کے بعد مانعینِ زکوٰۃ کے متعلق آپ رضی اللہ عنہ نے انصارومہاجرین کو جمع کیا اور ان مشاورت چاہی۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
’’
اے خلیفہ رسولﷺ!میری رائے تو یہ ہے کہ آپ اس وقت عرب سے نماز اداکرنے کو ہی غنیمت سمجھیں اور زکوٰۃ پر مواخذہ نہ کریں اور اس وقت مہاجرین و انصار میں تمام عرب وعجم کے مقابلے کی سکت نہیں‘‘۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے سننے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے اور ان سے رائے طلب کی تو انہوں نے حرف بہ حرف حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے کی تائید کی ۔اس کے بعد تما م انصار ومہاجرین بھی اسی رائے کی تائید میں یک زبان ہوگئے ۔یہ سن کر حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اور فرمایا:                                                
’’
اللہ کی قسم !میں برابر امرِ الٰہی پر قائم رہوں گا اور اللہ کی راہ میں جہاد کروں گا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا وعدہ پورا فرمائے گا…اللہ کی قسم!اگریہ لوگ جو زکوٰۃ رسول اللہ ﷺکو دیتے تھے اس میں سے ایک رسی بھی روکیں گے تو میں ان سے برابر جہادکرتا رہوں گا حتیٰ کہ میری روح اللہ تعالیٰ سے جاملے۔خواہ ان لوگوں کی مد دکے لئے ہر درخت اور پتھر اورجن و انس میرے مقابلے کے لئے جمع ہوجائیں ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ میں کوئی فرق نہیں رکھابلکہ دونوں کو ایک ہی سلسلہ میں ذکر فرمایاہے ‘‘۔(کنز العمال جلد۳ص۴۲)                                  
یہ تقریر ختم ہوتے ہی حضرت عمررضی اللہ عنہ اللہ اکبر پکار اٹھے اور فرمایا’’اللہ کی قسم!اس کے بعد میں سمجھ گیا کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دل میں جو لڑائی کا ارادہ ہوا ہے یہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل میں ڈالا ہے اور میں پہچان گیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے حق ہے‘‘۔(بخاری،کتاب استتابۃالمرتدین(اس واقعہ سے اسلامی نظامِ شوریٰ کی کتنی وضاحت اور جمہوری اقدار کی نفی ہوتی ہے کہ ایک شخص کی رائے چونکہ اقرب الی الحق تھی تو تمام لوگوں کی رائے پرحاوی ہوگئی ۔
جنگ قادسیہ کے موقع سپہ سالار کا مسئلہ
جنگِ قادسیہ کے موقع پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کو ہراول کا سردارمقرر فرمایا۔حضرت زبیر بن عوام کو میمنہ پر اور حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو میسرہ پر مقرر فرماکر خود سپہ سالار بن کر روانگی کا عزم فرمایا۔حضرت علیرضی اللہ عنہ کو مدینہ میں اپنا قائم مقام بنایا اور فوج لے کر مدینہ سے روانہ ہوئے اور چشمہ صرار پر آکر قیام کیا۔فوج میں لڑائی کے لئے بڑا جوش پیدا ہوگیا تھا۔کیونکہ خلیفہ وقت خود اس فوج کا سپہ سالار تھا۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ آپ کا خود عراق جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔چناچہ حضرت عمررضی اللہ عنہ نے تمام سردارانِ فوج اور عام لشکری لوگوں کو ایک جگہ کا مخاطب کرکے مشورہ طلب کیا تو کثرتِ رائے خلیفہ وقت کے ارادے کے موافق ظاہر ہوئی ۔لیکن حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں اس رائے کو ناپسند کرتا ہوں ۔خلیفہ وقت کا خودمدینہ منورہ سے تشریف لے جانا خطرہ سے خالی نہیں۔حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ سے بلایا گیا اور تمام اکابر صحابہ سے مشورہ کیا گیا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ اور تمام جلیل القدر صحابہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی رائے کو پسند کیا۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دوبارہ اجتماع عام کیا کو مخاطب کرکے فرمایا
’’میں تمہارے ساتھ عراق جانے کو تیار تھا لیکن صحابہ کرام کے تمام صاحب الرائے حضرات میرے جانے کو ناپسند کرتے ہیں لہذامیں مجبور ہوں ۔اب کوئی دوسرا شخص سپہ سالار بن کر تمہارے ساتھ جائے گا‘‘۔
اب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی مجلس شوریٰ میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ کس کو سپہ سالار بناکر عراق بھیجا جائے۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کا نام پیش کیا ۔حضرت عمررضی اللہ عنہ سمیت سب نے اس کی تائید کی اور ان کو سپہ سالار بناکر روانہ کردیا گیا۔
اس واقعہ مشاورت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جمہوری اقدار کے برعکس متعدد صاحب الرائے اشخاص کی رائے عوام الناس کی بھاری اکثریت کی رائے سے زیادہ وزنی ہوتی ہے ۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے تمام فوج اور فوج کے سرداروں اور خود اپنی خواہش کے مطابق ایک معاملہ طے کیا۔لیکن صرف چند اہل الرائے کے مشورہ کو قبول کرتے ہوئے اکثریت کی رائے کو رَدکردیا۔
سفر شام کے دوران طاعون کا مسئلہ
صحیح مسلم میں ہے کہ جب حضرت عمررضی اللہ عنہ جب شام کی طرف سفر کو نکلے کہ اور جب مقامِ سرغ پر پہنچے تو اسلامی حکام فوجی سرداروں وابوعبیدہ بن الجراح tرضی اللہ عنہ جو شام کے گورنر تھے وہ آکر ملے اور خبر دی کہ آج کل شام کے علاقے میں طاعون کی وبا ء پھیلی ہوئی ہے۔ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ’’مہاجرین اول کو بلاؤ‘‘۔میں انہیں بلایا تو انہیں شام میں وباء پھیلنے کی اطلاع دی اور اس کے متعلق مشورہ طلب کیا۔ان کا آپس میں اختلاف ہوا۔آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو واپس بھیج دیااور انصارِ مدینہ کو بلایااور ان سے مشورہ طلب کیا ۔ان میں بھی مہاجرین کی طرح اس معاملے میں اختلاف ہوا۔آپ رضی اللہ عنہ نے ان کو بھی واپس بھیج دیا۔اس کے بعد آپ نے ان قریشی مہاجرین بزرگوں کو طلب کیاجنہوں نے فتح مکہ سے پہلے ہجرت کی تھی۔ان میں سے دو آدمیوں کے درمیان بھی اختلاف نہ ہوااور کہنے لگے کہ ہم یہی مناسب سمجھتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ نہ جائیں اور لوگوں کو اس وبا ء میں نہ جھونکیں ۔حضرت عمررضی اللہ عنہ نے مدینہ واپسی کا اعلان کیا تو حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ نے اعتراض کیا کہ آپ تو تقدیر الٰہی سے بھاگ رہے ہیں ۔اتنے میں حضرت عبد الرحمن بن عوف tرضی اللہ عنہ آگئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے اس معاملہ کا شرعی حکم معلوم ہے ۔میں نے رسول اللہﷺفرماتے ہوئے سناکہ
’’جب سنو کسی شہر میں طاعون ہے تو وہاں مت جاؤاور اگر ایسی جگہ طاعون پھیل جائے جہاں تم پہلے سے موجود ہووہاں سے مت بھاگو‘‘۔
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر اللہ تعالیٰ کا شکر اداکیااور واپس آگئے۔(دیکھئے صحیح مسلم ،کتاب السلام،باب الطاعون)
اس حدیث سے مندرجہ ذیل امور پر روشنی ملتی ہے کہ جن لوگوں سے مشورہ لیا جائے ان کے فرق مراتب کا لحاظ رکھا جائے ۔جو لوگ اللہ کے دین کی سربلندی اور اس کی رضاجوئی پیش پیش ہوں،مشورہ کے سب سے زیادہ حقدار وہی لوگ ہیںاور دوسرا یہ کہ مشورہ کے بعد رائے شماری اور اکثریت کے فیصلہ کا کوئی معیار نہیں ہے۔
عراق کی مفتوحہ زمینوں کا معاملہ
جب عراق اور شام کو مسلمانوں نے فتح کرلیا اور ان زمینوں پر قبضہ ہوگیا تو امرائے فوج نے اصرار کیا کہ مفتوحہ مقامات ان کے صلہ ٔ فتح کے طور پر انہیں عطا کی جائیں اور ان کے باشندوں کو ان کی غلامی میں دیا جائے۔لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے یہ تھی کہ ان زمینوں کو ان کے باشندوں کے پاس ہی رہنے دیاجائے اور ان کو آزاد چھوڑ دیا جائے۔
اکابرِ صحابہ رضی اللہ عنہم میں حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ اورحضرت بلال رضی اللہ عنہ اہل فوج کے ہم زبان تھے۔اموالِ غنیمت کے علاوہ زمینوں اور قیدوں کی تقسیم پر بھی مُصر تھے۔حضرت عمررضی اللہ عنہ یہ استدلال پیش کرتے تھے کہ اگر مفتوحہ علاقے فوج میں تقسیم کردیئے جائیں توآئندہ افواج کی تیاری ،بیرونی حملوں کی مدافعت اورامن وامان قائم رکھنے کے لئے مصارف کہاں سے آئیں گے اور اس سے بڑھ کر یہ مصلحت بھی تھی کہ اگر زمین افواج میں تقسیم کردی جائیں تو وہ جہاد کی طرف سے غافل ہوجائیں گے اور بڑی بڑی جاگیریں وجود میں آجائیں گی۔لہذاموالِ غنیمت تو فوج میں تقسیم کردینے چاہئیں اور زمین بیت المال کی ملکیت قراردی جانی چاہیے ۔
چونکہ دونوں طرف دلائل موجود تھے۔لہذاحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ کے لئے مجلس مشاورت طلب کی۔یہ مجلس دس افراد پر مشتمل تھی،پانچ مہاجرین اور پانچ انصار میں سے ۔حضرت عثمان ،حضرت علی اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہم نے حضرت عمررضی اللہ عنہ کی رائے سے اتفاق کیا۔تاہم کوئی فیصلہ نہ ہوسکااور کئی دن تک بحث چلتی رہی۔
حضرت عمررضی اللہ عنہ کو دفعتاً قرآن کریم ی ایک آیت یاد آئی جو بحث طے کرنے کے لئے نصِ قاطع تھی۔اس آیت کے ابتدائی فقرے {وَالَّذِیْنَ جَآءُ وْا مِنْم بَعْدِہِمْ}(الحشر:۱۰)سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے استدلال کیا کہ فتوحات میں آئندہ نسلوں کا بھی حق ہے لیکن اگر اسے فاتحین میں تقسیم کردیا جائے تو آنے والی نسلوں کے لئے کچھ باقی نہ رہے گا ۔چناچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے کے مطابق فیصلہ صادر فرمایا اور تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے بااتفاق ان کی رائے کو درست قرار دیا۔(دیکھئے شرح السنۃ بحوالہ مشکوٰۃ ،باب الفیئ)
مندرجہ بالا حقائق کثرتِ رائے کے معیارِ حق ہونے کے جوکہ جمہوریت کا اصل خاصہ ہے ،ابطال پر دو ٹوک اورقطعی فیصلہ کردیتے ہیں ۔لیکن اس کے باوجود جو جمہوریت کی اس ’’نیلم پری‘‘کے دامِ فریب میں مبتلا ہوکر جمہوریت کو اسلا م کے نظامِ شوریٰ سے جوڑتا رہے تو اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ
{فَلَمَّا زَاغُوْا اَزَاغَ اللّٰہُ قُلُوبَہُمْ وَاللّٰہُ لَا یَہْدِی الْقَوْمَ الْفٰسِقِیْنَ } (الصف:۵)
’’
پس جب انہوں نے ٹیڑھا راستہ اختیار کیا تو اللہ نے اُن کے دلوں کو اور ٹیڑھا کردیا اور اللہ تعالیٰ ہرگز کسی فاسق وفاجر کو ہدایت نہیں دیا کرتا‘‘۔

Post a Comment

جدید تر اس سے پرانی