اسلامی حکومت کیسے قائم ہوگی؟الیکشن کامتبادل کیا ہے ؟

 
یہاں یہ دو باتیں واضح ہوجاناضروری ہے کہ:
١۔ اس وقت کی جمہوری انتخابی سیاست میں جس انداز سے اسلام پسندوں کی شرکت ہوتی ہے اس میں بے شمار شرعی مفاسد لازم آتے ہیں۔ جن کی کچھ نشاندہی پیچھے ہم کر آئے ہیں۔اس کی بنیاد پر ’اسلامی حکومت‘ کے قیام کا لہذا یہ کوئی شرعی طریق کار نہیں۔
انتخابی  جدوجہد میں دینی جماعتوں کی   شرکت ، اسلامی اُصولوں کی قربانی کے مترادف ہے !!

٢۔ پھر دوسری بات یہ کہ اس عمل پر شریعت کی موافقت یا ممانعت اگر ذرا دیر کے لئے زیر بحث نہ بھی لائی جائے تب بھی یہ بات شاید کسی سے اوجھل نہ ہو کہ ’اسلامی حکومت‘ کے ہدف تک پہنچنے کےلئے عملاً بھی یہ طریقہ کار گر نہیں۔ اسلام پسندوں کی پچاس سالہ جدو جہد اور انتھک و بے مثال محنت جو اس راستے میں کی گئی یہ بات واضح کردینے کے لئے بہت کافی ہے کہ اس راستے میں اور کچھ بھی ہو اسلامی حکومت قائم ہوجانے کی اس سے امید رکھنا ایک سراب سے زیادہ نہیں۔ درست ہے کہ بظاہر یہ راستہ بند بھی نہیں ہوتا ۔ 




بہت کم ملکوں میں اسلام پسندوں کو سیدھا صاف جواب دیا گیا کہ بھائی آپ اسلام قائم کرنے کا تجربہ کرنے کےلئے پارلیمنٹ میں نہیں آسکتے ،زیادہ ملکوں میں توپارلیمنٹ کے دروازے ہم پر کھلے ہی رکھے گئے بلکہ خوش آمدید و مرحبا کی صدائیں بھی آتی اور ہمارا حوصلہ بڑھاتی رہیں۔ ہم اس راستے پر چلتے بھی رہے۔ کبھی رکنے کا نام بھی نہیں لیا۔ الیکشن کم ہونے کا ہمارا گلہ بھی باقی نہ رہنے دیا گیا۔ اسمبلیاں ٹوٹنے اور بار بار الیکشن کرانے کے تجربات یہاں دل کھول کر کئے گئے۔ ہم نے ہر طرح کی پارٹی سے اتحاد کا تجربہ کیا۔ ہر سیاسی قوت کے ساتھ راہ و رسم بنانے کی کوشش کی تاکہ کسی نہ کسی کے ساتھ مل کر اکثریت حاصل کرنے کی مشکل شرط پوری کرلی جائے اور اسکے نتیجے میں اسلام آجائے۔ بسا اوقات ہمار ا قائم کیا ہوا انتخابی اتحاد رنگ بھی لے آیا اور ہماری ہم خیال جماعتوں کے اتحاد کواکثریت بھی مل گئی مگر اسلام ہے جو اس راستے سے آنا تھا اور نہ آیا۔ ہر بار ہمارے ساتھ’کچھ‘ ہوجاتا رہا ۔ ہم سے کئے گئے وعدے پورے نہ ہوئے اور ہر ظالم ہمیں وقت پر دھوکہ دے جاتا رہا۔ ہم اپنی منزل سے اب بھی اتنا ہی دور ہیں جنتا آج سے پہلے تھے۔ ایک لحاظ سے ہمیں اپنے مقاصد اب قریب لگنے لگے ہیں تو کسی دوسرے لحاظ سے ہم اپنے ہدف سے اب بھی دور ہیں اور اتنا بھی ہوش نہیں رکھتے جتنا ساٹھ اور ستر کی دہائی میں ہم محسوس کررہے تھے۔

’سراب‘ کی خوبی یہی ہے کہ یہ ہر دم قریب ہوتی نظر آتی ہے۔ یہ بات بہر حال واضح ہے کہ یہ راستہ ہم پر اگر بند نہیں تو یہ ہمارے لیے بھول بھلیاں ضرور ہے۔ ’بھول بھلیاں‘ شاید اس راستے سے کہیں خطرناک ہوں جو سیدھا سیدھا ’بند ‘ ہو ۔اس میں آپ چلتے ضرور ہیں مگر پہنچتے کہیں نہیں۔
اگر یہ دوباتیں واضح ہوجاتی ہیں یعنی یہ کہ(١) شرعاً یہ راستہ درست نہیں اور (٢) عملاً یہ ممکن نہیں تو پھر اس راستے کوبدلنے کی دعوت دی جانے پر یہ اعتراض بہرحال نہیں ہونا چاہیے کہ’ پھر آخر اسلامی حکومت کےسے قائم ہوگی؟‘
اسلامی حکومت قائم ہوتی ہے یا نہیں اور اگر ہوتی ہے تو کب قائم ہوتی ہے، سب کچھ اللہ کے علم میں ہے مگر کسی مثبت سمت کو آگے بڑھنے کے لئے یہ طے ہے کہ اس ہدف تک پہنچنے کے لئے راستہ بہرحال کوئی اور ہے۔ راستہ بدلنا نہ صرف شریعت کا تقاضا ہے بلکہ، جیسا ہم نے ا بھی واضح کیا ، عملاً بھی اس کے سوا چارہ نہیں۔
رہ گیا یہ سوال کہ پھر متبادل کیا ہو؟ تو یہ بھی گوایک طویل موضوع ہے ۔ جسکی وضاحت کے لئے زیادہ وقت درکارہے ،مگر یہاں یہ کہہ دینا پھر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے نزدیک ’متبادل‘ کی بحث شروع کرنے سے پہلے ’اہداف‘ کا تعین اور وضاحت ضروری ہے۔ہوسکتا ہے ’اسلامی حکومت ‘ کو آپ اپنی تحریک کاسب سے بڑا ہدف سمجھتے ہوں اور ہم ’اسلامی حکومت‘ کو راستے کے دوران کی ایک منزل سمجھتے ہوں۔’درمیان کی ایک منزل‘ قافلے کا کلی موضوع کبھی نہیں بنتی۔ یہ منزل کب آتی ہے اور کب آ کر گزر جاتی ہے ،یہ بھی ہمارا ایک مسئلہ تو ہے مگر بنیاد ی اور اساسی مسئلہ نہیں۔
انبیائے کرام نے ’اسلامی حکومت‘ کے قیام کی دعوت نہیں دی۔ ’ریاست‘ کا مسئلہ اپنی دعوت کا کلی موضوع نہیں بنایا سیاسی انقلا ب کو اپنی تحریک کا اصل مطمع نظر نہیں ٹھہرایا ۔ کوئی مسئلہ اٹھایا تو وہ اللہ کی بندگی کا مسئلہ تھا۔ کوئی موضوع کھڑا کیا تو وہ اللہ کی پہچا ن اور اس کے حقوق کو جاننا تھا۔ معاشرے میں کسی تنازعے کو ہوا دی تو وہ غیر اللہ کی بندگی اور حاکمیت تھی۔
کتنی آیات ایسی ہیں جن میں اہل ایمان کو ’اسلامی حکومت‘ کا جلد از جلد قیام عمل میں لانے کی تاکید کی جاتی ہے؟ کتنی احادیث ایسی ہیں جن سے واضح ہو کہ مکی زندگی میں رسول اللہ کا منشور ’تبدیلی حکومت‘ تھا؟
مگرجب ایسا نہیں تو کیا اس سے یہ مطلب لیا جائے کہ اسلام کو حکومت اور ریاست سے کوئی سروکار نہیں؟ کوئی آپ کوآ کراور اصرار کرکے حکومت دے جائے تو بادل نخواستہ ’ہدیہ‘ قبول فرمایا جائے ورنہ حد درجہ بے نیازی اور کمال استغناء سے کام لیا جائے اور کار ریاست کو ایک نگاہ غلط انداز سے زیادہ کسی التفات کے لائق نہ سمجھا جائے !؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ محض کوئی طنز نہیں بلکہ دین کی یہ بھی ایک تعبیر ہے اور زہدو دینداری کی یہ بھی ایک تشریح ہے۔ ایک طرف اگر وہ انتہا ہے جس میں ’دین‘ کے عنوان سے صبح شام حکومت اور سیاست کی بحث ہے اور انبیاء کی بعثت کااصل الاصول ’حکومت الہیہ کا قیام‘ اورسب آسمانی کتابوں کا لب لباب ’اسلامی انقلاب‘ ہے تو دوسری طرف دین کی یہ انتہا پسندانہ تعبیر بھی کچھ کم معروف نہیں کہ اسلام صرف اور صرف ’بندے کے خدا سے تعلق‘ کا نام ہے بس یہ نفس کی اصلاح سے بحث کرتا ہے اور ذکر و فکر سے غرض رکھتا ہے۔ رہا کاروبار دنیا ،معاشرتی فساد، طاغوتوں کی سرکشی، خالق سے بغاوت، انسانوں کا استبداد اور استحصال ، تو ان باتوں سے اسلام کو کیا کام!
آپ رسولوں کی بعثت پر نظر ڈال لیجئے ، آسمانی کتابوں کے جلی موضوعات کا استقصا کر لیجئے ،رسول اللہ کی دعوت اور سیرت کا بغورمطالعہ کر لیجئے اور قرآن کی تفسیر دیکھ لیجئے شاید آپ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہ رہیں گے کہ ’حکومت‘ اور ’انقلاب‘ انبیاءاور آسمانی کتب کا بنیا دی موضوع نہیں۔ مگر معاً آپ اس نتیجہ پر پہنچے بغیر بھی شاید نہ رہیں کہ انبیاءکرام نے پہلے دن سے معاشرتی فساد، طاغوتوں کی سرکشی،خالق سے بغاوت اور دنیا میں جاری انسانوں کے استبداد اور استحصال سے کوئی ایسا صرف نظر بھی نہیں کیا جیسا ہمارے بعض روحانیت پسند طبقے تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ انسانو ں کی قیادت بدکاروں سے لے کر نیکوکاروں کے ہاتھ میں دینا کبھی ایسا مقصد نہیں رہا جسے انبیاءاور آسمانی کتب نے کلیتاً اپنے عدم التفات کے لائق سمجھا ہو یا جس پر کسی کوشش کی ضرورت نہ سمجھی ہو۔
چنانچہ ’اسلامی حکومت کا قیام‘ اسلام کی ایک ضرورت بھی ہے مگر یہ دین کا اساسی ہدف اور اسلام کا کلی موضوع بھی نہیں۔ نہ یہ کوئی غیر اہم اور بے وقعت چیز ہے اور نہ یہ اسلام کا علی الاطلاق اعلی ترین اور اہم ترین نصب العین۔ نہ یہ ایسی چیز ہے جو اسلامی تحریک کی توجہ کے سرے سے قابل نہ ہو اور نہ وہ چیز جسے ہم تحریک کی تمام تر جدو جہد کےلئے نقطہ ارتکاز کہیں۔
قرآنی تکرار اور تاکید ہمیشہ سے مفسرین کی توجہ کا مرکزرہا ہے قرآنی تکرار اور تاکید کی آپ اپنے ذہن میں جو کوئی فہرست بنا پائے ہوں اس فہرست میں دیکھئے ’اسلامی حکومت‘ ترتیب کے اعتبار سے کس نمبر پر آتی ہے۔ اس مسئلے کو اپنی تحریک میں بھی بس وہی نمبر دے دیجئے ، نہ کم نہ زیادہ۔ خو دبخود آپ کی تحریک کا نبوی منہج ہوجائیگا۔ تب آپ اسلام کے کسی کام پر اتنی ہی توجہ دیں گے اور اس پر اتنی ہی محنت کریں گے جتنی قرآن آپ کو تاکید کر ے گا۔
ہمارا خیال ہے کہ اہداف کا تعین اور فرائض کی درجہ بندی وہ پہلا زینہ ہے جو معاشرے میں ایک متوازن تحریکی عمل برپا کرنے کےلئے طے کرنا ضروری ہے۔ اور جہاں تک ’متبادل‘ کے سوال کاتعلق ہے تو ہمارا خیال ہے اس کاجواب ایک متوازن تحریکی عمل برپا کرنے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہئے کہ یہ ’نبوی منہج تحریک ‘ اختیار کرنے میں پوشیدہ ہے جس کا ہم نے اوپر حوالہ دیا ہے۔

قرآن کی روشنی میں تحریکی اہداف کا ازسر نو تعین اور اجتماعی فرائض کی صحیح اور دقیق درجہ بندی وہ چیز ہے جو اس ’متوازن تحریکی عمل‘ کے برپا کرنے کےلئے کل کام تو نہیں مگر اس منزل پر پہنچنے کےلئے پہلا زینہ ضرور ہے۔ آخری زینے تک پہنچنے کےلئے پہلا زینہ چڑھنا نا گزیر ہے۔ اس کے بغیر آپ کو چھلانگ لگانا پڑے گی۔ اگر ہماری اس بات کا بر ا نہ منایا جائے تو ہم یہ عرض کرنا چاہیں گے کہ پچھلی پوری صدی میں ’اسلامی ریاست‘ تک پہنچنے کی متعدد کوششیں اپنی محنت اور اخلاص کے باوجود ایک ’طبعی اٹھان‘ کی بہ نسبت ’چھلانگ‘ کے زیادہ قرین قیاس رہی ہیں۔
تحریکی اہداف اور اجتماعی فرائض کے واضح اور ازسر نو تعین کے بعد دوسرا بڑا چیلنج ان اہداف اور فرائض کی بنیاد پر معاشرے کی تربیت ہے۔ معاشرے پر اگر کام نہیں کیا جاتا اور ایک طویل محنت معاشرے کی ذہنی ، فکری اور اخلاقی حالت تبدیل کرنے پر نہیں کی جاتی اور اس کے نتیجے میں معاشرے کی سماجی اور سیاسی جہت تبدیل کرنے کی خود معاشرے میں ہی ایک بے چینی اور تڑپ پیدا نہیں کردی جاتی تو سیاسی میدان میں کسی کامیابی سے آپ کوئی خاص امید نہیں رکھ سکتے۔ حتی کہ ایسی حالت میں اگر حکومت کی تبدیلی عمل میں آبھی جائے ، جوکہ فی الحال ہمیں خیال اور محال نظر آتا ہے ، تب بھی معاشرے میں کسی بڑی سطح پر اسلام کے سماجی مقاصد کا حصول ناممکنات میں رہتا ہے۔
معاشرے کی فکری جہت تبدیل کئے بغیر ’تبدیلی حکومت‘ کو اپنا سب سے بڑا ہدف بنانا اور پھر اسے ہر حال میں پانے کےلئے انتخابات کا فوری ’متبادل ‘ دریافت کرنا کچھ خاص فائدہ مند نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس سوال کا براہ راست جواب دینے کی کوشش کرنا اور’تبدیلی حکومت‘ کے فوری نسخے ڈھونڈنا یا ان کی عملی تفصیلات میں جانا ہمارے خیال میں اس اصل موضوع سے غیر متعلق ہے۔ ہماری ناقص رائے میں سوال اس طرح سامنے رکھا جائے تو کہیں فائدہ مند ہوگا کہ’ اس وقت ہمارے کرنے کا کام کیا ہے؟‘
معاشرہ تبدیل کئے بغیر کسی اسلامی تحریک کو اگر حکومت چلانے کاچیلنج ملتا ہے تو اگرچہ ہم یہ نہیں کہتے کہ اسے یہ چیلنج فوری طور پر مسترد ہی کردینا چاہیے پھر بھی یہ ضرور ہے کہ یہ چیلنج قبول کرلینے سے پہلے اسے کئی بار سو چنا ہوگا ۔ خاص طور پر اس بات کے پس منظر میں کہ یہودی پروٹوکول کا یہ باقاعدہ حصہ ہے کہ اسلامی قوتوں کو سیاسی اور عسکری میدان میں ایسے چیلنج دیئے جائیں جن کےلئے وہ ابھی پوری طرح تیار نہ ہو پائی ہوں۔ یو ں انہیں قبل از وقت بڑے بڑے سیاسی اور فوجی منصوبوں میں الجھا کر پہلے ان کی توانائیوں کا خاتمہ کیا جائے اور پھر ان کو ’ناکام‘ ثابت کرکے میدان سے باہر کردیا جائے اور وقفے وقفے سے نئی جماعتوں اور تحریکوں کوان میدانوں میں ہمت آزمانے ا ور توانائی صرف کرنے کا موقعہ دیا جائے۔ بہر حال ہر ملک میں مسلم امیدوں کا پھل پوری محنت ہوئے بغیر اور پوری طرح پکے بغیر ہی تڑوا دینا عالمی یہودیت کی ایک ماکرانہ چال ہے۔
چنانچہ معاشرے پر محنت سے پہلے اقتدار کا چیلنج قبول کرنا کوئی آسان کام نہیں۔ اگر یہ چیلنج کہیں مل ہی جائے تب تو صورت حال کابغور تجزیہ کرکے آگے بڑھنا ضرور ایک مجبوری ہوسکتی ہے اور اگر ایک محتاط جائزے کی روشنی میں یہ ظاہر ہو کہ پورا اترنا ممکن نہیں تو اس سے ابتداءہی میں انکارکردینا تب بھی ایک کہیں باعزت اورمحفوظ راستہ ہوگا ۔تاہم خو د کوشش کرکے کسی مجبوری کواپنے سر لینا، جبکہ دشمن دیکھ چکے ہوں کہ انتخابی سیاست کے ہر قدم پر ہم کس طرح اپنے اصولوں کی قربانی کرلینے پر آمادہ ہوجاتے رہے ہیں، کہا ں تک حکمت کا تقاضا ہے؟
یہ خیال کہ اقتدار حاصل ہوجانے کے بعد سب مسائل آپ سے آپ حل ہوجائیں گے اور اصولوں کی قربانی دینے کی حاجت بھی جو بس اس سے پہلے پہلے درپیش تھی اب باقی نہ رہے گی، ایک بڑی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تحریکوں کےلئے ابھی جتنی بھی مجبوریاں ہوں اصل تو اقتدار ملنے کے بعد پیش آتی ہیں۔تب آپ کومحسوس ہوگا کہ اس سے پہلے تو کچھ مسائل ہی نہ تھے۔ تب آپ اس حقیقت کا ادراک کریں گے کہ ’اصولوں کی قربانی‘ کا وقت تو معاذ اللہ آیا ہی اب ہے۔ اس مرحلے میں اصولوں کی بھینٹ دینے سے صرف وہی تحریک بچے گی جو اس سے پہلے اصولوں کی قربانی کو ہر حال میں اپنے لیے خارج ازامکان جانتی رہی ہو۔ لا عاصم من امر اللہ الا من رحم۔
معاشرے کی تربیت عمل میں لائے اور معاشرتی رجحانات کو تبدیل کئے بغیر اقتدار سے فائدہ اٹھانا کس قدر مشکل ہے؟ اسلام نافذ کرنا تو خیر ایک بڑاکا م ہے برسر اقتدار آ کر مسلمان رہنا بھی کس قدر مشکل کام ہے؟ اس با ت کا اندازہ بخاری میں مذکور اس واقعہ سے کیجئے ۔
قیصر روم ہرقل رسول اللہ کا نامہ مبارک پڑھنے اور آپ کے ایلچی کے چہرے پر ایمان کے اثرات دیکھ لینے کے بعد اور پھر آپ کے بدترین دشمن (ابو سفیان) سے تحقیق کرلینے کے بعد پہچان چکا تھا کہ آپ اللہ کے رسول ہیں اور دل سے اس بات کےلئے تیار تھا کہ آپ پر ایمان لے آئے۔ اللہ کے رسول سے اس قدر گرویدگی اس کے دل میں موجزن ہوچکی تھی کہ ابوسفیان ایسے دشمن اسلام سے بھی وہ یوں گویا ہوا کہ اگر وہ آپ کی صحبت کا شرف پالے تو وہ آپ کے پیر دھو دھو کر پئے۔ مگر دیکھئے یہ اقتدار کتنی بڑی مجبوری ہے۔ بخاری کی روایت کے مطابق اس نے یہ حیلہ اختیار کیا کہ اپنے ایوان کے سب دروازے بند کروادیئے اور عمائدین روم سے کہا:اے اہل روم کیا تمہیں فلاح اور سعادت کی طلب ہے؟تم اگر چاہتے ہو کہ تمہاری سلطنت ہمیشہ کےلئے باقی رہے تو اس نبی کے ہاتھ میں اپنے ہاتھ دے دو۔ یہ سنتے ہی عمائدین سلطنت پاؤں سرپر رکھ کر بھاگے ۔ گویا اب وہ قیصر کی شکل بھی نہ دیکھیں گے ۔ مگرحسب پروگرام ایوان کے دروازے پہلے سے بند تھے۔ قیصر نے فوراً پینتر ا بدلا اور گویا ہوا۔ یہ تو میں تمہاری اپنے دین پر ثابت قدمی دیکھنے کےلئے کہہ رہا تھا۔ یہ ایک جملہ سننے کی دیر تھی کہ عمائدین سلطنت قیصر کے رو برو سجد ہ کرنے لگے!
کیسا ہوگا یہ سجدہ جسے کروانے کو قیصر روم دل سے نہ چاہتا تھا!؟ ایوان اقتدار ایک غیر معمولی آزمائش گاہ ہے جہا ں ایک اوروں کو’ سجدہ‘ کرنے کی مجبوری ہی لاحق نہیں ہوتی ’قاعدے‘ کی رو سے خود کو بھی ’سجدہ‘ ہو تو کم از کم بھی چپ رہنا پڑتا ہے!
چنانچہ اقتدار کا ملنا اگر واقعات کی ایک خاص ترتیب سے ہو تو تبھی اس سے کسی اعلی مقصد کا حصول ممکن ہوتا ہے۔ ورنہ اقتدار بذات خود اگر کوئی سلیمانی انگوٹھی ہوتا تو عمائدین روم کا یہ سجدہ قیصر اپنے بجائے اللہ تعالی کو کروالیتا!
نجاشی کی مثال قیصر سے مختلف ہے مگر اس میں بھی ہمارے لئے کچھ دروس ہیں۔ نجاشی کا قبول اسلام مکہ کے کمزور مسلمانوں کے پناہ لینے کے کا م تو ضرور آیا ، بلکہ یو ں کہئے کہ مسلمان اس کے عدل وانصاف اور رحمد لی کا سن کر اس کے ملک میں پناہ تو اس کے قبول اسلام سے پہلے ہی لے چکے تھے مگر پھر اس کااسلام قبول کرلینا وہاں امن اور چین سے رہنے کےلئے مسلمانوں کے اور بھی کام آیا اور خود اسے بھی آگ کی پکڑ سے بچنے کےلئے فائدہ دے گیا۔ مگر رسول اللہ کا نجاشی کے قبول اسلام کے واقعہ کو یہ رنگ دینا کہ چلیں اس تحریک کو دنیا میں اب کہیں تو اقتدار ملا اور تحریک کی زندگی میں چلیں کوئی تو منزل سر ہوئی رسول اللہ کا اس واقعہ سے یہ تاثر قائم کرلینا کہاں تک سیرت کی کتابوں میں ملتا ہے ، ہم سب کے علم میں ہے۔ حتی کہ آپ کی زندگی میں یہ سوال تک نہ اٹھا کہ جہاں اس تحریک کے کسی فرد کو اقتدار حاصل ہے، مکہ کی اذیت ناکی سے جان چھڑا کر آپ وہیں نقل مکانی کرجائیں اوروہا ں حاصل ہونے والے اس اقتدار کے ثمرات کو سمیٹ کر اسلام کی حکومت مضبوط کریں۔ اس کے برعکس معاشرے کی تعلیم اور تربیت کا جو کام آپ عرب میں شروع کرچکے تھے بدستور آپ نے اسی طرح کام کو جاری رکھا۔ قریش کو چھوڑ کر بھی جس طر ف گئے پورے قبیلے کو اسلام کی دعوت دی اور پورے قبیلے ہی کے سامنے اسلام کی بنیاد پر اپنی زندگی تبدیل کرلینے کا مطالبہ رکھا۔
جہاں تک خود نجاشی کا معاملہ تھا تو اس کے خاص شخصی اوصاف ، اس کی خاندانی وجاہت اور قوم میں اس کےلئے پائی جانے والی قبائلی عصبیت کی بنا پر اور سب سے بڑھ کرنبی کی دعا اور اللہ کے خاص فضل سے اس کے اسلام قبول کرلینے کے باوجود اس کا اقتدار تو باقی رہا مگر چونکہ حبشہ میں کلیسا بہت مضبوط تھا اس لیے نجاشی کا اقتدار اہل حبشہ میں اسلام پھیلانے کےلئے بھی کچھ خاص کام نہ آیا۔ یہا ں تک کہ جب وہ فوت ہوا اسکی نماز جنازہ بھی رسول اللہ نے مدینہ میں ادا کی، حبشہ میں اس کا جنازہ ادا کرنے کےلئے حبشی مسلمانوں کی کوئی جماعت تک نہ پائی گئی۔
چنانچہ اقتدار پاس ہونے کا یہ مطلب نہیں کہ آپ لازماً ملک میں اسلام ہی لے آئیں گے۔ معاشرے کی تربیت اور تیاری اس کا بنیادی پایہ ہے۔ اس کے بغیر اقتدار کسی بیساکھی سے بڑ ھ کر کام نہیں دیتا۔ یہ ایک شرعی حقیقت بھی ہے اور ایک عمرانی طریقہ بھی۔
لہذا حصول اقتدار کے لئے انتخابی سیاست کا متبادل تو آپ تب پوچھیں اگر اقتدار ہی ہر مرض کا یقینی علاج ہو۔ تب توضرور ہم کوئی ایسا نسخہ تلاش کر نے کےلئے دوڑ دھوپ کریں جو مختصر ترین وقت میں یہ مقصد پورا کرادے۔ لیکن ایک حقیقی تبدیلی کی جانب راستہ اگر معاشرے کی تربیت سے ہو کر جاتا ہے تو پھر مرحلہ اقتدار تک پہنچنے کےلئے انتخابی سیاست کا متبادل ابھی دریافت کرنے اور اس متبادل کی تفصیلات میں محنت اور وقت صرف کرنے کی کیا ضرورت ہے؟

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours