انتخابی  جدوجہد میں دینی جماعتوں کی   شرکت ، اسلامی اُصولوں کی قربانی کے مترادف ہے !!

انتخابات میں شرکت فرمانے والے ہمارے بھائیوں کاکہنا ہے کہ ان کی اس انتخابی جدوجہد کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ ملک میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آجائے ۔ چونکہ رائج نظام کو بدلنے کے لئے بیلٹ بکس کا راستہ اپنانا ہی آج کل آسان اور موثر ترین جانا جاتا ہے اور پر امن راستوں میں یہی اس وقت معروف ترین ہے اس لیے اسلامی نظام کوملک میں قائم کرنے کے لئے اسی راستے کو مناسب ترین سمجھا گیا ہے۔
مگر اس سلسلے میں دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنے دین کے جن اصولوں کواس انتخابی جد وجہد کے ذریعے قائم کرنا چاہتے ہیں ہمارے وہ اصول آیا انتخابی سیاست کے قواعد و ضوابط سے متعارض تو نہیں؟ انتخابی سیاست کے تقاضوں اور ہمارے ان اصولوں کے درمیان کو ئی تعارض پایا جاتا ہے تو پھر انتخابی سیاست کے تقاضوں کوپورا کرنے کے لئے لازماً ہمیں اپنے اصولوں کو توڑنا یا نظرانداز کرنا پڑے گا۔

اب ظاہر ہے کہ جیت ہار کے یہ قانون ، جو مغرب سے آئے ہیں اور جمہوریت کے میدان میں اٹل مانے جاتے ہیں، یہ ہمارے دین سے براہ راست متصادم ہیں۔ ہمارے اصول یہ کہتے ہیں کہ کس جماعت کا منشور ملک میں لاگو ہونا چاہیے اور کس کا مسترد، اس بات کا فیصلہ لوگوں کے ووٹ یا ایوان میں نشستوں کی تعداد نہیں کرے گی بلکہ اس بات کا فیصلہ صرف اور صرف اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی سنت کرے گی۔ اور اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت سے فیصلہ لینے والے بھی عوام یا نمائندگان عوام نہیں بلکہ وہ اہل علم ہیں جو اللہ اور رسول کی منشاجاننے کی علمی استعداد رکھتے ہیں۔ 

اسلامی اصولوں کی حکمرانی بلا شبہ ہمارا نصب العین ہے ۔ مگر یہاں معاملہ یہ ہے کہ ہمارے یہ اصول انتخابات کے ان ضابطوں اور جیت ہارکے ان قوانین ہی سے متصادم ہیں جن کی راہ سے ہم اپنے ان اصولوں کی حکمرانی قائم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ جان لینے کے بعد بھی اگر ہم انتخابات کے ان قاعدوں ضابطوں کو قبول کرتے ہوئے انتخابی عمل میں شرکت ہیں تو اپنے اصولوں کو آپ ہی تو ڑتے ہیں اور اگر اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں تو اور ان پر کوئی مفاہمت کرنے کو تیار نہیں تو اس کھیل میں حصہ نہیں لے سکتے۔ ظاہر ہے کسی کھیل میں آپ اسی وقت حصہ لے سکتے ہیں جب آپ میں اور کھیل کے باقی سب کھلاڑیوں میں کھیل کے کچھ اصولوں پر پیشگی اتفاق ہو۔ اب یہاں آپ کو جو دقت درپیش ہے وہ یہ کہ دوسروں کے تو کوئی خاص اصول نہیں اس لیے وہ ہرکھیل میں حصہ لے سکتے ہیں مگر آپ کے پہلے سے کچھ اپنے اصول ہیں ،جو آپ اپنے دین سے لیتے ہیں۔ یہ اصول اس کھیل کے اصولوں سے صاف صاف متصادم ہیں جو آپ کھیلنے جار ہے ہیں۔ آپ اپنے اصولوں پر قائم رہتے ہیں تو کھیل میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ سب کھلاڑی ان پراتفاق نہیں کرتے اور اگر آپ کھیل کے ان اصولوں اور ضابطوں کو تسلیم کرلیتے ہیں جن کے مطابق سب کھلاڑی کھیلنے پر متفق ہیں اور جو کہ کھیل کے ’منتظمین ‘جاری کرتے ہیں ، تو آپ کے اپنے اصول جاتے ہیں۔ اب اگر آپ اس کے باوجود’ منتظمین‘ کی شروط پر کھیلنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں تو حقیقت پسندی کا تقاضا یہی ہے کہ کھلے دل سے تسلیم کرلیا جائے کہ آپ اپنے اصولوں سے کلی یا جزوی طور پر دستبردار ہوچکے ہیں۔ 

ہوسکتا ہے کہ آپ یہ کہیں کہ انتخابی سیاست کے یہ سب قواعدو ضوابط اورجیت ہار کے یہ مغربی پیمانے آپ بظاہر قبول کرتے ہیں مگر دل سے نہیں مانتے۔ ہم بھی آپ سے یہی حسن ظن رکھیں گے کہ آپ ان کو دل سے تسلیم نہیں کرتے۔ مگر سیاست کے ان باطل ضابطوں اور ہار جیت کے ان جاہلی پیمانوں کو اگر آپ بظاہر بھی قبول کرلیتے ہیں ، جبکہ ان کاآپ کے شرعی اصولوں سے تصادم ایک واقعہ ہے، تو اس کا یہ مطلب تو بہرحال لیا جائے گا کہ ایسا کرکے آپ اپنے اصولوں کو چلیں دل سے نہیں تو بظاہر توڑ چکے ہیں!

اگر ہمارا مقصد اسلام کا بول بالا کرنا ہے اور اپنے اصولوں کی حکمرانی قائم کرنا ہے تو اس بات کی ابتدا انتخابی قوانین اور جیت ہار کے ان پیمانوں کو مسترد کرینے سے ہی کیوں نہیں کرد ی جاتی؟ شریعت کا نفاذ پہلے اسی مسئلے میں کیوں نہیں کر لیا جاتا؟ اصولوں کی جنگ میں اگر ہم اسی پہلے مرحلے میں شکست کھا جاتے ہیں تو باقی مرحلوں میں کیا کیا مفاہمت نہ کریں گے! اصولوں کی حکمرانی کا قیام کیا اصولوں کی قربانی کے راستے عمل میں آئے گا؟ جس چیز کو آپ قائم کرنے جارہے ہیں اس پر تو آپ نے پہلے قدم پر مفاہمت کرلی!

حقیقت یہ ہے کہ ’اصول‘ اور ’نعرے‘ میں بڑا فرق ہے۔ ایک ہی چیز اور ایک ہی عبارت کسی کے لئے ’اصول‘ کی حیثیت رکھتی ہے اور کسی کے لئے نعرے کی۔ اصول اس لیے ہوتے ہیں کہ ان پر شروع سے لے کر آخر تک چلا جائے اور اگر وہ ٹوٹ جائیں مگر زبان پر بدستور رہیں تو وہ اصول نہیں رہتے بلکہ صرف نعرے کہلاتے ہیں۔

اصولوں کی قربانی ایک سیڑھی کی طرح ہے ۔ آپ اصولوں کاایک زینہ اترتے ہیں تو نیچے کئی اور زینے آپ کے منتظر ہوتے ہیں۔ بطور مثال بعض دینی جماعتیں جو کل یہ منشور لے کر میدان میں اتری تھیں کہ انتخاب کے راستے سے وہ دولت اسلامیہ کاقیام عمل میں لائیں گی اور یہ نعرہ بڑی دیر تک عوام کے دلوں کو گرماتا رہا، ان میں سے کئی جماعتیں پیچھے ہٹتے ہٹتے اب یہاں آپہنچی ہیں کہ انتخابات میں شرکت کے ذریعے اسلامی حکومت قائم نہیں ہوتی تو چلیں نظام کی جو درستی ہوسکتی ہے اتنی تو کر لی جائے۔ دلیل کے طو ر پر یہ آیت بھی پیش کی جاتی ہے ان ارید ا لا الا صلاح مااستطعت ۔ مگر شعیب علیہ السلام نے مقدروبھر ا صلاح کی یہ بات ظاہر ہے کسی ایسے راستے کی بابت نہیں کی تھی جو ان سے اصولوں کی قربانی کا تقاضا کرتا ہو۔

اصولوں سے دستبرداری کا معاملہ رفتہ رفتہ کچھ دین دار طبقوں کو تو بہت ہی پیچھے لے جا چکا ہے اور اب وہ تقریباً ان سب جاہلی اصطلاحات اور ان سب باطل اصولوں ا ور ضابطوں کا یوں بے دریغ حوالہ دیتے اور صبح شام مطالبہ کرتے ہیں کہ اس سے نہ صرف ان کی ادنی نا پسندیدگی تک کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ اس سے انکے ’جمہوری شریعت‘ اور ’پارلیمانی سپرٹ‘ پر ایمان کی غمازی ہوتی ہے۔ ملکی قانون کی اس وفادارانہ انداز سے پاسداری ہوتی ہے جتنی اللہ کی شریعت کی بھی شاید نہ ہوتی ہو۔ ایک صاحب اپنی سیاسی جدو جہد کے بیان میں لکھتے ہیں کہ انہیں سگریٹ کی شدید عادت تھی مگر جیل کے اندر کئی ماہ ،سگریٹ دستیاب ہونے کے باوجود، انہوں نے سگریٹ کو ہاتھ تک نہیں لگایا۔ جس کی وجہ شاید جیل کے ضابطوں کا پاس تھا۔ کئی ماہ صبر کرنے کے بعد پہلا سگریٹ ان کے بقول انہوں نے اس وقت لگایا جب وہ قید سے نکل کر سپر نٹنڈنٹ کے کمرے میں پہنچ چکے تھے!

شریعت کے اصولوں سے پیچھے ہٹتے چلے جانا اور وہ بھی لوگوں کی ’اہوا و خواہشات‘ اور جاہلیت کے تقاضوں پر، اللہ کی نصرت کھو دینے اور اللہ کی دوستی سے محروم ہوجانے کا سبب بنتا ہے اور پھر سب تدبیریں الٹی پڑنے لگتی ہیں،
وَإِن كَادُواْ لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ لِتفْتَرِيَ عَلَيْنَا غَيْرَهُ وَإِذًا لاَّتَّخَذُوكَ خَلِيلاً وَلَوْلاَ أَن ثَبَّتْنَاكَ لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلاً إِذاً لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًا ( الاسراء٧٣۔٧٥)
”اے نبی! ان لوگو ں نے اس کوشش میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں فتنے میں الجھا کر اس راستے سے پھیر دیں جس کی ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے تاکہ تم ہمارے نا م پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑ لاؤ۔ اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست اور منظور نظر بنا لیتے۔ اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں ثابت قدم نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جھک جاتے۔ لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دوہر ے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی۔ پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مدد گار نہ پاتے“

چنانچہ آیت پر غور کیجئے کفار بھی یہاں نبی سے اپنا دین بالکلیہ چھوڑ دینے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ کیونکہ جانتے ہیں ایسا کبھی ہونے والا نہیں۔ چنانچہ وہ آپ کے لئے کام کوذرا ’آسان ‘ کردینا چاہتے ہیں۔ صرف اتناچاہتے ہیں کہ آپ اپنے بعض اصولوں سے تھوڑا سا دستبردار ہوجائیں! (لَيَفْتِنُونَكَ عَنِ الَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ) مگر اللہ کویہ بھی اپنے نبی کے لئے کیسے منظور ہوسکتا ہے۔

اس آیت سے یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ یہ کام کرکے یعنی اپنے دین کے بعض اصولوں سے ذرا پیچھے ہٹ کر اور اصولوں پر اپنی ضد ذرا نرم کرکے غیر اسلامی قوتوں کا منظور نظر ہوا جاسکتا ہے(وَإِذًا لاَّتَّخَذُوكَ خَلِيلاً )۔ انسان سمجھتا ہے کہ یہ کام کرکے وہ ان سب غیر اسلامی قوتوں کو اپنی صف میں لا کھڑا کرنے کی پوزیشن میں ہوسکتا ہے ۔ تحریکی زندگی میں یہ عین وہ لمحہ ہوتا ہے جہاں شیطان کے حربہ تزئین سے بچنے کے لئے ثابت قدمی کی دعا ضروری ہوجاتی ہے۔ ( وَلَوْلاَ أَن ثَبَّتْنَاكَ) ورنہ اگر جاہلی قوتوں کی جانب تھوڑا سا بھی میلان ہونے لگے (لَقَدْ كِدتَّ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئًا قَلِيلاً ) تو اللہ کی نصرت کا دامن چھوٹ جانے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ جس کے بعد آدمی کی دنیا اندھیر ہوجاتی ہے(إِذاً لَّأَذَقْنَاكَ ضِعْفَ الْحَيَاةِ وَضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لاَ تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًاً)

بسا اوقات انسان کسی چیز میں شریعت کو نظر انداز کردینے کو ’مصلحت‘ کا تقاضا سمجھتا ہے مگر دراصل وہ شیطان کا ایک حربہ ہوتا ہے۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours