دینی جماعتوں‌کے درمیان  مسئلہ جمہوریت پر بنیادی  اختلافات کیا ہیں ؟ا ور مسئلے کاحل کیا ہے ؟؟


از طارق اقبال سوہدروی


میں جب جماعت اسلامی میں تھا تو اکثر اس بات پر ہم ان لوگوں‌کا مذاق اُڑاتے تھے کہ جو جمہوریت کو شرک اور کفر کہتے تھے ۔ یہ  بات میرے خلق سے اُترتی ہی نہ تھی کہ یہ جمہوریت بھلا کیسے کفر اور شرک ہو سکتی ہے ؟؟ پھرا یک اور بات  جو ہمیں  جماعت کے پروگراموں  میں بتائی جاتی تھی کہ جمہوریت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ، جو اس کے علاوہ کسی اور راستے کی بات کرتے ہیں ، وہ  ڈنڈے کے زور پر اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں   یعنی وہ  فتنہ و فسا د پھیلانا چاہتے ہیں ۔۔ چناچہ ہم  اکثر مضحکانہ طرز پر خلافت والوں سے پوچھتے تھے کہ بھائی اگر یہ راستہ صحیح نہیں  تو تم بتاو ، کوئی دوسرا راستہ؟؟ ہمیں‌پورا   لائحہ عمل بتاو ؟؟ جب وہ کچھ بتانے کی کوشش کرتا تو ہم اس کے دلائل کو رد کرتے ہوئے کہہ دیتے کہ تم تو ڈنڈے کے زور پر اسلام لانا چاہتے ہو !!(دلچسپ بات یہ ہے کہ اب انہی سوالوں اور طرز گفتگو  کا سامنا مجھے کرنا پڑتا ہے )

 مگر حیرت کی بات ہے کہ کبھی اس بارے  میں مطالعہ کرنے اور دوسروں کامؤقف جاننے کی کوشش نہ کی کہ آخر کوئی ایسا کہتاہے تو کیونکر کہتا ہے ۔ بحرحال الحمد للہ چند سال پیشر اللہ تعالی‌ٰ‌نے اس بات کی توفیق دی  ، مطالعہ کیا  تو اصل بات سمجھ میں‌آئی کہ دینی جماعتوں کے درمیان اصل اختلاف  کیا ہے ؟؟ میں اس اختلاف کو انتہائی مختصر طور پر ان دوستوں کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ جو واقعتا اس  مسئلے کو سمجھنے میں‌سنجیدہ ہیں ۔ دیکھیے مجھے کسی فرد یا جماعت سے کوئی ذاتی رنجش یاگلہ نہیں‌ہے ، جماعت اسلامی کا ساتھ بھی اس وقت کا دیتا رہا جب تک اس کی دعوت کو درست سمجھتا رہا ، پہلے بھی صرف اللہ کی رضا مقصود تھی تو اب بھی صرف اور صرف یہی مقصود ہے ۔ اللہ تعالیٰ‌ہماری نیتوں اور ارادوں کو جانتا ہے اور یوم قیامت اسی نے ہی ہماری نیتوں اور کوششوں کے مطابق ہی اجر دینا ہے ۔۔ا ن شاء اللہ
ایک عام مسلمان خلافت و جمہوریت میں فرق کو زیادہ نہیں‌ جانتا ۔ ان کے لیے اختصار کے ساتھ چند بنیادی نکات پیش کرتا ہوں‌ کہ جن کو پڑھکر کوئی بھی جان سکے گا کہ ان دونوں‌ میں‌اختلاف کی اصل نوعیت کیا ہے ۔پھر میں اُن  نکات کا ذکر کروں گا کہ جو بنیادی اختلافات کا باعث ہیں اور جن کے باعث ہی جمہوریت  کو کُفر اور شرک کہا جاتا ہے ۔
اول ِ۔خلیفہ کے چناؤ میں‌ عام پبلک حصہ نہیں‌ لیتی بلکہ ملک کے بااثر لوگ یعنی علماء ، اپنے اپنے علاقوں کے قائدین ، قبائلی سردار، معاشرے کے بااثر افراد وغیرہ وغیرہ حصہ لیتے ہیں (بااثر افراد کون ہوں‌اور ان میں‌کیا صفات ہوں‌، ان پر قرآن وسنت سے رہنمائی لے کر فیصلہ کیا جا سکتا ہے اگر نیت اور ارادے درست ہوں‌) اور جب وہ خلیفہ کا انتخاب کر لیتے ہیں تو عام پبلک صرف بیعت کرتی ہے۔ جبکہ جمہوریت میں ان پڑھ ،جاہل، ڈاکو ، چور اور نیک لوگ سب شریک ہوتے ہیں‌ اور سب کا ووٹ‌برابر ہے ۔
دوم ۔خلافت میں ملک کا قانون خود بخود قرآن وسنت قرار پاتا ہے ، اللہ کے قانون کو لاگو ہونے کے لیے اسمبلی کی دو تہائی اکثریت کی ضرورت نہیں‌ ہوتی اور نہ ہی وہ اسمبلی کے اراکان کے پاس کرنے کا محتاج ہوتا ہے ، مثلا اسلام میں سود حرام ہے ۔ اب اس کو لاگو کرنے کرنے کے لیے اگر اسمبلی کا محتاج کر دیا جائے گا تو یہ اللہ کے فیصلے کی توہین ہے اور اسی کو شرک کہتے ہیں‌۔ جبکہ آج عملی طور پر ہماری جمہوریت میں یہی چیز ہو رہی ہے ۔
سوم ۔ خلافت میں اکثریت کی رائے کو ہر وقت قبول نہیں‌ کیا جاتا اور نہ ہی اسے اُصول بنایا جاتا ہے بلکہ کسی فیصلے کی بنیاد دلیل پر ہوتی ہے ۔ جبکہ جمہوریت میں‌ اول و اخر اکثریت کو ہی فیصلہ کن مانا جاتا ہے۔
چہارم ۔ جمہوریت میں انسان کو قانون بنانے کی اجازت ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد کس حد تک ہو اس کا فیصلہ بھی اسمبلی کے ممبران کرتے ہیں‌ جبکہ خلافت میں انسان کوئی قانون نہیں بنا سکتا کیونکہ قانون بنانا اللہ کا کام ہے جو قرآن وسنت کی شکل میں‌ ہمارے سامنے موجود ہے ۔ ہاں اس کے نفاذ کے لیے عملی قدامات تجویز کرنا یہ اہل شورٰ‌ی کی مدد سے کیا جاتا ہے اور اللہ کا قانون سب پر یکساں نافذ ہوتا ہے ۔
پنجم۔ اسلام میں جو ایک دفعہ خلیفہ بن جائے منتخب ہو یا غیر منتخب اس کا ہٹانا جائز نہیں‘ الا یہ کہ وہ کفر کا ارتکاب کرے۔ایک خلیفہ کی وفات کے بعد ہی دوسرا خلیفہ بن سکتا ہے۔یا جب تک کسی خلیفہ کو مجلس شوریٰ  کی حمایت حاصل رہے ۔جمہوریت میں تین یا پانچ سال بعد انتخابات ضروری ہیں۔ منتخب شدہ صدر یا وزیر اعظم کیسا ہی اچھا اور کامیاب کیوں نہ ہو الیکشن ضروری ہیں، اس طرح‌ اگر کوئی جماعت اسلام نافذ‌بھی کردیتی ہے تو اگلے 5 سال کے لیے کوئی سیکولر پارٹی بھی حکومت بنا سکتی ہے ۔
ششم۔ جمہوریت میں مذہب سے آزادی ہے‘ ہر کوئی جو چاہے مذہب رکھے۔ کوئی پابندی نہیں‘ جس طرح چاہے مذہب بدلے‘ کوئی رکاوٹ نہیں‘ کوئی سزا نہیں۔ اس لیے جمہوریت میں لوگ پارٹیاں بدلتے رہتے ہیں۔باطل کو مٹانا اسلا م کا فرض ہے اور یہی جہاد ہے‘ جو قیامت تک فرض ہے ‘جمہوریت میں باطل سے جہاد کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جمہوریت جہاد کو ختم کرتی ہے۔
ہفتم ۔ اسلام میں عورت حاکم نہیں ہو سکتی ‘ سربراہ مملکت ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔جمہوریت میں عورت بھی سربراہ مملکت ہو سکتی ہے‘ کوئی پابندی نہیں۔
ہشتم۔ اسلام میں طاقت کا سرچشمہ اﷲ ہے۔جمہورت میں طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔
نہم۔ اسلام میں نہ حز ب اقتدار کا تصور ہے ‘نہ حزب اختلاف کا۔ اسلام پارٹیوں کے سخت خلاف ہے۔ خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کی تو قطعاً اجازت نہیں۔جمہوریت پارٹیاں بنانا سکھاتی ہے اور پارٹیوں کے بل بوتے پر چلتی ہے۔ پارٹیوں کے بغیر جمہوریت چل ہی نہیں سکتی۔ حزب اقتدا ر اور حزب اختلا ف کا ہونا لازمی ہے۔
دہم۔ جمہوریت سرمایہ دارانہ نظام ہے ۔ الیکشن میں‌حصہ لینے والی جماعت کو اربو‌ں‌روپے خرچ کرنا پڑتے ہیں‌ اور جو جتنا زیادہ پیسہ لگاتا ہے ،کامیاب ہوتا ہے ، غریب ، ایماندار اور شریف بندے کی اس میں کوئی قدر نہیں ۔ جبکہ خلافت میں ان سب دھندوں‌کی کوئی ضرورت نہیں‌ہے ۔
جمہوریت کو کُفر اور شرک کیوں‌کہا جاتا ہے ؟
·        تو گزارش ہے کہ  پہلا سب سے بڑا اختلاف ، اللہ کی حاکمیت کا ہے ۔۔ یوں تو مغربی جمہوریت کو سبھی دینی جماعتیں  کفر سمجھتی ہیں‌مگر جب سے ہماری اسمبلی میں‌ قرارد داد مقاصد کو پاس کیا گیا ہے تو دینی جماعتیں تقسیم ہو گئی ہیں ۔ اکثریت سمجھتی ہے کہ اب ہماری جمہوریت اسلامی ہو چکی ہے ۔ جبکہ دوسری دینی جماعتوں کا مؤقف ہے ۔۔ کہ قرار داد مقاصد میں اللہ کی حاکمیت کا ذکر تو ہے مگر اس کو آخری اتھارٹی تسلیم نہیں‌کیا گیا اور اللہ کے قانون کو نافذ کرنے کے لیے بھی  اسمبلی اور سینٹ‌کے دو تہائی ارکان کی اکثریت کا محتاج رکھا گیا ہے ۔۔ اور یہی بات  شرک  ہے اور شر ک ، کفر ہے ۔ اللہ کا قانون فوری طور پر اور سب پر نافذ العمل ہو نا چاہیے ۔کسی کی اجازت یا پاس کرنے کی قید نہیں ہونی چاہیے ۔
·        دوسرا سب سے بڑا اختلاف  یہ ہے کہ جمہوریت میں انسان کو قانون بنانے کی اجازت ہوتی ہے اور اس پر عمل درآمد کس حد تک ہو اس کا فیصلہ بھی اسمبلی کے ممبران کرتے ہیں‌ جبکہ خلافت میں انسان کوئی قانون نہیں بنا سکتا کیونکہ قانون بنانا اللہ کا کام ہے جو قرآن وسنت کی شکل میں‌ ہمارے سامنے موجود ہے ۔ ہاں اس کے نفاذ کے لیے عملی قدامات تجویز کرنا یہ اہل شورٰ‌ی کی مدد سے کیا جاتا ہے اور اللہ کا قانون سب پر یکساں نافذ ہوتا ہے ۔

 

 
دوسری طرف جمہوری دینی  جماعتیں  کہتی ہیں   کہ جب ہم دو تہائی اکثریت لے کر اسمبلی میں آئیں گیں‌تو ان نکات  کو ختم کر دیا جائے گا  جبکہ غیر جمہوری دینی جماعتیں  کہتی‌ہیں‌ کہ اول تو موجود نظام و قوانین کے تحت آپ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو ہی نہیں‌سکتیں ۔۔ دوئم اگر کسی طرح آپ دو تہائی اکثریت سے کامیاب ہو بھی جاتی ہیں تو آپ ارکان کے اس حق کو ختم نہیں کر سکتیں ۔۔ کیونکہ یہ اصل جمہوری  آئینی ڈھانچے کے ہی خلاف ہے   اور یہ آپ کے  آئین  میں‌ فرد کے بنیادی حقوق کے مخالف ہونے کی وجہ سے عدالت   بھی آپ کی ترمیم کو غیر آئینی قرار دے دی گی ۔ اور آپ کچھ بھی نہ کر سکیں گے ۔
چناچہ دینی جماعتوں کے درمیان اصل اور بنیادی اختلاف"اللہ کی حاکمیت " کا  ہی  ہے ۔ اور غیر جمہوری دینی جماعتوں کا مؤقف یہی ہے کہ چونکہ ہم مسلمان ہیں‌اس لیے ہمیں حکومت بنانے کے لیے بھی خلافت راشدہ کے طریقہ  کار سے ہی راہنمائی لینی چاہیے ۔ اور اس کی عملی تعبیر میں‌اگر کچھ اختلاف  پایا بھی جاتا ہے تو باہم مل کر اس کو حل کیا جا سکتا ہے ۔میرے نزدیک اس کا آسان حل یہی  ہے  جو سعودی عرب کے شیخ صالح  بن فوزان نے  فرمایا ہے   ۔ ان سے جب سوال ہوا  کہ ( مفہوم)کیا ایسے انتخابات میں شمولیت اور ووٹ دیا جاسکتا ہے جو (مغربی) جمہوریت پر مشتمل ہوں اور جس پر انسانی قوانین لاگو ہوں؟
آپ حفظہ اللہ نے فرمایا، (مفہوم)یہ طریقہ اور عمل مسلمانوں کا نہیں، مسلمانوں کا طریقہ تو یہ ہے کہ اہل علم علماء اس شخص کو منتخب کریں جو حاکم بننے کا اہل ہو اور اس طرح وہ حاکم بنے. اور پھر لوگ(عام عوام) علماء کے فیصلے کا ساتھ دیں جو اہل علم اور قاضیوں نے کیا ہو، اور (عوام) اتباع کریں (یعنی اس حاکم کی بیعت کر لیں) یہ ضروری نہیں کہ ہر کسی کا ووٹ ہو، یہ تو غربی (مغرب کا) طریقہ ہے، اسلام کا نہیں۔
خلافت کس طرح قائم ہو سکتی ہے ؟؟
چناچہ تما م دینی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ الیکشن کے طریقے کو چھوڑیں  کیونکہ عام پبلک کو ووٹ دینے میں شریک کر نا درست نہیں ہے  ، یہ اکثریت اور اقلیت کے چکر کو چھوڑیں‌۔ یہ طریقہ اسلامی نہیں ہے اور نہ ہی اس سے بہتر لوگ منتخب  کئے جا سکتے ہیں ۔ دینی جماعتیں خود اللہ کی رضا کے لیے جمع ہوں او ر اپنے میں سے ایک بہترین  آدمی کو بطور خلیفہ منتخب  کریں‌اور پھر خلیفہ  اہل حل عقد کی مدد سے تما م صوبہ جات کے گورنر وغیرہ تعینات کرے ۔یقینا یہ بات اتنی آسان نہیں‌،جس طر ح میں نے لکھ دیا ہے ، گو کہ حقیقت یہی ہے کہ جب   ایک مسلک کے لوگ باہم متفق نہیں ہیں، وہ گروہ  درگروہ میں تقسیم ہیں تو ان کو متحد کرنا  کس قدر مشکل ہوگا ۔مگرمیرا کہنا ہے کہ انتہائی مشکل تو گا مگر ناممکن نہیں‌۔ یا درکھیے ۔ اگر 1950 میں ہر مسلک کے بڑے31  علماء اکھٹے ہو کر 22 نکات پر متحد ہو سکتے ہیں تو آج کیوں نہیں ؟؟ ضرورت صرف اس امر کی ہےکہ  خلوص نیت  اور اللہ کی رضا کے لیے اس کام کےکرنے کا بیڑا  اُٹھایاجائے ۔

اب  ایک آخری مسئلہ رہ جاتا ہے اور یہی خلافت کے  قیام کے لیے سب سے اہم مرحلہ  ہے کہ دینی جماعتوں کے اس سیٹ‌اپ کو کیا حکومت وقت ، عدالت ، اور 
 فو ج تسلیم کرے گی ؟؟

اب اس آخری  مسئلے سے  نبٹنے کے لیے میر ے خیال میں تمام دینی جماعتیں اپنے سیٹ اپ کا اعلان کرنے سے قبل ایک امیر کے تحت رہتے ہوئے عوام الناس کو اپنا ہم خیال بنانے کے لیے پُرامن تحریک چلائیں اور اپنے اس سیٹ اپ کو عملی شکل دینے کا  اعلان اس وقت تک مؤخر رکھیں‌جب تک وہ عوام الناس  کی غالب اکثریت کو جمہوریت کے نقائص  اور اسلام کے ساتھ  تضادات پر قائل نہ  کرلیں ۔ چاہے ا س کے لیے کئی سال اور دہائیاں کیوں نہ لگ جائیں ۔ دینی جماعتوں کو صرف اور صرف اپنا وقت اور دولت  عوام الناس کی تربیت اور ان کےلیے  فلاحی منصوبوں پرلگانا چاہیے  ۔ اس عرصہ کے دوران ، انتخابات سے خود بھی دور رہیں  اور عوام الناس کو بھی یہی  تلقین کریں  ۔اور اگر حکومت کوئی خلاف اسلام قانون بنانے کی کوشش کرے تو  اس کے لیے اسٹریٹ  پاور کوپُر امن طور پر  استعمال کریں ۔ مزید جب  نیتیں اور ارادے  درست  ہوں اور اللہ کی رضا ہی  مطلوب ہو تو پھر اللہ اپنا فضل بھی کرتا ہے اور باطل پر رعب و دبدبہ بھی ڈال دیتا ہے اور راستہ بھی سُجھا دیتا ہے اورپھر اپنا وعدہ  بھی پورا کرتا ہے  کہ اگر تم واقعی مومن  ہو گے تو اللہ تمیں‌ اپنا خلیفہ فی الارض بنا دے گا ۔

جب یہ یقین ہو جائے کہ لوگوں‌کی ایک معقول تعداد اب انقلا ب کے لیے تیار ہے تو دانشمندی سے حکومت وقت سے بات کی جائے  اور انہیں قائل کرنے کی کوشش کی جائے ، ویسے بھی جب  لوگوں‌کی اکثریت ووٹ‌نہ ڈالے گی تو اس  سے بھی حکومت  پر دباؤ ہو گا  کہ انہی کے اُصول کے مطابق لوگوں  کی اکثریت  جمہوریت سے بے زارہو چکی ہے اور اب وہ خلافت قائم کر نا چاہتی ہے ، اگر حکومت نہ مانے تو پرا من طور پر   پورے ملک میں دھرنا دیا جائے ، سول نافرمانی کی تحریک بھی  چلائی جا سکتی ہے ، باقی جب تحریک چلتی ہے تو مزید  مراحل پھر وقت کے مطابق  اخیتار کیے جاتے ہیں ۔ ہم نے کوئی بریانی کی ڈش تیار نہیں‌کرنی کہ جس کی تیاری کے تمام مراحل ہم نمبر وار تحریر  کردیں‌۔ایسا تو جمہوریت والے بھی نہیں‌ کرسکتے  کہ وہ جمہوری طریقے سے اسلام کے نفاذ کو مرحلہ وار بیان کر دیں ۔   باقی یہ میری ذاتی سوچ ہے ، قابل قدر علماء اس سے بہتر بھی بتا سکتے ہیں ۔ اس لیے اگر اس میں کوئی کمی کوتاہی ہے  جو کہ یقینا ہوگی تو اس کو مجھ سے منسوب سمجھا جائے ، کسی جماعت  یا تحریک سے نہیں ۔
اگر ہم کسی وجہ سے کامیاب نہیں‌بھی ہوتے تو  پھر بھی ہمارا کام درست سمت میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ اقدس کے مطابق کوشش کرنا ہی ہے ، حکومت کا حصول ہی ہماری کامیابی کا معیار نہیں ہے ۔ اگر دنیا میں ہم کامیاب نہیں بھی ہوتے تو نہ ہوں‌، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کامیابی ہماری کس نسل کی قسمت میں‌لکھی گئی ہے ،تاہم غیر اسلامی طریقے اختیار کر کے حکومت کا حصول ، اللہ تعالی کے ہاں‌مقبول نہ ہو گا  اور نہ ہی اللہ کو مطلوب ہے ۔

اب اس تمام وضاحت کے بعد بھی جمہوری دینی جماعتیں اپنے انہی سوالوں‌پر بضد رہیں تو ان کی مرضی ۔۔ ہدایت دینا تو اللہ کا کام ہے ۔ میں‌اور میرے ہم خیال دوستوں کا کام تو صرف کوشش کرنا ہے ۔ اللہ تعالیٰ‌سے دعا ہے کہ وہ میری ان معمولی کوششوں کو قبول فرمائے اور اگر میں نے وہی لکھا ہے جو اللہ کے ہاں‌درست ہےتو میری تحریر کو  باقی بھائیوں‌اور دوستوں‌کے لیے بھی نافع بنا دے ۔۔ آمین ۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours