کیاجمہوری نظام میں دینی جماعتوں کا حصہ لینا اس لیے ضروری ہے کہ یہ حالت اضطرار ہے ؟
محمد فیض الابرار
قرآن مجید میں ایک آدمی کو جان بچانے کی غرض سے مردار یا سور کا گوشت اس حد تک کھالینے کی، جس سے اس کی جان بچ جائے، اجازت ہے اس چیز کو اضطرار کہتے ہیں۔
ہمارے اسلام پسند بھائی انتخابی سیاست میں حصہ لینے کو اسلام کا سیاسی تقاضا سمجھتے ہیں ایک ہی وقت میں متعدد بلکہ متعارض دلائل سے استدلال کرتے ہیں۔ حالیہ جمہوری سیاست کو کبھی شورائیت کی ایک اعلیٰ صورت قرار دیا جاتا ہے اور کبھی کم تر برائی کا نام! ظاہر ہے اگر یہ اسلامی شورائیت کی ایک عملی صورت ہے تو اسے کم تر برائی یا سرے سے کوئی برائی فرض کرنے کا کیاسوال؟ پھر کبھی اسے مصلحت مرسلہ کہا جاتا ہے۔ یہاں بھی وہی پیچیدگی ہے۔ اگر یہ مصلحت ہے اور وہ بھی فقہی اصطلاح کے لحاظ سے مصلحت مرسلہ ہے تو پھر یہ برائی کیسے ہوئی ؟اور اگر یہ برائی ہے تو مصلحت کیونکر ہوگی؟ پھرآپ دیکھتے ہیں کہ معاً یہ اسلامی شورائیت یا مصلحت مرسلہ سے تبدیل ہو کرکبھی اضطرار کادرجہ پالیتی ہے۔ اضطرار ظاہر ہے مردار کاگوشت بامر مجبوری ، اور وہ بھی صرف جان بچانے کی حدتک، کھانے جیسی اذیت ناک حالت کانام ہے۔ اب کہاں اسلامی شورائیت کاخوبصورت فریضہ اور کہاں اضطرار ایسی ناگوار اور تکلیف دہ حالت! ایک ہی چیز کو بیک وقت یہ دونوں حیثیتیں کیونکر حاصل ہوسکتی ہیں؟


اب جہاں تک ’اضطرار‘ کی دلیل کا تعلق ہے اور جو کہ جان بچانے ایسی مجبوری کا نام ہے تو ظاہر ہے اس کے ہوتے ہوئے ایک حرا م چیز صرف اس حد تک جائز ہوجاتی ہے جس حد تک انسان کی جان بچ سکے۔
مگر سوال یہ ہے کہ دلیل برائے دلیل کے طور پر اگر اضطرار کی بات کی جاتی ہے تب تو اس پر سنجیدہ ہو کر گفتگو کرنے کی خیر ضرور ت ہی نہیں لیکن اگر کوئی اضطرار کی یہ دلیل دینے میں واقعی سنجیدہ ہے تو پھر کتنے ہیں جواس کوچہ سیاست میں اتنی ہی مجبوری اور ناگواری کے احساس کے تحت ناک پر ہاتھ دھر کر قدم رکھتے ہیں جتنی مجبوری اور ناگواری سے کوئی مردار کی سڑاند سہنے پر تیار ہوا کرتا ہے؟ کیا اضطرار کے مفہوم سے ہم پوری طرح آگاہ بھی ہیں؟
پھر دعوت اور تحریک کے معاملے میں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ یہاں کلمہ کفر کہنا یا کسی اسلامی عقیدے اور اصول سے لفظی حد تک اور بہت ہی وقتی طور پر دستبردار ہونا مسئلہ اضطرار میں سر ے سے آتا ہی نہیں بلکہ فقہائے اسلام کے ہاں یہ مسئلہ اکراہ کے باب میں ذکر ہوتا ہے اور یہ مسئلہ رخصت اور عزیمت سے تعلق رکھتا ہے۔
اضطرار کے مسئلہ میں اور رخصت و عزیمت کے مسئلہ میں کیا فرق ہے ؟اگر کسی کواضطرار درپیش ہو تو وہاں مردار یا سور کا گوشت کھانے ایسا کام کرکے جان بچانا فرض ہوجاتا ہے۔ یعنی وہا ں جان بچانا یا جان دے دینا آپ کی مرضی یا آپ کی نیکی پر نہیں چھوڑ دیا جاتا بلکہ ایسی صورت میں اگر آپ پھنس گئے ہوں تو ایک ایسا کام جو اصولاً اور عام حالات میں حرام ہے وقتی طور پر کرکے جان بچانا آپ پر شرعاً لازم ہوگا چاہے آپ جان دے دینے پر تیار بھی ہوں۔
مگر جہاں تک رخصت و عزیمت کا معاملہ ہے تو اگرچہ یہاں بھی بعض رخصتیں اختیار کرنا اور عزیمت کی راہ ترک کرنا شرعاً لازم ہوتا ہے ،مثلاًسفر کی حالت میں نماز دوگانہ رخصت ہے مگر یہ رخصت اپنانا انسان پر لازم ہوتا ہے تاہم جہاں تک دعوتی اورتحریکی راستے میں اکراہ کا معاملہ ہے تو یہاں عزیمت اپنانا نہ صرف انسان کی اپنی مرضی پر منحصر ہے بلکہ بلندی درجات کا سبب بھی ہے۔ اضطرار اور اکراہ میں یہی فرق ہے۔
چنانچہ مردار کھانے سے اگر کہیں آپ کی جان بچ سکتی ہے تو اس حد تک مردارکھا کر اپنی جان بچانا آپ پر لازم ہوگا۔ پینے کی کوئی حلال چیز دستیاب نہیں اور اتفاقاً وہاں پر شراب ہی دستیاب ہے تو غيرباغ ولا عاد ایسی ناگواری کے ساتھ کچھ گھونٹ اس حرام مشروب کے پی کر اپنی جان بچانا آپ پر لازم ہوگا۔ آپ کہیں کہ جان دے دونگا مگر اس غلیظ مشروب کو منہ نہیں لگاؤں گا، اس کی گنجائش نہیں۔ اس حالت میں جان بچانا آپ پر فرض ہے۔
تاہم کفر کے دو لفظ بول کر اگر آپ کی جان بچ سکتی ہے تو یہا ں صورت حال مردار کھانے یا شراب کے چند گھونٹ پی کر جان بچانے سے مختلف ہے۔ یہاں جان بچانا آپ پر فرض نہیں۔ کفر کے دوبول شدید ناگواری سے بول کر جان بچالینا آپ کے لئے جائز ضرور ہے ، اور اس کو فقہی اصطلاح میں ’رخصت‘ کہا جاتا ہے مگر مردار یا شراب کی گذشتہ مثال کی طرح یہاں جان بچانا آپ پر فرض نہیں بلکہ جان دے دینا شہادت ہے۔ چنانچہ ایسی صورت میں عزیمت کی راہ اپنانا رخصت اختیار کرنے سے کہیں اعلی وا رفع عمل ہے۔
چونکہ انتخابی سیاست میں شرکت کی ’مجبوری ‘ ایک دعوتی اور تحریکی نوعیت کی ہے اس لیے اگر اس مجبوری کا اعتبار کر بھی لیا جائے اور یہ فرض کر بھی لیا جائے کہ یہ چھوٹی موٹی نہیں بلکہ ’جان بچانے‘ ایسی نوعیت کی مجبوری ہے تو بھی یہ اضطرار قرار نہیں دیا جائے گا جس میں جان بچانا واجب اور جان دینا ممنوع ہوتا ہے بلکہ زیادہ سے زیادہ اگر ایسی کوئی مجبوری ہے تو وہ ا کراہ کے زمرے میں شمار ہوگا جس میں جان بچانے کی فرضیت نہیں صرف اجازت ہے اورجان دینا شہاد ت کارتبہ پانا ہے۔
پھر دعوتی اورتحریکی عمل میں اکراہ کے مسئلے کی بابت یہ معلوم ہونابھی ضروری ہے کہ رسول اللہ اور صحابہ کرام کے عمل سے یہی چیز واضح ہوتی ہے کہ رخصت کا معاملہ افراد اور خصوصاً ضعیف اور ناتواں افراد سے زیادہ متعلق ہے اور عزیمت کا معاملہ تحریکوں کی مجموعی روش سے۔ عمار بن یاسر کوجان بچانے کےلئے مجبوراً کفر کے کچھ الفاظ زبا ن سے ادا کرنے پڑے انہوں نے انتہائی دکھ اور ناگواری کے ساتھ یہ الفاظ ادا کردیئے آپ نے انہیں اس بات کی رخصت دی۔ مگر کیا رسول اللہ نے اپنی پوری تحریک کےلئے بھی مجموعی طور پر یہی کچھ تجویز کیا؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔
چنانچہ انتخابی سیاست میں شرکت ، آئین سے حلف و فاداری، کفر کے قانون کا اقرار پاسداری، اکثریت کے فیصلوں کا بموجب پارلیمانی قواعد احترام وغیرہ وغیرہ کی صورت میں اصولوں کی قربانی دینے کو ایک پوری تحریک کا سیاسی منہج قرارد ینا بلکہ اس منہج کو ایک مثالی طریق کارکے طور پر سب مسلمانوں کےلئے پیش کرنا اور اس میں سب کو شمولیت کےلئے صدائے عام دینا کہاں تک کسی دیکھنے والے کےلئے یہ تاثر لینے کی گنجائش چھوڑتا ہے کہ ” یہ سب کچھ اکراہ اور ایک ناگوار اور نا پسندیدہ ترین مجبوری کی صورت ہے جس میں عزیمت کاراستہ چھوڑ کر رخصت کی راہ اپنائی گئی ہے ورنہ حق تو یہ تھا کہ عزیمت ہی کا راستہ اپنایا جاتااور ہر نقصان کو برداشت کرتے ہوئے اس راستے سے اجتناب ہی برتا جاتا“!
اگر ہم اس کو اکراہ(مجبوری) کا نام دیتے ہیں تو اس کی دلیل ظاہر ہے ہمیں عمار بن یاسر ایسے واقعات سے ہی ملے گی ۔ پھر جب ہم اس کو اکراہ قرار دے کر لوگوں کو اس کی دعوت دیتے ہیں تو پھر ہمیں نوجوانوں کو یہ بھی تو بتانا چاہیے کہ رخصت کی راہ اپنا کر عمار بن یاسر کس طرح بلکتے ہوئے رسول اللہ کے پاس آئے تھے!ہوسکتا ہے ہم عمار بن یاسر ایسی ایمانی حالت میں نہ ہونے کے باعث اس قدر افسوس اور ندامت اپنے اندر نہ پاسکیں اور ظاہر ہے اس میں ہمیں اپنے اوپر اختیار بھی نہیں، مگر افسوس اور دکھ کی وہ کم سے کم حالت خود پر طاری کرنے کی کوشش تو ہم اس وقت کریں جب ہم انتخابی سیاست اور پارلیمانی جمہوریت کے بعض ’ناگوار مراحل ‘طے کررہے ہوتے ہیں۔ اور چلئے اگر دکھ اور افسوس کی کم ترین حالت بھی نہیں تو اس میدان میں بعض ’کامیابیاں‘ حاصل کرتے وقت کم از کم اس شدید ترین خوشی کے اظہار سے تو اجتناب کریں جو ہم سرعام ظاہر کرتے ہیں!
مگر یہ جب ہے اگر واقعی ہم اس کو شرعی طور پر اضطرار یا اکراہ قراردینے میں سنجیدہ ہو ں اور اضطرار یا اکراہ کے مسئلے کی سنگینی سے پور ی طرح آگاہ ہوں۔
چنانچہ ایک فرد کسی وجہ سے رخصت کی راہ اپنائے تواپنائے کیا ایک پوری تحریک کا منہج بھی عزیمت کو ترک کرکے رخصت کی راہ ا پناناہوجائیگا؟ اور اگر بالفرض ایک پوری تحریک کےلئے بھی رخصت کا راستہ اختیار کرنا درست سمجھ لیا جائے تو بھی لوگوں کو بتایا تو جائے اور خاص طور پر لوگوں کو دعوت دیتے وقت تو ان پر واضح کیا جائے کہ انہیں ایک رخصت کی دعوت دی جارہی ہے نہ کہ ایک عزیمت کی راہ کی!
اور اگر یہ کہا جائے کہ انتخابی سیاست میں شرکت اور پارلیمانی راستے کا انتخاب ہم کوئی رخصت سمجھ کر نہیں کرتے اور نہ ہی ایک رخصت کی راہ پر چلنے کی ہم لوگوں کو دعوت دیتے ہیں تو اس کا یہی مطلب ہوگا کہ انتخابی سیاست میں شرکت کرنا پھر مجبوری بھی قرار نہیں پا سکتا۔ اور ظاہر ہے اگر یہ کوئی مجبوری نہیں بلکہ صحیح اور درست راستہ ہے یا عزیمت کی راہ ہے تو اس کو اکراہ یا اضطرار قرار دینا پھر سرے سے درست نہیں۔
یہ تو ہوا اس مسئلے کاشرعی پہلو۔ رہا مجبوری یا اکراہ یا اضطرار کے حوالے سے اس مسئلے کا واقعاتی پہلو ، تو اس پر بھی آیئے کچھ نظر ڈالتے چلیں۔
اضطرار یا اکراہ کے سلسلے میں یہ ضروری ہے کہ آپ کو درپیش مجبوری حقیقی ہو نہ کہ ایک واہمہ۔ پھر آپ اس مجبوری سے نکل کر آنے کےلئے ایک اصولاً حرام کا م کاارتکاب کرتے ہیں تو اصولاً اس حرام کام کو اس مجبوری سے نکل آنے کاواقعی ذریعہ ہونا چاہیے نہ کہ ایک فریب یا کوئی سراب۔
چنانچہ اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ انتخابی سیاست کے غیر شرعی پہلو جو کہ ہیں تو اصولاً حرام مگر مسلمانوں کے جان و مال کی حفاظت ایسی ناگزیر مجبوری کے پیش نظر اس کام کی شریعت میں اس حد تک اجازت ہے جس حد تک مسلمانوں کے جان و مال کا تحفظ ممکن ہو جائے تو یہ دیکھنا پھر بھی باقی ہے کہ یہ کام کرکے بھی آیا مسلمانوں کے جان و مال اور دیگر مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جاسکتا ہے یا نہیں؟ اور جب یہ ایک واقعاتی حقیقت سے متعلقہ سوال ہے تو اس سوال کو بھی فرضی بحث کی بجائے پچھلے پچاس سالہ تجربے کی روشنی میں دیکھ لینا شایدکہیں بہتر ہو۔
اس سلسلے میں بعض مثالوں کا ذکر مفیدرہے گا
مثال کے طور پر مصرکے صدر انور سادات نے اپنے دور اقتدار کے آخری دنوں میں بیس ہزار سے زائد اسلام پسندوں کو مصر کی جیلوں میں ٹھونس دیا جبکہ اسلام پسند ممبران پارلیمنٹ درجنوں کی تعداد میں موجود تھے اور پارلیمنٹ میں انکا ایک باقاعدہ بلاک تھا۔ مگر یہ سب اسلام پسند ممبران پارلیمنٹ ان میں سے کسی قیدی کی رہائی کےلئے کچھ بھی نہ کرسکے اور اسمبلیوں کی ممبری کسی قیدی کے کسی بھی کام نہ آئی۔
سوڈان میں صدرنمیری نے جب اسلام پسندوں پرہاتھ ڈالنے کافیصلہ کیا اور ان سے جیلیں بھرنی شروع کردیں تو اس وقت کچھ اسلام پسند صدر نمیری کے مشیر تک کی اعلی سطح پر فائز تھے۔ مگر ان میں سے کوئی بھی ان بیچاروں کے کام نہ آیا۔
۹۲ءکی خلیج کی جنگ میں کئی ملکوں کے پارلیمانوں میں اسلام پسندوں کی ایک معتدبہ تعدادکے احتجاج اور چیخ و پکار کے علی الرغم ان مسلم ممالک کی حکومتوں نے امریکی اتحاد میں شامل ہونے اور عراق کے خلاف اپنی فوجیں بھیجنے کا فیصلہ کیا اور اس پر عملدرآمد کرکے دکھایا۔
مسلمانوں پر ہر ملک میں وقتاً فوقتاً ظالموں کے ہاتھوں جو مصیبتیں اور آفتیں پڑتی رہتی ہیں شاید کبھی ایک بار بھی ایسا نہیں ہوا کہ وہاں کے اسلام پسند ممبران پارلیمنٹ اپنی پارلیمانی حیثیت میں ان مظالم یا مصائب کو رو ک دینے میں کامیاب ہوگئے ہوں۔ بلکہ عموماً یہ ہوا کہ ایسے واقعات پر احتجاج کرنے اور اپنی آواز دنیا کے آزاد ذرائع تک موثر طور پر پہنچانے کےلئے بھی جس جگہ کا انتخاب کیا گیا وہ سڑکیں اور عوامی جلسہ و جلوس کے پارک تھے نہ کہ سینٹ واسمبلی کے فلور۔ بہت تھوڑے اور ناقابل ذکر واقعات کو مستثنیٰ کردیں تو آپ دیکھیں گے کہ ہمارے نالہ وفریاد تک سنے جانے کےلئے ایوان ہائے پارلیمان کوئی اچھی جگہ ثابت نہ ہوسکے۔
آپ یہ دیکھ کر حیرت سے دنگ رہ جاتے ہیں کہ عوام الناس ہوں یا اخباری صحافی، سب کی نظر میں ایک اسلام پسند رکن پارلیمنٹ کا ایوان پارلیمنٹ میں تقریر کرنے کی بجائے پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے اکٹھے ہوئے عوام کے احتجاجی مظاہر ہ سے خطاب کرنا کہیں زیادہ وقعت کاحامل واقعہ ہے!
پارلیمنٹ کے باہر کھڑے ہوکر احتجاج کرنے کےلئے آخر رکن پارلیمنٹ ہونا کیا ضروری ہے!؟ اس کے لئے ظاہر ہے صرف ایک اچھا مقرر ہونے کی شرط ہے۔ حدتو یہ ہے کہ اس شرط کو پورا کرنے کےلئے بھی پارلیمنٹ کوئی بہت کامیاب تجربہ نہیں!
یہ پارلیمانی تجربہ اس ’اضطرار‘ کو دور کرنے کےلئے کس حد تک کوئی موثر ذریعہ ہے، اس پرمیرا خیال ہے بہت کچھ کہنے کی اب ضرور ت نہیں۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours