استغفارکی عادت


آپ اسے پڑھنے کے بعد إن شاء اللہ استغفار کے عادی بن جائیں گے.
ایک بار ایک شخص امام حسن بصری کے پاس آیا اور ان سے شکایت کی:
"آسمان ہم پر بارش نہیں برساتا."
انھوں نے جواب دیا:
" اللہ کی بخشش طلب کرو. (یعنی استغفر الله کرو)"
پھر ایک اور شخص ان کے پاس آیا اور کہا،
"میں غربت کی شکایت کرتا ہوں."
انھوں نے جواب دیا:
" اللہ کی بخشش طلب کرو."

پھر ایک اور شخص ان کے پاس آیا اور شکایت کی،
"میری بیوی بانجھ ہے؛ وہ بچے پیدا نہیں کر سکتی.
" انھوں نے جواب دیا:
" اللہ کی بخشش طلب کرو."
جو لوگ موجود تھے انہوں نے امام حسن سے فرمایا:
"ہر بار شخص آپ کے پاس شکایت لے کر آیا، آپ نے صرف اللہ سے بخشش طلب کرنے کی اسے ہدایت کی؟" امام حسن بصری نے کہا،
"کیا تم نے اللہ کا کلام نہیں پڑھا؟

فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا ﴿١٠ يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا ﴿١٢

"آپنے رب سے بخشش طلب کرو. بے شک وہ بڑا بخشنے والا ہے. وہ کثرت سے تم پر بارش برسائے گا. اور تمہیں خوب پے در پے مال و اولاد میں ترقی دے گا؛اور تمہیں باغات عطا فرمائے گا اور تمھارے لیے نہریں نکال دے گا. "  (سورۃ نوح)

وَمَا كَانَ اللَّـهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَأَنتَ فِيهِمْ ۚ وَمَا كَانَ اللَّـهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ﴿٣٣

"اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں." (سورۃ انفال)



Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours