لاجک
 
 ڈاکٹر سید محمداقبال

مولانا نے جمعہ کے دن ایک جوشیلی تقریر کے دوران بہت ساری باتوں کے ساتھ قبلہ کی طرف رخ کر کے پیشاب کرنے کے گناہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اسکی قباحتوں اور آخرت کے عذاب کا تذکرہ انتہائی متاثر کن انداز میں کیا ،
سادہ گل نماز سے فارغ ہو کر گھر کی طرف روانہ ہوا تو وہ اپنے سر کو دائیں ، بائیں حرکت دیتا ہوا ایسے لوگوں کی بد بختی پر اندر ہی اندر کُڑ رہا تھا ، کہ اچانک اس کی نظر گلی کے خالی پلاٹ میں دیوار کی طرف منہ کرکے بیٹھے محلے کے ایک ہندو ، چمن داس پر پڑی ، سادہ گل کو یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ چمن داس قبلے کی طرف منہ کرکے پیشاب کر رہا ہے ، سادہ گل کے کانوں میں تو جیسے مولانا کی آواز ایک بار پھر گونج اُٹھی ، اس نے کمال چابک دستی سے قریب کھڑے درخت سے ایک موٹی ٹہنی توڑی اور نعرہ لگا کر چمن داس کی طرف لپک پڑا .... اوئے چمنو تُو ہمارے قبلے کی طرف منہ کرکے پیشاب کر رہا ہے ..... رُک میں ابھی تیرا علاج کرتا ہوں ......



چمن داس نے جیسے ہی سادہ گل کی للکار سنی ، اس نے پیشاب کا عمل ادھورا چھوڑ کر جلدی میں ناڑا باندھے بغیر ہاتھ میں پکڑا اور اپنی ناک کی سیدھ میں پوری رفتار سے سرپٹ دوڑ لگا دی ......
چمن داس آگے اور سادہ گل اسکے پیچھے ہذیان بکتا ہوا دوڑ رہا تھا ، محلے کی تمام گلیوں کے چکر لگوانے اور بالآخر تھک جانے کے بعد ہی محلے والے سادہ گل کو پکڑنے اور چمن داس کی جان چھڑانے میں کامیاب ہوگئے ،
عرصہ گزر گیا ، یہ بات ذہن کے پردے سے محو ہو کر خواب وخیال بن گئی تھی ، کہ اچانک ایک دن چمن داس راہ گزرتے ہوئے کیا دیکھتا ہے کہ سادہ گل اسی جگہ پیشاب کرنے کی عرض سے بیٹھا ہوا ہے ، اور خاص بات یہ کہ اس کا منہ بھی قبلے کی طرف ہے ، چمن داس اس کی پشت پر پہنچا اور گلہ کنکار کر سادہ گل کو اپنی طرف متوجہ کیا ، سادہ گل نے بیٹھے بیٹھے پیچھے مُڑ کر دیکھا ... سرِ دست تو وہ کچھ نہ سمجھ سکا ، لیکن ایک لمحہ بعد اسے جیسے بجلی کا جھٹکا لگ گیا ہو ، اسے طویل عرصہ پہلے گذرنے والا واقعہ اپنی تمام تر تفصیلات کے ساتھ یاد آگیا تھا ... وہ اچانک اٹھا اور بجلی کی سی تیزی کے ساتھ آزار بند باندھ کر اس طرح کھڑا ہو گیا جیسے کہ چوری کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہو .... اُس نے آہستہ آہستہ اپنی نظریں اُوپر آٹھائیں .. تو چمن داس نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا ........ سادہ گل تمہیں یاد ہوگا کہ کچھ عرصہ قبل تم نے اسی جرم میں مجھے بھگا بھگا کر ہلکان کر دیا تھا لیکن آج خود قبلہ کی طرف منہ کرکے پیشاب کر رہے ہو ...... سادہ گل زمین میں اپنی نظریں گاڑ کر بظاہر ندامت کی تصویر لگ رہا تھا ..... لیکن دراصل وہ شرمندگی کے اس گرداب سے نکلنے کی خاطر اپنے اس عمل کے لئے لاجک کی تلاش میں تھا ......
کچھ ہی دیر بعد اس کے چہرے پر شرمندگی کے تاثرات کی جگہ فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی ....... جیسے اسے اپنے عمل کے جواز کے لئے ناقابلِ تردید دلیل ہاتھ آگئی ہو ، وہ بولا چمن داس سن .....! تم نے اگر ہمارے قبلے کی توہین کی تو اپنا پہلا حشر یاد رکھو ...... اور ہم وہ کرینگے جو ہمارے دل میں آئے ......... کیونکہ یہ ہمارا اپنا قبلہ ہے ، تمہارے باپ کا نہیں ........ چمن داس اس کا منہ تکتا رہ گیا .........!!
___________________________________
آج اگر دنیا میں کہیں کوئی کمبخت غیر مسلم رسول اللہ یا دیگر شعائرِ اسلام کی توہین کر گزرے ، تو ہم سراپا احتجاج بن جاتے ہیں ...... بالکل درست .....لیکن ہم نے کبھی سوچا کہ ہم خود مسلمان ہو کر بھی اللہ اور رسول اللہ کے احکامات کی دھجیاں اُڑا کر کہیں اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کی توہین کا ارتکاب تو نہیں کر رہے ........؟

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours