وزیرآباد کے ڈبل شاہ سے نوازشریف کے لندن فلیٹس تک از جاوید چوہدری

آپ قسمت ملاحظہ کیجیے۔
وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوا‘ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بی ایس سی اور بی ایڈ کیا اور وزیر آباد کے قریب نظام آباد کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں سائنس کا استاد بھرتی ہو گیا‘ غربت زیادہ تھی اور خواب اونچے‘ وہ نوکری سے اکتا گیا‘ چھٹی لی اور 2004ء میں دوبئی چلا گیا‘ وہ چھ ماہ دوبئی رہا‘ وہ چھ ماہ بعد وزیر آباد واپس آ گیا‘ وزیر آباد میں اس نے ایک عجیب کام شروع کیا‘ اس نے ہمسایوں سے رقم مانگی اور یہ رقم پندرہ دن میں دوگنی کر کے واپس کردی‘ ایک ہمسایہ اس کا پہلا گاہک بنا‘ یہ ہمسایہ جاوید ماربل کے نام سے ماربل کا کاروبار کرتا تھا۔

ہمسائے نے رقم دی اور ٹھیک پندرہ دن بعد دوگنی رقم واپس لے لی‘ محلے کے دو لوگ اگلے گاہک بنے‘ یہ بھی پندرہ دنوں میں دوگنی رقم کے مالک ہو گئے‘ یہ دو گاہک اس کے پاس پندرہ گاہک لے آئے اور یہ پندرہ گاہک مہینے میں ڈیڑھ سو گاہک ہو گئے‘ یوں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی لائین لگ گئی‘ لوگ زیورات بیچتے‘ گاڑی‘ دکان‘ مکان اور زمین فروخت کرتے اور رقم اس کے حوالے کر دیتے‘ وہ یہ رقم دوگنی کر کے واپس کر دیتا‘ یہ کاروبار شروع میں صرف نظام آباد تک محدود تھا لیکن پھر یہ وزیر آباد‘ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک پھیل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ معمولی اسکول ماسٹر ارب پتی ہو گیا۔
یہ کاروبار 18 ماہ جاری رہا‘ اس نے ان 18 مہینوں میں 43 ہزار لوگوں سے 7 ارب روپے جمع کر لیے‘ کاروبار پھیل گیا تو اس نے اپنے رشتے داروں کو بھی شامل کر لیا‘ یہ رشتے دار سمبڑیال‘ سیالکوٹ‘ گجرات اور گوجرانوالہ سے رقم جمع کرتے تھے‘ پانچ فیصد اپنے پاس رکھتے تھے اور باقی رقم اسے دے دیتے‘ وہ شروع میں پندرہ دنوں میں رقم ڈبل کرتا تھا‘ یہ مدت بعدازاں ایک مہینہ ہوئی پھر دو مہینے اور آخر میں 70 دن ہو گئی‘ یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن پھر اس کے برے دن شروع ہوگئے‘ وہ خفیہ اداروں کی نظر میں آ گیا‘ تحقیقات شروع ہوئیں تو پتہ چلا وہ ’’پونزی اسکیم‘‘ چلا رہا ہے۔
پونزی مالیاتی فراڈ کی ایک قسم ہوتی ہے جس میں رقم دینے والا گاہکوں کو ان کی اصل رقم سے منافع لوٹاتا رہتا ہے‘ شروع کے گاہکوں کو دوگنی رقم مل جاتی ہے لیکن آخری گاہک سارے سرمائے سے محروم ہو جاتے ہیں‘ مجھے چند برس قبل امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ انٹرویو کرنے والے نے ان سے سوال کیا ’’آپ کو اگر اپنی عملی زندگی دوبارہ شروع کرنی پڑے تو آپ کون سا کاروبار کریں گے ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا ’’میں نیٹ ورکنگ کا کاروبار کروں گا‘‘ میرے لیے یہ کاروبار نیا تھا‘ میں نے تحقیق کی‘ پتہ چلا نیٹ ورکنگ بھی پونزی اسکیم جیسا کاروبار ہے۔
اس کاروبار میں بھی گاہک کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے‘ یہ سرمایہ بعد ازاں میگا پراجیکٹس میں لگا دیا جاتا ہے اور ان میگا پراجیکٹ کا منافع گاہکوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے‘ نیٹ ورکنگ نسبتاً اچھی پونزی ہوتی ہے لیکن دونوں میں شروع کے گاہک فائدے اور آخری نقصان میں رہتے ہیں‘ یہ شخص بھی اپنے گاہکوں کے ساتھ پونزی کر رہا تھا‘ یہ لوگوں کو لالچ دے کر لوٹ رہا تھا‘ خفیہ اداروں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا‘ اس دوران ’’ڈیلی نیشن‘‘ میں اس کے خلاف خبر شایع ہوگئی۔
گوجرانوالہ ڈویژن میں کہرام برپا ہوا اور یہ اپریل 2007ء میں گرفتار ہو گیا‘ جی ہاں آپ کا اندازہ درست ہے یہ شخص سید سبط الحسن عرف ڈبل شاہ تھا‘ وہ ڈبل شاہ جس کا شمارپاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیوں میں ہوتا تھا‘ اس نے صرف ڈیڑھ سال میں تین اضلاع سے سات ارب روپے جمع کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
آپ اب اس شخص کی چالاکی ملاحظہ کیجیے‘ یہ 2007ء میں نیب کے شکنجے میں آ گیا‘ نیب نے اس کی جائیداد‘ زمینیں‘ اکاؤنٹس اور سیف پکڑ لیے‘ یہ رقم تین ارب روپے بنی اور اس نے یہ تین ارب روپے چپ چاپ نیب کے حوالے کر دیے‘ ڈبل شاہ کا کیس چلا‘ اسے یکم جولائی 2012ء کو 14 سال قید کی سزا ہو ئی‘ جیل کا دن 12 گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ ڈبل شاہ کے 14 سال عملاً 7 سال تھے‘ عدالتیں پولیس حراست‘ حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں‘ ڈبل شاہ 13 اپریل 2007ء کو گرفتار ہوا تھا‘ وہ عدالت کے فیصلے تک پانچ سال قید کاٹ چکا تھا۔
یہ پانچ سال بھی اس کی مجموعی سزا سے نفی ہو گئے‘ پیچھے رہ گئے دو سال‘ ڈبل شاہ نے محسوس کیا چار ارب روپے کے عوض دو سال قید مہنگا سودا نہیں چنانچہ اس نے پلی بارگین کے بجائے سزا قبول کر لی‘ جیل میں اچھے چال چلن‘ عید‘ شب برات اور خون دینے کی وجہ سے بھی قیدیوں کو سزا میں چھوٹ مل جاتی ہے‘ ڈبل شاہ کو یہ چھوٹ بھی مل گئی چنانچہ وہ عدالتی فیصلے کے 23ماہ بعد جیل سے رہا ہوگیا۔
ڈبل شاہ 15مئی 2014ء کوکوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوا تو ساتھیوں نے گیٹ پر اس کا استقبال کیا‘ یہ اسے جلوس کی شکل میں وزیر آباد لے آئے‘ وزیر آباد میں ڈبل شاہ کی آمد پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوا‘ پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیئے کو ہار پہنائے گئے‘ اس پر پھولوں کی منوں پتیاں برسائی گئیں اور اسے مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے مبارک باد پیش کی گئی‘ وہ ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوا‘ وہ اسکول ٹیچر تھا‘ وہ معاشرے کا تیسرے درجے کا شہری تھا‘ اس نے فراڈ شروع کیا اور 18 ماہ میں سات ارب روپے کا مالک بن گیا‘ نیب نے اسے گرفتار کر لیا‘ وہ گرفتار ہو گیا۔
نیب ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اس سے چار ارب روپے نہیں نکلوا سکا‘ سزا ہوئی اور وہ بڑے آرام سے سزا بھگت کر باہر آ گیا‘ اس نے قید کے دن بھی جیل کے اسپتال اور سیکنڈ کلاس میں گزارے‘ اسے جیل میں تمام سہولتیں حاصل تھیں چنانچہ وہ جب رہا ہوا تو وہ مکمل طور پر کلیئر تھا‘ اس نے اب کسی کو کچھ ادا کرنا تھا اور نہ ہی پولیس اور نیب اسے تنگ کر سکتی تھی‘ یہ چار ارب روپے اب اس کے تھے‘ یہ ان کا بلا شرکت غیرے مالک تھا اور ایک سابق اسکول ٹیچر کے لیے چارب ارب روپے کی رقم قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی‘ وہ وزیرآباد سے لاہور شفٹ ہوا اور دنیا بھر کی سہولیات کے ساتھ شاندار زندگی گزارنے لگا لیکن اب آپ اللہ کا نظام بھی ملاحظہ کیجیے۔
سید سبط الحسن شاہ عرف ڈبل شاہ کو رہائی کے 16 ماہ بعداکتوبر 2015ء میں لاہور میں ہارٹ اٹیک ہوا‘ یہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا‘ اس کی طبیعت تھوڑی سی بحال ہوئی‘ یہ گھر آیا لیکن پھر یہ 30 اکتوبر 2015ء کو انتقال کر گیا‘ یہ چار ارب روپے کا مالک ہونے کے باوجود دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گیا‘ ڈبل شاہ کی ساری بے نامی جائیداد‘ خفیہ اکاؤنٹس‘ کیش رقم‘ فیکٹریاں اور پلازے دنیا میں رہ گئے اور وہ خالی ہاتھ اگلے جہاں چلا گیا‘ وہ جائیداد‘ وہ رقم‘ وہ پلازے اور وہ خفیہ اکاؤنٹس آج کہاں ہیں؟ دنیا کا مال دنیا کے کتے چاٹ گئے۔
یہ کیا ہے؟ یہ ہماری زندگی‘ ہمارے نہ ختم ہونے والے لالچ اور ہماری لامتناہی حرص کی اصل حقیقت ہے‘ ہم انسان اپنے گرد لالچ کی وسیع دیوار بناتے ہیں‘ ہم مال جمع کرتے ہیں‘ ہم دوسروں کی عمر بھر کی کمائی لوٹتے ہیں اور قارون کی طرح خزانے بناتے ہیں لیکن آخر میں ہم چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور یہ مال دوسروں کے کام آ جاتا ہے‘ نورجہاں کا مقبرہ نشئیوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے اور شاہ جہاں کے تاج محل میں انگریزوں کے گھوڑے باندھے جاتے ہیں۔
ہم انسان ان چیونٹیوں سے بھی بدتر ہیں جو عمر بھر اپنے جثے سے بڑے دانے کھینچتی رہتی ہیں‘ انھیں کھینچ‘ دھکیل کر بلوں تک لاتی ہیں اور جب دانوں کا انبار لگ جاتا ہے تو وہ ان کے سرہانے گر کر مر جاتی ہیں اور پھر ان کی عمر بھر کی جمع پونجی چوہوں کا نوالہ بن جاتی ہے‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگ چونٹیاں ہیں‘ ہم لوگ ڈبل شاہ ہوں یا مشتاق رئیسانی ہوں یا پھر ان کے حکمران ہوں ہم سب چیونٹیاں ہیں‘ سرے محل کس کا تھا اور کیا اس کے مالک کو اس میں رہنا نصیب ہوا؟ آپ المیہ دیکھئے سرے محل سرے میں سڑتا رہا اور اس کا مالک پاکستانی جیلوں میں عبرت ناک زندگی گزارتا رہا۔
سوئس اکاؤنٹس سوئس بینکوں میں ذلیل ہوتے رہے اور ان کی مالکہ گڑھی خدا بخش کی مٹی میں مٹی ہو گئی‘ صاحبزادے نے حج‘ ایفی ڈرین اور ای او بی آئی سے اربوں روپے کما لیے لیکن پھر یہ تین سال تک طالبان کے ساتھ پہاڑوں میں دھکے کھاتا رہا اور خاندان دولت کے سلگتے بستروں پر کروٹیں بدلتا رہا اور اب آخر میں فلیٹس میاں نواز شریف کے لیے تنگ جوتا بنتے جا رہے ہیں‘ آپ دیکھ لیجیے گا یہ فلیٹس بھی دنیا میں رہ جائیں گے اور ان کو بچانے‘ ان کے لیے لڑنے والے رخصت ہو جائیں گے‘ میں اکثر حیران ہوتا ہوں‘ ہم انسان جانتے ہیں ہم خسارے کے سوداگر ہیں لیکن ہم اس کے باوجود خسارے کی فیکٹریاں لگاتے ہیں‘ ہم ان سے مزید خسارا پیدا کرتے ہیں اور ہم عمر بھر خسارا بیچتے اور خریدتے رہتے ہیں‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ ہم انسان آخر ڈبل شاہ کی موت کیوں پسند کرتے ہیں‘ ہم دولت کے انبار میں کیوں دفن ہونا چاہتے ہیں؟ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours