لینن کا مجسمہ اور ہمارے جمہوری سیاستدان

ایک یہودی نے روس چھوڑکراسرئیل میں رہائش اختیار کرنے کی اجازت لی اور روس سے روانہ ہوا۔ ائر پورٹ پر اس کے سامان کی تلاشی لی گئی تو لینن کا ایک مجسمہ بر آمد ہوا۔ انسپکٹر نے پوچھا: یہ کیا ہے؟
یہودی نے کہا: جناب آپ نے غلط سوال کیا ہے! آپ کو کہنا چاہیے تھا یہ کون ہے؟
یہ لینن ہے جس نے اشتراکیت کے ذریعے روسی قوم کی خدمت کی میں ان کا بڑا فین ہوں اس لیے یاد گار کے طور پر ان کا مجسمہ اپنے ساتھ لے جا رہا ہوں۔
روسی انسپکٹر بڑا متاثرا ہوا اور کہا: جاو ٹھیک ہے۔

یہودی روس سے تل ابیب ائر پورٹ پر اترا تو ان کے سامان کی تلاشی لی گئی اور وہ مجسمہ بر آمد ہوا تو انسپکٹر نے پوچھا : یہ کیا ہے؟
یہودی: آپ کا سوال غلط ہے آپ کو کہنا چاہیے تھا کہ یہ کون ہے؟
یہ مجرم لینن ہے یہی وہ پاگل ہے جس کی وجہ سے میں روس چھوڑنے پر مجبور ہوا!
اس کا مجسمہ میں نے یادگار کے طور پر اپنے ساتھ لایا ہے تاکہ صبح و شام اس کو دیکھ کر اس پر لعنت بھیج دوں!
اسرائیلی انسپکٹرمتاثرا ہوا اور کہا: جاو ٹھیک ہے۔
یہودی اپنی کالونی پہنچتا ہے اور اپنے لیے مقررہ گھر میں داخل ہو تا ہے اور مجسمہ نکال کر گھر کے ایک کونے میں سنبھال کر رکھتا ہے۔
خیریت سے اسرئیل پہنچنے پر اس کے رشتہ دار ملنے آتے ہیں اور اس کا ایک بھتیجا بھی آتا ہے جو اس سے پوچھتا ہے: یہ کون ہے؟
یہودی چھوٹے سے کہتا ہے کہ تمہارا سوال غلط یہ کہنا چاہیے تھا کہ یہ کیا ہے؟
یہ دس کلو سونا ہے اس کو بغیر کسٹم کے لانا تھا میں نے اس کا مجسمہ بنوایا اور بغیر کسی ٹیکس اور کسٹم کے لانے میں کامیاب ہوا۔
آج کل کے اکثر جمہوری سیاست دان اسی یہودی کے شاگرد ہیں.

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours