سیکولر، لبرل، قوم پرست دہشت گردی از اوریا مقبول جان


موجودہ دور کے ترقی پسند دانشوروں میں دو تصورات بہت مقبول ہیں۔ ایک سیکولر اور دوسرا لبرل۔ ترقی پسندی بھی عجیب چیز ہے، آج سے صرف پچیس سال قبل ترقی پسندوں میں ایسے دو تصورات بہت مقبول تھے، ایک کمیونزم اور دوسرا مزدور کی آمریت۔ جمہوریت ان کے نزدیک سرمایہ دارانہ تعیش کا دوسرا نام تھا اور لبرل ہونا دراصل معاشرے کو کھلی چھوٹ دے کر سرمایہ دار کو کھل کھیلنے کا موقع دینا تھا۔ ان کی ہدف تنقید لبرل معیشت تھی جسے عرف عام میں Laissez-Faire کہا جاتا ہے یعنی ریاست کاروباری معاملات میں بالکل دخل نہ دے اور سرمائے کے زور پر منڈی کی معیشت کو چلنے دے۔تقریباً دو سو سال دنیا کا ہر بڑا ادیب، شاعر، افسانہ نگار اور دانشور ترقی پسندی کے اس تصور سے متاثر تھا اور جمہوریت، لبرل ازم اور سیکولر ازم کو استحصال کی علامتیں تصور کرتے ہوئے۔

ان سے نفرت کرتا تھا۔ برصغیر پاک و ہند کے کتنے بڑے نام ہیں جو انھی تصورات کے حامل تھے، فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، اخترالایمان، جوش ملیح آبادی، علی سردار جعفری، سبط حسن، علی عباس جلالپوری، احمد ندیم قاسمی، ظہیر کاشمیری، سجاد ظہیر اور اس قبیل کے ہزاروں نام ایسے ہیں جو ہندوستان میں مزدوروں اور کسانوں کے انقلاب کا پرچم لہرانا چاہتے تھے۔ یہ سب کسی جمہوری جدوجہد پر یقین نہیں رکھتے تھے بلکہ جتھہ بندی، خفیہ تنظیم سازی، استحصالی طبقوں سے جنگ اور بالآخر لینن کی سرخ فوج یا ماوزے تنگ کے لانگ مارچ کی طرح اقتدار پر قبضہ کر کے کمیونسٹ نظام کو نافذ کرنا چاہتے تھے۔ اس برصغیر کی پوری ایک صدی ان ادیبوں، شاعروں، افسانہ نگاروں اور دانش وروں نے اس طرز انقلاب اور جدوجہد کے قصیدے تحریر کیے۔ صرف پاک و ہند میں ہی نہیں بلکہ جہاں کہیں کوئی تحریک مزدور کی آمریت نافذ کرنے کے لیے کام کر رہی تھی۔
انھوں نے اس کے حق میں آواز بلند کی۔ ان کی تحریریں اٹھا کر دیکھ لیں آپ کو ان میں کسی مسلمان تشخص والی تحریک یعنی تحریک آزادی کشمیر کا تذکرہ بہت ہی کم ملے گا مگر انگولا، ویت نام اور کیوبا کے شہدا کو سرخ سلام دیا جا رہا ہو گا۔ چہیہ گیویرا اپنے ملک سے نکل کر تین دوسرے ملکوں میں جا کر ہتھیار اٹھا کر وہاں کی ’’سرمایہ دارانہ‘‘ حکومت کے خلاف لڑتا ہے لیکن کوئی اسے درانداز، گھس بیٹھیا یا دہشت گرد نہیں کہتا، کیونکہ کیمونزم کا بھی اپنا ایک دو قومی نظریہ ہے۔ ان کے نزدیک دنیا دو قوموں میں تقسیم ہے ایک سرمایہ دار جسے وہ بوژوا کہتے ہیں اور دوسرے مزدور جسے وہ پرولٹوریٹ کہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز نے جب کمیونسٹ مینی فیسٹو تحریر کیا تو اس کا آخری فقرہ یہ تھا ’’دنیا بھر کے مزدور متحد ہو جاؤ‘‘۔
کمیونزم کے نزدیک رنگ، نسل، زبان، علاقہ اور قومیت کے نعرے دراصل سرمایہ دار نے مزدور کو تقسیم کرنے کے لیے لگائے ہیں تاکہ مزدوروں کو ان میں الجھا کر آپس میں لڑائے اور خود حکومت کرے۔ مزدوروں کی آمریت کا یہ نظام 1917 میں روس میں نافذ ہوا، اور پھر آدھی دنیا کی حکومتوں میں بزور طاقت نافذ کیا گیا۔ اس میں کسی جمہوری جدوجہد کا کوئی دخل نہ تھا۔ جب تک یہ نظام دنیا میں نافذ رہا۔ اسی مزدوروں کی آمریت کے سرخیل ملک سوویت روس سے فیض احمد فیض اور دیگر ادیبوں شاعروں نے ادب کے لینن انعامات وصول کیے اور انھیں سینے پہ سجائے رکھا۔
اس دوران انھیں تاجکستان، ازبکستان اور دیگر مسلمان ریاستوں میں مسلمانوں کا قتل عام یاد نہ آیا۔ انھیں یوکرائن کے وہ پچاس ہزار شہری بھول گئے جو زار روس کے وفا دار تھے اور انھیں شہر سے باہر نکال کر قطار میں کھڑا کر کے گولیوں سے بھون دیا گیا تھا۔ پچاس ہزار انسانوں کی قطار، گولیوں کی تڑاخ پڑاخ اور گرتے ہوئے انسانوں کے لاشے۔ 1930 میں رد انقلاب طاقتوں کے خلاف ایکشن شروع ہوا تو پورے روس سے تین لاکھ پچاس ہزار لوگ گرفتار کیے گئے جن میں سے دو لاکھ سنتالیس ہزار ایک سو ستاون (2,47,157) افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ 1937 میں منگولیا پر قبضہ مستحکم کرنے اور مزدور کی آمریت نافذ کرنے کا دور شروع ہوا تو پنتیس ہزار بدھ بھکشوؤں کو گرفتار کر کے قتل کر دیا گیا۔
چین میں ماؤزے تنگ کی کسان کی آمریت 1949 میں قائم ہوئی۔ اس کو مستحکم کرنے کے لیے 1966 میں رد انقلاب قوتوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا جسے کلچرل انقلاب کہتے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق پندرہ لاکھ لوگ صرف اس لیے مار دیے گئے کہ ان کے نظریات ماؤزے تنگ کی سرخ کتاب میں دیے گئے نظریات سے مختلف تھے۔اس پچاس سالہ قتل و غارت کا ایک نوحہ، ایک مرثیہ بھی آپ کو ان ترقی پسند شعرا فیض ااحمد فیض، ساحر لدھیانوی، جوش ملیح آبادی، علی سردار جعفری، اخترالایمان یا دیگر کے کلام میں نہیں ملے گا۔ ان انسانوں کی موت پر کسی ناول نگار، افسانہ نگار یا کہانی کار نے کوئی کہانی تک تحریر نہ کی۔ اس لیے کہ جو کوئی ان کے نظریات کے مخالف ہوتا ہے وہ انسان کی نہیں، جانور کی موت مرتا ہے۔ جانور بھی وہ جسے تفنن طبع یا کھیل کود کے لیے شکار کیا جاتا ہے۔ ان عظیم ترقی پسندوں اور مزدور کی آمریت کے علمبردار دانشوروں کو جو کوئی اپنی آمرانہ نظریات کی صف سے علیحدہ نظر آتا اسے مطعون کرتے، گالی دیتے، خوفزدہ کرتے۔ سعادت حسن منٹو اور انتظار حسین ان کے تیروں کا ٹھیک ٹھیک نشانہ تھے۔
انتظار حسین صاحب کی زندگی کا آخری انٹرویو میں نے اپنے پروگرام ’’متبادل‘‘ کے لیے کیا۔ وہ پاک ٹی ہاؤس کے اس ماحول کا ذکر کرتے ہوئے انتہائی رنجیدہ ہو گئے جب انھیں یہی ترقی پسند قابل نفرت سمجھتے تھے۔ کہتے تھے، یہ ماضی کے قصے سنا کر رومانیت پیدا کرتا ہے اور انقلاب کی منزل کھوٹی ہو جاتی ہے۔ موجودہ دور کے اکثر لبرل اور سیکولر اس دور میں نوجوان تھے اور اسی گروہ میں شامل تھے جو انتظار حسین جیسے افسانہ نگاروں کو خوفزدہ کرتے تھے۔ ادب کے میدان میں ان کی دہشت گردی کا عالم یہ تھا کہ ان کے سامنے علامہ اقبال کا نام لینا ایسے تھا جیسے آج کے دور میں اسامہ بن لادن کا تذکرہ کر دیا جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ سیاسی میدان میں ان کے نظریات کے حامل ایسی ہر طرح کی خونریزی کے قائل تھے جس سے مزدور کی آمریت قائم ہو سکے۔ پاکستان کا پہلی فوجی ناکام بغاوت راولپنڈی سازش کیس تھا جو جنرل اکبر خان کی سربراہی میں منظم کیا گیا اور جس میں فیض احمد فیض اور دیگر شامل تھے۔ حیرت کی بات ہے کہ جس فوجی انقلاب کے حق میں جیل کاٹنے کے دوران فیض احمد فیض نے زنداں نامہ تحریر کی۔ آج کے سیکولر اور لبرل اسی کتاب کی نظموں کو جمہوریت، سیکولر ازم اور لبرل ازم کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس دور کا سب سے قابل نفرت نام امریکا تھا۔ یہ کمیونسٹ اور ان کے حامی ترقی پسند ادیب و شاعر جس کسی سے نفرت کرتے، جسے برا بھلا کہنا مقصود ہوتا اسے امریکی ایجنٹ کہہ کر پکارتے۔
کمیونزم پچھتر سال آدھی دنیا پر مزدور کی آمریت کو نافذ کرنے کے بعد ذلت و رسوائی کی موت مر گیا۔ وہ سینٹ پیٹرز برگ کا شہر جس کا نام بدل کر لینن گراڈ رکھ دیا گیا اور وہاں لینن کا بہت بڑا مجسمہ نصب کر دیا گیا۔ اسٹالن برسراقتدار آیا تو اس کا نام اسٹالن گراڈ رکھا گیا، اس کے مرنے کے بعد دوبارہ لینن گراڈ ہو گیا اور اب پھر سے سینٹ پیٹرز برگ ہے۔ کمیونزم کا زوال آیا تو اسی شہر میں لوگ مجسمے کے گرد جمع ہوئے اور اس کے بانی لینن کا مجسمہ زمین بوس کر دیا گیا۔ چین میں ماؤزے تنگ کا لانگ مارچ منڈی کی معیشت اور سرمایہ دارانہ ماحول کی روشنیوں میں گم ہو گیا۔ دنیا بھر کے ادیبوں، شاعروں، دانشوروں اور سیاسی پنڈتوں پر ایک سناٹا طاری ہو گیا۔ اب کیا کریں۔
ہمارے نظریات کا معبد تو مسمار ہو گیا ہے۔ چند ایک اس نظریاتی معبد کے پجاری کی طرح اس کی راکھ کو اکٹھا کر کے دوبارہ تعمیر کرنے میں مصروف ہو گئے لیکن باقی سب کے سب اسی امریکا کے مدح سرا بن گئے جس کو وہ اور ان کے پیش رو گالی دیتے آئے تھے۔ نظریاتی طور پر زندہ رہنے کے لیے ایک نظریے کی ضرورت ہوتی ہے چونکہ اب امریکا اور مغرب اور ان کا سرمایہ دارانہ معاشرہ ہی آئیڈیل تھا اس لیے وہ سارے نظریے جو 1992 تک باطل تھے اب معزز ہو گئے۔ سیکولر ازم، لبرل ازم، آزاد معیشت اور سودی بنکاری کے سرمائے سے جنم لینے والی جمہوریت۔ یہ موجودہ دور کے دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور افسانہ نگاروں کے نظریاتی پرچم بن گئے۔ پہلے امریکا اور سرمایہ دار قابل نفرت تھے اور اب اسلام اور مسلمان حقارت کی علامت بنا دیے گئے۔ وجہ سیکولر ازم کی وہ تعریف ہے جو دنیا کی ہر مستند ڈکشنری یالغت میں درج ہے۔ کیمرج ڈکشنری کے بقول سیکولر ازم کا مطلب ہے
(The belief that religion should not be involved with ordinary Social and Political activies of a conuntry)
’’ایسا عقیدہ جس کے مطابق مذہب کا انسان کی معاشرتی اور سیاسی زندگی سے تعلق نہ ہو‘‘۔ آکسفورڈ ڈکشنری سیکولر ازم کی مزید تشریح کرتی ہے۔
(Denoting attitudes,activities or  other thigs that have no religious and spritual basis)
’’ایسے خیالات اور عمل جن کی کوئی مذہبی یا روحانی بنیاد نہ ہو‘‘۔ دونوں تعریفوں میں مذہب اور روحانیت کو سیاست ہی نہیں بلکہ معاشرے سے بھی بے دخل کرنے کا نام سیکولر ازم ہے۔ اس سیکولر ازم کی کوکھ سے اس انتہا پسندی اور دہشت گردی نے جنم لیا جس نے ہر اس معاشرے، گروہ یا ملک کو تباہ کرنا شروع کر دیا جہاں مسلمان بحیثیت مجموعی اسلامی اقدار پر عمل پیرا نظر آتے تھے کیونکہ ان کے نزدیک دنیا میں اسلام ہی ایک ہی مذہب ہے جو معاشرتی اور حکومتی سطح پر مذہب کا عمل دخل چاہتا ہے۔ افغانستان اور عراق کی تباہی تو ملکوں کی ملکوں پر جارحیت تھی لیکن فجورڈمین  FJORDMAN جیسے سیکولر بلاگر کا کیا کیا جائے جس نے ناروے میں Counter-Jihad ،نام سے جہاد کے خلاف سوشل میڈیا مہم کا آغاز کیا اور اس سے متاثر ایک شخص اینڈرس بیورک (Anders Breivik) نے 2011 میں اوسلو میں دھماکا کر کے 77 لوگ مار دیے اور اب اسی نظریے کے حامی جرمنی کے علی ڈیوڈ سنبلی نے میونخ میں چند روزقبل ،قتل و غارت کا بازار گرم کر دیا۔
یہ لوگ تو ایک سیکولر معاشرے میں آباد سیکولر طرز زندگی کے حامل گھرانوں میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین سیکولر اخلاقیات اپنائے ہوئے تھے۔ پورا معاشرہ اور ان کی ریاستیں سیکولر‘ لبرل اور جمہوری اقدار پر عمل پیرا تھیں۔ آج کے دور میں یورپ اور خصوصاً مغربی یورپ کی تمام ریاستیں سیکولر ازم اور لبرل ازم کی معراج سمجھی جاتی ہیں۔
ان افراد نے تعلیم بھی ایسے اداروں سے حاصل  کی جن کا نصابِ تعلیم خالصتاً سیکولر بنیادوں پر مرتب کیا گیا تھا۔ انھوں نے اپنے ارد گرد بسنے والے پڑوسیوں‘ دوستوں یا خاندان کے افراد کو بھی انھی سیکولر اقدار پر کار بند دیکھا تھا۔ ان ریاستوں کی بنیاد یہ تصورات ہیں کہ ‘ مذہب خونریزی پیدا کرتا ہے‘ مذہب ایک افیون‘ مذہب فرسودہ رسم و رواج کا مجموعہ ہے‘ مذہب کو صرف انسان کی ذات اور گھر کی چار دیواری تک محدود رہنا چاہیے‘ اس کا تو معاشرے کے ساتھ بھی کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے‘ اگر ہم مذہبی بنیادوں پر تقسیم نہیں ہونگے تو ہمارے معاشرے پرامن رہیں گے‘ انسانوں کو اختیار ہے کہ وہ مذہبی تصورات سے بالاتر ہو کر جس طرح کی جنسی زندگی چاہیں اختیار کریں‘ بے شک وہ حیوانوں کی طرح کی اجتماعی ریوڑ جیسی ہی کیوں نہ ہو‘ جہاں جوڑے کا کوئی تصور نہیں ہوتا‘ ہم جنس پرستی تمہارا بنیادی انسانی اور جمہوری حق ہے خواہ یہ فطرت کے کتنا ہی خلاف کیوں نہ ہو۔
ایسے لاتعداد تصورات ہیں جو ریاستی‘ معاشرتی‘ خاندانی‘ تعلیمی اور میڈیا کی سطح پر اس معاشرے میں مسلسل پھیلائے جاتے ہیں اور ان پر زبردستی عمل کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ یہی سیکولر اور لبرل معاشروں کی آزاد روش ہے جس سے فحش فلموں کا کاروبار جنم لیتا ہے‘ پروان چڑھتا ہے اور ان کے لیے افرادی قوت بھی یہی سیکولر معاشرے فراہم کرتے ہیں۔ اعداد وشمار کے مطابق امریکا سب سے زیادہ فحش فلمیں بناتا ہے جب کہ دوسرا نمبر جرمنی کا ہے۔ دونوں ہر ہفتے چار سو فلمیں فی ملک بناتے ہیں۔ اسی سیکولر معاشرے کی سب سے بڑی انڈسٹری فحاشی ہے۔
اس فحاشی کی انڈسٹری نے گزشتہ دو دہائیوں سے معاشرے کی سیکولر بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لیے خاندان کے ادارے اور رشتوں کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے مقدس رشتوں کے درمیان جنسی تعلق پر مبنی فلمیں بے تحاشا تعداد میں بنانا شروع کر دی ہیں‘ جن میں ماں بیٹا‘ باپ بیٹی اور بہن بھائی جیسے مقدس رشتوں کے تصور کو بھی پامال کیا گیا ہے۔ سیکولر معاشرے میں اظہار رائے کی آزادی بلکہ مادر پدر آزادی کی وجہ سے ان فلموں پر کوئی پابندی نہیں لگائی جا سکتی، چاہے اس کے نتیجے میں معاشرے سے ان مقدس رشتوں کا احترام ختم ہو جائے ۔
اس طرح کے سیکولر معاشروں میں جنسی جنونی قاتلوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے جنم لیاہے جنھیں سیریل کلر کہا جاتا ہے۔ یہ ان معاشروں میں ہزاروں کی تعداد میں ہیں اور انھوں نے اپنے جنون میں لاکھوں عورتوں کو قتل اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔ جیک دی رپر سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔ انھی فلموں نے ایک اور تصور بھی معاشرے کو دیا کہ عورتیں اجتماعی زیادتی میں لطف اٹھاتی ہیں۔ اس تصور کو  Rape fantacy کہا جاتا ہے اور پھر مردوں کو اکسایا گیا کہ یہ تو کوئی ایسا جرم ہی نہیں‘ تم تو عورتوں کے پوشیدہ خوابوں اور خواہشوں کی تکمیل کرتے ہو ۔
سیکولر معاشروں کی غلاظت‘ تعفن اور بدبو تو ایک ایسا موضوع ہے جس پر ایک عمر بھی لکھا جائے تو کم ہے۔ لیکن ان معاشروں نے گزشتہ چند دہائیوں سے ایک الزام کس قدر کامیاب میڈیا مینجمنٹ سے مسلمان معاشروں پر لگانا شروع کیا ہے کہ وہاں سے متعصب اور دہشت گرد پیدا ہوتے ہیں جو عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ اس پراپیگنڈے کا آغاز سوویت یونین کے زوال کے بعد شروع ہوا اور گیارہ ستمبر کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حملے کے بعد اپنے عروج پر جا پہنچا۔ مسلمانوں میں شدت پسندی یا مغرب کی نظر میں دہشت گردی کی وجوہات تو واضح نظر آتی ہیں۔
فلسطین میں ظلم و تشدد کی ایک صدی‘ کشمیر میں ظلم‘ افغانستان‘ عراق‘ بوسنیا‘ چیچنیا‘ غرض ہر جگہ مسلمان آبادی کو گاجر مولی کی طرح کاٹا گیا‘ کچھ سہم کر خاموش ہو گئے اور کچھ انتقام کی آگ میں سلگتے ہوئے اپنے حواس کھو بیٹھے۔ یوں ان کے انتقام کی زد میں جو آیا ان کا نشانہ بن گیا۔ لیکن سیکولر معاشروں خصوصاً مغربی یورپ کے معاشروں پر تو ایسا کوئی ظلم کسی نے نہیں کیا تھا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہاں سے دہشت گرد کیسے جنم لینا شروع ہو گئے۔ یوں تو ٹیموتھی جیمز میک وگ “Timo jhy James Mcveigh” کا قصہ بھی اتنا پرانا نہیں۔ اس شخص نے 1991 میں پہلی عراق جنگ میں حصہ لیا۔اس دوران اس نے اتنے بے گناہ لوگوں کی لاشیں دیکھیں تھیں کہ اس کا ذہنی توازن برقرار نہ رہا اور نفرت کی وجہ سے امریکی حکومت کی کسی بڑی بلڈنگ کو نشانہ بنانے کے چکر میں پڑ گیا۔
یوں اس نے 10اپریل 1995 کو اوکلوہاما سٹی میں ایک فیڈرل گورنمنٹ بلڈنگ کے ساتھ بارود بھرا ٹرک کھڑا کیا اور دور جا کر اسے ریموٹ سے اڑا دیا‘ جس کے نتیجے میں 168 لوگ مر گئے اور چھ سو زخمی ہوئے۔ اس کی سوانح عمری 2002 میں چھپی جس میں اس نے اپنے ملحد اور سیکولر ہونے کا اقرار کیا۔ اس نے کہا “Idont belive in hell and science is my religion” ’’میں جہنم پر یقین نہیں رکھتا اور سائنس میرا مذہب  ہے‘‘۔ اس کو موت کی سزا سنائی گئی۔ اس نے اپنے آخری بیان میں کہا۔ ’’اگر واقعی جہنم نام کی کوئی چیز ہے تو پھر میرے ساتھ وہ امریکی فائٹر پائلٹ بھی ہوں گے جو محض جنگ جیتنے کے لیے معصوم لوگوں پر بم برساتے تھے‘‘۔2001میں گیارہ ستمبر کا واقعہ ہو گیا۔
اس واقعے کی کوکھ سے ایک اور سیکولر دہشت گرد نے جنم لیا۔ یہ وہ شخص ہے جس نے یورپ میں دہشت گردی کو نظریاتی بنیادیں فراہم کیں۔ ناروے کا رہنے والا پیڈر جینسن (Peder Jensen)۔ 1975 میں پیدا ہونے والا یہ شخص یورپ کا سب سے مشہور بلاگر ہے جو جہاد مخالف (Counter Jihad) بلاگ تحریر کرتا ہے۔ وہ ناروے کی وزارت خارجہ کا افسر تھا جس نے باقاعدہ عربی سیکھی اور مصر اور اسرائیل کے سفارت خانوں میں کام کرتا رہا۔ گیارہ ستمبر کے بعد اس نے  Fjordman کے قلمی نام سے بلاگ لکھنا شروع کیے۔ یہ شخص شدید قوم پرست نظریات رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ مسلمانوں کو یورپ سے نکال دیا جائے ورنہ یہاں ایک سول وار ہو جائے گی اور لوگ انھیں مار دیں گے۔
اس نے اپنی تحریروں سے بہت سے لوگوں کی ذہن سازی کی جو یورپ میں موجود ہر مسلمان سے نفرت کرتے ہیں۔ ان لوگوں میں سے ایک اینڈرس بریوک Anders Breivik ہے جس نے اس کے نظریات سے متاثر ہو کر یورپ کی اسلام سے آزادی کی تحریک شروع کی۔  وہ نظریاتی طور پر hip کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہے اور سیکولر قوم پرست ہے۔ وہ یورپ کے مسلمانوں کو ’’ٹرائے‘‘ کا گھوڑا سمجھتا تھا۔ یعنی مسلمان دھوکے سے یورپ میں داخل ہو کر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔اس نے 1518 صفحات کا ایک مینی فیسٹو تحریر کیا۔ صلیبی جنگوں والا لباس پہنا‘ اپنی ویڈیو بنائی کہ وہ حملہ کرنے جا رہا ہے اور پھر 22 جولائی 2011 کو اوسلو کی گورنمنٹ بلڈنگ میں گیا‘ دھماکا کیا جس سے 8لوگ مر گئے‘ وہاں سے وہ یوٹوا UTOYA جزیرے گیا‘ وہاں ایک یوتھ کنونشن ہو رہا تھا‘ اس نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی اور 68 لوگوں کو قتل کر دیا۔
مقدمہ چلا‘ اسے عدالت نے کہا تم نے یہ سب کیوں کیا‘ جواب دیا اس لیے کہ یورپ کو مسلمانوں سے آزاد کرواؤں‘ کیا تم عیسائی ہو‘ جواب دیا‘ یورپی ہوں‘ معاشرتی طور پر عیسائی‘ نظریاتی طور پر سیکولر۔ لیکن اب جب‘ اس کے ٹھیک پانچ سال بعد جب اوسلو میں قتل و غارت کی سالگرہ تھی‘ ایک ایرانی اور جرمنی شہریت کے حامل لڑکے علی ڈیوڈ سنبلی نے میونح میں چھ ترک اور عرب بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ خود مارا گیا لیکن اس کا کمرہ‘ کمپیوٹر اور دیگر اشتہار میں ہر طرف اوسلو دھماکوں کا شخص اینڈ بریوک ہیرو نظر آتا ہے۔
وہ اسے اپنا ہیرو سمجھتا تھا۔ مغرب کے ان سیکولر دہشت گردوں پر مغرب کا میڈیا خاموش ہے لیکن حیرت پاکستانی میڈیا پر ہوتی ہے جسے سانپ سونگھ چکا ہے‘نہ اسے امریکا کے ہم جنس پرست کلب کی فائرنگ یاد آتی ہے اور نہ اوسلو کے مقتول اور نہ ہی میویخ کا قاتل۔ یوں لگتا ہے اگر کوئی سیکولر دہشت گرد اور قاتل بھی ہو جائے تو معزز ہی رہتا ہے۔

ماخذ 1 2

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours