سکینڈلز کا قبرستان از اوریا مقبول جان

پنجاب یونیورسٹی میں ہمارے ایک برطانوی استاد آرتھرلونگ اسٹون ہمیں سوشل پالیسی پڑھایا کرتے تھے۔ 1969ء میں لکھی گئی ان کی کتاب Social Policy in Developing Countries آج بھی دنیا بھر کی یونیورسٹیوں میں ایک ریفرنس کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔ مکمل طور پر سیکولر اور ملحد جن کا بنیادی نظریہ یہ تھا کہ تقدیر، فطرت، اخلاقیات وغیرہ سب انسان ہی تخلیق کرتا ہے، وہی اس پر قادر ہے اور جب چاہے انھیں بدل سکتا ہے۔ پاکستان اور خصوصاً لاہور میں رہنے کی وجہ سے ان کے پاکستانی قوم کے بارے میں مشاہدات بہت گہرے تھے۔

انھوں نے لاہور کو کبھی ایک شہر کے طور پر تسلیم نہیں کیا بلکہ وہ کہتے تھے کہ یہ ایک بہت بڑا گاؤں ہے۔ اسی طرح پاکستان کے بارے میں ان کا ایک مشاہدہ ایسا حرف بہ حرف سچ لگتا ہے کہ بار بار یاد آتا ہے۔ وہ کہتے یہ پاکستان دراصل نظریات کاقبرستان ہے اور ہر نظریے کی قبر پر مجاور بیٹھے ہیں۔ رنگ برنگ پھریرے لہرا رہے ہیں، مختلف النوع  تقریبات ہو رہی ہیں اور سب کے سب اس نظریے کا حق ادا کر کے گھروں کوجا کر آرام کی نیند سو جاتے ہیں۔ آپ نظریہ پاکستان لاؤ، اس کا بڑا سا مزار بناؤ، اس کا ہر سال عرس مناؤ، کتابیں شایع کرو اور ایوارڈ وصول کر کے آرام کرتے رہو۔ اس کو زندگیوں میں نافذ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔


آپ سوشلزم کا مزار بناؤ، اس کی تقریبات کرو، شاعر آ کر انقلابی نظمیں گائیں، شاعروں کی نظمیں گلوکار گائیں، سب مل کر ہم دیکھیں گے کا ورد کریں اور پھر اپنی اپنی نوکریوں میں گم ہو جائیں۔ پروفیسر صاحب کے اس سارے فلسفے کی اپنی ایک توجیہہ تھی جس کا ماخذ وہ برصغیر کی تاریخ سے لیتے تھے۔ وہ کہتے تھے تم لوگ صرف شخصیت پرستی کرتے ہو لیکن شخصیت کے راستے پر چلنے سے کوسوں دور بھاگتے ہو۔ رام چندر کی پوجا کرتے ہو لیکن کبھی راون سے نہیں لڑتے۔ سیدنا امام حسینؓ کی یاد میں تمام مکتبۂ فکر کے مسلمان سوگ مناتے ہیں لیکن کسی یزید کے مقابلے میں کھڑے نہیں ہوتے۔

نظریات کا قبرستان تو یہ پاکستان مدتوں سے ہے اور نظریات کے مزار جابجا گلی کوچے میں نظر آتے ہیں۔ لیکن گزشتہ چند دہائیوں سے یہ ملک ایک اور طرح کے قبرستان میں بھی تبدیل ہوتا جا رہا ہے۔ یہ ہے سیکنڈلز کا قبرستان۔ ہر قبرستان میں دو طرح کی قبریں ہوتی ہیں۔ ایک وہ جن پر رونق رہتی ہے، جنھیں لوگ آباد رکھتے ہیں، صاحب مزار کے قصیدے گاتے ہیں، مزار پر پھول چڑھاتے ہیں اور دیے روشن کرتے ہیں، لیکن صاحب مزار کے کسی ایک قول پر بھی عمل نہیں کرتے۔ دوسری گمنام قبریں ہوتی ہیں ایسی قبریں‘ جن کے بارے میں جہانگیر کی بیوی ملکہ نور جہاں نے شعر تحریر کیا تھا اور اپنی قبر کے کتبے پر لکھوایا تھا

برمزار ماغریباں، نے چراغے نے گُلے

نے پرِ پروانہ سوزد، نے صدائے بُلبلے

ترجمہ: ’’ہم جیسے غریبوں کے مزار پر نہ پھول ہوتے ہیں اور نہ چراغ روشن، اسی لیے نہ وہاں کسی پروانے کے پر جلتے نظر آتے ہیں اور نہ بلبل کی صدا آتی ہے‘‘۔

پہلی طرح کی قبریں نظریات کی ہیں اور دوسری طرح کی قبریں سکینڈلز کی ہیں۔ سکینڈلز کی قبریں جان بوجھ کر گمنام بنائی جاتی ہیں کہ کہیں کوئی پتہ پوچھتا وہاں نہ آ نکلے۔ کہیں کوئی قبر کشائی کر کے اصل حقیقت معلوم نہ کر لے۔ سکینڈلز جیسے ہی جنم لیتے ہیں ان کو پہلے دن سے ہی قتل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اول تو پیدا ہوتے ہی اس کا گلہ گھونٹا جاتا ہے، لیکن کہیں کسی مخبر کو پتہ چل جائے تو اسے کچھ دے دلا کر خاموش کیا جاتا ہے یا پھر اس کی قبر سکینڈل کے ساتھ ہی تیار کر لی جاتی ہے تا کہ دونوںکو اکٹھا دفن کیا جا سکے۔

سکینڈل کا جنم ایک بہت بڑی اور حیران کن خبر ہوتی ہے۔ ایسے ہی جیسے کسی گھر میں بغیر شادی کوئی بچہ پیدا ہو جائے تو وہ اسے پیدا ہوتے ہی ادھر ادھر غائب کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ لوگوں کو خبر نہ ہو جائے۔ اگر خبر ہو جائے تو گھر یا علاقہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور ایک مدت وہاں گزاری جاتی ہے تا کہ لوگ بھول جائیں اور یوں وقت کی دھول میں اس کی یہ بدنامی ایک گمنام قبر میں دفن ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں کرپشن سیکنڈلز کی ایک لمبی تاریخ ہے۔ آغاز میں انھیں بدنامی سے بچانے کے لیے فائلوں کے انبار تلے دفن کر دیا جاتا تھا۔ کیا کسی کو یاد ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں بشام کے علاقے میں زلزلہ آیا تھا اور دنیا بھر کے ممالک نے امداد دی تھی۔ اس امداد کے بارے میں ایک سکینڈل اخبارات کی زینت بنا کہ یہ تمام رقم سوئس اکاؤنٹ میں جمع کروا دی گئی۔ وقت نے اس سکینڈل کی قبر تک غائب کر دی۔ موجودہ حکومت کی پنجاب کی ایک سیاسی شخصیت کے والد اور بلوچستان کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھنے والی شخصیت کو وزیراعظم جونیجو نے کرپشن کی بنیاد پر نکالا تھا۔ ان دونوں کے سکینڈلز بھی گمنام قبروں کی طرح گم کر دیے گئے۔

کسی کو یاد ہے کہ جنوری 1998ء میں نیویارک ٹائمز نے آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے حوالے سے کئی سکینڈل چھاپے۔ شاید لوگ بھول گئے اس آگسٹا آبدوز کیس کو۔ دوسری گمنام قبر زرداری کے حوالے سے ہی گولڈ سکینڈل کی ہے۔ شاید ہی کسی کی یادداشت میں سوئس کیس بھی ہو ۔ اٹھارہ کروڑ عوام میں شاید چند ہی لوگ لندن میں حکمران خاندان کے مقدمے کے بارے میں جانتے ہوں گے۔

گزشتہ پندرہ سالوں میں اس کیس کی گونج بھی کہیں سنائی نہیں دی گئی تھی۔ میزان بینک سکینڈل سپریم کورٹ کی رہداریوں سے ہوتا ہوا اور کتنے سیاسی لیڈروں کے چہرے بے نقاب کرتا ہوا اسی قبرستان میں ابدی نیند سو گیا۔ وہ لوگ جو سکینڈلز کی زد میں آتے ہیں انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہو چکا ہے کہ اس ملک میں بڑے سے بڑا جرم بھی وقت کی دھول میں چھپ جاتا ہے اور لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔ اسی لیے وہ ان کیسوں کا گلا اول تو شروع میں گھونٹ دیتے ہیں۔ جو کیس زندہ بچ نکلے اسے حکومتی ادارے دفن کر دیتے ہیں اور جو زیادہ سخت جان ہوتے ہیں انھیں عدم ثبوت کے تیروں سے لہولہان کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔

پاناما لیکس بھی ایسا ہی ایک سکینڈل ہے جسے پہلے میڈیا پر مارنے کی کوشش کی گئی، پھر پارلیمنٹ میں تقریر کر کے اس کی تجہیز و تکفین کا بندوبست کیا گیا، لیکن کس قدر سخت جان ہے‘ عمران خان کہ وہ اس لاش کو گھسیٹے ہی چلا جا رہا ہے۔ کئی مہینے مذاکرات کی میز پر یہ لاش رکھی رہی۔ اب دفن کی تیاریاں ہو رہی تھیں کہ رائیونڈ  کا جلسہ ہو گیا اور اب 30 اکتوبر 2016ء کا اسلام آباد کو بند کرنے کا اعلان۔ یہ پاکستان کے سکینڈلز کی تاریخ میں پہلا موقع ہے کہ پانامالیکس کی لاش ابھی تک قبرستان نہیں پہنچ سکی۔ اگر یہ بھی قبرستان میں دفن ہو گیا تو پھر تاریخ اس بات پر شاہد ہے کہ لوگ ایک دن تنگ آ جاتے ہیںاور عاجز ہو کر باہر نکلتے ہیں 

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours