بلدیاتی انتخاب 2013 , جماعت اسلامی کی ناقص ترین سیاسی حکمت عملی

ڈاکٹر عبدالرحمٰن رانجھا۔ ناظم شعبہ فہم دین صوبہ پنجاب غربی جماعت اسلامی

نوٹ:۔ بلدیاتی ایلکشن 2013 کے نتائج سے مایوس ہو کر جماعت اسلامی منڈی بہاؤالدین کے رکن ڈاکٹر عبدالرحمٰن رانجھا صاحب نے اپنے فیس بک پروفائل پر درج ذیل تبصرہ کیا تھا۔ جس کو من و عن یہاں‌ پیش کیا جا رہا ہے تاکہ عوام الناس کو سوچنے سمجھنے کی ترغیب ملے ۔ ہو سکتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب اپنے اس تبصرے کو جماعت اسلامی کی قیادت کے دباؤ کے تحت کسی وقت ڈیلیٹ‌ کر دیں‌۔ اس لیے اس پوسٹ‌ کا لنک دینے کی بجائے ان کے فیس بک پروفائل کا لنک دیا جا رہا ہے ۔ تصدیق کے لیے آپ ان کو میسج کر سکتے ہیں۔ (ایڈمن)

# بلدیاتی الکیشن. اور جماعت اسلامی#
جماعت اسلامی کی ناقص ترین سیاسی حکمت عملی نے بلدیاتی انتخاب میں 2013 کے قومی الیکشن کی بچی کھچی ساکھ کا بھی جنازہ نکال دیا
میں یہ سطور بڑھے دکھ کے ساتھ لکھ رہا ہوں کاش کوئی جماعت کا مخلص کارکن میرے پاس ہوتا تو میں اس کے گلے لگ کر دھاڑیں مار مار کر روتا ...
جب سے بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے کا رزلٹ آیا ہے تب سے دل دکھی ہے کہ اسلامی انقلاب کے لئے جمہوری راستے کا انتخاب کرنے والی دنیا کی سب سے منظم . خدمت خلق میں ریکارڈ کام کرنے والی بہترین سیاسی اور با صلاحیت قیادت رکھنے والی جماعت اسلامی %1 کامیابی بھی حاصل نہ کر پائی 
افسوس اس بات کا ہے کہ پچھلے کئی الکیشن میں باربار ہارنے کے باوجود ہم نے کچھ سبق نہی سیکھا ہر بار پرانی علطیاں دہراتے ہیں 

مرکزی مجلس شوری نے فیصلہ کیا کہ آئیندہ کسی پارٹی سے سے انتخابی اتحاد نہیں ہو گا 
ہم نے لاھور میں اس فیصلے کو یوم سبت کو مچھلیاں پکڑنے والے بنی اسرائیل کی طرح یوں مزاق بنایا کہ ایک لیڈر کا بیٹا شیر کے نشان دوسرا بلے کے نشان پر الکشن لڑ کے اسلامی انقلاب کی رااہیں ہموار کر رہا ہے کسی نے بالٹی تھام رکھی ہے اور کوئی ہیرا اور بوتل اٹھاۓ جماعت کی خدمت کر رہا ہے 
2013 کے قومی انتخاب ہارنے کے باوجود دل اس بات پر مطمئن تھا کہ ہم نے اپنے نشان اپنے پرچم اور اپنی شناخت کو ذندہ کیا ہے 
اب اپنی سیاسی ساکھ کو آگے بڑھائیں گے 
ترازو کا نشان ہر جگہ معروف کرائیں گے 
بلدیاتی انتخاب قومی انتخابات کی بنیاد ہوتے ہیں وارڈ اور uc سطح پر دھڑے بنتے ہیں جو قومی الکیشن میں فعال ترین کردار ادا کرتے ہیں 
لیکن افسوس گراس روٹ تک منظم تنظیم رکھنے والی جماعت اسلامی کے پاس کونسلر سطح کے امیدوار ہی نہیں ہر ضلع کی %90 وارڈ ایسی ہیں ہیں جہاں سرے سے جماعت کا کائی نمائندہ ہی نہیں اور لگے ہیں انتخابات کے زریعے اسلامی انقلاب لانے 
جن %20 وارڈ میں امیدوار ہیں ان میں %15 جماعت کا نشان لینے کو ہی تیار نہیں وہ اپنے آپ کو جماعت اسلامی کا نمائندہ کہلوانے کے بجاۓ آذاد امیدوار کہلوانا پسند کرتے ہیں
پیچھے%5 میں %3 کو آذاد امیدوار کے حق میں دستبردار کرودیا جاتا ہے %2 اپنے نشان پہ لڑتے ہیں ان میں جیتنے والوں کی پرسنٹیج آپ کے سامنے ہے 
کیا اسی طرح اسلامی انقلاب آۓ گا 
میں یونین کونسل پھالیہ میں رہتا ہوں جہاں جماعت اسلامی کے 150 ارکان ہیں بڑے بڑے موثر لوگ بھی ہیں 17 وارڈ ہیں اور ایک بھی وارڈ پر جماعت کے نشان ترازو پر الیکشن لڑنے کے لئے ایک فرد میسر نہیں 17 وارڈ میں سے جماعت کے 2 وارڈ میں نمائندے ہیں دونوں آذاد 
ضلع کی 120 یونین کونسل میں صرف 2 یونین کونسل پر جماعت الکیشن میں حصہ لے رہی ہے
باقی 118 یونین کونسل میں نمائندگی ہی نہیں 
کہاں ہیں سیاسی کمیٹیوں کے صدور رپوٹس دیتے ہوے کتنے فارم کالے کر دیتے ہیں آج ہر محاذ خالی پڑا ہے قومی الکیشن میں کروڑوں روپے خرچ کرنے والے آج اپنے حلقے میں ہی جماعت کے ارکان کو تھوڑا الکیشن لڑنے کا خرچ دے کر کھڑا کر دیتے تو ان کا مضبوط دھڑا بن جاتا ہے 
میں سیاسی طور بے بصیرت لوگوں کا کیا رونا رووں 
اتنی سی بات کہتا ہوں یا ہمیشہ ہمیش کے لئے انتخابی سیاست کو الوداع کہہ دیں 
یا پھر اس میدان کے سارے تقاضے پورے کریں

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours