کیا جمہوریت کا متبادل نظام پیش کرنے کا مطالبہ درست ہے ؟

 از حامد کمال الدین 



رہا یہ کہ اس نظام کو باطل کہنا ہے تو پہلے اُس مجوزہ اسلامی نظام کی ہر چھوٹی بڑی تفصیل درج کی جائے جو اس کو ہٹا کر لایا جانا ہے، تو یہ بھی ایک غیر ضروری مطالبہ ہے۔ باطل کی نفی حق کے اثبات پر مقدم ہے بلکہ باطل کی نفی حق کے اثبات کیلئے ایک پیشگی شرط ہے۔ ابتداءً ایک موحد سے یہی مطلوب ہے کہ وہ باطل کو اصولی طور پر مسترد کرے اورحق کا اجمالی طور پر اثبات کرے۔
سود کی حرمت کو ماننا اور نظامِ سود کو مسترد کرنا اس بات سے مشروط نہیں کہ سود کو حرام کہنے والا ہر شخص، عالم کیا عامی، اسلام کے نظامِ اقتصادیات پر گہرا عبور رکھتا ہو اور اگر کوئی شخص معیشت کی ہر گتھی سلجھانے پر قادر نہیں توسود کی حرمت اور شناعت بیان کرنے کا اس کو سرے سے کوئی حق نہیں!


ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ اسلام کے معاشی اصول بہت واضح ہیں۔ مگر کسی معاشرے میں اسلام کے معاشی نظام کا، حالات کی مناسبت سے، اپنی جزئیات اورتفصیلات کے ساتھ قائم ہو جانا کلیتاً اس بات پر انحصار کرتا ہے کہ اس کی طلب میں شدت اس معاشرے کے اندر کس درجہ کی پائی جاتی ہے۔ اس شدتِ طلب کو بڑھانا عین وہ کام ہے جو بالآخر معاشرے کو یہ ہدف سر کرنے پر مجبور کر دے۔ معاشرے میں جس بات کی شدید طلب ہو، جس جنس کی ماحول میں حد سے زیادہ مانگ بڑھ جائے اس کی پیداوار خود بخود ہونے لگتی ہے۔ یہ ایک آفاقی قاعدہ ہے۔ جس چیز کی معاشرے میں کھپت ہو پانے کا بڑا امکان نہ ہو اس کی پیداوار کے ڈھیر کبھی نہیں لگائے جاتے۔ یہ ایک خود کار عمل ہے۔ پانی اپنی سطح خود برابر کرتا ہے۔ ہمارا یہ مطلب نہیں کہ اقتصادِ اسلامی کے ماہرین تیار کرنے پر کسی محنت کی ضرورت نہیں۔ ہماری مراد صرف یہ ہے کہ معاشرہ اور معاشرے کی قیادت جب اسلام کے سوا ہر معیشت کو مسترد کر دینے پرآخری حد تک مصر ہو جائے گی تو اسلامی اصولوں کی بنیاد پر معیشت کی گتھیاں سلجھانے والے خود بخود پیدا ہونے لگیں گے۔ ان کو پیدا کرنے پرجس محنت کی ضرورت ہے وہ محنت بھی علی وجہ المطلوب اسی وقت ہو پائے گی جب معاشرہ اور معاشرے کی قیادت اس کو اپنی ناگزیر ضرورت مانے گی۔
ہر چیز ایک قدرتی عمل کے نتیجے میں ہی وجود میں آیا کرتی ہے۔ اسلامی معیشت یا اسلامی سیاست بھی ہتھیلی پر سرسوں جمانے کا کام نہیں۔ یہ راتوں رات سر ہو جانے والی منزل نہیں۔ نہ یہ ہماری مراد ہے۔ مسئلہ زیر بحث سرے سے یہ ہے نہیں کہ ہم اس مضمون میں ”اسلامی نظام نافذ کرنے‘ کا مطالبہ کرنے جا رہے ہیں۔ الٹی میٹم دینے والوں سے بھی ہمیں اتفاق نہیں۔ مسلم ملکوں میں موجود جاہلی قیادتوں سے ہم یہ کہنے نہیں جارہے کہ وہ ہمیں اسلام نافذ کر کے دیں تاآنکہ ہمیں یہ چیلنج دیا جائے کہ پہلے اس مجوزہ اسلامی نظام کی ایک ایک تفصیل ہم پوری وضاحت کے ساتھ اورنمبروار درج کر کے دیں اور اس موضوع پر ایک پوری لائبریری تیار شدہ حاضر کریں۔ اگرچہ کچھ مخلص اور محنتی حضرات نے مقدور بھر یہ چیلنج بھی قبول کر دکھایا اور اسلامی نظام پر دفتروں کے دفتر لکھ کر دیے جو کہ، حسبِ توقع، جاہلی قیادتوں کو کچھ خاص پسند نہ آسکے بلکہ ان کو پڑھنے کی زحمت بھی شاید ہی کسی نے گوارا کی ہو۔ چنانچہ ایسے تجربات بھی اگرچہ ہو چکے ہیں مگر ہماری نظر میں یہ ایک غیر طبعی عمل ہے اور اس کا اگر کوئی نتیجہ نہیں نکل پایا تو یہ ہرگز باعث تعجب نہیں۔
اصل مسئلہ یہی ہے کہ معاشرے میں ایک چیز کی طلب پیدا کی جائے۔ بلکہ طلب بھی اور شعور بھی۔ دونوں لازم و ملزوم ہیں اور بیک وقت درکار ہیں۔ ’اسلامی نظام‘ کی بابت راہنمائی دینے کی صلاحیت تو خاص لوگوں کو ودیعت ہوتی ہے مگر مانگنے کا شعور ممکنہ حد تک ہر کسی میں ضروری ہے۔ کم از کم ایک معتدبہ تعداد معاشرے میں ا یسے لوگوں کی ہونا ضروری ہے جو اس جنس گراں مایہ کی طلب صادق رکھتے ہوں اور پھر اس بات کا ایک صحت مند شعور رکھتے ہوں کہ اس کی طلب کیونکر ہو۔ شعور کے بغیر طلب پائی جانا ایک جذباتیت کا موجب ہو سکتا ہے اور ایک ایسی قوم کے ساتھ عموماً ہاتھ ہو جاتا ہے۔ گندم نمائی وجو فروشی کے واقعات بھی اسی دنیا میں پیش آتے ہیں جن کے پیچھے دراصل شعور کا فقدان ہوتا ہے۔ ہر شخص سنار نہیں ہو سکتا البتہ سونا خریدنے کی ضرورت کم و بیش ہر کسی کو پڑتی ہے۔ اس کیلئے جہاں قیمت پاس ہونا ضروری ہے اوریہ قیمت ادا کردینے پر آمادگی پائی جانا شرط ہے وہاں اتنا ہی ضروری یہ بھی ہے کہ آدمی پوری قیمت دے کر کھوٹ دار چیز لے آنے سے خبردار ہو۔ خالص سونا دینے والوں کا کہیں پر پایا جانا اس بات سے براہ راست تعلق رکھتا ہے کہ وہاں پر خالص سونے کی طلب کتنی ہے اور اس کے لینے پر قدرت اوراس کو پانے کا ذوق رکھنے والے کس تعداد میں وہاں پائے جاتے ہیں۔
جس چیز کی معاشرے میں طلب کم ہو گی وہ بازار میں اتنی ہی نایاب ہونے لگے گی۔ جس چیز کے طلبگار اس کی پرکھ کرنے سے قاصر ہوں اس کی فراہمی میں معیار کا نقص اتنا ہی نمایاں ہو گا۔ اسلامی شریعت کا معاشرے میں آنا اور اسلامی معیشت یا اسلامی سیاست کا سکہءرائج الوقت بنا دیا جانا بھی اس بات سے براہ راست تعلق رکھتا ہے کہ لوگوں میں اس کی طلب اور ذوق کس معیار کا ہے۔ جیسے جیسے طلب بڑھے گی ویسے ویسے رسد بڑھے گی اور جیسے جیسے اس طلب کا ذوق بہتر اور شعور پختہ ہو گا ویسے ویسے ہی رسد کے معیار میں عمدگی آئے گی۔
البتہ کوئی اگر یہ چاہے کہ تھوک کے حساب سے مال پہلے تیار کر دیا جائے گودام اوپر تک بھر دیے جائیں اور گاہک ڈھونڈنے پھر نکلاجائے بلکہ گاہک پیدا کرنے کی ضرورت ہی اس کے بعد جا کر منکشف ہو تو شریعت اور اسلامی نظام کے حوالے سے یہ ایک ناروا مطالبہ ہو گا۔ بلکہ کسی بھی حوالے سے یہ ایک بے جا مطالبہ ہو گا۔ خصوصاً ہمارے وہ دانشور جو اشیاءکے ’سماجی تقاضوں‘ کو جاننے پر ہمیشہ اصرار کرتے ہیں ان کو تو ایک ایسا غیر طبعی مطالبہ اور ایسا غیر سنجیدہ تقاضا کرنے کا ہرگز روادار نہ ہونا چاہیے۔
اسلامی شریعت کے اصول تو ہر وقت دستیاب ہیں اور یہ کبھی نہیں بدلتے خواہ وہ سیاست سے متعلق ہوں خواہ معیشت سے اور خواہ دیوانی وفوجداری عدالتی امور سے۔ یہ اصول شریعت کے مصادر میں پوری طرح محفوظ ہیں مگر جہاں تک’ اسلامی نظام‘ کا تعلق ہے تو وہ ایک معاشرے کے حالات اور ضروریات کو سامنے رکھ کر ہی مرتب کیا جاتا ہے۔ اسلام کا نظام بنیادی طور پر سلا سلایا (Ready made) کپڑا نہیں جسے شوکیسوں میں سجا کر رکھ دیا جائے اور پھر برسوں خریدار کی راہ دیکھی جائے! یہ ایک ایسا لباس ہے جو ’ماپ لے کر‘ سیا جاتا ہے اور ’طلب‘ کئے جانے پر تیار ہوتا ہے۔ ابھی اس کے پاس افراد ہی اپنا ماپ دینے آتے ہیں اور یہ ان کی ضرورت پوری کر رہا ہے۔ جس دن اس کے پاس معاشرہ اپنا ماپ دینے آئے گا اس دن یہ معاشرے کو زیب تن کرنے کیلئے بھی ایک بہترین پوشاک فراہم کر دے گا۔ اس سے پہلے البتہ ’معاشرے‘ کے لئے ایک ’نظام‘ کی صورت کچھ تیار کر رکھنا ممکن نہیں۔ وقفے وقفے سے یوں تو ایک فرد کا ’ماپ‘ بھی بدلتا رہتا ہے مگر معاشروں کے احوال تو بہت ہی تیزی سے بدلتے ہیں۔ زندگی ہرگز جامد نہیں۔ ورنہ ایک ہی تیار شدہ ڈیزائن شریعت ابتدا میں ایک بار جاری کر دیتی اور ہر دور کا انسانی معاشرہ، اپنے حجم اور اپنے حالات سے قطع نظر، اسی کو اپنانے کا مکلف کر دیا جاتا۔ مگر شریعت نے یہ کام نہیں کیا۔ ہم بھی یہ کام نہیں کریں گے۔ یہ تو ایک ہمہ وقت بدلتی معاشرتی صورتحال کو مسلسل شرعی راہنمائی دینا ہے۔ آپ جو چیز معاشرے کیلئے ابھی تیار کر دیں گے وہ اگر پڑی رہے گی تو سال چھ ماہ بعد بے کار ہونا شروع ہو جائے گی۔ تب آپ کو ایک نئی چیز بنانا پڑے گی۔ پھر اس کا یہی حشر ہو گا۔ ہر بار اس پر نئی لاگت آئے گی۔ جس چیز کی مسلسل کھپت نہیں اس کی بڑے پیمانے پر تیاری فضول کام ہے اور شریعت ہم کو عبث سے منع کرتی ہے۔
بنابریں۔۔۔۔ آج کے موحد داعی طبقے جو معاشرے میں رائج سیاسی یا معاشی نظام کو اسلام سے صریح طور پر متصادم پا کر، اسے مسترد کر دینے کی دعوت دے رہے ہیں، بعض مقتدرحلقوں کی جانب سے ان کو یہ چیلنج دیا جانا کہ وہ ان رائج نظاموں کو باطل کہنے سے پہلے اس کا وہ متبادل حاضر کریں جس میں موجودہ دور اور معاشرے کو سامنے رکھ کر اسلامی نظام کی ایک ایک تفصیل اور ایک ایک جزئیات پوری وضاحت کے ساتھ اور شق وار درج ہو۔۔۔۔ اوریہ کہ اگر یہ دینی طبقے ان کے اس چیلنج پر پورا نہیں اترتے تو پھر وہ اس باطل کو باطل بھی نہ کہیں۔۔۔۔اور پھر یہ چیلنج دینے میں ہمارے بعض دانشور اور بعض سماجی ماہرین بھی حکمرانوں کی ہاں میں ہاں ملانے لگتے ہیں۔۔۔۔ دین کے داعیوں کو آج یہ چیلنج دیا جانا ایک نہایت غیر طبعی، غیر فطری اور غیر حقیقت پسندانہ طرز عمل ہو گا اور قطعی طور پر ایک غیر عمرانی تقاضا۔
پھر اسی طرح سے یہاں کی سیاسی یا سماجی قیادتوں کا داعیانِ توحید سے یہ سوال کرنا کہ اسلامی سیاست یا اسلامی معیشت یا اسلامی قانون کے ماہرین کی وہ فوج ظفر موج کہاں ہے جو اسلامی نظام کی بابت ان کی ایک ایک الجھن اور ایک ایک مسئلے کا فوری اور تشفی بخش حل پیش کرتی جائے اور اسلامی نظام پر عملدرآمد کیلئے افرادی ضرورت بھی پوری کرے ایک بے محل اور بے جا سوال ہے۔
آپ کے بینکوں میں سود، کچہریوں میں انگریزی قانون اور ایوانوں میں جمہوری شریعت کا جب تک بازار گرم ہے تب تک اسلامی معیشت یا اسلامی سیاست یا اسلامی قانون کے ماہرین کا آپ کے ہاں مصرف ہی کیا ہے؟ ’ماہرین‘ کسی فرمائشی آرڈر پر تیار ہو جانے یا گوداموں میں سنبھال کر رکھی جانے والی چیز نہیں کہ بوقتِ فرمائش نکال حاضر کی جائے اور ’فرمائش‘ کا لمحہ گزرتے ہی واپس گودام میں چن دی جائے! یہ ایک طبعی اورعمرانی عمل ہے۔ اسلامی نظام کی، معاشرے کو سامنے رکھ کر، جزئیات و تفصیلات کی تیاری ہو یا اسلامی نظام کے ماہرین کا معاشرے کو مطلوب تعداد میں پایا جانا، ان دونوں باتوں کا انحصار اس بات پر ہے کہ معاشرہ ایک بصیرت کے ساتھ پہلے اپنی ضرورت کا تعین کرے اوراسکے تقاضے پورے کرنے کے معاملہ میں اپنی استعداد ظاہر کرے۔ معاشرے کی قیادت کی اسلامی نظام کیلئے چاہت اور طلب جب ہر شبہے سے بالاتر ہو جائے گی، معاشرے کو چلانے والوں کو جب شدید طور پر یہ پریشانی لاحق ہو جائے گی کہ لاکھوں کروڑوں انسانوں کا بار قیامت کے روز ان کی نحیف جانیں کیسے اٹھا پائیں گی اوریوں ان میں اللہ کی اطاعت و بندگی کرنے اور کرانے کیلئے حرص جب ایک خاص مطلوبہ حد کو پہنچ جائے گی، معاشرے پر اثر انداز ہونے والوں کا باطل سے بری وبیزار ہونا جب معاشرے کی ایک نمایاں اور ملحوظ حقیقت بن جائے گا ۔۔۔۔جب وہ اپنی قوم کے مسائل کو ہرحال میں اور ہر قیمت پر خدا کی اتاری ہوئی شریعت پر پیش کر دینے پر ہی مصرنظر آئیں گے، چاہے خدا کے ڈر سے اور چاہے ’قوم‘ کے ڈر سے۔۔۔۔ تب اسلامی سیاست، اسلامی معیشت اور اسلامی قانون کے ماہرین اور اسلامی نظام کی تفصیلات و جزئیات کے سامنے آنے میں ہرگز کوئی وقت نہ لگے گا۔
اصل پریشانی کی بات اس وقت یہ نہیں کہ یہاں موجودہ دور کے سیاسی، سماجی، قانونی اور معاشی مسائل کا کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ سے استنباط کیونکر ہو اور انکا زمانہ کے مناسبِ حال استنباط کرنے کی اہلیت رکھنے والوں اور حتی کہ ان کو عملاً چلانے والوں کی تعداد معاشرے میں کیونکر پوری کی جائے۔ یہ پریشانی تو جب بھی پیدا ہو چند سال میں دور ہو سکتی ہے۔ لہٰذا اس کو تو پریشانی کہنا ہی نہیں چاہیے۔ اورابھی تو اس کی گنجائش ہی کہاں۔ ابھی تو یہ پریشانی نہیں عذرلنگ ہے۔ ابھی تو ہمیں جس بات کی پریشانی ہونی چاہیے وہ یہ کہ وہ معاشرہ کہاں ہے اورمعاشرے کی وہ قیادت کہاں ہے جو ایک خوئے بندگانہ رکھتے ہوئے کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ سے اپنا فرض دریافت کرنے اور اپنے مسائل کا حل پوچھنے آئے۔ ابھی تو ہمیں وہ سردارانِ قوم چاہئیں جو ”یَس ´ئَلُو ´نَکَ‘ ‘کا مصداق ہوں، یعنی جو نبی کے پاس خدا کی حدوں اور خدا کی ہدایات کی بابت سوال کرنے آئیں۔ ابھی تو ہمیں جو پریشانی ہونی چاہیے وہ یہ کہ اسلامی نظام کے ماہرین اگر کہیں معجزانہ طور پر اتنی بڑی تعداد میں یہاں پائے جانے لگیں جو معاشرے کی سب پیشہ ورانہ، فنی اورانتظامی ضرورت پوری کرنے پر قدرت رکھتی ہو تو اسلامی نظام کے اتنے ماہرین و منتظمین، جن کی تعداد ہزاروں یا شاید لاکھوں تک پہنچنی چاہیے، ابھی فی الحال کریں گے کیا؟ برسوں اورعشروں تک کیا ہمارے پاس ان کا کوئی مصرف ہے؟
ابھی تو ہمیں جو فکر لاحق ہونی چاہیے وہ یہ کہ ’زمانہ کے مناسب حال‘ اسلام کے سیاسی اور معاشی اور عدالتی نظام کا کوئی مفصل عملی خاکہ بڑی عرق ریزی کے بعد اگر مرتب کر بھی دیا جاتا ہے اور اسلامی قوانین کی، موجودہ عدالتی احوال کو سامنے رکھ کر، کسی انسائیکلوپیڈیا کی طرز پر ایک باقاعدہ تدوین اگر عمل میں آ بھی جاتی ہے تو وہ کتابوں میں پڑی کیا کرے گی؟ کیا اسلامی نظام لائبریریوں کیلئے مدون کیا جاتا ہے؟؟؟
حقیقت تو یہ ہے کہ بے دینوں کی جانب سے دین کے داعیوں کو یہ چیلنج دیا جانا ایک مضحکہ خیز امر ہے۔
ضرورت ایجاد کی ماں ہے۔ جیساکہ ہم نے عرض کیا، ابھی تو ہمیں معاشرے کو ’اسلامی نظام‘ کا ضرورت مند بنانا ہے۔ معاشرے کو شریعت سے اپنے لئے راہنمائی طلب کرنے پر تیار کرنا ہے۔ ”اسلامی نظام“ جس چیز کا نام ہے وہ معاشرے کو شریعت کے بنیادی اصولوں کی بنیاد پر ایک مفصل اور مسلسل راہنمائی دینا ہے۔ یہ مفصل راہنمائی شریعت معاشرے پر مسلط نہیں کردے گی۔ شریعت سے یہ راہنمائی معاشرہ اپنی قیادت کی وساطت سے طلب کرے گا۔ یہ ایک طلب صادق ہونی چاہیے۔ شریعت سے راہنمائی پانے کی یہ طلب پورے شعور اورسمجھداری کے ساتھ عمل میں آنی چاہیے۔ اس کے سب عملی تقاضے اس کو طلب کرنے والوں کی نظر میں ہونے چاہئیں اور اس کی قیمت ادا کرنے پر آخری حد تک آمادگی پائی جانی چاہیے۔ یہ چیز شریعت سے طلب کئے بغیر فراہم نہ ہو پائے گی۔ وہ چیز جو طلب کئے بغیر دستیاب ہونی چاہیے اس کا نام ”اسلام کا نظام“ نہیں ”اسلام کی دعوت“ ہے۔ یہ بغیر مانگے بھی دی جاتی ہے۔ کسی کو لاکھ ناگوار گزرے، یہ پھر بھی دی جائے گی۔ خود ”اسلامی نظام“ کی طلب پیدا ہونا جس چیز کا مرہون منت ہے وہ ”حقیقتِ اسلام“ کی دعوت پر مبنی ایک مسلسل اور ان تھک عمل ہے، اور جو اس دعوت کو قبول کر لیں ان سے جلوس نکلوانے اور ہڑتالیں کروانے اور ووٹ دلوانے کی بجائے ”حقیقتِ اسلام“ کی بنیاد پر ان کی تربیت ہے اور ان میں معاشرے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت کا پیدا کیا جانا۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours