اللہ کے فیصلے کا انتظار کرو از اوریا مقبول جان 

فیصلہ تو آپ نے اس دن کر لیا تھا کہ آپ اس رزمِ خیر و شر اور معرکۂ حق و باطل میں کس جانب ہیں جب 14نومبر 1991 کو وفاقی شرعی عدالت کے جج جسٹس تنزیل الرحمن نے طویل سماعت کے بعد فیصلہ دیتے ہوئے بینکوں کے سود کو حرام قرار دیا تھا۔ آپ اس وقت اس مملکت خداداد پاکستان کے وزیراعظم تھے۔ ہو سکتا ہے آپ کے ذہن کے کسی گوشے میں یہ تصور موجود ہو کہ یہ وزارت عظمیٰ آپ کو پاکستان کے عوام اور عالمی طاقتوں کی آشیر باد سے ملی ہے لیکن میرے جیسے ’’دقیانوس‘‘ اور آپ کے موجودہ لبرل خیالات کے حامل لوگ جنھیں ’’فرسودہ‘‘ اور ازکار رفتہ تصورات کا حامل گردانتے ہیں، ان کے نزدیک یہ فیصلہ کہ کس کو زمین پر اختیار دیا جائے اور کس سے چھین لیا جائے خالصتاً اللہ سبحان و تعالیٰ فرماتے ہیں۔
اللہ فرماتے ہیں ’’کہہ دو کہ اے اللہ اے بادشاہی کے مالک تو جس کو چاہے بادشاہی بخشے اور جس سے چاہے چھین لے اور جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ ہر طرح کی بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے اور بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے‘‘ (آل عمران۔ 26)۔ اللہ کسی کو بادشاہی‘ حکومت یا اختیار اس لیے عطا کرتا ہے کہ زمین میں اللہ کے احکامات کو نافذ کرے۔ اللہ فرماتا ہے ’’اگر ہم انھیں زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اور لوگوں کو نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ اور تمام کاموں کا انجام اللہ ہی کے قبضے میں ہے (الحج 41)۔ لیکن آپ نے 14 نومبر 1991 کو ہی یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ آپ نے عملی طور پر ایک ایسے گروہ کا حصہ بننا ہے جو اللہ اور اس کے رسولﷺ سے اعلان جنگ کرتا ہے۔ آپ نے وفاقی شرعی عدالت کے سود کے خلاف فیصلے کو بحیثیت وزیراعظم سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا۔
سپریم کورٹ نے وقت کے حاکم کی درخواست کو قبول کرتے ہوئے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دے کر بحث کا آغاز کیا۔ کچھ عرصے بعد اللہ نے آپ سے وزارت عظمیٰ اس طرح چھینی کہ آپ کے حق میں آیا ہوا سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آپ کو وزارت عظمیٰ پر برقرار نہ رکھ سکا۔ شاید آپ سمجھتے ہوں کہ آپ سے استعفیٰ لینے کی سازش کا تانا بانا تو یہاں کی مقتدر قوتوں نے بنایا تھا اس کا اللہ تبارک و تعالیٰ سے کیا تعلق۔ لیکن میرے جیسے ’’دقیانوس‘‘ اور ’’فرسودہ‘ خیال لوگ تو یہی تصور کر کے اللہ پر اپنا ایمان مضبوط کرتے ہیں کہ اللہ نے آپ کو اس غلطی کی سزا دی۔ آپ کے بعد محترمہ بینظیر حکمران ہوئیں۔ انھوں نے ایک طریقہ ڈھونڈا کہ اس لڑائی میں براہ راست شریک نہ ہوا جائے بس دائیں بائیں ہو کر نکل جایا جائے۔ انھوں نے شریعت بنچ ہی مکمل نہ ہونے دیا۔ ظاہر بات ہے جب بنچ ہی مکمل نہ ہو گا تو شنوائی کہاں اور فیصلہ کہاں۔ آپ کو محترمہ بینظیر کی یہ روش اور ادا اس قدر پسند آئی کہ جب اللہ نے آپ کو دوبارہ اقتدار عطا کیا تو آپ نے بھی اپنے پورے عرصہ اقتدار میں سپریم کورٹ کا شریعت بنچ مکمل نہ ہونے دیا۔
آپ کو یہ حیلہ کرنے کا گر یقیناً آپ کے ’’مرشد اول‘‘ حضرت ضیاء الحق سے ملا تھا۔ شریعت اور شرعی قوانین کے نفاذ کے علمبردار ضیاء الحق نے جب 1981 میں وفاقی شرعی عدالت قائم کی تو اس پر ایک پابندی لگا دی کہ وہ دس سال تک مالی و معاشی معاملات کے متعلق کوئی درخواست وصول نہیں کرے گی۔ اللہ نے ضیاء الحق کو دس سال تک جانے کی مہلت ہی نہ دی۔ اللہ دلوں کے حال اور نیتوں کو خوب جانتا ہے۔ اسے ہی علم ہو گا کہ ضیاء الحق دس سال بعد اس مدت میں توسیع چاہتے تھے یا سود کے خلاف فیصلہ کرنے کی اجازت دینا چاہتے تھے۔ بہر حال وہ 1988 میں اس کے دربار میں جا پہنچے ہیں جہاں کوئی بہانہ کارگر نہیں اور کوئی مکرو فریب نہیں چلتا۔ وہ اعمال پر نیتوں کے حساب سے سزا دیتا ہے کہ صرف وہی ہے جو نیتوں اور دلوں کا حال جانتا ہے۔ میرے جیسے اللہ سے ڈرنے اور خوف رکھنے والے لوگ بھی آپ کو نیک نیتی کا فائدہ دیتے رہے۔ ہم لوگ سمجھتے رہے کہ آپ گزشتہ پنتیس سالوں سے سیاست کے میدان میں اللہ کے قوانین کے علمبردار بنے رہے‘ آپ نظریہ پاکستان کی چھتری تلے پناہ لیتے رہے۔
آپ کی تقریریں اور آپ کے چھوٹے بھائی کا علامہ اقبال کے شعروں کو دہرانا یہ ثابت کرتا رہا کہ ہو سکتا ہے آپ اس ملک میں اس خواب کی تکمیل چاہتے ہوں جو علامہ اقبال کی شاعری اور راتوں کی اشکباری میں جھلکتا تھا۔ جو آئین پیغمبر کا اس مملکت خداداد میں نفاذ چاہتے تھے۔ میں یہاں علامہ اقبال کے کئی سو اشعار تحریر کر سکتا ہوں لیکن شاید اب آپ انھیں سننا پسند نہ کریں۔ یہ سادہ دل لوگ یہ بھی سمجھتے رہے کہ آپ قائداعظم کے اصولوں کے مطابق ایک اسلامی پاکستان اور اسلامی معاشی نظام چاہتے ہیں کیونکہ آپ نے پنتیس سالہ سیاست میں اسلام اور نظریہ پاکستان کے سوا اور کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالا۔ وہی قائداعظم جنہوں نے گیارہ اگست کی تقریر کو جب لوگوں نے غلط معنی پہنانے کی کوشش کی کہ قائداعظم ایک لبرل اور سیکولر پاکستان چاہتے تو انھوں نے 25 جنوری 1948 کو کراچی بار میں ان سیکولر اور لبرل دانشوروں کا منہ توڑ جواب دیتے ہوئے کہا تھا‘‘
“I could not understand That a section of the people who deliberately wanted to create mischief and propaganda that the constitution of Pakistan would not be made on Sharia law. Islamic Principles to day are as applicable to life as thy were 1300 years ago”
’’میری سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کا ایک طبقہ جان بوجھ کر یہ شرارت اور پراپیگنڈا کر رہا ہے کہ پاکستان کا آئین شریعت کے قوانین پر مبنی نہیں ہو گا۔ اسلامی اصول آج بھی اسی طرح نافذ العمل ہیں جس طرح تیرہ سو سال پہلے تھے‘‘۔ یہی نہیں بلکہ قائداعظم نے ان سیکولر لبرل شرارت پسندوں کا جواب فروری 1948 میں امریکی ریڈیو سے اپنے ایک خطاب میں دیا ۔ انھوں نے امریکی عوام کو بھی واضح کیا کہ ہم شرعی قوانین چاہتے ہیں۔
“The constitution of Pakistan is yet to be framed by Pakistan Constituent Assembly. I do not know what the ultimate Shape of the constitution is going to be, but i am sure, it will be of democratic type,embodying the essential Principals of Islam,Today these are as applicable in actual life as these were 1300 years ago”
’’پاکستان کا آئین ابھی پاکستان کی آئین ساز اسمبلی نے بنانا ہے۔ مجھے نہیں علم کہ اس کی کیا حتمی شکل و صورت ہو گی لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ ایک جمہوری آئین ہو گا جو اسلام کے بنیادی اصولوں پر مبنی ہو گا۔ اسلامی اصول آج بھی زندگی میں اسی طرح نافذ العمل ہیں جیسے تیرہ سو سال پہلے تھے‘‘۔ یہ تھا اقبال اور قائداعظم کا پاکستان جس کے آپ پنتیس سالہ سیاست میں وکیل بنے رہے اور اس ملک کے سادہ لوح عوام اور راسخ العقیدہ دانشور آپ کو سنتے رہے۔ جو صاحبان نظر تھے انھیں علم تھا کہ آپ عملی طور پر اسی دن سے اس صف میں آ کر کھڑے ہو گئے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کا اعلان کرنے والوں کی صف ہے جس دن آپ نے فیڈرل شریعت کورٹ کے بینکوں کے سود کو حرام کرنے کے فیصلے کے خلاف اپیل کی تھی لیکن میرا اللہ تو مہلت دیتا ہے۔ فرد جرم اسی وقت عائد ہوتی ہے جب کوئی واضح دو ٹوک اعلان کرے۔ اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے آپ کو یہ توفیق دی کہ آپ یہ اعلان کریں کہ پاکستان کا مستقبل لبرل اور جمہوری پاکستان سے وابستہ ہے۔
یہ اعلان آپ نے بحیثیت نواز شریف نہیں بلکہ بحیثیت وزیراعظم پاکستان کیا ہے۔ وہ وزارت عظمیٰ جو ہمارے نزدیک اللہ کی عطا ہے۔ میرے سامنے ان صاحبان نظر کے چہرے بھی گھوم رہے ہیں جن سے آپ نے دعا کی استدعا کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ اگر تیسری دفعہ وزیراعظم بن کر میں نے تاریخ رقم کر دی تو اللہ کے قانون کو اس ملک میں نافذ کر دوں گا۔ مجھے مدینہ منورہ میں بیٹھے رسول اکرمﷺ کے جاروب کش اس صوفی صاحب کی وہ بات یاد آ رہی ہے جن سے آپ نے جلا وطنی کے دوران ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی تو انھوں نے کہا تھا کہ مجھے حکم ملا ہے کہ آپ ایک دروازے سے آؤ تو میں دوسرے دروازے سے نکل جاؤں۔ آپ سے صاحبان نظر اسقدر ناراض تھے اس لیے کہ انھیں اللہ کی ناراضگی کا بخوبی علم تھا۔ آپ کو اقتدار ملا‘ آپ کو مہلت دی گئی۔ یہ مہلت آپ نے گنوا دی۔ اس ملک کی روحانی اساس عاشق رسول اور دربار رسالت کے عندلیب باغ حجاز‘‘ علامہ اقبال سے وابستہ تھی۔
آپ نے لبرل اور سیکولر بننے کے شوق میں یوم اقبال کی تعطیل بھی منسوخ کر دی۔ اچھا ہوا آج آپ کا اقبال سے یہ تعلق بھی ختم ہوا۔ حیرت ہے کہ اب یہ اعزاز اس صوبے کے مردان افغان کو حاصل ہوا جن سے علامہ اقبال کی امیدیں وابستہ تھیں۔ اللہ نے اپنی تفریق واضح کر دی ہے۔ اس کے دھڑے کے لوگ ایک جانب اور مخالف دھڑے کے لوگ دوسری جانب۔ آپ کو اپنا دھڑا مبارک لیکن میری نظر میں ان صاحبان نظر کے آنسو گھوم رہے ہیں جو بار بار ڈبڈبائی آنکھوں سے آسمان کی جانب صرف انصاف طلب نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔ اللہ اپنے فیصلے نافذ کر دے تو پھر اس زمین پر پناہ نہیں ملا کرتی۔ نشان عبرت بنا دیے جاتے ہیں وہ لوگ جو اس سے عہد کر کے مکر جاتے ہیں۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours