کس کا اسلام نافذ کریں ؟ پارلیمنٹ کے بہانے کی حقیقت

از حامد کمال الدین

حصہ دوم

چنانچہ ’فقہی اختلافات‘ کو ’پارلیمنٹ کے اختیارات‘ کیلئے دلیل کے طور پر پیش کرنا __سوائے اس کے کہ معاشرہ کی ”حقیقتِ اسلام“ سے ناواقفیت کا بدترین فائدہ اٹھانا قرار دیا جائے __ کوئی حقیقت ہی نہیں رکھتا۔

کوئی ان سے پوچھے فقہاءکا اختلاف کیا پارلیمنٹ کے وہ ممبر چکائیں گے جو سادہ قرآن پڑھ تک نہ سکیں اور جن میں سے کئی شاید وضو اور نماز کے بنیادی مسئلوں سے بھی آگاہ نہ ہوں!؟ کیا ’اختلاف فقہاء‘ ان لوگوں کے ’اختیار‘ کیلئے واقعتا دلیل بن سکتا ہے؟؟؟
ذرا اس دلیل کی ’منطق‘ دیکھئے ۔۔۔

پہلے آپ ’اختلافِ فقہاء‘ کو دلیل بنا کر پارلیمنٹ کا اختیار مان لیجئے۔ اس کے بعد یہ خود ہی واضح ہے کہ پارلیمٹ کیلئے اس جھنجھٹ میں پڑنا آسان نہیں کہ کونسے مسئلے میں فقہاءومحدثین کے ہاں اختلاف ہوتا رہا ہے اور کونسے مسئلے پر فقہاءنے اتفاق کر رکھا ہے اور حتی کہ اگر کہیں کسی مسئلہ پر اہل علم میں اختلاف ہوا بھی ہے تو اس اختلاف کی نوعیت اور حجم کیا ہے ۔۔۔۔ البتہ پارلیمنٹ نے چونکہ ’سن‘ رکھا ہے کہ شرعی مسائل کے اندر علماء شریعت کے مابین کہیں نہ کہیں اختلاف ہو چکا ہے لہٰذا شریعت کے ’سب مسائل‘ ہی اب یہ اپنے ہاتھ میں لے گی اور اکثریت رائے سے ہی اب ان کا فیصلہ کر ڈالے گی۔ شریعت کے جس مسئلے کی قسمت میں اکثریت کے ووٹ لکھے ہوں گے اور جس وقت لکھے ہوں گے وہ ”پاس“ ہو جائے گا ورنہ ’پاس‘ ہونے سے پڑا رہے گا!! کیا عملاً اور فی الواقع ایسا ہی نہیں؟
خدا اور رسول کی بات کا معنی ومراد متعین کرنا، سیدھی بات ہے، اہل علم کا کام ہے۔ اختلاف رائے کی صورت میں بھی کسی ایک رائے کو اَقرب الی الصواب قرار دے کر اختیار کرنا اہل علم ہی کا کام ہے نہ کہ دین سے ناواقف لوگوں کا۔ کیا خدا کے دین میں اس بات کی کوئی گنجائش ہے کہ ’خدا کے فرمائے ہوئے‘ کا معنی متعین کرنے کے معاملے میں دین سے ناواقف ایک جاگیردار بھی باقاعدہ ’رائے‘ دے اور ایک بے دین سرمایہ دار بھی، ایک کرکٹ یا ہاکی سے ریٹائر ہونے والا کھلاڑی بھی، ایک اداکار بھی اور سبزی منڈی میں تھوک کا وہ تاجر بھی جو کہیں سے ’ٹکٹ‘ لے کر پارلیمنٹ کا الیکشن جیت چکا ہے، اور قرآن کی زبان میں’تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولَى‘ یعنی جاہلی طرز پر اپنے زیب و آرائش کی برسر عام نمائش کرنے والی ’خواتین ممبران‘ بھی !؟ عرش کے مالک کے دین کو ان لوگوں نے آخر کیا سمجھ رکھا ہے؟؟؟
اس عذرلنگ کو چھوڑ کر آخر کیوں صاف صاف یہ مان نہیں لیا جاتا کہ پارلیمنٹ کا اختیار دراصل جمہوری دین کا ایک جزولاینفک ہے۔ یہ کسی صورت میں ساقط نہیں ہو سکتا اور یہ کہ اگر پارلیمنٹ کا اختیار ___ جہاں اللہ اور رسول نے کوئی فیصلہ کردیا ہو ___ یکسر ساقط کر دیا جائے تو جمہوریت کی روح چیخ اُٹھے گی!!
سیدھی بات جس کا اپنے منہ سے اعتراف کرنا نہیں چاہتے وہ یہی ہے: پارلیمنٹ کا اختیار جمہوریت کا باقاعدہ حصہ ہے اور اس کا ساقط ہونا اس نظام میں محال ہے۔
بلکہ یوں کہیے پارلیمنٹ کا اختیار، جہاں اللہ اور رسول نے کوئی فیصلہ کر دیا ہو، ساقط ہو جانا اس نظام کا خاتمہ ہے۔
بات یہ ہے کہ جس طرح اسلام کے سیاسی نظام کی ایک کم از کم سطح (Bottom Line) ہے اور وہ یہ کہ خواہ کتنی بھی ظالمانہ، آمرانہ اور معصیانہ حکومت ہو ’قانون‘ کے معاملے میں مرجعیت اللہ اور اس کے رسول کو حاصل رہے گی تاکہ جب بھی ’لاقانونیت‘ چھوڑ کر ’قانون‘ کی طرف آنے کا سوال اٹھے تو اس کیلئے حوالہ صرف اللہ اور رسول کا دیا جائے ۔۔۔۔ عین اسی طرح جمہوری شریعت کی بھی ایک کم از کم سطح (Bottom Line) ہے اور وہ یہ کہ حکمرانوں کے رویے اور ہتھکنڈے خواہ کتنے ہی ’غیر جمہوری‘ کیوں نہ ہو لیں ’قانون‘ کے نام سے لوگ بس ایک پارلیمنٹ کی مرجعیت سے ہی واقف ہوں۔ تاکہ جب بھی ’قانونی بے قاعدگیاں‘ اور ’دستوری خلاف ورزیاں‘ چھوڑ کر حالات کو معمول اور دستور پر لائے جانے کی بات ہو تو ’پارلیمنٹ‘ کا ’اختیار‘ اور ’مرجعیت‘ اس کیلئے سب سے بڑا حوالہ ہو۔
جمہوریت کی یہ عالمی شریعت چونکہ ہمارے ہاں بھی درآمد ہوئی ہے اس لئے جمہوریت کے اس دین پر ایمان رکھنے والے آپ کے ساتھ اسلام کے نام پر یا کسی بھی اور مسئلے پر مفاہمت کرتے ہوئے صرف وہاں تک جائیں گے جہاں تک جمہوری شریعت کی یہ کم از کم سطح (Bottom Line) متاثر نہ ہوتی ہو ۔۔۔۔ اور جو کہ ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ہے۔
اس کے لئے یہ کبھی آپ کو ’اختلافِ فقہاء‘ کا ہوّا دکھائیں گے۔ کبھی شریعت کے مدوّن حالت میں نہ پائے جانے کی بات کریں گے۔ کبھی ’اجتہاد‘ کی ضرورت واضح کرنے پر زور دیں گے اور اس مسئلے پر ان کو اقبال کی عقیدت ستانے لگے گی۔ ’پارلیمنٹ کے اختیار‘ سے دستبردار ہونے کے سوال پر کبھی یہ غیر مسلم اقلیتوں کے جینے کے حق کا واسطہ دیں گے۔ (گویا اسلام کے کئی سو سالہ دور اقتدار میں تو غیر مسلم اقلیتیں شاید مار ہی دی جایا کرتی تھیں!) کبھی یہ ’عصری تقاضوں‘ کا شور الاپیں گے۔ کبھی اسلامی نظام کے ماہرین کے نہ پائے جانے کا رونا روئیں گے۔ (1) مگر ان سب باتوں کا مدعا ایک ہے اور وہ یہ کہ آج کی یہ ’مہذب‘ (اور خدا سے دور) دنیا روئے زمین پر ہر طرف ’پارلیمنٹ‘ کے نام سے جس چیز کا دم بھرتی ہے اس کی وہ عالمی حیثیت مسلّم اور ہر قیمت پر باقی رہے۔ ’مفاہمت‘ پر بھی یہ ضرور تیار ہو جائیں گے اور اسلام کی ’کچھ باتوں‘ کو آدھا پونا قبول کرکے یہ ’معاملہ‘ (Deal)کرنا بھی چاہیں گے مگر یہ کہ ’پارلیمنٹ‘ نام کی اس مخلوق کو خدائے مالک الملک کے آگے پورے ’سات اعضاء‘ پر سجدہ ہی کروا دیا جائے ۔۔۔۔ یہ کہ یہ خدائے رب العالمین کے سامنے باقاعدہ گھٹنے ہی ٹیک دے۔۔۔۔ یعنی خدا اور سول جہاں کوئی فیصلہ کر دیں پارلیمنٹ کو کوئی اختیار تو کیا چوں وچرا تک کی اجازت نہ ہو۔۔۔۔ یہ البتہ بہت بھاری بات ہے! ایسا اگر ہو گیا تو شاید انکے خیال میں جمہوریت کے بانیوں اور پارلیمنٹ کی ناموس پہ مرنے والوں کی روحیں قبروں سے نکل آئیں گی اور دُنیا دہل کر رہ جائے گی۔
چنانچہ ’حاکم اعلیٰ‘ کی بات ہے تو تب، ’اسلامائزیشن‘ کا شور ہے تو تب، ’اسلامی دفعات‘ ہیں تو وہ ۔۔۔۔ ان میں سے ہر چیز کی آخری حد (Bottom Line) وہی ہے۔ یعنی ’پارلیمنٹ کا اختیار‘! ہر چیز کی حد یہاں ختم ہو جاتی ہے!!! ’حاکم اعلیٰ‘ یا ’اسلامی قانون سازی‘ والی سب دفعات کے درمیان سے جمہوریت اپنے لئے یہ راستہ بہرحال بنا لیتی ہے کہ جمہوری عقیدے کا یہ اصل الاصول باقی وبرقرار رہے۔ ’پارلیمنٹ کی بالادستی‘ پر کوئی مفاہمت نہیں!
چنانچہ یہ نظام اگر کسی چیز کا ’فرماں بردار‘ کہا جا سکتا ہے تو وہ ’پارلیمنٹ‘ ہے۔ حکمران اس میں کتنے بھی غیر جمہوری ہتھکنڈے اپنائیں پھر بھی مجموعی طور پر کسی چیز کے ’قانون‘ اور ’آئین‘ ہونے کیلئے اس میں آخری حوالہ ’پارلیمنٹ‘ ہی ہے۔ ایک ’ڈکٹیٹر‘ کو بھی جیسے کیسے اپنے اقدامات کی منظوری پارلیمنٹ سے لینا پڑتی ہے۔ وہ کتنی بھی دھونس دھاندلی کرے آخری حوالہ اس کیلئے بھی ”پارلیمنٹ“ ہے۔
ہاں اگر کسی چیزکے ’قانون‘ ہونے کیلئے آخری حوالہ ’خدا کی تنزیل‘ اور اسکا ’رسول‘ ہو اور کسی چیز کے ’لاقانون‘ ہونے کیلئے بھی آحری حوالہ ’خدا کی تنزیل اور اسکا رسول‘ ہی ہو تو اس نظام کو مجموعی طور پر خدا کافرمانبردار کہا جائے گا، چاہے ذاتی حیثیت میں حکمرانوں کے اندر خداکی کچھ نافرمانی ہی کیوں نہ پائی جائے، جیساکہ ہمارے دورِ ملوکیت میں حکمرانوں کی ایک بڑی تعداد کاحال رہا۔ کیونکہ حکمرانوں کے ذاتی حیثیت میں خدا کی نافرمانی کرلینے سے ’نظام‘کی سرکشی لازم نہیں آتی۔
کسی ملک میں ’قانون‘ و ’لاقانونیت‘ کا تعین کرنے کیلئے اول و آخر حوالہ اگر خدائے رب العالمین کی شریعت ہے تو وہاں حکمرانوں کے شخصی تجاوزات اور ذاتی حیثیت میں خدا کی نافرمانی اور بدعملی زیادہ سے زیادہ ’فسق‘ کہلاتی ہے نہ کہ کفر، برخلاف ایک ایسے نظام کے جہاں ’قانون‘ و ’لاقانونیت‘ کا تعین کرنے کیلئے اول و آخر حوالہ خدائے رب العالمین کی شریعت نہیں۔ آخر الذکر کیلئے ہمارے پاس ایک ہی لفظ ہے اور وہ ہے کفر و سرکشی۔
٭٭٭٭٭
یہ ہے ان لوگوں کے اس عذر کی حقیقت جو ’آخر شریعت کی کونسی تعبیر کو اختیار کیا جائے؟‘ کے شکوہ کی صورت میں یہ پیش کیا کرتے ہےں۔ سیکولر طبقوں کی اس ’پریشانی‘ سے کہ ’آخر شریعت کی کونسی تعبیر اختیار کی جائے‘ کبھی دھوکہ مت کھائیے کہ واقعتا یہ مالک الملک کی منشا و مراد جاننے کیلئے ہی اس قدر بے چین ہیں۔ شریعت کی بابت ان کا یہ ’شکوہ‘ دراصل ’پارلیمنٹ کا اختیار‘ ثابت کرنے کیلئے ہوتا ہے! یہ دراَصل ’حاکم اعلیٰ‘ سے ایک طرح کی معذرت ہے! یعنی ان پر ’حاکم اعلیٰ‘ کی بات کبھی واضح ہی نہیں ہوتی لہٰذا ’اپنی‘ چلانے کے سوا اب اور چارہ ہی کیا ہے؟! پس ’منشائے شریعت‘ کے حوالے سے اس ازالۂ ابہام کی یہی ایک صورت ٹھہری ہے کہ سارا معاملہ پارلیمنٹ اپنے ہی ہاتھ میں لے لے، اصولِ شریعت ہیں تو تب اور فروعِ شریعت ہیں تو تب!
نتیجہ کیا نکلا؟ خدا اور رسول کی بات کو ’مذہب‘ ہونے کیلئے کوئی اضافی شرط پوری نہیں کرنی۔ بس وہ خدا کے ہاں سے اتری تو وہ ’مذہب‘ ہے۔ مگر ’قانون‘ ہونے کیلئے اس کو بڑے پاپڑ بیلنا ہوں گے۔ قانون ’ہونے‘ کیلئے شریعت کو ’منظوری چاہیے‘۔ یہ ’منظوری‘ وہ کس سے لے؟ اس کا جواب سب جانتے ہیں!
مسئلہ صرف اتنا ہے کہ ایک بات سیدھی صاف کی نہیں جا رہی۔ قریب قریب پوری دُنیا میں جو ایک جمہوری اصول رائج ہے وہی اپنے ہاں بھی پوری طرح رائج ہے۔ مگر ’خدا اور رسول کے احترام‘ میں اس کا بیان یہاں ذرا مختلف انداز میں کیا جاتا ہے۔ یہ ایک عالمی شریعت ہے جسے دُنیا کے بیشتر معاشرے قبول کر چکے ہیں: ’مذہب‘ کا مصدر ’خدا‘ اور ’قانون‘ کا مصدر ’ناخدا‘۔ معاملے کی آخری حد (Bottom Line)بس یہ ہے۔ آگے آپ اس کو کس طرح سمجھتے اور کس طرح بیان کرتے ہیں اور اس کے کیا دلائل دیتے ہیں، یہ آپ پر ہے۔
٭٭٭٭٭
سوال یہ ہے کہ کیا اسلام کے اصولِ فقہ میں ایک چیز کے ’مذہب‘ ہونے کیلئے عین وہی علمی شروط نہیں جو کسی چیز کے ’قانون‘ ہونے کیلئے پوری ہونا ضروری ہیں؟ ’ یا تو آپ کہیے کہ اسلام بس مذہب ہے قانون نہیں، پس اگر اسلام سے کچھ ثابت ہوتا ہے تو اس کو ’مذہب‘ رہنے دیجئے ’قانون‘ خدا کے ہاں سے اترتا ہی نہیں! لیکن ایسا سمجھنا اگر آپ کو شرک نظر آتا ہے۔۔۔۔ تو پھر اسلام سے جب ایک چیز ثابت ہو رہی ہو اس کے بیک وقت مذہب اور قانون کہلانے میں کیا رکاوٹ رہ جاتی ہے؟
رہی اسلام کی تعبیر اور تفسیر تو یہ رکاوٹ کیا صرف اسلام کو بطور قانون ماننے کے وقت ہی پیش آتی ہے؟ کیا اسلام کو بطور مذہب مانتے وقت اور اسلام کے مذہبی مسائل کے معاملے میں ہرگز کسی تعبیر اور تفسیر کی ضرورت نہیں ہوتی؟
’اختلاف‘ اگر کوئی ہوّا ہے تو کیا ’مذہبی‘ مسائل میں اختلاف نہیں ہوا؟ نماز کے بے شمار مسائل میں احادیث کے صحیح وضعیف ہونے میں محدثین کا اختلاف کیا نہیں ہوا؟ نماز کے بے شمار مسائل میں فقہاءکے ہاں کیا تعدد آراءنہیں پایا گیا؟ تو کیا پھر ’اختلاف‘ کے پیش نظر نماز پڑھنا اور پڑھانا بھی چھوڑ دی جائے گی؟ روزہ بھی موقوف ہو جائے گا؟ کیا واقعتا جس شرعی معاملے کی کسی جزئیت میں اہل علم کے ہاں اختلاف ہو گیا ہو آپ اس کو کلیتاً چھوڑ دینا یا موقوف کر دینا یا مکمل طور پر اپنی چلانا ہی وہاں مسئلے کا حل سمجھیں گے؟
’اختلاف‘ اور ’تَفرِقہ‘ دو مختلف چیزیں ہیں۔ مگر جہاں تک تفرقہ کی بھی بات ہے توتفرقہ پیدا کرنے والے تو نماز روزہ ایسے خاص ’مذہبی‘ مسائل میں بھی تفرقہ کو ہوا دینے سے نہیں چوکتے۔ پھر بھی نماز ___ آپ اگر پڑھنی ہو تو ___ پڑھ ہی لیتے ہیں۔ ’نماز کیسے پڑھیں؟‘ کا مسئلہ وہاں کسی نہ کسی طرح آپ حل کر ہی لیتے ہیں۔ طریقہ وہی سادہ طریقہ ہے: نماز سے متعلقہ مسلّمات (یعنی بنیادی امور) میں اسلامی مکاتبِ فکر کے مابین کوئی اختلاف سرے سے ہے ہی نہیں، بعض جزئیات میں جہاں اختلاف ہے وہاں البتہ آپ کسی ایک مکتبِ علم کے طریقے پر چل لیں گے اور یوں نماز بہرحال آپ پڑھ لیں گے۔ یعنی نماز آپ جس طبقۂ علم سے بھی سیکھ کر پڑھیں گے قیام، رکوع، سجود اور تشہد وغیرہ بہرحال کریں گے۔ کیونکہ ہر طبقۂ علم ہی آپ کو نماز کے بارے میں یہ بنیادی مسائل لازماً بتائے گا۔ البتہ نماز کے کچھ مسائل میں ___ جو کہ نماز کے اہم ترین مسائل نہیں، مثل رفع الیدین، یا سینے یا ناف پر ہاتھ باندھنا، یا انگشتِ شہادت کی حرکت وغیرہ ___ آپ دستیاب علم کے ایک منتخب حصہ پر عمل کریں گے اور (صرف) ان جزئیات کی حد تک دیگر طبقہ ہائے علم سے مختلف روش اختیار کریں گے ۔۔۔۔ نماز البتہ آپ پڑھ لیں گے۔
گویا جس کو نماز پڑھنی ہو وہ ’اختلافات‘ کے باوجود نماز پڑھ سکتا ہے۔ روزہ بھی رکھ سکتا ہے۔ زکوٰة بھی دے لیتا ہے۔ ’دین کی مختلف تعبیریں‘ یہاں اس کا راستہ روک کر کھڑی نہیں ہو جاتیں۔ مگر ”سود کی حرمت“ کے بارے میں، ”فحاشی اور بے حیائی کی شناعت“ کے معاملے میں، ”اجتماعی زندگی کے اندر اللہ کی کھلی کھلی حدوں کو نہ توڑنے“ کے معاملے میں ’اختلاف‘ آپ کے آڑے آجاتا ہے! یہاں آپ کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ خدا کے حکم کو اگر قانون ہونا ہے تو پہلے اس کی جزئیات تک میں ’اختلافات‘ کا خاتمہ کر کے آپ کو دکھایا جائے، یعنی دنیا میں کوئی شخص ان جزئیات پر اختلاف کرتا آپ کو نظر نہ آئے، بصورت دیگر خدا کے حکم کی جزئیات آپ کے ہاں کوئی حیثیت رکھیں گی اور نہ کلیات!!!
٭٭٭٭٭
اس موضوع کا ایک پہلو شاید ابھی تشنۂ وضاحت ہے۔۔۔۔
شریعت کے بعض معاملات میں، اور بعض مواقع پر، بلاشبہ اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہاں شریعت کی متعدد تعبیرات میں سے کسی ایک تعبیر کو ہی ایک وقت میں اختیار کیا جائے۔ یعنی اس پر لوگوں میں ایک وسیع تر اتفاق پایا جائے یا یہ کہ اس کو لوگوں کے مابین مشترکہ طور پر اپنایا جائے۔
یعنی بعض معاملات میں، اور بعض مواقع پر، شرعی حکم کی کسی تفسیر کو اگر متفقہ طور پر نہ اپنایا جا سکتا ہو، وہاں مشترکہ طور پر اپنایا جائے۔ اجتماعی امور میں بلا شبہ اس کی ضرورت پڑتی ہے۔
ان دونوں میں کیا فرق ہے؟
شرعی احکام پر سب علمی طبقوں کا اتفاق تو خاص معاملات کے اندر ہے۔ ان کو ہم نے دین کے مسلمات کہا ہے۔ ان میں جب اتفاق ہے تو آپ سے آپ یہاں سب کا اشتراک بھی ہے۔ ان میں کسی چوں وچرا کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔ البتہ شریعت کے کسی فرعی مسئلہ کی بابت اہل علم میں اگر کوئی اختلاف ہوا ہے تو معاشرے کے کچھ اجتماعی فورم ایسے ہیں جہاں ایک شرعی مسئلہ کی متعدد علمی تفسیروں میں سے کسی ایک ہی تفسیر کو ایک وقت میں اختیار کیا جا سکتا ہے اور سب تفاسیر کو بیک وقت لینے کی گنجائش ہوتی (واضح رہے بات ’جزئیات‘ کی ہو رہی ہے)۔ معاشرے کے بعض فورم ایسے ہیں جہاں سب آراءپر بیک وقت عمل ممکن نہیں۔ ایسی صورت میں ___ اس فورم کی حد تک___ فروع شریعت کی کسی ایک تعبیر کو یقینا اختیار کیا جا سکتا ہے۔
ایسی صورت میں شریعت کی وہ تعبیر جو اختیار کر لی گئی ہے، اگرچہ ’متفقہ‘ نہیں ہے مگر ’مشترکہ‘ ہو گئی ہے ۔۔۔۔ اور اس کی سماجی عمل میں پوری گنجائش ہے۔
اس کی کچھ تفصیل اب یہاں دی جاتی ہے:
یہ وضاحت دراصل ’مَا اَنزَلَ اللّٰہ‘ کی تعبیر کے حوالے سے سیکولرزم کے پھیلائے ہوئے کچھ شبہات کا ازالہ ہے اور یہ ازالہ ہمیں بے حد ضروری معلوم ہوتا ہے:
   کلیاتِ شریعت تو بذات خود واضح اور متعین ہیں جیسا کہ ہم پیچھے ذکر کر آئے ہیں۔ البتہ سماجی زندگی کے بعض فورموں پر جزئیاتِ شریعت کی بھی ایک معین (Definite) و مشترک (Unified) تعبیر کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ یہ واقعی سچ ہے۔
کچھ شک نہیں کہ اجتماعی نوعیت کے بعض امور میں جزئیاتِ شریعت کی کسی ایک تعبیر پر وسیع تر اتفاق کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لین دین اور اسی نوعیت کے دیگر معاملات میں عندالنزاع لوگ شریعت کی کسی ایک متعین تعبیر کی طرف رجوع کر سکیں اور متنازع اطراف اپنے اپنے عالم یا محدث کی تحقیق کا حوالہ نہ دیتے رہیں!
اس کا حل اسلامی معاشروں میں یہ اختیار کیا جاتا رہا ہے کہ اجتماعی معاملات کے بعض فورموں پر عند التنازع لوگوں کو شریعت کی متعدد فقہی تعبیروں میں سے کسی ایک تعبیر پر لے آیا جائے۔ البتہ اس کے ماسوا امور میں یا اس کے ماسوا مواقع پر لوگوں کو اپنے اپنے اعتماد کے اہل علم سے ہی فروعِ دین کا فہم لینے دیا جائے۔
اجتماعی معاملات میں ___ جہاں ایک وقت میں کسی ایک ہی فقہی رائے پر فیصلہ ہو سکتا ہے اور متنازعین کے مابین متعدد آراءپر بیک وقت عمل ممکن نہیں ___ شریعت کی متعدد فقہی تعبیروں میں سے کسی ایک تعبیر کو مقرر ٹھہرا دینے سے مراد ضروری نہیں چار مذاہب میں سے کسی ایک کو اختیار کرنے کی فرضیت ہو۔ خلفائے راشدین خود مجتہد تھے۔ بعد کے خلفاءاس کام کو اپنے وقت کے معتمد علماءے شریعت وفقہاءے دین پر چھوڑ دیتے رہے ہیں کیونکہ یہ کام اہل علم ہی کے کرنے کا ہے۔ اب یہ علماءجن کو افتاءاور قضاءوغیرہ کی ذمہ داری سونپی گئی اپنے ماتحت عدالتوں اور قاضیوں کیلئے ان امور کا تعین کر دیں گے جو عندالنزاع ان کومدنظر رکھنا ہوں۔ اب یہ افتاءاور قضاءکی مسند پر بیٹھے فقہائے کبار حالات کی رعایت سے کسی ایک مذہب کو اختیار کریں یا متعدد مذاہب سے قول راجح اختیار کریں یا مختلف علاقوں اور خطوںمیں وہاں مقامی طور پر رائج فقہی مذاہب کے جاننے والوں کو قضاءکی ذمہ داری سونپیں ۔۔۔۔ یا کوئی بھی مناسب حال صورت اختیار کریں ۔۔۔۔ یہ فیصلہ کرنا ان اہل علم کا کام ہے جن کو ___ خاص اجتماعی و عدالتی امور میں ___ خدا کے اتارے ہوئے قانون کی تعبیر اور تفسیر کی ذمہ داری سونپی گئی ہو۔
صدیوں مسلم معاشروں کے اندر معاملہ یوں ہی چلتا رہا۔ خدا کا اتارا ہوا خود بخود ’مذہب‘ بھی تھا اور ’قانون‘ بھی۔ البتہ وہ معاملات جن میں متعدد اصناف کے فقہی پس منظر رکھنے والے گروہوں کا ایک ساتھ چلنا ضروری ہو وہاں آپ کی مقتدرہ علمی قیادت ___ خواہ وہ امام ہے یا قاضی القضاۃ یا کوئی مجلس علماء___ لوگوں کیلئے فروع دین کی کسی ایسی تعبیر کا تعین کر دے گی جس پر عندالنزاع فیصلہ ہو۔
البتہ اس بات سے یہ تاثر لینا درست نہیں کہ ’دیکھا پھر مذہب اور قانون کا فرق نکل آیا‘! یہ انداز فکر صرف اور صرف سیکولرزم کے زیراثر عام ہوا ہے اور یہ ایک بڑی گمراہی اور تباہی کا شاخسانہ ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ’مذہب‘ کے بہت سے اجتماعی معاملات میں بھی ایک مشترکہ تعبیر کی ضرورت پڑتی ہے۔ یہ بات صرف ’قانون‘ کے ساتھ خاص نہیں۔ اس کی وضاحت ایک مثال سے:
ایک ایسی مسجد جس میں متعدد فقہی آراءرکھنے والے لوگ نماز ودیگر فرائضِ دین کی مل کر ادائیگی کرتے ہیں ___ اور تعددِ آراءظاہر ہے نہ تو دین کے ’مذہبی‘ فرائض مل کر ادا کرنے میں مانع ہے اور نہ ’سماجی‘ فرائض ___ تو ایسی ہر مسجد میں اس سوال کا اٹھ کھڑا ہونا ایک طبعی امر ہے کہ فقہی طور پر متنازعہ امور میں اجتماعی مواقع پر کیا طرز عمل اختیار کیا جائے۔
رمضان میں وتر کا معاملہ ہے۔ سب کو مل کر وتر ادا کرنا ہے۔ وتر کی بعض تفصیلات کی حد تک سنت اور صحابہ کے طرز عمل سے استدلال کرنے میں متعدد فقہی آراءہیں۔ ایک ہی مسجد میں کئی سارے ذہن پائے جاتے ہیں۔ یہاں آپ کیا کریں گے؟ سجود سہو کا معاملہ ہے۔ جمعہ کے کئی سارے مسائل ہیں۔ عید کی تکبیرات کا معاملہ ہے۔ عید کے خطبے دو ہوں یا ایک؟ زکوٰة کے مصارف کا معاملہ ہے۔ حج کے کئی مسائل میں اہل علم کی تحقیق مختلف ہے۔۔۔۔ ان مسائل کی بنیاد پر لوگ ظاہر ہے الگ الگ وتر کی جماعت نہیں کروائیں گے۔ الگ الگ جمعے نہیں پڑھیں گے۔ الگ الگ عید ادا نہیں کریں گے۔ الگ الگ حج نہیں کریں گے۔ یہ سب قانون کے نہیں ’مذہب‘ کے معاملات ہیں۔ یہاں مسلمان کیا طرز عمل اختیار کریں گے؟
مصر، شام، عراق، یمن اور کئی سارے مسلم ملکوں میں ایک سے زیادہ فقہی مسالک پائے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود خدا کا فضل ہے کہ (پاک و ہند کی طرح) ’فقہی اختلافات‘ کی بنا پر محلوں کی مسجدیں الگ الگ نہیں۔ مختلف فقہی مسالک کے لوگ مل کر بڑے آرام سے ایک ہی مسجد میں نماز پڑھ لیتے ہیں ۔۔۔۔ باوجود اس کے کہ ہر آدمی فروع دین میں جس فقہی تعبیر پر مطمئن ہے اس پر عمل بھی موقوف نہیں کرتا اور لوگ اکٹھے بھی رہتے ہیں ۔۔۔۔ سوال یہ کہ کیسے؟
مسئلے کا حل بہت ہی آسان ہے اور عالم اسلام کا ایک بڑا حصہ اللہ کے فضل سے آج تک اس پر عمل کرتا آیا ہے۔ مثال کے طور پر۔۔۔۔ آپ کو کسی وقت انفرادی طور پر وتر پڑھنا ہے تو اسی طریقے سے پڑھئے جسے آپ اقرب الی الحق سمجھتے ہیں۔ البتہ اگر جماعت سے وتر پڑھتے ہیں (رمضان میں) تو وہاں آپ کو مسجد میں متعین امام کی اقتداءکرنا ہوگی۔ آپ امام سے اختلاف ضرور کیجئے، چاہے اِس صورت میں کہ آپ کا اور امام کا مسلک الگ الگ ہے اور چاہے اس صورت میں کہ دلائل شریعت کی روشنی میں آپ کو اس سے اختلاف ہے، اس کا آپ کو پورا حق ہے۔ مگر خاص اجتماعی مواقع پر پھر بھی آپ امام ہی کی اقتدا کریں گے۔
جمعہ کے وہ سب مسائل جن پر آپ کو انفرادی طور پر عمل پیرا ہونا ہے ان میں آپ اپنی تحقیق یا اپنے مسلک پر چلئے مگر جمعہ کے خاص اجتماعی امور جن میں سب کو مل کر ہی چلنا ہے اور جن میں ایک وقت کے اندر ایک سے زیادہ مسالک پر عمل ممکن ہی نہیں، ان میں البتہ آپ امام کی اقتدا کریں گے۔ حج کے سب امور جن پر لوگ فرداً فرداً علیحدہ طرز عمل اختیار کر سکتے ہیں ان میں آپ اپنی تحقیق یا مسلک پر عمل پیرا ہوئیے مگر حج کے اجتماعی امور میں آپ حج کے امام کے تابع ہیں۔ (2)
یورپ اور امریکہ کی بیشتر مساجد میں جہاں دُنیا بھر کے مسلم ممالک سے آئے ہوئے لوگ اکٹھے ہوتے ہیں اور بے حد مختلف (Diverse) علمی وفقہی پس منظر رکھتے ہیں مگر سمجھدار ہوتے ہیں متنازعہ اجتماعی امور میں ’امام‘ پر مجتمع ہو کر بڑے آرام سے مسئلے کا حل نکال لیتے ہیں۔ خود اپنی تحقیق یا اپنے فقہی پس منظر پر بھی لوگ ذاتی طور پر کاربند رہتے ہیں حتی کہ اپنے دلائل امام کے گوش گزار بھی کرتے ہیں پھر بھی یہ طریقہ اختیار کرکے ان امور کو جو بیک وقت متنازعہ بھی ہیں اور اجتماعی بھی باحسن اسلوب نمٹاتے ہیں۔
حتی کہ آپ جانتے ہیں نکاح، طلاق، خلع، وراثت وغیرہ ایسے امور میں بہت سے فرعی مسائل ایسے ہیں جن میں فہم نصوص کے اندر اہل علم کا اختلاف ہوا ہے۔ یورپ اور امریکہ میں کہیں مسلم عدالتیں نہیں پائی جاتیں۔ عندالنزاع لوگ امام سے فیصلہ کرا لیتے ہیں جو کہ ممکنہ حد تک متنازعین کے فقہی مسالک و پس منظر کاخیال رکھتا ہے۔ متنازع اجتماعی امور میں یہی طریق کار اختیار کیا جانا ممکن ہے۔
پس اجتماعی معاملات میں ___ خاص اجتماعی مواقع پر ___ فروع شریعت کی ایک متعین تعبیر کی طرف رجوع کیا جانا حرج کی بات نہیں۔ اس کی ضرورت ’مذہبی‘ معاملات میں بھی اتنی ہی پڑ سکتی ہے جتنی کہ ’قانونی‘ معاملات میں۔
یہ ہےمَا اَنزَلَ اللہ کی تعبیر اور تفسیر کا معاملہ۔ رہا مَا اَنزَلَ اللہ کو ’پاس‘ کرنے کا فلسفہ تو وہ باطل ہے۔ اس سے یہ سمجھنا کس قدر مضحکہ خیز ہے کہ چونکہ فروع شریعت میں کہیں کہیں فقہاءکے مابین فہم واستدلال کا اختلاف پایا جاتا ہے (جبکہ اصول وکلیاتِ شریعت میں یہ مسئلہ سرے سے پایا ہی نہیں جاتا!) اس لئے شریعت کی مذہبی حیثیت تو آپ سے آپ ہے البتہ قانونی حیثیت نہیں اور یہ کہ ’قانونی حیثیت‘ پانے کیلئے ___ خواہ وہ شریعت کے اصول ہوں یا فروع ___ شریعت کو پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہے!
زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جا سکتی ہے وہ یہ کہ خاص اجتماعی نوعیت کے معاملات میں شریعت کے معنی ومراد کے تعین کا اسلام میں ایک خاص طریق کار ہے:
1- خدا کی جانب سے اتری ہوئی شریعت کی ___ مسلم معاشرے میں ___ آپ سے آپ برتری اور بالادستی ایک طے شدہ امر ہے۔ بلکہ مسلم معاشرہ کہا ہی اسے جاتا ہے جس میں ما انزل اللہ کو ہر چیز پر بالادستی حاصل ہو۔
2- لوگ شریعت کا علم اہل علم سے لیں گے۔
3- اصولِ شریعت (جن کو ’کلیات‘ بھی کہا جاسکتا ہے) میں اہل علم اختلاف کر ہی نہیں سکتے۔ پس اصول شریعت کی بابت دو رائیں پائی ہی نہ جائیں گی۔ یہ اسلام کے طے شدہ اور معلوم امور ہیں اور یہی شریعت کا ایک بڑا حصہ ہے۔ ایک مسلم معاشرے میں یہ آپ سے آپ ہر قانون سے بالاتر قانون اور ہر آئین سے بالاتر آئین ہوگا۔ اس پر نہ ’بحث‘ ہوگی اور نہ اس پر ’اظہارِ رائے‘ ہو گا۔
4- رہے فروعِ شریعت (جن کو ’جزئیات‘ بھی کہا جا سکتا ہے) تو ان میں بعض مقامات پر اہل علم کے ہاں تعددِ آراءپایا جا سکتا ہے۔ اہل علم کے پیچھے چلتے ہوئے، یہ تعددِ آراءعام مسلمانوں میں بھی لازماً سرایت کرے گا۔ اس میں کچھ حرج کی بات نہیں جب تک کہ اصل مرجعیت کتاب اللہ اور سنت رسول اللہﷺ کو حاصل رہتی ہے۔ لوگ انفرادی طور پر اپنی تحقیق یا اپنے اختیار کردہ مسلک پر عمل کرنے میں آزاد ہیں۔
5- البتہ کچھ خاص اجتماعی معاملات کے اندر جہاں ایک وقت میں ایک ہی قول اختیار کیا جا سکتا ہو ___ بات فروع شریعت کی ہو رہی ہے ___ وہاں پر مسلم قیادت یا مسلم قاضی کا اختیار کردہ قول ہی متنازعین کے مابین حکم ( Arbiter ) ہو گا۔ مسلم قاضی کو تعینات کیا جاتے وقت یا حتی کہ بعد میں بھی قاضی القضاۃ (یا وقت کی مقتدرہ علمی قیادت) کی جانب سے ہدایات دی جا سکیں گی کہ فروعِ شریعت میں کسی مسئلہ کی بابت عندالاختلاف اس کو کیا طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔ وقت کی مقتدرہ علمی قیادت (قاضی القضاۃ یا جو کوئی بھی ہو) وقتاً فوقتاً اپنے فیصلوں اور اپنے اجتہادات میں اگر کوئی تبدیلی (Change) یا ارتقاء (Developement) لے کر آتی ہے تو وہ اپنے ماتحت عدالتوں اور محکموں کو ان کی بابت باخبر (Update) کرتی رہے گی۔
غرض ”اسلامی نظام“ اور ”اسلامی آئین“ یہ ہے کہ اللہ کی نازل کردہ شریعت آپ سے آپ قانون ہے۔ خواہ اصولِ شریعت کا معاملہ ہو یا فروعِ شریعت کا، اس کو قانونی حیثیت آپ سے آپ حاصل ہے۔ رہی بات تعبیر (Interpretation) کی، تو اصولِ شریعت امت کے اندر واضح اور متفق علیہ ہیں۔ سو قانون کا یہ حصہ خودبخود واضح ہے یہاں چوں وچرا ممکن ہی نہیں۔ البتہ ’قانون‘ کا ایک حصہ وہ ہے جس میں ماہرین قانون (فقہاء) کے مابین تعدد آراءہو سکتا ہے۔ ’قانون‘ کے اس حصہ کی بابت لوگ خدا سے ڈرتے ہوئے کسی بھی معتبر ’ماہر قانون‘ (فقیہ یا مجموعۂ فقہاء) سے مدد لے سکتے ہیں۔ البتہ جہاں معاملہ مختلف المسالک اطراف سے متعلق ہو، اور بیک وقت ایک ہی قول پر عمل ہو سکتا ہو نہ کہ متعدد اقوال پر، وہاں دفعِ نزاع کیلئے ’قانون‘ کی وہی تعبیر محکم ہوگی جس کو اسلامی عدالت یا محکمہ یا ادارہ کے اندر متعلقہ اتھارٹی نے اختیار کر لیا ہو گا۔ جبکہ ’قانون‘ کے ان ’متنازعہ‘ مسائل کی بابت وقت کی مقتدرہ علمی قیادت اپنے ماتحت عدالتوں اور محکموں کو ایک خاص متعین طرزِ عمل کی پابند کر سکے گی اور وقتاً فوقتاً اپنے اجتہادات کے اندر تبدیلی بھی لا سکے گی۔
چنانچہ ”اسلامی نظام“ کے اندر بات شروع ہی یہاں سے ہوتی ہے کہ ”مَا اَنزَلَ اللہ“ ہر قانون سے بڑا قانون ہے ۔۔۔۔ اور یہ کہ یہ خودبخود قانون ہے۔ کوئی سوال اٹھ سکتا ہے تو صرف اس کی تفسیر کا۔ رہی اس کی تفسیر تو اس کا معاملہ ’ماہرین قانون‘ (فقہاءے دین) سے متعلق ہے۔ جب اس کا قانون ہونا خودبخود مسلّم ہے تو اس کی تفسیر آپ کو ہر حال میں اصحابِ علم اور مصادرِ علم سے لینی پڑے گی۔ اگر یہ ”قانون“ ہے اور اس کے ماسوا ”لاقانون“ ہے تو اس کی تفسیر حاصل کئے بغیر آپ کے پاس کوئی چارہ ہی نہیں رہتا۔ پھر آپ اس کی تفسیر اِن اصحاب علم سے لیتے ہیں یا اُن اصحاب علم سے، البتہ مجموعی طور پر آپ اس کے بہرحال پابند ہو جاتے ہیں۔ البتہ یہ کہ آپ سرے سے اس کو قانون کا رتبہ دینے یا نہ دینے کا حق رکھتے ہوں ۔۔۔۔ یا جب مناسب سمجھیں یا جب اکثریت رضامند ہو تب اس کو قانونی حیثیت دینے کا حق رکھتے ہوں ۔۔۔۔ اور کسی وقت مَا اَنزَلَ اللہ کے ماسوا کو بھی قانون کا رتبہ دے لیتے ہوں تو اس کے کفر ہونے میں کوئی شک ہی نہیں۔
رہا یہ کہ جس نظام کے اندر خدا کی اتاری ہوئی شریعت پارلیمنٹ کی اکثریت سے منظوری پانے کی محتاج رکھی جائے ۔۔۔۔ اور پارلیمنٹ سے منظوری پانے کی یہ محتاجی اصولِ شریعت کو بھی اتنی ہی لاحق ہو جتنی کہ فروعِ شریعت کو ۔۔۔۔ اور یہ منظوری ملے بغیر اللہ کی نازل کردہ شریعت ’مذہب‘ تو ہو گی مگر ’قانون‘ نہیں۔۔۔۔ تو یہ ایک کافرانہ نظام ہے اور ان انسانوں کی جانب سے، جو چند برس بعد قبر میں پڑ کر مٹی ہو رہنے والے ہیں اور پھر ان قبروں سے ننگے پاؤں اور برہنہ بدن اٹھائے جانے والے ہیں اور آخر پروردگارِ عالم کے حضور پیش کئے جانے والے ہیں، مالک الملک کے سامنے ایک بڑی ہی جرأت کی بات۔


(1) ملاحظہ فرمائیے اسی کتابچہ کی فصل: ’متبادل‘ کی بحث۔
(2) مثلاً یہ کہ اختلافِ مطالع یا اتحاد مطالع کی بنا پر آپ کے نزدیک ذوالحجۃ کی جو بھی تاریخ بنتی ہے ، حج آپ اسی روز کریں گے جس روز حج کا امام حج کرے گا ۔ اپنا الگ ’ عرفہ ‘ آپ نہیں کریں گے بے شک آپ امام کی اختیار کردہ رؤیت سے اختلاف ہی کیوں نہ کرتے ہوں ۔


Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours