ردِ جمہوریت پر مختلف مکاتب فکر کے
 جید علماء و مفتیانِ کرام کے فتاویٰ و فرامین حصہ اول

السلام عليكم و رحمة الله وبركاته

الله کی مہربانی اور عنایت سے مجهے یہ توفیق ملی کہ میں عظیم فتنئہ جمہوریت کے رد میں مختلف  مسالک( خنفی ، شافعی ) اور مکاتب فکر ( دیوبند ، اہل حدیث، بریلویاور سلفی ) کے جید علماء و مفتیانِ کرام کے فتاویٰ و فرامین ایک جگہ مرتب کر سکوں. حوالہ جات دینے کی اپنی پوری کوشش کی ہے ، بہرحال بحثیت بشر خطا ممکن ہے . لہذااہلِ علم اصلاح فرما دیں . جزاک الله .الله اپنی بارگاه میں اِس ناچیز عامی کی یہ ادنی سی کوشش قبول و نافع فرمائیں .آمين يارب العالمين

امام نور الہدیٰ   حضرت مولانا عبیدا للہ انور ؒ مقالات وارشادات ۔ 71 میں ارشاد فرماتے ہیں

اسلامی جمہوریت  اورا سلامی سوشلزم  

 آج کل ان اصطلاحات   پر بڑی بڑی بحثیں ہورہی ہیں   اورا خبارات کے کالم کے کالم سیاہ ہورہے ہیں ۔حالانکہ یہ دونوں اصطلاحیں اسلام کے مزاج کے خلاف ہیں ۔ جو شخص "اسلامی جمہوریت " کی اصطلاح استعمال کرتا ہے  ، وہ بھی اسلام   کو ناقص  تصور کرتا ہے اور جو "اسلامی سوشلزم" کی اصطلاح کو رواج دینے کے غم میں گھلا جارہا ہے ۔ وہ بھی حیات نہیں سمجھتا ۔ اس سلسلہ   میں بڑافریب یہ دیاجاتا ہے کہ ان ازموں اور طرز ہائے زندگی میں شامل سب کچھ اسلام میں ہے اور یہ نظریے اسلام کے خلاف نہیں تو پھر اس کا نام جمہوریت یا سوشلزم  رکھنے کی کیا ضرورت   ہے ؟ اسے صرف اسلام ہی کیوں نہ کہہ دیاجائے ؟ اسلا می جمہوریت  یا اسلامی سوشلزم   کی پیوندکاری سے کیا حاصل   ہے؟  اور ریشم   کے پاکیزہ اور صاف کپڑے میں یہ ٹاٹ کا پیوند کیوں لگانا چاہتے ہو؟

  صاف اور سیدھی بات یہی ہے کہ اسلام کا مزاج نہ مغربی جمہوریت سے لگاؤ کھاتاہے اور نہ ہی کمیونزم   سے اسلام  کو سروکار ہے۔ اسلام  فقط اللہ عزا سمہ جل  مجدہ کی حاکمیت کا قائل ہے۔ اس کا اعلان ہے :ان الحکم الا اللہ

سروری زیبا   فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے

حکمراں ہے اک وہی، باقی بتان آزری

  اسلام میں سربراہان مملکت کا کام نیابت وخلافت ہے۔ پیغمبر اسلام بھی قانون خداوندی کا نفاذ کرتا ہے   اور اپنی خواہشاتکے پیچھے کسی کو نہیں چلاتا ، اس لیے  اس کا معاشی نظام  کسی  فنی اور طبقاتی تقسیم کی نفرت پر مبنی نہیں بلکہ توحید  کے فطری اصول پر قائم ہے ۔اسلام نہ اشتراکی آمریت  کا حامی ہے ، نہ یورپ کے سرمایہ دار انہ نظام  کا مؤید ہے ۔اسلام شخصی  ملکیت کے بنیادی حق کو تسلیم  کرتے ہوئے کسی کو یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ دوسروں کے حقوق کا استحصال کرے ۔

مزید فرماتے ہیں کہ

کیا ہمارا آئین اسلامی ہے؟ہماری دینی مذہبی،سیاسی جماعتوں‌کا چونسٹھ سال سے ایک ہی تحریکی ناکام طریقہ کارہےجس کی چند صورتیں یہ ہیں ۔انٹرویو دینا ۔مظاہرہ کرنا ۔احتجاجی جلوس نکالنا۔ہڑتالیں کروانا ۔احتجاجی جلسے کروانا ۔دھرنا دینا ۔لانگ مارچ ۔سوشل بائیکاٹ ۔ استقبالیہ، دعوتیں ، افطارپارٹیاں،عید ملن پارٹیاں،عشائیہ،ظہرانہ وغیرہ یہ سب طریقے اغیارسے لیے گئے ہیں اس ناکام طریقہ کار کے ذریعے یہ جماعتیں تو آئین پاکستان کواسلامی آئین بنانے میں کامیاب نہیں ہوسکیں تو اس ملک کو اسلامی مملکت بنانااوراسلامی نظام قائم ونافذ کرنا ممکن ہی نہیں ہے (ایں خیال است محال است جنون

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفتی نظام الدین شامزئی رحمہ اللہ

مجھےجو بات آپ سے عرض کرنی ہے وہ یہ کہ اب بھی اگردنیامیں اللہ تبارک وتعالیٰ کا دین غالب ہوگاتووہ ووٹ کے ذریعے سے نہیں ہوسکتا۔۔۔۔کہ آپ سیاسی جماعت بنا کر مغربی جمہوریت کے ذریعے سے آپ اللہ کے دین کوبڑھاناچاہیں۔۔۔اللہ کے دین کو غالب کرناچاہیں۔۔۔تو کبھی بھی دنیا میں اللہ تبارک وتعالیٰ کا دین ووٹ کے ذریعے سے۔۔۔مغربی جمہوریت کے ذریعے سے غالب نہیں ہوگا۔اس لیےکہ اس دنیا کے اندر اللہ کے دشمنوں کی اکژیت ہے۔۔۔۔فساق اورفجار کی اکثریت ہے۔۔۔اورجمہوریت جو ہے وہ بندوں کو گننے کا نام ہے،بندوں کو تولنے کا نام نہیں ہے۔اقبال نے کہا تھا کہ

جمہوریت ایک طرز حکومت ہے کہ جس میں

بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

وہاں بندوں کو گنا کرتے ہیں کہ کتنے سر ہیں۔۔۔لہٰذامغربی جمہوریت کے ذریعے کبھی اسلام نہیں آسکتا ہے۔۔۔جیسا کہ پیشاب کے ذریعے کبھی وضونہیں ہو سکتا اور جیسا کہ نجاست کے ذریعے سے کبھی طہارت اور پاکی حاصل نہیں کی جاسکتی۔اسی طرح سے لادینی اورمغربی جمہوریت کے ذریعے سے کبھی اسلام غالب نہیں آسکتا۔۔۔۔دنیا میں جب بھی اسلام غالب ہوگا تو اس کاواحد راستہ وہی ہے۔۔۔جوراستہ اللہ کے نبی حضرت محمد صلي اللہ عليہ وسلم نے اختیار کیا تھا۔۔۔۔اور وہ جہادکارستہ ہے کہ جس کے ذریعےسے اس دنیا میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا دین غالب ہوگا۔

ماہنامہ سنابل، کراچی، مئی 2013، جلد 8، شمارہ 11، ص 33

   48 سال علماء نے انتخابی اور جمہوری سیاست میں ضائع کئے ، میں دعوی سے کہتا ہوں کہ اس طرزحکومت سے48 ہزار سال کے بعد بهی اسلام نہیں آئے گا ۔  (خطباتِ  شامزئی ، ص ۲۰۳ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولاناشاہ محمد حکیم اختر رحمۃ اللہ علیہ فرماتےہیں

’’اسلام میں جمہوریت کوئی چیز نہیں کہ جدھر زیادہ ووٹ ہوجائیں ادھر ہی ہو جاؤ، بلکہ اسلام کا کمال یہ ہے کہ ساری دنیا ایک طرف ہوجائےلیکن مسلمان اللہ ہی کا رہتا ہے…… جب حضور ﷺنے صفا کی پہاڑی پرنبوت کااعلان کیا تھا تو الیکشن اور ووٹوں کےاعتبار سے کوئی بھی نبی کے ساتھ نہیں تھا۔نبی کے پاس صرف اپنا ووٹ تھا، لیکن کیاحضور ﷺ اللہ کے پیغام کے اعلان سےباز آ گئے کہ جمہوریت چونکہ میرے خلاف ہے،اکثریت کی ووٹنگ میرے خلاف ہے اس لیےمیں اعلانِ نبوت سے بازرہتا ہوں‘‘؟

خزائنِ معرفت و محبت، ص 209

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مفتی حمید اللہ جان صاحب

اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں ! صرف اسلامی پاکستان!

اس جمہوری کتے کو اس کنوئیں سے نکالو گے تو کنواں پاک ہوگا ورنہ ہزار ڈول نکال لو یہ کنواں پاک ہونے والا نہیں ،،، !

مفتی حمید اللہ جان نے جمہوریت کی شرعی حیثیت اور اس کے نقصانات پرگفتگو کرتے ہوئے کہاکہ جمہوریت فساد کی جڑ ہے جب تک اس ملک سے جمہوری نظام کاخاتمہ نہیں ہوتا اس وقت تک یہاں اسلام کے نفاذ کی بات کرنا خام خیالی ہے۔ انہوں نےمزید کہا کہ جتنے بھی لادینیت پر مبنی قوانین اس ملک کے آئین میں ہیں ہم اس نظام حکومت (جمہوریت) کےذریعے انکا کبھی بھی خاتمہ نہیں کرسکتے۔ انہوں نے ان جماعتوں کو دعوتِ فکر دی جو پارلیمنٹ میں اسلام کے دفاع کے لئے اپنی موجودگی کو ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر آپ اس نظام کے تحت دفاع کرسکتے تو یہ قوانین کبھی نہ بنتے۔

مشاہدہ اور تجربہ سے ثابت ہے کہ موجودہ مغربی جمہوری نظام ہی بے دینی ، بے حیائی، اورتمام فسادات کی جڑ ہے اور خصوصاََ اس میں اسمبلیوں کوحق تشریع (آئین سازی، قانون سازی) دینا سراسرکتاب وسنت اور اجماعِ اُمت کے خلاف ہے

اور ووٹ کا استعمال مغربی جمهوری نظام کو عملا تسلیم کرنا اور اس کی تمام خرابیوں میں حصه دار بننا هے اسلئے موجوده مغربی نظام کے تحت ووٹ کا استعمال شرعا ناجائز هے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  مولانامفتی تقی عثمانی فتح الملھم ، ص 284 ج 3 میں فرماتے هیں 

"اسلام کا نظام سیاسی ڈیمو کریسی اور ڈکٹیٹر شپ سے جدا ہے۔ (گویا جمہوریت الگ ہے اوراسلامی نظام الگ ہے اس کا اُس سے کوئی تعلق نہیں)"۔

اورفتاوی عثمانی جلد سوم ، باب الامارة و السیاسة میں فرماتے هیں

 مغربی جمہوریت جسکی بنیاد "عوام کی حکمرانی" کے تصور پر هے ، اسلام کے قطعی خلاف هے ، کیونکه اسلام کی بنیاد "الله کی حاکمیت اعلی" کے عقیدے پر هےجسے قرآن کریم نے "إن الحكم إلا لله" کے مختصر جملے میں ارشاد فرمایاهے ، لہذا مغربی جمہوریت کو اپنے تمام تصورات کے ساته برحق سمجهنا عصر حاضر کی بدترین گمراہیوں میں سے هے ، اور ایسے لوگوں کو شرعی طور پر گمراه کہا جائے گا ، اوراگر کوئی شخص اس تفصیل کے ساته مغربی جمہوریت کو برحق سمجهے که پارلیمنٹ اگر کوئی قانون قرآن کریم کے کسی صریح حکم کے خلاف نافذ کر دے تو ( معاذ الله ) پارلیمنٹ کاقانون هی برحق هو گا تو ایسا اعتقاد کفر هے ، لیکن اگر کوئی شخص پارلیمنٹ کےفیصلوں کو قرآن و سنت کے تابع قرار دے تو اس کو کفر یا گمراہی نہیں کہہ سکتے ، مگراس کا مطلب یه هو گا که وه مغربی جمہوریت کو جوں کا توں قبول نہیں کرتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مولانافضل محمد دامت برکاتہم "اسلامی خلافت"، صفحہ ۱۱۷ پر لکھتے ہیں

۔"اسلامی شرعی شوریٰ اور موجودہ جمہوریت کے درمیان اتنا فرق ہے جتنا آسمان اور زمین میں،وہ مغربی آزاد قوم کی افراتفری کا نام ہے۔ جس کا شرعی شورائی نظام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔"

۔"اسلامی خلافت"، صفحہ 176 پرلکھتےہیں:۔

۔"کچھ حضرات یہ کہتے ہیں کہ اسلامی جمہوریت، یہ کہنا ایسا ہیہے جیسا کہ کوئی کہے کہ اسلامی شراب۔"

جمہوریت میں اسلام کی بو تک نہیں دنیامیں جو ممالک امریکی بلاک میں شامل ہیں اور وہاں جمہوریتیں قائم ہیں۔توہرکافر،مشرک،یہودی،عیسائی،بدھ مت،ہندو،پارسی اورمنکرِخداجمہوریت کو اچھاسمجھتے ہیں۔پاکستان میں جو پارٹیاں اسلام کے نام کوسنناگوارا نہیں کرتی ہیں۔وہ صبح وشام جمہوریت کےراگ الاپتی ہیں۔اگرجمہوریت میں ایک ذرہ برابر بھی اسلام ہوتاتویہاں اسلام کے پکےدشمن کبھی بھی جمہوریت کا نام نہیں لیتے۔معلوم ہوا کہ جمہوریت میں اسلام کی بو تک نہیں ہے ،علمائےکرام کوخوب یاد رکھ لیناچاہیےکہ جمہوریت میں اسلام تلاش کرنا وقت کاضیاع ہے ؀کسے درصحن کا چی قلیہ جید اضاع العمر فی طلب للحالترجمہ:"کھیر کے پیالے میں بوٹیاں تلاش کرنافضول وقت ضائع کرنا ہے" کچھ حضرات کہتے ہیں اسلامی جمہوریت،یہ کہنا ایسا ہی ہے کہ کوئی کہے اسلامی شراب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسلامی فساد (فتنہ ارتداد اور جہاد فی سبیل اللہ،صفحہ نمبر:139۔مولانا فضل محمدحفظہ اللہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

داعیٔ ختم نبوت مولانا یوسف لدھیانوی فرماتے ہیں

’’بعض غلط نظریات قبولیتِ عامہ کی ایسی سند حاصل کرلیتےہیں کہ بڑے بڑے عقلاء (اور عالم کہلانے والے بھی)اس قبولیتِ عامہ کے آگے سرڈال دیتے ہیں ،وہ یا تو ان غلطیوں کاادراک ہی نہیں کرپاتے یا اگر ان کو غلطی کااحساس ہوبھی جائے تو اس کے خلاف لب کشائی کی جرأت نہیں کرسکتے۔دنیا میں جو بڑی بڑی غلطیاں رائج ہیں، ان کے بارے میں اہل عقل اسی لئے المیے کا شکار ہیں!اسی غلط قبولیتِ عامہ کا سکہ آج ’’جمہوریت‘‘میں چل رہاہے ۔جمہوریت دورِ جدید کا وہ ’’صنمِ اکبر‘‘ہے جس کی پرستش اول اول دانایانِ مغرب نے شروع کی۔چونکہ وہ آسمانی ہدایت سےمحروم تھے،اس لئے ان کی عقلِ نارسا نے دیگر نظام ہائے حکومت کے مقابلے میں جمہوریت کا بت تراش لیااور پھر اس کومثالی طرزِ حکومت قرار دے کر اس کا صور بلند آہنگی سےپھونکا کہ پوری دنیا میں اس کاغلغلہ بلندہوا،یہاں تک کہ مسلمانوں نے بھی تقلیدِمغرب میں جمہوریت کی مالا جپنی شروع کردی۔کبھی یہ نعرہ بلند کیا گیا کہ’’اسلام جمہوریت کا علم بردار ہے‘‘اور کبھی’’اسلامی جمہوریت ‘‘(جیسی خبیث اصطلاح)وضع کی گئی۔حالانکہ مغرب’’جمہوریت‘‘کے جس بت کا پجاری ہے ،اس کا نہ صرف یہ کہ اسلام سےکوئی تعلّق نہیں بلکہ وہ اسلام کے سیاسی نظریہ کی ضد ہے۔اس لئے اسلام کےساتھ جمہوریت (یا اس کی اصطلاحات )کا پیوند لگانا اور جمہوریت کو مشرف بہ اسلام کرناصریحاً غلط ہے‘‘۔

الغرض!جمہوریت کے عنوان سے'عوام کی حکومت، عوام کے لئے' کا دعویٰ محض ایک فریب ہے، اوراسلام کے ساتھ اس کی پیوندکاری فریب در فریب ہے، اسلام کاجدید جمہوریت سے کوئی تعلق نہیں، نہ جمہوریت کو اسلام سے کوئی واسطہ ہے، 'ضدان لایجتمعان' (یہ دو متضادجنسیں ہیں جو اکٹھی نہیں ہوسکتیں)۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ ’’حجۃ اللہ البالغۃ“کے باب ’’سیاسۃ المدینۃ’’ میں فرماتےہیں

’’ولماكانت المدينة ذات اجتماع عظيم لا يمكن أن يتفق رأيھمجميعاعلى حفظ السنةالعادلة…’’۔

’’جبکہ شہر انسانوں کے بڑے ہجوم کا نام ہے،سو ان سب کی رائےکا سنت کی حفاظت پر متفق ہوجانا ناممکن ہے……‘‘۔

معلوم ہواکہ جمہوری نظام ، جو اکثریت کی موافقت کا محتاج ہوتا ہے،اس میں اسلام ومسلمانوں کی کامیابی ثابت کرنادھوکہ کے سواکچھ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  قاری طیّب قاسمی رحمہ اللہ "فطری حکومت"میں لکھتے ہیں 

۔"یہ(جمہوریت) رب تعالٰی کی صفت 'ملکیت' میں بھی شرک ہےاورصفتِ علم میں بھی شرک ہے۔"

کثرت رائے اور قوت رائے

طرزجمہوری میں کثرت رائے کو وزن دیا جاتا هے ، جبکه اسلامی نظام حکومت میں اصل وزن"ویزن" اور قوت رائے" کا هوتا هے ...

 حکیم السلام قاری محمد طیب قاسمی رح فطری حکومت میں فرماتے هیں "

اس سے کثرت رائے کو فیصله کا بنیادی اصول قرار دے دیئے جانے کی جڑ کٹ جاتی هے ، یعنی امیر منتخب شوری کی آراء میں رائے شماری کر کے اکثریت و اقلیت کا پابند نه هو گا بلکه قوت دلیل کا پابند هو گا. پس قوت دلیل اساسی چیز هو گی نه که کثرت رائے که زیاده افراد کا کسی ایک جانب آجانا اسلام میں حق و باطل کے فیصلے کے لیے کوئی بنیادی حیثیت نہیں رکهتا . اس لیےفی نفسه اکثریت کو اسلام قانون ( قرآن حکیم ) نے بهی کوئی وقعت نه دیتے هوئے حددرجه غیر اہم ٹہرایا هے اور دین و ملک اور دیانت و سیاست کے تمام هی دائروں میں نفس اکثریت کی بے وقعتی اور بے اعتباری کهلے لفظوں میں ظاہر کی هے .

پس قرآن نے دنیا کی اکثریت سے ایمان کی نفی ، عقل کی نفی ، علم کی نفی ، محبت حق کی نفی ، تحقیق حق کی نفی ، تیقظ و بیداری اور فہم سلیم کی نفی ، وفاء عہد کی نفی کی، ہدایت کی نفی کی ، ثواب آخرت اور جنتی هونے کی نفی کی ، جہاد میں اکثریت کےگهمنڈ پر فتخ و نصرت کی نفی کی .

استعمالی اشیاء میں اکثریت معیار حق تو کیا هوتی مرکز باطل هے ، کیونکه بلحاظ واقعه دنیا کی اکثریت حماقت ، جہالت ، کراہت حق ، اٹکل کی پیروی ، غفلت ، بد عہدی ، ضلالت ، عذاب اخروی ، جہنم رسیدگی ، شکست خوردهگی وغیره کا شکار هے ، اس لیے محض عد دی اکثریت اسلام اصول پر کیا قابل واقعت قرار پا سکتی تهی که اسے حقوق کیلیے فیصله کن اصول تسلیم کر لیا جاتا اور امیر کو اس کا پابند کر دیا جاتا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 مولاناادریس کاندھلوی رحمہ اللہ"عقائدِاسلام" میں لکھتے ہیں 

کسی حکومت کے اسلامی ہونے کے لئے حاکم کا ذاتی طور پر مسلمان ہونا کافی نہیں ، جب تک خود حکومت کا مذہب من حیث الحکومت نہ ہو . جیسے آج کل قومی اورعوامی اور نیشنل حکومت کا چرچا ہے ، سو ایسی حکومت اسلامی ںہیں کہلا سکتی .جوحکومت اللہ کی حاکمیت اور قانونِ شریعت کی برتری اور بالادستی کو نہ مانتی ہوبلکہ یہ کہتی ہو کہ حکومت عوام کی ہے اور مزدوروں کی ہے اور ملک کا قانون وہ ہے جوعوام اور مزدور بنا لیں.... سو ایسی حکومت بلاشبہ حکومتِ کافرہ ہے۔

اِنِالْحُكْمُ اِلَّا لِلّٰهِ (سورة یوسف ، ۴۰ )

ۭوَمَنْلَّمْ يَحْكُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاُولٰۗىِٕكَهُمُالْكٰفِرُوْنَ ( سورة المائدة ، ۴۴ )

اَفَحُكْمَالْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُوْنَ ۭوَمَنْ اَحْسَنُمِنَاللّٰهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍيُّوْقِنُوْنَ ( سورة المائدة ، ۵۰ )

پس جو فرد یا جماعت قانونِ شریعت کے اتباع کو لازم نہ سمجهے اس کےکفرمیں کیا شبہ ہے .ایمان نام ہے ماننے کا اور کفر نام ہے نہ ماننے کا

  مفتی محمود رحمہ اللہ نے مینگورہ سوات میں ایک وکیل کے سوال کےجواب میں فرمایا 

۔"ہم جمہوریت پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس میں تو دو مردوں کی آپس میں شادی کی اجازت ہے۔جیسا کہ برطانیہ نے اس کا بل کثرتِ رائے سے پاس کیاہے۔" (اسلامی خلافت ،صفحہ177)

  مولانامحمود الحسن گنگوہی رحمہ اللہ "فتاویٰ محمودیہ"، جلد 20، صفحہ 415 میں لکھتے ہیں

۔"اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں (لہذا یہ نظامِ کفرہے) اور نہ ہی کوئی سلیم العقل آدمی اس کے اندر خیر تصور کر سکتا ہے۔"

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے جمہوریت کی تردید فرمائی ہے۔ وہاں قوانین و احکام کادارومدار دلائل پر نہیں بلکہ اکثریت پر ہے، یعنی کثرتِ رائےسےفیصلہ ہوتا ہے۔ پس اگر کثرتِ رائے قرآن و حدیث کے خلاف ہو تو اسی پر فیصلہ ہوگا۔قرآنِ کریم نے اکثریت کی اطاعت کو موجبِ ضلالت فرمایاہے،﴿وَإِنْ تُطِعْأَكْثَرَمَنْ فِي الْأَرْضِيُضِلُّوكَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِالآية﴾[1]۔ ا ہلِ علماہ اہلِ دیانت اہلِ فہم کم ہی ہواکرتے ہیں۔ خلفائے اربعہ رضی اللہ عنہم حضور اکرم ﷺ کے نقشِ قدم پر چلنےوالےتھے،انہوں نے اس کے خلاف کوئی دوسری راہ اختیار نہیں کی ہے۔

) حررہالعبد محمود عفی عنہ دارالعلوم دیوبند ۲۴۔۴۔ ۱۳۹۰ھ)[2]

فتاوئ  محمودیہ؛ جلد چہارم؛ کتاب السیاسۃ والھجرۃ؛ باب جمہوری و سیاسیت نظیموں کا بیان

 آجکل جمہوریت کا مفہوم یه هے که ہر بالغ مرد ، عورت ، خوانده ناخوانده ، عاقل ، سفیہ، کو ووٹ دینے کا حق هے اور ان کے ووٹوں کی اکثریت سے سربراه حکمراں تجویز کیاجاتا هے . اسلام میں اس جمہوریت کا کہیں وجود نہیں ، نه کوئی سلیم العقل اس کےاندر خیر تصور کرتا هے ، ظاہر هے که اکثریت نادانوں کی اور جاہلوں کی هے وه لوگ ایسے شخص کو هی ووٹ دیں گے جس کے ذریعہ ان کی خواہشات پوری هونے کی توقع هواور یه یقین هے که ان کی خواہشات میں شر کا غلبہ هے تو شر پهیلانے والے سربراه کاانتخاب کون سی عقل کی بات هے ؟ اس ملک کی سیاه بختی کا کیا ٹهکانه ، جہاں کی سربریہ کامعیار اہلیت و دلائل سے ہٹ کر عوام کالا کانعام کی کثرت پر رکھ دیاجائے (فتاویٰ محمودیہ ، جلد ۱ )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 مولانااشرف علی تھانوی رحمہ اللہ "ملفوظاتِ تھانوی"، صفحہ 252 پرلکھتے ہیں 

۔" غرض اسلام میں جمهوری سلطنت کوئی چیز نهیں.....یه مخترعه متعارفه جمهوریت محض گهڑا هوا ڈهکوسله هے ، بالخصوص ایسی جمهوری سلطنت جو مسلم و کافر ارکان سے مرکب هو وه تو غیر مسلم سلطنت هی هوگی.۔"۔

ایک وعظ میں فرماتے ہیں:۔

۔"آجکل یہ عجیب مسئلہ نکلا ہے کہ جس طرف کثرتِ رائے ہو وہ بات حق ہوتی ہے۔ صاحبو! یہ ایک حد تک صحیح ہے مگر یہ بھی معلوم ہے کہ رائے سے کس کی رائے مراد ہے؟ کیا انعوام کالانعام کی؟ اگر انہی کی رائے مراد ہے تو کیا وجہہے کہ حضرت ہود علیہ السّلام نے اپنی قوم کی رائےپر عمل نہیں کیا، ساری قوم ایک طرف رہی اور حضرت ہود علیہالسّلام ایک طرف۔ آخر اُنہوں نے کیوں توحید کو چھوڑ کربُت پرستی اختیار نہیں کی؟کیوں تفریقِ قوم کا الزام سر لیا؟ اسی لئے کہ وہ قوم جاہل تھی۔ اسکی رائے جاہلانہرائے تھی۔" (معارفِ حکیمُ الامّت، صفحہ 617)

۔"مولانامحمد حسین الٰہ آبادی رحمہ اللہ نے سید احمد خان سےکہا تھا کہ آپ لوگ جو کثرتِ رائے پر فیصلہ کرتے ہیں، اس کا حاصل یہ ہے کہ حماقت کی رائے پر فیصلہ کرتے ہو،کیونکہ قانونِ فطرت یہ ہے کہ دنیا میں عقلاء کم ہیں اوربیوقوف زیادہ، تو اس قاعدےکی بنا پر کثرتِ رائے کا فیصلہ بیوقوفی کا فیصلہ ہوگا۔" (معارفِ حکیمُ الامّت، صفحہ 626)

عہدِحاضر میں جو سیاسی جماعتیں اسلام کا نام لیکر اُٹھی ہیں ، ان کی اکثریت بھی نہ صرف یہ کہ جمہوریت کو ایک مسلم اصول قرار دے کر آگے بڑھی ہے، بلکہ انہوں نے بھی اپنےمقاصد میں جمہوریت کے قیام کو سرفہرست رکھا ہے اور خود اپنی جماعت کو بھی جمہوری ڈھانچے پر تعمیر کیا ہے۔ چنانچہ اس ضمن میں یہ دعوے بھی بکثرت کئے گئے ہیں کہجمہوریت اسلام کے عین مطابق ہے بلکہ اسلام نے جمہوریت ہی کی تعلیم دی ہے، کسی نےبہت احتیاط کی تو یہ کہہ دیا کہ جمہوریت کے جو اجزاء اسلام کے خلاف ہیں، ہم ان کےقائل نہیں ہیں۔ لہٰذا ہماری جمہوریت " اسلامی جمہوریت" ہے۔

یہ تصورات ہمارے دور میں اس قدر مشہور ہو گئے ہیں کہ ان کے خلاف کچھ سوچنا ، کہہ دینا ۔۔۔ دنیا بھرکی لعنت و ملامت کو اپنے سر لینے کے مترادف ہے، اور اگر ایسے ماحول میں کوئی شخص جمہوری حکومت کے بجائے شخصی حکومت (حکیم الامت رحمہ اللہ "شخصی حکومت" سے مراد وہ مثالی حکمران" مراد لیتے ہیں جسے امیرلمومنین یاخلیفہ وقت کہا جاتا ہے۔ص37) کی حمایت کرے تو ایسا شخص تو آج کی سیاسی فضا میں تقریباً کلمہ کفر کہنے کا مرتکب سمجھا جانے لگا ہے۔

(حکیم الامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی افکار صفحہ نمبر: 31، مفتی تقی عثمانی حفظہاللہ

جمہوریتنے کثرتِ رائے کو (معاذ اللہ) خدائی کا مقام دیا ہوا ہے کہ اس کا کوئی فیصلہ ردّنہیں کیا جاسکتا ۔

(حکیما لامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی افکار صفحہ نمبر: 32، مفتی تقی عثمانی مدظلہ)

حکیم الامت مولانا اشرف علی تهانوی فرماتے هیں که

"بعض لوگوں کو یه حماقت سوجهی که وه جمہوری سلطنت کو اسلام میں ٹهونسنا چاہتے هیں اوردعوی کرتے هیں اسلام میں جمہوریت هی کی تعلیم هے اور استدلال میں یه آیت پیش کرتےهیں "وشاورهم فی الامر" ( اور تم معملات میں ان سے مشوره کرو ) مگر یهبلکل غلط هے . لوگوں نے مشوره کی دفعات هی کو  دفع کر دیا هے . اسلام میں  جو مشوره کا درجه هے اس کو بلکل نہیں سمجها ... جس آیت سے یه جمہوریت کا استدلالکرتے هیں اس کا اخیر جزو خود ان کے دعوی کی تردید کر رها هے ... مگر ان کی حالت یه هے که ایک جزو کو دیکهتے هیں اور دوسرے جزو سے آنکهیں بند کر لیتے هیں"

(حکیمالامت حضرت تھانوی رحمہ اللہ کے سیاسی افکار صفحہ نمبر: ۴۳،مفتی تقی عثمانی مدظلہ)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  مفتیاعظم پاکستان مولانا مفتی رشید احمدلدهیانوی رح: نےفرمایا

"احسنالفتاویٰ"، جلد 6، صفحہ24 تا 26 میں لکھتے ہیں:۔

۔"اسلام میں مغربی جمہوریت کا کوئی تصّور نہیں، اس میں متعددگروہوں کا وجود(حزبِ اقتدار و حزبِ اختلاف) ضروریہے،جبکہ قرآن اس تصّور کی نفی کرتا ہے:۔

وَٱعْتَصِمُوا۟بِحَبْلِ ٱللَّهِجَمِيعًاوَلَاتَفَرَّقُوا۟ ۚ(آل عمران : آیت 103)۔

۔"اللہ تعالیٰ کی رسی کو سب مل کر مضبوط تھام لو اور پھوٹ نہ ڈالو"۔

اس میں تمام فیصلے کثرتِ رائے سے ہوتے ہیں جبکہ قرآن اسان دازِ فکر کی بیخ کرتا ہے:۔

وَإِنتُطِعْ أَكْثَرَ مَن فِي الْأَرْضِ يُضِلُّوكَعَنسَبِيلِ اللَّـهِ(الانعام: آیت 116)۔

یہ  غیر فطری نظام یورپ سے درآمد ہوا ہےجس میں سروں کوگناجاتا ہے تولا نہیں جاتا۔ اسمیں مرد و عورت، پیر و جواں، عامی و عالم بلکہ دانا ونادان سب ایک ہی بھاؤ تلتےہیں۔

جساُمیدوار کے پلّے ووٹ زیادہ پڑ جائیں وہ کامیاب قرار پاتا ہےاوردوسرا سراسر ناکام۔مثلاً کسی آبادی کے پچاس علماء، عقلاء اور دانشوروں نےبالاتفاق ایک شخص کو ووٹدئیے، مگر ان کے بالمقابل علاقہ کے بھنگیوں، چرسیوں اوربے دین اوباش لوگوں نے اسکے مخالف اُمیدوار کو ووٹ دیدئیےجن کی تعداد اکّاون ہوگئی تو یہ اُمیدوار کامیاب اور پورے علاقہ کے سیاہ و سفید کا مالک بن گیا۔

یہ تمام برگ و بار مغربی جمہوریت کے شجرہ خبیثہ کی پیداوار ہے۔اسلام میں اس کافرانہ  نظام کی کوئی گنجائش نہیں۔ نہ ہی اس طریقے سے قیامت تک اسلامی نظام آسکتا ہے۔بفحوائے 'الجنس یمیل الی الجنس' عوام(جن میں اکثریت بے دین لوگوں کی ہے)اپنی ہی جنسکے نمائندے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجتے ہیں۔

اسلام میں شورائی نظام ہے جس میں اہل الحل و العقد غور و فکر کرکےایک امیر کا انتخاب کرتے ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وفات کےوقت چھ اہل الحل و العقدکی شوریٰ بنائی جنہوں نے اتفاقِ رائے سے حضرت عثمان رضیاللہ عنہ کو خلیفہ نامزدکیا۔

اس  پاکیزہ نظام میں انسانی سروں کو گننے کے بجائےانسانیت کا عنصر تولا جاتا ہے، اسمیں ایک ذی صلاح مدبّر انسان کی رائے لاکھوں بلکہ کڑوروں انسانوں کی رائے پر بھاریہوسکتی ہے۔

حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کسی سے استشارہ کےبغیر صرف اپنی ہی صوابدید سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا انتخاب فرمایا، آپ کا یہ انتخاب کس قدر موزوں مناسب اور جچاتُلا تھا۔"۔

چ میں شورائی اور استخلاف کا نظام موجود هے .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  مولاناعصمت اللہ معاویہ 

جمہوریت اور آمریت کے اس چوہے بلی کے کھیل میں عوام کو تماشہ بنادیاگیا ۔ آخر کب تک ہم آمریت اور جمہوریت جیسے اسلام مخالف ظالم نظاموں میں گھن کیطرح پستے رہیں گے ۔ اےلوگو! کب تک اس ظالمانہ کافرانہ نظام کے تحت ہم در پردہ کفار کی غلامی کرتے رہیںگے ۔ یہ ملک اسلام کے نام پر لیاگیا ، اس کی مٹی کامقدراسلام ہے۔ ہماری تباہیوں اور بربادیوں اور تمام بیماریوں کا علاج بھی اسلام ہی ہے۔جن جاگیر داروں نے سرمایہ اور جاگیروں کی وجہ سے ہم پر حکومت قائم کر رکھی ہے۔ کیا یہ وہی لوگ نہیں ہیں جن کے آبا انگریزوں کے وفادار تھے ۔ کیا یہ وہی جاگیریں نہیں جو انگریز کی عطا کردہ ہیں۔

ہم جس جمہوریت کے علم بردار ہیں ۔ رب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی قسم ، وہ جمہوریت کفر ہے، ظلم ہے، رب کی بغاوت ہے۔ اس کا اسلام سےقطعاًکوئی تعلق نہیں

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شیخ الاسلام مولانا سیدحسین احمد مدنی فرماتے هیں که

"مسلمانان ِ پاکستان جو اہل سنت والجماعت سے تعلق رکهتے هیں وه سب ہمارے بهائی هیں . ان سے ہمارے تعلقات ویسے هی ہونے چاہئیں جو ساری دنیا کے سنی مسلمانوں کے ساته هیں . وہاں ایک یورپین طرز کی جمہوری حکومت هے . جس میں حسب آبادی مسلم اور غیر مسلم سب حصہ دار هیں . جیسا که خود مسٹر جناح نے بار بار تصریح کی هے اور اب اسمبلی کے افتتاخ میں انہوں نے یہی تقریر کی هے . اس کو بیرونی حکومتیں بهی اسلامی حکومت نہیں تسلیم کرتے . ( مکتوبات شیخ الاسلام ، معارف وحقائق )

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours