شام، فلسطین، یمن، عراق، ہند  از اوریا مقبول جان  

گزشتہ چودہ صدیوں سے مسلمان اس زمین پر آباد ہیں۔ ان کی داستان عروج سے زوال کی دردناک کہانی ہے۔ حالی نے جب مدّ و جزرِ اسلام پر مسدس لکھی تو اس کا آغاز اس مصرعے سے کیا “پستی کا کوئی حد سے گزرنا دیکھے” تھا۔ پستی کی انتہا جس کو حالی نے اس وقت محسوس کیا تھا۔ اس کے بارے میں درد مندانِ ملت یہ سمجھتے تھے کہ اس کا علاج موجود ہے۔


اسی زمانے میں پورے عالمِ اسلام میں خوابیدہ ملت کو جگانے کی کئی تحریکوں نے جنم لیا۔ سید احمد شہید اور شاہ اسمٰعیل شہید کی تحریک سے لے کر تحریکِ خلافت تک ایک بیداری کی لہر تھی جو نہ صرف برِصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں میں دوڑی بلکہ افریقہ میں مہدی سوڈانی، مصر میں اخوان، انڈونیشیا میں ماشومی جیسی کئی تحریکوں نے جنم لیا۔ملت کو اقبال جیسا ہدی خوان میسر آیا جس نے عجم میں آباد مسلمانوں کے دلوں میں امید کی شمعیں روشن کیں۔ ان تمام تحاریک اور اسلام کی نشاۃِ ثانیہ کے علمبرداروں کی کاوشیں اور محنتیں اس وقت بکھر کر رہ گئیں جب مسلم دنیا جدید سیکولر قومی ریاستوں میں تقسیم ہو گئی۔ ہر کوئی سرحدوں میں قید اپنے ملکوں پر مسلط کیے گئے حکمرانوں سے لڑنے میں مصروف ہو گیا۔ ان ستاون کے قریب اسلامی ملکوں میں جتنے بھی حکمران تھے ان میں اکثریت سیکولر ڈکٹیٹروں کی تھی۔
ہر ملک میں ان سیکولر ڈکٹیٹروں کا ایک تسلسل نظر آتا ہے۔ مصر میں جمال عبد الناصر، انورالسادات، حسنی مبارک، عراق میں احمد حسن البکر، صدام حسین، شام میں حافظ الاسد اور بشار الاسد، لیبیا میں معمر قذافی، پاکستان میں ایوب خان، یحییٰ خان، پرویز مشرف۔ سعودی عرب اور ایران کو چھوڑ کر پوری عرب دنیا اور مسلم خِطوں میں تمام کے تمام حکمران خواہ ڈکٹیٹر ہوں یا جمہوری سیکولر قومی ریاستی اقدار کے پاسبان ہیں۔ کوئی سیکولر جمہوری ہے تو کوئی سیکولر ڈکٹیٹر۔ یہ سب کے سب مسلمانوں کی چودہ سو سال کی تاریخ، روایت، اقدار اور طرزِ زندگی کا الٹ ہیں۔ چودہ سو سال میں مسلمانوں میں حکمران خلافت اور ملوکیت دونوں طرز کے رہے لیکن 1924ء تک مسلم دنیا میں اسلامی اصولوں پر مبنی تمام ادارے قائم رہے۔
اسلام کا تعزیراتی نظام نافذ رہا اور عدالتی نظام بھی اسی طرح قائم رہا۔ مسلمانوں کا معاشی نظام 1924ء تک ترکوں کے “سوک” تک چلتا تھا جس میں سود نام کی چڑیا پر نہیں مار سکتی تھی۔ مجلہ عدلیہ الاسلامیہ بھی اسی دور تک نافذ رہا جس سے تمام اسلامی معاشی اصول نافذ کیے جاتے تھے۔ تمام تعلیمی ادارے اسلامی اصولوں کے تحت تعلیمی نظام چلاتے تھے۔
جدید سیکولر قومی ریاستوں کے وجود کے بعد مسلم امت پر مسلط سیکولر ڈکٹیٹروں نے اپنے ملکوں میں سیکولر اخلاقیات نافذ کرنے کی کوشش کی۔ امت کے وہ لوگ جو چودہ سو سال سے ایک مختلف طرزِ زندگی کے عادی تھے ان میں اوّل اوّل تو شدید نفرت کے جذبات ابھرے۔ یہی وجہ ہے اس دور کا لکھا گیا اسلامی ادب مزاحمتی ادب کا پیکر تھا۔
مولانا ابوالاعلٰی مودودی اور سید قطب اس دور کے درخشندہ ستارے تھے جن کی تحریروں نے امت کے پژمردہ اور مایوس جسم میں انقلاب کی روح پھونکنے کا فریضہ انجام دیا۔ اس کے بعد ہرمسلم کہلانے والے ملک میں ایک گروہ ایسا ضرور پیدا ہو گیاجو اپنے ماضی کی طرف لوٹنا چاہتا تھا جس میں ان کے دین کو معاشرتی زندگی پر غلبہ حاصل تھا۔ جدید سیکولر قومی ریاستوں کا المیہ یہ تھا کہ ان میں ہر کوئی عالمی سیاسی نظام کا محتاج اور عالمی طاقتوں کے رحم و کرم پر تھا۔
ان عالمی طاقتوں نے جو عالمی سیاسی نظام وضع کیا تھا اس میں جمہوریت کو مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن ایسی جمہوریت جو سیکولر اقدار پر استوار ہو۔ اسی لیے الجزائر اور مصر میں جب ایسے لوگ جمہوری طور پر برسرِ اقتدار آئے جو اسلامی نظامِ حکومت کے داعی تھے تو انھیں بزور طاقت کچل دیا گیا۔ افغانستان اور عراق میں لاکھوں لوگوں کو قتل کر کے، خود ایک آئین تحریر کیا گیا، اپنی نگرانی میں الیکشن کرائے گئے اور طاقت کے زور پر جمہوریت نافذ کر دی گئی۔
یہ گزشتہ سو سال کی مایوسی، ناکامی، نامرادی، عالمی طاقتوں کی غنڈہ گردی، تشدّد، شدید قتلِ عام، اور ہر سطح پر عدم شنوائی تھی جس کی وجہ سے چیچنیا سے شام، یمن سے عراق، لیبیا سے صومالیہ اور فلسطین سے کشمیر تک ہر جگہ مسلح جدوجہد کے سوا اب کچھ اور نظر نہیں آتا۔ کیا یہ سب فساد کسی دن امن کے خوبصورت مستقبل میں بدل جائے گا یا پھر ایک طویل خونریزی اور بہت بڑی جنگ ہماری راہ دیکھ رہی ہے۔ یہ اس امت کے ہر مرد و زن کے چہرے پر لکھا ہوا سوال ہے۔
جو لوگ سیدالانبیاء  ﷺ کے علمِ حدیث کے دریا میں غوطہ زن ہیں، ان کے نزدیک اب امن نہیں بلکہ ایک طویل خونریزی اور بہت بڑی جنگ ہماری راہ دیکھ رہی ہے۔ یہ دورِ فتن ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا “تم پر چار فتنے آئیں گے، پہلے فتنے میں خونریزی کو حلال سمجھا جائے گا، دوسرے فتنے میں خون اور مالوں کو حلال سمجھا جائے گا، تیسرے فتنے میں خون، مال اور شرمگاہوں کو حلال سمجھا جائے گا، اور چوتھا فتنہ بہرا، اندھا اور سب پر چھا جانے والا ہو گا، وہ سمندر کی موجوں کی طرح ٹھاٹھیں مارے گا حتٰی کہ لوگوں میں کسی ایک کے لیے بھی اس فتنے سے بچنے کا کوئی ٹھکانہ نہ ہو گا۔
یہ فتنہ ملک شام میں پھرے گا اور عراق کو ڈھانپ لے گا اور جزیرہ عرب کو اپنے ہاتھ اور پاؤں سے روند ڈالے گا”۔ (کتاب الفتن، نعیم بن حماد؛ 89) یہ ہے وہ ترتیب جو میرے آقا نے دورِ فتن کے دوران آنے والے فتنوں کے بارے میں بتائی۔ اس دورِ فتن کے آخر میں ایک بہت بڑی جنگ ہے جس میں حق کی فتح اور اسلام کا غلبہ ہے۔
حضرت ابراہیم کی نسل سے تین مذاہب نے جنم لیا۔ یہودیت، عیسائیت اور اسلام۔ ان تینوں مذاہب کے لوگ اس جنگ پر یقین رکھتے ہیں۔ لیکن بحیثیت قوم اس پر پختہ ایمان صرف اور صرف یہودیوں کا ہے، اور انھوں نے اجتماعی طور پر پختہ یقین کے ساتھ اس کے لیے ہجرت بھی کی ہے۔ ذرا چند لمحوں کے لیے یہ تصور کیجیے کہ آپ یورپ یا امریکا کے کسی بڑے شہر میں آباد ہیں۔ آپ کا وہاں وسیع کاروبار ہے۔ آپ کا وہاں بہت بڑا گھر ہے، جس میں آپ کئی دہائیوں سے امن، سکون اور عیش و عشرت سے رہ رہے ہیں۔
آپ یا آپ کی کم از کم گزشتہ چھ سات نسلوں کا یروشلم سے گزر تک نہیں ہوا کہ آپ کی کوئی جذباتی وابستگی اس شہر یا اس کے گرد و نواح کے ساتھ ہو۔ آپ کی قوم پر گزشتہ دو ہزار سال سے افتاد ضرور ٹوٹی ہے، آپ کو دنیا بھر میں شدید نفرت کا سامنا رہا ہے۔ مگر اب تو حالات بدل چکے۔ اب تو معاشی، سیاسی، بینکاری اور میڈیا تک کی قوتیں آپ کے ہاتھ ہیں۔
آپ کا دنیا کے فیصلہ کرنے والے مراکز پر قبضہ ہے۔ ایسے حالات میں آپ سے یہ کہا جائے کہ جزیرہ نمائے عرب کے ایک کونے اور صحرائے سینا کے دامن میں جا کر آباد ہو جاؤ۔ ایسا علاقہ جہاں نہ پانی میسر ہے نہ بجلی، نہ کوئی شہری آبادی ہے اور نہ ہی شہری سہولیات کا تصور۔ تو یقینا آپ اسے پاگل پن کہیں گے۔ لیکن یہودی 1920ء سے آہستہ آہستہ اپنا گھر بار اور کاروبار چھوڑ کر یہاں آباد ہونا شروع ہوئے۔ حیفہ اور تل ابیب جیسے صحرائی علاقوں میں جہاں چاروں جانب ریت اور اردگرد آباد دشمن۔ جنگِ عظیم دوم آئی یہودیوں پر شدید ظلم و ستم ہوا لیکن وہ ڈٹے رہے اور اتحادی افواج کی فتح کے بعد وہ ان ملکوں میں مستحکم ہو گئے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ اب انھی ملکوں میں رہتے اور اقتدار کے مزے لوٹتے۔ لیکن وہ یروشلم کے آس پاس آ گئے، انھوں نے ایک خود مختار قومی ریاست بنائی، اسے سیکولر نہیں مذہبی ریاست رکھا اور تورات کو اس کا آئین قرار دیا۔ ریاست بنتے ہی پہلی عرب اسرائیل جنگ ہوئی لیکن کسی یہودی میں عدم تحفظ کا احساس پیدا نہ ہوا، کوئی اسرائیل چھوڑ کر نہ بھاگا۔ بلکہ آج دن تک امریکا اور یورپ کے خوشحال یہودیوں کا وہاں آ کر آباد ہونے کا سلسلہ جاری ہے۔
یہ سب یہاں کاروبار کرنے، شہر آباد کرنے یا کسی پر فضا مقام پر زندگی گزارنے کے لیے جمع نہیں ہو رہے ہیں۔ یہ ایک بہت بڑی عالمگیر جنگ کے لیے جمع ہو رہے ہیں، جس کے بعد انھیں یقین ہے کہ ان کی ایک ایسی حکومت قائم ہو گی جو پوری دنیا پر حکمران ہو گی اور جس کا ہیڈکوارٹر یروشلم ہو گا۔ جہاں ان کا مسیحا آئے گا، ہیکل سلیمانی دوبارہ تعمیر ہو گا اور وہ اپنا عروج دیکھیں گے۔
کیا تمام مسلم امہ میں دس فیصد لوگوں کو بھی اس بات کا ادراک ہے کہ وہ سب کے سب ہم سے لڑنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ کیا ہمارے منبر و محراب پر سید الانبیاء کی بیان کردہ وہ حدیث جو متفق علیہ ہے بیان ہوتی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا “قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی یہاں تک کہ تم یہودیوں سے جنگ کرو گے، یہاں تک کہ وہ پتھر جس کے پیچھے یہودی ہو گا، کہے گا کہ اے مسلم! یہ دیکھو یہ ایک یہودی میرے پیچھے چھپا ہوا ہے۔
” (بخاری)۔ ایسی ہی حدیث مسلم شریف میں بھی درج ہے جس میں ایک اضافہ ہے “یہودی پتھر یا درخت کے پیچھے چھپیں گے تو پتھر یا درخت کہے گا،  اے مسلمان! اللہ کے بندے! یہ یہودی میرے پیچھے ہے،  سوائے غرقد کے درخت کے کیوں کہ وہ یہود کا درختوں میں سے ہے” (مسلم)۔ یہ وہ عالمی جنگ جس کی تمام تیاری دوسری جانب سے مکمل ہے۔ لیکن اس جنگ سے قبل مسلم امّہ ایک بہت بڑے دورِ فتن سے گزرے گی، یہ وہی فتنے ہیں جو اندھے گونگے اور بہرے ہیں۔ یہ فتنے چار سو ہیں، اور اس وقت ہر ملک میں پھیلے ہیں۔         (باقی آیندہ)
وہ طاقتیں جنہوں نے یہ آخری عظیم جنگ مسلم امہ کے خلاف لڑنی ہے‘ ان کا ہیڈ کوارٹر اور مرکز تو یروشلم میں ہو گا اور دنیا بھر کا یہودی اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے ایک جذبہ ایمانی کے ساتھ گزشتہ ایک سو سال سے وہاں جا کرآباد ہو رہا ہے۔ اس ملک کو ایک بڑی فوجی اور ایٹمی قوت کے طور پر مستحکم کیا جا رہا ہے۔ چودہ سو سال قبل جب سید الانبیاء ﷺ اس دجالی ہیڈ کوارٹر کے بارے میں خبردار کر رہے تھے تو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا کہ ایسا کب اور کس طرح ہوگا۔
اگر یروشلم دجال یا پھر یہودی مسیحا کا ہیڈ کوارٹر اور مرکز ہو گا تو پھر اس سے لڑنے والی مسلمان افواج کا مرکز کونسا مقام ہوگا۔ سیدالانبیاءﷺ نے اس کی بھی وضاحت فرما دی۔ ’’حضرت ابو لدردا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جنگ عظیم کے وقت مسلمانوں کا خیمہ (ہیڈ کوارٹر) شام کے شہروں میں سب سے اچھے شہر دمشق کے قریب ’’الغوطہ‘‘ کے مقام پر ہو گا‘‘ (سنن ابو داؤد‘ مستدرک‘ الغنی لا بن قدامہ)۔ الغوطہ شام کے دارالحکومت دمشق سے ساڑھے آٹھ کلو میٹر پر ہے۔ موجودہ شام اس بڑے شام کا حصہ ہے جو رسول اکرمﷺ کے زمانے میں اردن‘ فلسطین اور لبنان پر مشتمل تھا۔
آج کا شام جنگ و جدل اور قتل و غارت کا شام ہے۔ عرب دنیا میں 2011 میں اٹھنے والی آزادی اور انقلاب کی تحریکوں میں شام کی تحریک جس طرح خانہ جنگی اور قتل و غارت میں تبدیل ہوئی ہے اس کی مثال عرب دنیا کی گزشتہ ایک ہزار سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ ایسے لگتا ہے پوری مسلم امہ کا انتشار شام میں آ کر جمع ہو گیا ہے اور عالمی طاقتوں کی رسہ کشی کا مرکز بھی شام ہی ہے۔ گزشتہ بیس سالوں سے دنیا کے بارے میں یہ تصور عام ہو چکا تھا کہ اب یہ صرف ایک ہی عالمی طاقت امریکا کے زیراثر ہے اور روس ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے لیکن شام کی خانہ جنگی نے بیس سال پہلے کے میدان جنگ کو پھر تازہ کر دیا۔ یہ دونوں عالمی طاقتیں روس اور امریکا میدان میں بعد میں کودے ہیں جب کہ مسلم دنیا کے دو ممالک ایران اور سعودی عرب‘ خالصتاً علاقائی بالادستی کے لیے پہلے دن سے میدان میں اتر چکے تھے۔
بشار الاسد کی حکومت کو بچانے یا اسے گرانے کی کوشش ایسے لگتا ہے شیعہ سنی جنگ میں تبدیل کر دی گئی ہے حالانکہ اس کے پس پردہ محرکات میں ایران‘ ترکی‘ سعودی عرب اور قطر کی شام کے علاقے میں بالادستی کی جنگ ہے۔ ورنہ بشار الاسد علوی عقیدہ رکھنے والے افراد میں سے ہے جن کے بارے میں شیعہ سنی گزشتہ ایک ہزار سال سے متفق ہیں کہ وہ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ کس قدر چالاکی اور ہوشیاری سے ایران اور دیگر مسلم ممالک نے اسے ایک شیعہ سنی لڑائی میں تبدیل کر کے پوری ملت اسلامیہ کو فتنہ و فساد میں مبتلا کر دیا ہے۔ آئیے دیکھیں وہاں کون کون سے گروہ ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں اور ان کو کس طاقت کی حمایت حاصل ہے۔
پہلا گروہ جس نے بشار الاسد کی حکومت کے خلاف اٹھنے والی عوامی تحریک کا رخ ہتھیار اٹھانے کی طرف موڑا، وہ جبۃ النصرہ تھا۔ 2012 میں عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے بشار الاسد نے طاقت کا استعمال شروع کیا‘ چار لاکھ کے قریب لوگ ہجرت کر کے لبنان اور اردن میں پناہ گزین ہو گئے تھے۔ ہجوم پر براہ راست فائرنگ کر کے انھیں قتل کیا جا رہا تھا۔ ایسے میں عراق میں القاعدہ نے 12 لڑکوں کو ابو ماریہ القحطانی کی سربراہی میں شام بھیجا تاکہ وہاں بشار الاسد کے خلاف جدوجہد کا آغاز کرے۔ یہ تمام لڑکے شام سے عراق لڑنے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ان لوگوں نے اپنے ساتھ شام کے افراد کو ملایا اور کچھ علاقوں کو اپنے کنٹرول میں لینا شروع کیا۔ ان کے ساتھ اردن کے بہت بڑے عالم ڈاکٹر سامی العریبی بھی آکر مل گئے۔
یہ وہی ڈاکٹر سامی ہیں جنہوں نے موجودہ دور میں حدیث کے سب سے بڑے شارح علامہ ناصر البانی سے 23 سال کی عمر میں مناظرہ کیا تھا کہ مسلمان دنیا کے تمام حکمران کافر ہیں۔ اس وقت جبۃ النصرہ کی قیادت ابو محمد الجولانی کے پاس ہے جو شافعی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں اور جبۃ النصرہ کے پاس شمال میں ادلب اور جنوب میں دران اور کونیترہ کا علاقہ ہے۔ الدولۃ الاسلامیہ یعنی داعش نے جب عراق اور شام میں اپنی حکومت کا اعلان کیا تو ان کی لڑائی ان کے ساتھ بھی شروع ہوئی۔ 3 جنوری 2013ء کی لڑائی بہت خونریز تھی۔ اس وقت النصرہ کے کافی افراد داعش کے ساتھ جا ملے ہیں۔ جس طرح القاعدہ کے اپنے مالی امداد کے ذرایع تھے جو خفیہ طور پر ان کی مدد کرتے تھے اسی طرح یہاں پر ان گروہوں کے پس پردہ لوگ بھی واضح نہیں ہیں۔
دوسرا گروہ جیش الاسلام ہے۔ اس کی سربراہی شیخ زاہران اللوش کے پاس ہے۔ ان کے والد سعودی عرب میں جلاوطنی کی زندگی گزارتے رہے‘ مدینہ یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہیں۔ اصل وطن دوحہ ہے لیکن یہاں اس لڑائی میں اپنے گروہ کی سربراہی کر رہے ہیں۔ جیش الاسلام کے پاس ’’الغوطہ‘‘ کا مشرقی علاقہ ہے۔ اس گروہ کی مدد اور اعانت سعودی حکومت سے کی جاتی ہے۔ شام میں بشار الاسد کے خلاف لڑنے والوں کی سب سے بڑی قوت حرکت و احرار الشام الاسلامیہ ہے۔ جسے حسان عبود نے قائم کیا۔ یہ انگریزی کے استاد تھے اس کی سربراہی حمہ کے سبیل القاب کے پاس ہے۔ حرکت احرار کے پاس دو مکمل صوبے طرطوس اور سویدا کا کنٹرول ہے۔ اس تنظیم کو ترکی کی مکمل مدد حاصل ہے۔ ترکی اس وقت شام کے معاملات میں دلچسپی لینے والا سب سے بڑا ملک ہے جہاں 18 لاکھ شامی مہاجرین پناہ گزین ہیں جن پر ترکی کا تقریباً 6 ارب ڈالر خرچہ اٹھ رہا ہے۔ حرکت و احرار کو بھی شام میں معتدل قوت سمجھا جاتا ہے۔ مصر کے اخوان المسلمون کی ایک تنظیم لواء التوحید عبدالقادر الصالح کی سربراہی میں شام میں قائم ہوئی لیکن 2013 میں ان کے ایک معرکے میں جاں بحق ہونے کے بعد تقریباً دم توڑ چکی ہے۔
امریکا اور اس کے اتحادی دو تنظیموں کی مدد کر رہے ہیں۔ ایک الجیش السوری الحر ہے جسے عرف عام میں فری سیرین آرمی کہا جاتا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بشار الاسد کی فوج سے باغی ہوئے اور انھوں نے اپنا ایک گروہ بنا لیا۔ اس گروہ کو امریکا اور اس کے اتحادیوں کی حمایت اور فوجی معاونت حاصل ہے۔ دوسرا گروہ کردستان ورکرز پارٹی ہے۔ یہ لوگ کرد علاقوں میں لڑ رہے ہیں۔ ان کا مقصد وہاں کا کنٹرول حاصل کرکے ترکی میں کرد آزادی کی تحریک کو آگے بڑھانا ہے۔ مغرب اور امریکا کی مدد ان کو بھی حاصل ہے۔ دوسری جانب بشار الاسد کی حمایت میں پہلے ایران کے پاسداران آ کر لڑتے رہے اور اب ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کی سربراہی میں اپنی افواج بھی اتار دی ہیں۔ لیکن ساتھ ساتھ پوری دنیا سے اپنے ہم مسلک افراد کو وہاں لڑنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ان کے دو گروہ وہاں دیگر سنی گروہ سے لڑ رہے ہیں۔ ایک لواء الفضل العباس ہے جس میں عراقی شیعہ شامل ہیں جب کہ دوسرا گروہ زینبیہ ہے جس میں پاکستان اور بھارت سے گئے ہوئے اہل تشیع کے افراد ہیں۔
حسن نصر اللہ نے اسرائیل سے اپنی جنگ گزشتہ کئی سالوں سے ترک کی ہوئی ہے اور اب حزب اللہ صرف شام میں لڑ رہی ہے۔ شام میں اکثریت سنی العقیدہ عوام کی ہے جس پر دس فیصد سے بھی کم علویوں کی حکومت بشار الاسد کی آمریت کے ذریعے قائم ہے۔ شام میں اثنا عشریہ شیعوں کی آبادی صرف فواء کے شہر میں ہے۔ حرکت الاحرار کی ایک ہزار توپیں اس شہر کے ارد گرد نصب ہیں جس کی وجہ سے حزب اللہ حرکت کے ساتھ لڑائی نہیں کرتی۔ پوری دنیا میں الدولۃ اسلامیہ یعنی داعش کا تذکرہ ہے حالانکہ وہ صرف صحرائی علاقوں پر قابض ہے جس میں رقہ‘ دیرالزور اور حمص شامل ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ بشار الاسد کی افواج اور داعش میں شمال اور مشرق کے محاذ پر ایک سمجھوتہ ہے۔
اس پورے محاذ کا 45 کلو میٹر بشار کی افواج کے پاس ہے اور باقی پوری سرحد پر داعش تمام دیگر سنی تنظیموں کے حملوں کا مقابلہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی عالمی طاقت نے حملہ کرنا ہو تو نام داعش کا استعمال کیا جاتا ہے اور حملہ باقی تنظیموں پر کیا جاتا ہے۔ پہلے امریکا اور اس کے اتحادی حرکت الاحرار اور جبۃ النصرہ پر فضائی حملے کرتے تھے جس سے داعش مضبوط ہوتی تھی اور بشار الاسد کی حکومت ڈگمگاتی تھی‘ ان حملوں میں الجیش السوری الحر کو مدد فراہم کی جاتی تاکہ وہ مضبوط ہو۔ اب روس‘ ایران اور عراق مل کر الجیش السوری پر حملہ کرتی ہے تاکہ امریکا وہاں مضبوط نہ ہو۔
شام کی سرزمین پر جو جنگ و جدل اور خونریزی ہے اور جس طرح مغربی طاقتیں امریکا اور روس اس پر قبضے کی جنگ لڑ رہے ہیں، اسی طرح مسلم امّہ کی دو طاقتیں سعودی عرب اور ایران بھی وہاں اپنے غلبے کی لڑائی لڑ رہی ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ امریکا اور روس کھل کر اعلان کرتے ہیں کہ یہ ہمارے اس خطے میں مفادات کی جنگ ہے، لیکن سعودی عرب اور ایران اسے مسلک کا لبادہ اوڑھا کر منافقت کرتے ہیں اور اپنے علاقائی ایجنڈے کو حق و باطل کی جنگ بنا کر پیش کرتے ہیں۔
یہ نہ شیعہ کی لڑائی ہے اور نہ سنی کی، یہ وہ قتل و غارت اور خانہ جنگی ہے جس نے پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ مارچ 2011ء میں شام کے صدر بشارالاسد کے خلاف بھی ویسی ہی عوامی تحریک اٹھی تھی جیسی مصر، تیونس، مراکش، لیبیا اور یمن میں تحریکیں اٹھیں۔ پہلی جماعت جس نے بشارالاسد کے خلاف تحریک سے جنم لیا اسے حساّن عبود ابو عبداللہ نے منظم کیا، جسے حرکتِ احرار الشام الاسلامیہ کہتے ہیں۔ گیارہ نومبر 2011ء کو اس نے اپنے قیام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا کسی عالمی جہادی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ اس دوران بشارالاسد کے مظالم اسقدر شدید ہو گئے کہ لاکھوں لوگ ہجرت کر گئے اور بھوک کا عالم یہ تھا کہ لوگ مردہ جانوروں کا گوشت تک کھا کر زندہ رہنے پر مجبور ہو گئے۔
اس ظلم کے ردعمل میں بشار حکومت کے خلاف ہر علاقے میں جہادی گروہوں نے جنم لینا شروع کیا۔ سعودی عرب نے اپنے ایک عالمِ دین امیر زہران علوش کو مکمل امداد کے ساتھ وہاں بھیجا جس نے جیش الاسلام کے نام سے تنظیم بنائی۔ یہ غوطہ شہر پر قابض ہیں اور انھوں نے دمشق پر حملہ کرنے کے لیے درجنوں سرنگیں کھود رکھی ہیں۔ چند ماہ قبل انھوں نے شام کے وزیرِ انصاف کو دمشق کے ریڈ زون سے اغوا کیا اور بدلے میں پانچ سو قیدیوں کو چھڑایا۔ 22 نومبر 2013ء کو حسان عبود نے ان تمام تنظیموں کو اکٹھا کیا اور گیارہ جماعتوں کے اتحاد کے بعد “الجبہۃالاسلامیہ” کا اعلان کر دیا۔
اس اتحاد میں کردوں کی بہت بڑی تنظیم الجبہۃ الاسلامیہ کردیہ بھی شامل تھی۔ یہ وہ موڑ تھا جس سے عالمی طاقتوں کو اس کھیل میں کودنے کا موقع ملا۔ سعودی عرب کی جیش الاسلام کی حمایت کے بعد ایران ویسے تو بشارالاسد کی پہلے سے ہی مدد کر رہا تھا، لیکن اب وہ کھل کر سامنے آ گیا۔ اپنے پاسداران اور  بسیج کے نوجوانوں کو وہاں لڑنے کے لیے بھیجا اور دنیا بھر میں اسے حق و باطل کا معرکہ قرار دے کر لوگوں کو وہاں لڑنے کے لیے اکسایا۔ اس وقت وہاں ایران کی مدد سے تین ملیشیا لڑ رہے ہیں جو کہتے ہیں ہم اپنے مقدس مقامات کے تحفظ کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
دوسری جانب دولتِ الاسلامیہ یعنی داعش کو اٹھایا گیا تا کہ کسی طور پر بھی شام کی سنی اکثریت جو دس فیصد علوی بشارالاسد کے پرتشدد عہد میں رہ رہی ہے وہ متحد نہ ہو نے پائے۔ داعش کے قیام میں عراق اور شام کی حکومتوں نے جس طرح تعاون کیا اس کی مثال عراق میں موصل اور شام میں تدمر کے شہروں کی داعش کے ہاتھوں فتح ہے۔ موصل کو چھوڑتے ہوئے عراقی فوجی اپنا اسلحہ، ٹینک، دیگر ساز و سامان داعش کے لیے چھوڑ گئی۔
اسی طرح شام کے شہر تدمر کو جب بشارالاسد کی فوجوں نے خالی کیا تو جدید اسلحہ، گولہ بارود اور ٹینک داعش کے لیے چھوڑ گئے۔ گزشتہ تین سالوں سے شام کی فوج حمص شہر پر قبضے کی کوشش کر رہی ہے لیکن دو ماہ پہلے وہ وہاں سے پیچھے ہٹ گئی ہے اور حیرانی کی بات ہے کہ اب ان سے بشارالاسد کی یہ لڑائی لڑنے کے لیے داعش جا رہی ہے جو حمص سے چند کلو میٹر فاصلے پر ہے۔ شام کے شہر لاتاکیہ میں ایرانی فوج کا جرنیل قاسم سلیمانی پہنچ چکا ہے جس کی تصاویر رائٹرز نے جاری کیں، جب وہ ایرانی پاسداران اور حزب اللہ کے دستوں سے مشترکہ خطاب کر رہا تھا۔
اب یہ میدان بہت گرم ہونے جا رہا ہے، اس کی کئی وجوہات ہیں۔ 3 دسمبر 2014ء کو جب گیارہ جماعتوں کے اتحاد کا اجلاس ادلب میں ہو رہا تھا جس میں حسان عبود سمیت تمام قائدین جمع تھے تو ایک بہت بڑا دھماکا ہوا جس میں سب کے سب جاں بحق ہو گئے۔ یہ سب اس وقت “وحدت الصف” یعنی ایک ساتھ لڑنے کا طریقہ کار طے کر رہے تھے۔ اس کے بعد سے ہر کوئی اپنے طور پر لڑ رہا ہے۔ اس دوران داعش نے اپنی جگہ بنا لی ہے، کیونکہ اس کا ایک خفیہ اتحاد بشارالاسد کی افواج سے ہے اسی لیے شام میں داعش نے اب تک صرف دیگر جہادی تنظیموں سے ہی جنگ کی ہے۔
روس، عراق اور ایران کے اتحاد اور امریکی حکمتِ عملی کی وجہ سے یہ جنگ بہت طویل بھی ہو سکتی ہے کیونکہ یہ سب طاقتیں مل کر بشارالاسد کو مستحکم اور مضبوط بنا دیں گی۔ یہ جنگ جسے ایران اور سعودی عرب نے حق و باطل کی جنگ بنا کر مسلم امّہ کو ہیجان میں مبتلا کیا ہے، دراصل وہ فساد ہے جس کی نشاندہی میرے آقا سید الانبیاء ﷺ نے کی تھی۔ آپ ذرا احادیث کو ترتیب سے دیکھیں تو حیران رہ جائیں گے چودہ سو سال پہلے آپﷺ نے کیسے خبردار کیا تھا۔
فرمایا “جزیرۃ العرب اس وقت تک خراب نہ ہو گا جب تک مصر خراب نہ ہو جائے (الفتن)، عنقریب تم افواج کو پاؤ گے شام، عراق اور یمن میں ( البیہقی)، خبردار کرتے ہوئے فرمایا “جب شام میں فساد ہو تو تمھاری خیر نہیں (مسند احمد بن حنبل)۔ حضرت اسحٰق بن ابی یحییٰ الکعبی حضرت اوزاعی سے روایت کرتے ہیںکہ “جب پیلے جھنڈوں والے مصر میں داخل ہوں تو اہلِ شام کو زمین دوز سرنگیں کھود لینا چاہیں (السنن الواردۃ الفتن)۔ ان احادیث کو موجودہ زمانی ترتیب سے دیکھ لیں۔ عرب بہار کا آغاز سب سے پہلے مصر سے ہوا اور جیسے وہیں تحریر اسکوائر پر چار انگلیوں والے پیلے رنگ کے جھنڈے بلند ہوئے اور ادھر بشار الاسد کی فضائیہ نے نہتے عوام پر حملے شروع کر دیے اور اب تو پوری دنیا شام کے عوام پر حملہ آور ہے جنھیں آپ ﷺ کے ارشاد کے مطابق زمین دوز سرنگیں کھود لینا چاہیں۔
یہ فساد جو اس وقت برپا ہے اس کا انجام کیا ہو گا۔ ایک تو وہ تجزیہ ہے جو سیاسی، عسکری اور عالمی تجزیہ نگار کرتے ہیں۔ یہی تجزیے آپ کو نیویارک، لندن، تہران اور ریاض کے اخباروں میں ملیں گے۔ ہر کوئی اپنے حساب سے تجزیہ کر رہا ہے۔ لیکن ایک تجزیہ وہ ہے جو رسولِ اکرم ﷺ کی احادیث کی اور پیش گوئیوں کی روشنی میں ہے، اور وہی حق ہے کہ صادق و امین پیغمبر کی زبان سے جاری ہوا ہے۔
اس سارے فساد اور لڑائی سے کسی خیر کی کوئی توقع نظر نہیں آ رہی بلکہ اس کے بطن سے شام پر ایک شخص کی حکومت قائم ہو گی “جس کا نام عبداللہ ہو گا اور وہ سفیانی کے نام سے مشہور ہو گا، اس کا خروج مغربی شام میں اندر نامی جگہ سے ہو گا” (الفتن۔ نعیم بن حماد)۔ دوسری روایت “ام المومنین امِ سلمہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ سے سنا کہ سفیانی کا خروج شام میں ہو گا، پھر وہ کوفہ کی جانب روانہ ہو گا تو مدینہ منورہ کے جانب بھی لشکر روانہ کرے گا، چنانچہ وہ لوگ وہاں لڑائی کریں گے جب تک اللہ چاہے، اور حضرت فاطمہ کی اولاد میں سے ایک پناہ لینے والا حرم شریف میں پناہ لے گا، لہٰذا وہ لشکر اس کی طرف نکلیں گے تو جب یہ لوگ مقامِ بیداء میں پہنچیں گے تو ان سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا سوائے ایک شخص کے جو لوگوں کو ڈرائے گا (علل ابن ابی حاتم)۔ اس دھنسانے کے واقعہ کے بعد اس بڑی عالم گیر جنگ کا صحیح آغاز ہو گا۔ اس لیے وہ پناہ لینے والے شخص امام مہدی ہونگے جن کے بارے میں تمام مسالک متفق ہیں۔
امت اس وقت جس انتشار اور فساد میں مبتلا ہے اس کو متحد صرف انھی کی ذاتِ گرامی کرے گی۔ ان کا ہیڈ کوارٹر شام کا شہر غوطہ ہو گا۔ سفیانی کے دھنسائے جانے کے بعد جو جنگ شروع ہو گی اس بارے میں فرمایا “جب رومی جنگِ عظیم میں اہلِ شام سے جنگ کریں گے تو اللہ دو لشکروں کے ذریعے اہلِ شام کی مدد کرے گا، ایک مرتبہ ستر ہزار سے اور دوسری مرتبہ80 ہزار اہلِ یمن سے جو اپنی بند تلواریں لٹکائے آئیں گے۔ وہ کہتے ہوں گے ہم پکے سچے اللہ کے بندے ہیں (الفتن)۔ مغرب کی طاقتوں سے یہ جنگ اعماق اور دابق کے مقام پر ہو گی۔ یہ دونوں قصبے شام کے شہر حلب سے پنتالیس کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا “اہلِ روم اعماق اور دابق کے مقام پر پہنچیں گے۔
ان کی جانب ایک لشکر مدینہ کی طرف سے پیشقدمی کرے گا جو اس زمانے کے بہترین لوگوں میں سے ہو گا۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوں گے تو رومی کہیں گے تم ہمارے اور ان لوگوں کے درمیان سے ہٹ جاؤ جو ہمارے لوگ قید کر کے لائے ہیں، ہم انھی لوگوں سے جنگ کریں گے۔ مسلمان کہیں گے اللہ کی قسم ہم ہر گز تمہارے اور اپنے بھائیوں کے درمیان سے نہیں ہٹیں گے۔ اس پر تم ان سے جنگ کرو گے۔ اب ایک تہائی مسلمان بھاگ کھڑے ہوں گے، جن کی توبہ اللہ کبھی قبول نہیں کرے گا، ایک تہائی شہید کر دیے جائیں گے، باقی ایک تہائی فتح حاصل کریں گے (مسلم، ابنِ حباّن)۔ یہ ہے وہ میدانِ جنگ جو سیدنا امام مہدی کی سربراہی میں برپا ہو گا۔ اس وقت امتِ مسلمہ جس افتراق، انتشار، خانہ جنگی اور مسلکی بنیاد پر قتل و غارت کا شکار ہے، ہر کوئی ایک دوسرے کا گلہ کاٹنے کو حق سمجھتا ہے۔ مفادات نے مسالک میں پناہ لے لی ہے۔ ذاتی تعصب کو لوگ حق و باطل کی جنگ سمجھتے ہیں۔
مغرب سے مغلوبیت اور ان کی کاسہ لیسی کو کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں ڈیڑھ ارب مسلمان کیا کسی ایک جگہ اکٹھا ہو سکتے ہیں۔ اس کا جواب نفی میں نظر آتا ہے۔ ہاں صرف اسی وقت اکٹھا ہوں گے جب اللہ کے رسولﷺ کے فرمان کے مطابق سیدنا امام مہدی جیسی قیادت ان کے درمیان موجود ہو گی۔ حالات و واقعات اسی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس فساد نے ظالموں کو ظالموں سے لڑا کر ختم کرنا ہے اور اس کی کوکھ سے اتحاد نے جنم لینا ہے۔   
Source..1...2...3

  
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours