صرف چند لمحوں کے لیے سوچیے   از  اوریا مقبول جان

 
سرمائے کی ہوس اور اقتدار کی منافقت کا یہ عالم ہے کہ وہ تمام ممالک جو اس وقت عراق اور شام میں قائم ہونے والی دولت اسلامیہ کے خلاف جنگ کے بنیادی ستون ہیں،جن کی سرحدیں اس نئی قائم ہونے والی ریاست کے ساتھ ہیں۔ ایک ایسی ریاست جسے دہشت گردی کی علامت اور دنیا بھر کی تہذیب کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے،یہی ممالک دولت اسلامیہ کے تیل کی فروخت میں سب سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
دولت اسلامیہ نے جب عراق کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا تو سب سے پہلے اس تیل کو سستے داموں خریدنے کی ہوس ایرانی اور کُرد اسمگلروں کے دلوں میں پیدا ہوئی۔ صرف چند دن کے بعد 6 نومبر 2013ء کو تیل سے بھرے ہوئے ہزاروں ٹینکروں کی قطاریں ایران کی سرحد پر پرویز خان کے علاقے میں موجود تھیں۔ اس کے بعد کُرد حکومتی اہلکاروں،ایرانی اسمگلروں اور ایرانی حکومت کے کسٹم حکام اور پاسداران میں نجانے کیا سمجھوتہ طے پایا کہ کئی دنوں سے رکے ہوئے ان ٹینکروں نے اپنی منزلوں کی جانب روانگی اختیار کرلی۔
کہا جاتا ہے کہ آغاز کے ان دنوں میں دولت اسلامیہ کو روزانہ دس لاکھ ڈالر تیل کی فروخت سے ملتے تھے جن کی تعداد میں اب کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ پہلا آئل ٹینکر جون کے وسط میں ’’توز فرماتو‘،کے شہر پہنچا تھا۔ یہ ایک ترک اور کُرد آبادی کا شہر ہے۔ یہاں اس ٹینکر کو اسمگلروں نے خریدا اور پھر آگے روانہ کر دیا۔ شروع شروع میں یہ ٹینکر بہت کم تھے لیکن جیسے ہی تعداد بڑھی کُرد انتظامیہ نے پابندیاں لگانا شروع کر دیں۔

اب دولت اسلامیہ نے براہ راست اسمگلروں کو تیل بیچنا شروع کر دیا،اب اسمگلروں نے کُرد انتظامیہ سے رابطہ کیا،معاملات طے ہوئے،انتظامیہ نے خود تیل خریدنا شروع کیا اور پھر اسے اربیل اور سلیمانیہ میں موجود دو غیر لائسنس یافتہ ریفانری پلانٹ میں صاف کر کے اس کا کاروبار شروع کر دیا۔ یہ تمام کاروبار حکومت نہیں کر رہی بلکہ حکومتی اہلکاروں کی اشیر باد سے ہو رہا ہے جس سے اسمگلر اور بددیانت حکومتی اہلکار فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ہوس زر کا کوئی مذہب اور کوئی نسل نہیں ہوتی۔ یہ اسمگلر کُرد ہو گا لیکن تیل کسی ترک اسمگلر کو بیچنے میں نہیں ہچکچائے گا۔
تیل دولت اسلامیہ کا ہے لیکن خریدار سب کے سب اس کے مخالف،اس سے جنگ کرنے والے۔ پیش مرگہ کے وہ کُرد جنگجو جو دولت اسلامیہ کے ساتھ لڑائی میں مصروف ہیں اور انھیں امریکا اور مغرب کی مکمل حمایت حاصل ہے وہ بھی اس بہتے تیل کی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں اور ایران،اردن،شام کی حکومتیں بھی آنکھیں بند کر کے اس تیل کی ترسیل کو یقینی بنا رہی ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ اس تیل کو اسمگل کرنے والوں کے نام پوری دنیا کو معلوم ہیں۔
سب جانتے ہیں کہ دولت اسلامیہ کی معیشت کا دارومدار اسی تیل کی فروخت پر ہے۔ اس کے باوجود بھی دولت کمانے کی ہوس کسی بھی ملک کو یہ فروخت روکنے پر مجبور نہیں کر پاتی۔ کرکوک اربیل روڈ پر بے شمار چھوٹی چھوٹی ریفائنرز بن چکی ہیں جہاں یہ تیل پہنچتا ہے اور پھر آگے اسمگل ہوتا ہے۔ سلیمانیہ کا باقی یٰسین اس سارے کاروبار کا بادشاہ تصور ہوتا ہے۔ اس کے گروہ میں کُرد اور ایرانی اسمگلر شامل ہیں۔
ایرانی  اسمگلروں کو اپنے پاسداران کی حمایت حاصل ہے اور کُردوں کو اپنی تنظیم پیش مرگہ کی۔ یہ سارے ملیشیا کے لوگ ایک چیک پوائنٹ پر دولت اسلامیہ کے سپاہیوں سے جنگ میں مصروف ہوتے ہیں اور دوسرے چیک پوائنٹ پر ان کا تیل خرید رہے ہوتے ہیں۔ وہ تمام حکومتیں جو چیخ چیخ کر داعش کو دہشت گرد کہہ رہی ہیں انھی کی زمین پر اس کا تیل خریدنے اور انھیں سرمایہ فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
دوسری منافقت یہ ہے کہ وہ مغربی تہذیب جس کے لیے دولت اسلامیہ کو سب سے بڑا خطرہ تصور کیا جا رہا ہے۔ پوری دنیا میں یہ پراپیگنڈہ عام کیا جا رہا ہے کہ مسلم ممالک میں دہشت گردی اور شدت پسندی کی وجوہات میں معاشی ناہمواری،جمہوریت کا فقدان،اسکولوں کے نصاب تعلیم جو جہاد کا درس دیتے ہیں اور سخت متعصبانہ قوانین ہیں۔ ان وجوہات کی وجہ سے شدت پسندی کو فروغ مل رہا ہے۔ پورا مغرب مسلمان ملکوں کو یہ درس دے رہا ہے کہ اپنا نصاب سیکولر کُرد اپنی حکومتیں جمہوری بناؤ،اپنے پسماندہ لوگوں کو معاشی طور پر مستحکم کرو،اپنی خواتین کو برابری کے حقوق دو۔
اگر تم یہ سب کر لو گے تو تمہارے اندر سے دہشت گردی اور شدت پسندی ختم ہو جائے گی۔ ان کی بولی بولنے والی ہزاروں این جی اوز اور ان عالمی طاقتوں کی امداد کے لالچ میں دیوانے ہوئے حکمران روز ان اقدامات کا رونا روتے رہتے ہیں۔ اخبارات اور میڈیا میں ’’دانشوروں‘‘کے مضامین اور گفتگو صرف چند باتوں پر مرکوز ہے،نظام تعلیم سے مذہب نکالو،مدرسوں کو ٹھیک کرو،عورتوں کو میدان عمل میں لاؤ،دہشت گردی کا یہی توڑ ہے۔ لیکن کوئی اس بات کا جواب نہیں دے پاتا کہ گزشتہ ایک سو سال کی انسانی جنگوں میں کسی اور جنگ میں اس جوق در جوق رضاکارانہ طور پر اتنے جہادی نہیں گئے جتنے عراق اور شام میں دولت اسلامیہ کے لیے لڑنے گئے ہیں۔
افغانستان میں بھی جتھے بنائے گئے،تنظیمیں بنیں،ان کو امریکا اور دیگر حواریوں نے مدد فراہم کی،ویت نام میں بھی چین اور روس کی مدد شامل تھی۔ لیکن یہاں سب سے حیرت انگیز بات یہ ہے کہ کسی بیرونی ملک سے لڑنے کے لیے جانے والوں میں اکثریت یورپی ممالک کے افراد کی ہے۔ وہ مغربی ممالک جہاں یہ سب پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ ایسے ممالک جہاں سیکولر نظام تعلیم رائج ہے،جمہوریت بھی مستحکم ہے،معاشی ناہمواری بھی نہیں،وہاں تو کوئی مدرسہ بھی قائم نہیں ہے پھر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ اپنی پر آسائش زندگیاں چھوڑ کر شام اور عراق میں لڑنے جا رہے ہیں۔
داعش کے آغاز میں یعنی آج سے چھ ماہ قبل 30 اگست 2014 کو ’’اکانومسٹ‘‘نے ان افراد کی تعداد بتائی تھی جو یورپی ممالک سے لڑنے عراق اور شام گئے ہیں۔ جریدے کے مطابق بلجیئم سے 250،ڈنمارک سے100،فرانس سے 700،آسٹریلیا سے 250،ناروے سے50،ہالینڈ سے120،آسٹریا سے60،آئر لینڈ سے30،برطانیہ سے 400،جرمنی سے 270 اور امریکا سے 70 افراد اپنی پر تعیش زندگی چھوڑ کر شام چلے گئے۔ اس وقت ان کی تعداد کئی گنا بڑھ چکی ہے۔ دنیا کی اب تک ہونے والی جنگوں میں کسی بھی جنگ میں یورپ سے اس قدر تعداد رضاکار جنگجوؤں کی روانہ نہیں ہوئی اور نہ ہی اس قدر زیادہ ملکوں سے لوگ کسی ایک جگہ لڑنے گئے ہیں۔
یورپی ممالک سے ایسے جہاد مارچ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اب یہ مغربی ملک کونسا مدرسہ بند کریں گے اور کونسا نصاب تعلیم تبدیل کریں گے اور عورتوں کو اور کتنے زیادہ حقوق دیں گے کہ شدت پسندی کم ہو۔ یہ سب جنگ پراپیگنڈے سے جیتنا چاہتے ہیں۔ لیکن دسمبر کے آخری ہفتے میں جرمنی کے صحافی جو رگن ٹوڈن ہومز نے برطانوی اخبار Independent میں اپنے دولت اسلامیہ کے سفر کی روداد بیان کی ہے۔
یہ 74 سال جرمن صحافی واحد مغربی صحافی ہے جو اب تک وہاں پہنچا ہے۔ اس کے انکشافات ایسے ہیں کہ جو مغرب کے لیے کڑوی گولیاں سمجھی جا رہی ہیں۔ انھیں پہلے اس بات پر یقین نہیں آتا تھا کہ ہمارے سیکولر معاشرے سے اس قدر جہادی کیسے پیدا ہو سکتے ہیں،اب وہ ٹوڈن ہومز کی اس بات پر کیسے یقین کرلیں جو اس نے سی این این پر انٹرویو دیتے ہوئے کہی ہے۔ اس نے کہا کہ ’’وہ وقت دور نہیں جب داعش مغرب کے ساتھ بقائے باہمی کے لیے مذاکرات کرے گی اور مغرب کو دنیا میں امن قائم رکھنے کے لیے اور کوئی راستہ نہیں ہوگا‘‘۔
یہ غور کرنے کا مقام ہے،سوچنے کی گھڑی ہے۔ مغرب شاید سوچ رہا ہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی ہماری پالیسیوں اور طاقت کے استعمال سے پیدا ہوئی ہے لیکن اس نے بندوق ہمارے ہاتھ میں پکڑا دی ہے۔ خون بھی ہماری زمینوں پر بہتا ہے اور شدت پسندی بھی یہاں جنم لیتی ہے۔ ہم کب تک قتل کرنے اور قتل ہوتے رہیں گے۔ چند لمحوں کے لیے اپنے مسلک،اپنی نسل،اپنے عقیدے اور اپنی تعلیم کے تعصب کو پس پشت ڈال کر سوچئے ضرور۔ صرف چند لمحوں کے لیے۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

1 comments so far,Add yours