ربنا ربنا ربنا از اوریا مقبول جان

 
درویش کی محفل میں سناٹا تھا۔ شاید اس قیامت کے دکھ کے بعد لوگ بات کرنا بھول گئے تھے۔ ہر کوئی صاحب اولاد ہوتا ہے اور ہر کسی کو بچوں میں اپنی اولاد کے چہرے نظر آتے ہیں۔ ایسا تو شاید ہی انسانی تاریخ میں کسی ہلاکو نے بھی نہ کیا ہو کہ بچوں کو علیحدہ کر کے، ان کے معصوم چہروں پر نظر پڑنے کے باوجود بھی ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی گئی ہو۔ دنیا کی جنگوں کی تاریخ میں بم برستے رہے، شہر اجڑتے رہے، لوگ مرتے رہے لیکن ایسا کبھی نہ ہوا تھا کہ تاک کر بچوں کے اسکول کو نشانہ بنایا جائے، یا پھر وہاں گھس کر یہ وحشیانہ کھیل کھیلا جائے۔
سنتے آئے تھے کہ منگول اور ایشائے کوچک سے آنے والے منگول نسل کے لوگوں سے پہلے دنیا میں بہت سی وحشیانہ سزاؤں کا رواج نہیں تھا، کھال میں بھس بھرنا، سلائیاں پھیر کر اندھا کرنا، ٹکڑے ٹکڑے کر کے کسی کو موت کی جانب لے جانا، لیکن ان وحشیانہ سزاؤں کے موجدوں نے بھی کبھی بچوں کو علیحدہ کر کے نہیں مارا۔ بچے ماں باپ کی آغوش میں ایک ساتھ ضرور مارے گئے ہوں گے، بے خبری میں ان پر بم ضرور برسے ہوں گے، اچانک ان کو اکٹھے کسی افتاد کا سامنا ضرور کرنا پڑ گیا ہو گا جیسے ڈوبنا، آگ لگنا، یا اسکول میں زلزلہ آ جانا۔


ایسے میں موت کی آغوش میں جاتے ہوئے یہ ایک دوسرے کا ہاتھ ضرور تھام لیتے ہوں گے، ایک دوسرے کو تسلی کے لفظ ضرور بول لیتے ہوں گے۔ زندگی میں سب سے خوفناک منظر میں نے ان چھ تصویروں میں دیکھا تھا جو ایک فلسطینی بچے اور اس کے باپ کا منظر تھا۔ یہ منظر ایک فوٹوگرافر نے کیمرے کی آنکھ میں چند تصویروں کے ذریعے محفوظ کر لیا تھا۔
فلسطینی باپ اور بچہ اچانک اسرائیلی گولیوں سے بچنے کے لیے ایک دکان کے چھجے تلے پناہ لیتے ہیں دوسری تصویر میں بچہ سہما ہوا باپ سے لپٹا ہے، تیسری تصویر میں باپ اسے تسلی دے رہا ہے، چوتھی تصویر میں گولی بچے کو لگی ہے، پانچویں تصویر میں بچہ باپ کی گود میں درد سے کراہ رہا ہے اور چھٹی تصویر میں بچہ مر چکا ہے اور باپ بے بسی کی تصویر ہے۔
ان چھ تصویروں میں جو کیفیت تھی اس نے مجھے سالوں مضطرب اور بے چین رکھا، بلکہ آج بھی وہ تصویریں یاد آ جاتی ہیں تو جی سنبھل نہیں پاتا۔ لیکن اس سانحے میں تو بچوں کو اپنے باپ کی گود بھی میسر نہ تھی کہ موت کے وقت اس آغوش کی گرمی اور محبت حاصل کر لیتے۔ اس المیے کا تصور ہی کیا، صرف اس بات کا سوچ میں لانا کہ چند لوگ اسلحے تانے ایک ہال میں داخل ہوتے ہیں جہاں بچے اپنے آپ میں مگن ہیں اور پھر اچانک سارا منظر خوفناک وحشت میں بدلنے لگتا ہے۔ اس پہلے لمحے کے آگے سوچنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ میں نے اب تک جو انسانی تاریخ پڑھی ہے، اس سے درد ناک واقعہ نہیں پڑھا۔
خاندان کے خاندان قتل ہوئے، مارے گئے، ہلاک ہوئے، لیکن ایک ساتھ، ہر کوئی بے بس اور مجبور۔ لیکن یہاں تو بے بسی خاص طور پر ان معصوم بچوں کے مقدر میں آئی۔ بچے یرغمال بنائے گئے، ان کو اغوا برائے تاوان کے لیے لے جایا گیا، پھر سرمایہ نہ ملنے پر قتل کیا گیا۔ ان سارے معاملات میں بچوں کے دل میں ایک امید ضرور موجود رہتی ہے کہ شاید کوئی انھیں رہائی دلا دے۔
روس میں باسلان کے اسکول میں جب چیچن گھس آئے تھے تو 280 کے قریب بچے مارے گئے تھے۔ مگر وہ سب روسی فوج اور چیچن جنگجوؤں کی لڑائی کے دوران مارے گئے۔ ایسے ماحول میں بھی ایک امید ضرور ساتھ چلتی ہے کہ جنگ ختم ہوئی تو ہم زندہ سلامت باہر نکل جائیں گے لیکن اس سانحے میں تو ان بچوں نے صرف موت ہی دیکھی، نہ کوئی آس، امید، نہ تسلی و تشفی اور نہ کسی مہربان کی گود۔ بس خوفناک آنکھوں اور شعلہ اگلتی بندوقوں کا سامنا تھا۔
درویش کی محفل میں سناٹا تھا۔ سب دم بخود تھے۔ کسی کو اس بات کا اندازہ تک نہیں تھا کہ انسان اس قدر خونخوار اور ظالم بھی ہو سکتا ہے۔ اس سید الانبیاءﷺ کے ماننے والے جس نے اذیت دینے والے مشرکین مکہ کو جنگ بدر کے بعد جب قید کیا تو ان کو رسیوں سے باندھا ہوا تھا۔ رسیاں سخت تھیں، رات کو قیدیوں کی کراہنے کی آواز آئی تو بے چین ہوگئے، صحابہ سے کہا اگر تم کہو تو ان کی رسیاں ڈھیلی نہ کر دیں۔
اپنی دسترس میں آئے ہوئے لوگوں پر اسقدر رحم، دسترس میں بھی وہ لوگ جو چند گھنٹے پہلے جنگ لڑ چکے تھے، جو تیرہ سال مکے میں اذیتوں کے پہاڑ کھڑے کر چکے ہیں۔ محمد خراسانی کی ای میل جو اس ملک میں ہر صحافی کو بھیجی گئی۔ پڑھتا ہوں تو سوچتا ہوں، کیا پورے قرآن پاک اور سید الانبیاءﷺ کی سیرت میں ان لوگوں کو کوئی رحم، عفو و درگزر اور بچوں پر شفقت کا ایک واقعہ بھی یاد نہیں آیا۔ اللہ اور اس کے رسولؐ کا کونسا حکم ہے جو انتقام کی اجازت دیتا ہے۔
انتقام تو عصبیت اور قبائلیت کی صفت ہے جسے مٹانے کے لیے میرے آقاؐ اس دنیا میں تشریف لائے اور پھر حجتہ الوداع کے دن فرمایا ،،تمہاری جاہلیت اور عصبیت کے بت میرے پاؤں تلے کرچی کرچی ہو چکے،،۔ جس عصبیت کے بت میرے آقا ؐکے پاؤں تلے کرچی کرچی ہو جائیں، کیا اس عصبیت کے انتقام کا تمہیں آخرت میں اجر ملے گا۔ ہر گز نہیں۔ چلو تم نے پشتون روایات کے تحت بدلہ لے لیا ہے لیکن شاید بھول گئے، کیا پشتون روایات میں بچوں اور عورتوں سے کبھی بدلہ لیا گیا۔
درویش کی محفل کا سناٹا قائم تھا کہ میں نے سوال کیا، کب تک؟، فرمایا سورہ تغابن کی وہی آیت دہراؤ ،،کوئی مصیبت آ ہی نہیں سکتی مگر اللہ کا اذن نہ ہو،، (تغابن 11)۔ پوچھا کیا یہ واقعی مصیبت ہے؟۔ بولے سورہ الانعام کی وہی آیت دہراؤ جو بار بار لکھتے رہتے ہو ،،کہہ دو، وہ قدرت رکھتا ہے اس پر کہ تم پر عذاب بھیجے تمہارے اوپر سے اور تمہارے پاؤں کے نیچے سے یا تم کو آپس میں گروہوں میں بانٹ کر لڑا دے اور ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزا چکھا دے،، (الانعام 65): سوال کیا، بہت ہوگیا یہ عذاب، بہت چکھ لیا مزا ایک دوسرے کی طاقت کا، کوئی راہ نجات۔ بولے جب سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و سلم پر جب اس آیت کا نزول ہوا تو آپ نے ہاتھ دعا کے لیے بلند کر دیے، اور کہا۔ اے اللہ، اے قادر مطلق، میں پناہ مانگتا ہوں ترے چہرے کے تقدس کی اس عذاب سے جو تو ہمیں گروہوں میں بانٹ کر ہمیں لڑا کر ہم پر نازل کرتا ہے،،۔
فرمایا، تم لوگوں نے کبھی اپنے آقاؐ کی اس صفت پر عمل کیا۔ کبھی پوری قوم گڑگڑا کر اللہ کے حضور روئی، سجدہ ریز ہوئی، معافی کی طلبگار ہوئی۔ کبھی کہا کہ اے اللہ ہم اس عذاب کے متحمل نہیں ہو سکتے، ہم پر رحم فرما۔ کبھی دیوانہ وار اللہ سے گڑگڑانے کے لیے باہر نکلے جیسے شمعیں روشن کرنے نکلتے ہو۔ ایک دفعہ نکل کے تو دیکھو، ایک دفعہ اسے آزماؤ تو سہی۔ وہ رب ہے، رحیم ہے، کریم ہے۔ اس کا دعویٰ ہے میں دلوں کو جوڑتا ہوں، اس کا دعویٰ ہے میں بھوک میں کھانا اور خوف میں امن بخشتا ہوں۔
وہ تو انتظار کرتے ہوئے پکارتا ہے کہ کوئی قوم یونس ؑ  کی طرح کی قوم کیوں نہ ہو گئی کہ ہم سے معافی مانگتی اور ہم اسے معاف کر دیتے،،۔ میں درویش کے چہرے پر سناٹے سے دیکھتا رہا۔ باہر شمعیں روشن کرنیوالے اپنے دکھ کا اظہار کر رہے تھے۔ میری آنکھوں کے آنسوؤں میں شمعوں کی لو ٹمٹمانے لگی، صرف پروردگار سے ایک التجا کی، اللہ ان شمعیں جلانے والے ہاتھوں کو اپنی بار گاہ میں ایسے اٹھنے کی توفیق دے جو تیری ناراضگی کو ختم کر سکے، جو اس خوف کے موسم میں امن واپس لا سکے۔ بیشک صرف تو ہی ہے جو خوف میں امن دیتا ہے۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours