جمہوریت یا شورائیت  از اوریا مقبول جان


دنیا کے تمام ملکوں کے جمہوری نظام صرف اور صرف ایک چیز پر قائم ہیں اور وہ ہے رائے یعنی ووٹ۔ اس نظام کی بنیادی اکائی ایک ووٹر یعنی رائے دینے والا ہے۔ تصور یہ عام کیا گیا ہے کہ اسی کے ووٹ سے حکومت کا نظام کار چلتا ہے۔ برسراقتدار آنے والا طبقہ جو اچھائی اور برائی کرے گا اس کا خمیازہ اس ووٹ دینے والے کو ہی بھگتنا ہوگا اور یہ سب کچھ اس لیے خاموشی سے برداشت کرنا ہوگا کہ اسی نے تو رائے یا ووٹ دے کر ان لوگوں کو اقتدار کی کرسی پر بٹھایا تھا۔
حیرت کی بات ہے کہ اسلام کا بھی تمام سیاسی اور معاشرتی نظام صرف اور صرف رائے پر قائم ہے۔ پھر دونوں میں فرق کیا ہے۔ کیسے کیسے عظیم اسکالرز مدتوں اس بات پر اپنے علم اور دلیل کی محنت صرف کرتے رہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش میں لگے رہے کہ شورائیت کا جو تصور اسلام نے دیا ہے، اصل میں وہی جمہوریت ہے۔ اس سے پہلے کہ ہم ان دونوں کے فرق پر بات کریں ہم رائے کے بارے میں انسانوں کے عمومی مزاج اور احتیاط کو دیکھتے ہیں۔
دنیا میں انسان کسی بھی جگہ یا علاقے میں بستے ہوں انھیں کسی بھی معاملے میں مشورہ یا رائے درکار ہو تو وہ کسی ایسے شخص کی تلاش کرنے نکلتے ہیں جو اس معاملے کی تھوڑی بہت شدھ بدھ ضرور رکھتا ہو، اور اگر کوئی اس کا ماہر مل جائے تو پھر اس کی رائے کو اور اہمیت دی جاتی ہے۔ بیٹی یا بیٹے کی شادی کرنے سے لے کر مکان بنانے، کاروبار شروع کرنے، کنواں کھودنے، اسکول بنانے، حتیٰ کہ زندگی کا کوئی بھی کام کرنا ہو، اس کے آغاز میں جو رائے لی جاتی ہے، جو مشورہ طلب کیا جاتا ہے وہ کسی طور پر بھی رائج جمہوری طریق کار کی ووٹنگ سے ملتا جلتا نہیں ہے۔
اگر جمہوری طریقے سے رائے طلب کرنا ہی بہترین طرز زندگی ہوتا اور اکثریت کی رائے ہی برحق اور صحیح ہوتی تو انسان یقیناً ایسے ہی فیصلے کرتا۔ پورے خاندان میں بچوں کی شادی کے لیے ریفرنڈم کراتا، فیکٹری کا مالک تمام مزدوروں کو جمع کرتا اور فیکٹری کی توسیع کے لیے ووٹ مانگتا اور ان کی رائے پر عمل کرتا۔ یوں دنیا کے ہر کاروبار میں یہی اصول کارفرما ہوتا۔ پل بنانے کے لیے ایک انجینئر، مستری اور عام آدمی کی رائے برابر ہوتی۔ ایسا نہیں ہوتا بلکہ ایسا کرنے والے کو انتہائی بے وقوف سمجھا جاتا ہے۔ اس کی ناکامی کے بعد صرف ایک ہی فقرہ اسے سننے کو ملتا ہے، کسی جاننے والے سے مشورہ ہی کر لیا ہوتا۔
انسانی معاشرے کی اسی خصوصیت کو اسلام کے نظام شورائیت میں اہمیت حاصل ہے۔ اسلام کے ہاں وہی کلیہ اہم ہے جو اللہ نے انسانوں کے مزاج اور فطرت میں دویعت کر دیا ہے یعنی رائے سے پہلے صاحب الرائے کو دیکھو، پرکھو۔ یوں تو یہ پرکھ پرچول انسانی معاشرے میں روز مرہ کی چیز ہے، لیکن موجودہ ماڈرن زندگی میں تو رائے دینے والے کی پرکھ پرچول ایک سائنسی طریق کار بن چکا ہے۔ دنیا کے ہر بڑے ادارے کا نظام، رائے دینے والے یعنی Consultants کے بغیر نا مکمل ہے۔
تمام حکومتوں نے بڑے بڑے تھنک ٹینک قائم کر رکھے ہیں جو ہر معاملے میں اپنی صائم رائے دیتے ہیں لیکن ان تمام افراد کو کسی بھی جمہوری طریق کار یا ووٹنگ کے ذریعے منتخب نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے لیے ان کی علمی استعداد اور تجربے کو دیکھا جاتا ہے لیکن اس پورے جمہوری نظام کی جو جڑ ہے، یعنی حکومت اور صاحبان اقتدار منتخب کرنے کے لیے، رائے دینے یعنی ووٹ دینے والوں کے بارے میں یہ تصور ہے کہ ہر شخص کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہے یعنی ہر فرد صاحب الرائے ہے۔ جمہوری نظام کا یہ دعویٰ بھی غلط ہے۔
دنیا کا ہر جمہوری ملک ووٹر یا رائے دینے کے لیے ایک شرط کم از کم لگاتا ہے اور وہ عمر کی شرط ہے۔ دنیا بھر میں جتنے بھی نظام تعلیم رائج ہیں ان میں ایک سولہ سال کا بچہ میٹرک، او لیول یا دیگر سند حاصل کر کے کافی علم اور سمجھ بوجھ حاصل کر لیتا ہے لیکن وہ ووٹ یا رائے دینے سے محروم ہے جب کہ ایک 80 سال کا بوڑھا، جس کی یادداشت تک کھو چکی ہو، جو فالج زدہ ہو،  اسے جمہوری طور پر رائے دینے کا مکمل حق حاصل ہے۔
اسلام کی شورائیت صرف ایک عمر کی شرط عائد نہیں کرتی بلکہ اس کا ایک معیار ہے کہ کون اس قابل ہے کہ رائے دے سکے۔ عموماً یہ کہا جاتا ہے کہ ان معیارات کو کون پرکھے گا۔ یہ سوال بھی انسانی فطرت کے بالکل برعکس ہے۔ کیا کسی گلی، محلے، دفتر یا ادارے میں پرکھنے کی ضرورت پڑنی ہے کہ کون ایماندار، نیک، صاحب علم، شریف اور باکردار شخص ہے۔ ہر کسی کی انگلی اسی شخص کی جانب اٹھتی ہے جو ان خصوصیات کا حامل ہوتا ہے۔ کسی نے اپنے ذاتی معاملے میں مشورہ کرنا ہو تو وہ صاحب الرائے کو پاتال میں سے بھی ڈھونڈ نکالتا ہے، اسے کسی قسم کی ووٹنگ نہیں کروانا پڑتی۔
لوگ سوال کرتے ہیں کہ یہ سب تو ایک خیالی دنیا کی باتیں ہیں، صدیوں پرانے معاشرے کے قصے ہیں، آج کے دور میں جہاں دنیا اس قدر ترقی کر گئی ہے، بڑے بڑے شہر آباد ہو گئے ہیں وہاں ایسے صاحب الرائے کیسے تلاش کریں گے، کون تلاش کرے گا۔ اس تیز رفتار ترقی یافتہ دور میں کروڑوں لوگ دنیا کی بڑی بڑی فیکٹریوں اور کارپوریٹ اداروں میں کام کرتے ہیں، روزانہ کروڑوں نئی ملازمت بھی حاصل کرتے ہیں اور اتنے ہی نکالے بھی جاتے ہیں۔ تعلیم کی شرط تو چھوڑ دیں۔
کیا ایک بنیادی شرط یہ نہیں ہوتی کہ وہ ایماندار ہوں اور ان کا کردار کرپشن اور بددیانتی سے پاک ہو، دنیا میں ایسی کارپوریشن بھی ہیں جو سو کے قریب ممالک میں لاکھوں لوگوں کو ملازم رکھے ہوئیں ہیں اور ان ملازمین کا پہلا معیار ایمانداری اور دیانت ہے۔ کوئی بھی کارپوریشن تعلیم پر سمجھوتہ کر لیتی ہے لیکن دیانت پر نہیں کرتی۔ ان سب نے ایک نظام وضع کیا ہے کہ دیانت اور ایمانداری کو کیسے پرکھا جاتا ہے۔ ہر ادارے میں نظام ایک تجربے کے بعد آیا، لوگوں نے اپنے اداروں کو بے ایمانی سے پاک کرنے کے لیے مربوط نظام بنائے۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ اٹھارہ کروڑ لوگوں پر پھیلے ہوئے ملک میں یہ کیسے شروع کیا جائے۔ عمر کی شرط لگا کر پچاس فیصد افراد کو تو آپ نے پہلے ہی فارغ کر دیا ہے۔ آپ کو ایک شرط نہیں بلکہ ووٹ یا رائے دینے کے لیے بہت سی شرائط عائد کرنا ہونگی، جن میں سب سے بنیادی شرط تعلیم جسے کم از کم میٹرک رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد آپ رائے کے قابل فرد کو پرکھنے کے لیے ایک امتحان بھی رکھ سکتے ہیں جس کے بعد اس ملک میں رائے دینے والوں کو ایک ووٹنگ کارڈ جاری کیا جاسکتا ہے۔
تعلیم صرف ایک بنیادی شرط ہے جس سے آغاز ہو، اس کے بعد دیگر شرائط کے لیے ایک طریق کار وضع کیا جائے اور ایسے ادارے ترتیب دیے جائیں جو صاحب الرائے یا ووٹر کے کردار، اخلاق، دیانت اور علم کی جانچ پڑتال کریں اور ان کی رپورٹ اگلے مرحلے میں ووٹنگ کارڈ کی ضمانت ہو۔ ہو سکتا ہے ایک وقت ایسا جائے کہ اس ملک کی اکثریت ہی اہل الرائے کے منصب کے قابل ہو۔ مغربی جمہوری نظام کی دوسری اہم ترین شرط سیاسی پارٹیاں ہیں۔ یہ سیاسی پارٹیاں اس لیے بنائی جاتی ہیں کہ ان کے ذریعے کارپوریٹ سرمایہ دار آسانی کے ساتھ پارٹی فنڈنگ کر سکتے ہیں۔ پورا جمہوری نظام اس سرمائے سے چلتا ہے۔
اسلام میں معاشرے کو اس طرح کے طبقات میں تقسیم کرنے کا کوئی تصور نہیں۔ اسلام میں اہل الرائے جب کسی شخص کو خلیفہ بنا دیتے ہیں تو پھر ہر خاص و عام کو اس کی بیعت کرنا ہوتی ہے۔ اس معاملے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس قدر سخت ہدایت ہے کہ ،،اگر دو خلیفوں کی لوگوں میں بیعت ہو جائے تو بعد والے کو قتل کر دو،،۔ یعنی اسلام اس طرح کی پارٹی بازی، گروہ بندی اور تفریق کو پسند نہیں کرتا۔ پارٹی سیاست کا وجود ہی اقربا پروری، کرپشن اور بددیانتی کی جڑ ہے۔
پارٹی سیاست نہ ہو تو لوگ خالصتاً صلاحیت اور دیانت کو دیکھ کر رائے دیں گے۔ شرط یہ ہے کہ آپ رائے دینے والوں کا معیار صحیح مقرر کرلیں۔ آرٹیکل 62 اور 63 کی شرط اسمبلی کے اراکین نہیں ووٹر کے لیے ہونا چاہیے۔ بنیاد غلط ہو گی تو اوپر بھی یہ سوال اٹھتا رہے گا کہ کون ثابت کرے کہ صادق اور امین کون ہے۔ اپنے گھر، فیکٹری یا دفتر میں ملازم رکھنے کے لیے کیا کبھی کسی کو یہ کہنے کی ضرورت پڑی کہ کون ثابت کرے کہ صادق اور امین کون ہے، اس وقت تو وہ بڑی تسلیاں اور تحقیق کر رہا ہوتا ہے۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours