جدید سیکولر نظامِ تعلیم کی تاریکیاں از اوریا مقبول جان


جدید سیکولر نظامِ تعلیم کے تحت پوری دنیا میں اس وقت جتنے اسکول ، کالج اور یونیورسٹیاں کام کر رہی ہیں، اگر ان کی تعداد کا شمار کیا جائے تو یو ں لگے گا جیسے آج کا دور صرف اور صرف انسانوں کو علم باٹنے کا فریضہ بحسن و خوبی انجام دے رہا ہے۔
اس علم کی روشنی سے جو انسان برآمد ہو رہے ہیں انھوں نے اپنے ارد گرد ایک چکا چوند انسانی بستی آباد کر لی ہے۔ ایک ایسی دنیا جس میں پُر آسائش گھر ہیں، تیز رفتار گاڑیاں، ٹرینیں اور جہاز ہیں، آسمان کو چھوتی عمارتیں ہیں، کمپیوٹر، انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن، غرض آسائش کا ہر سامان میسر ہے۔ بیماری کے علاج کے لیے اسپتال اور ہمہ وقت مستعد صحت کا عملہ ہے، صاف پانی، بجلی، گیس اور دیگر سہولیات بہم پہنچانے کے لیے ایک شاندار خدماتی نظام کار موجود ہے۔
ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگ دن رات مختلف کار خانوں اور فیکٹریوں میں اس دھن میں مگن رہتے ہیں کہ نئی سے نئی چیز مارکیٹ میں لائی جائے جس کو لوگ پسند کر یں۔ ان تمام تر آسائشوں اور مادی سہولتوں کے باوجود آج کا انسان انسانی تاریخ کا سب سے غیر مطمئن اور نا آسودہ انسان ہے۔ گذشتہ دوتین صدیوں میں اس نے جو بھی علم سیکھا اور اس دنیا میں جو معراج حاصل کی اس نے اس کی مادی زندگی کو تو پرُ آسائش بنایا لیکن اس کی روح کو بے منزل، بے راہ رو اور بھٹکتا ہوا چھوڑ دیا۔ حیرت کی بات ہے کہ اس بے منزل اور بے سکون انسان کے درد کا مداوا موجودہ جدید سیکولر نظامِ تعلیم کے کسی بھی سبق میں موجود نہیں۔
زیادہ سے زیادہ نفسیات کا مضمون ہے اور وہ بھی شعور اور لاشعور کی بھول بھلیوں سے ہوتا ہوا بالآخر چند سکون بخش ادویات یا جسم کی اینٹھین دور کرنے والی ورزشوں پر ختم ہو جوتا ہے۔ کتھارسس، یعنی دل کی بھڑاس نکالنا ہی علاج کا بہترین ذریعہ ہے اور مادی دنیا کی طرف کارآمد طور پر لوٹ جانا دماغی صحت کی علامت سمجھتا جاتا ہے۔لاکھوں بلکہ کروڑوں کتابوں پر مشتمل جدید سیکولر نظامِ تعلیم میں انسان کی روح کے متعلق مبلغ علم کی یہ کل کائنات ہے۔
اخلاقیات، معاشرت، انسانی رشتے، تہذیبی اقدار اور ذہنی سکون، یہ سب کے اس جدید سیکولر نظامِ تعلیم میں دو اور دو چار کی طرح معاشرے میں ہونے والی کاروباری، معاشی اور سیاسی ترقی یا تبدیلی کے ساتھ منسلک کر دیے گئے ہیں۔ اسی لیے جدید تعلیمی نظام کا موضوع انسان نہیں بلکہ اس کا موضوع مادی ترقی اور دولت کا حصول ہے۔
جب سے یہ دنیا تخلیق ہوئی ہے، انسانی تاریخ نے تقریباً دودرجن کے قریب مختلف تہذیبیں دیکھی ہیں جو بامِ عروج پر پہنچیں۔ ان تمام تہذیبوں نے ترقی کے اعلیٰ ترین معیار قائم کیے اور ان کے نقوش آج بھی زمین کے سینے پر ثبت ہیں۔ مصر، چین، بابل، یونان ایران، سندھ اور دیگر تہذیبوں نے علم وفن میں جو ترقی حاصل کی اس کی نظیر نہیں ملتی۔ ان تمام تہذیبوں نے علم سیکھنے اور سکھانے کے لیے ادارے بھی قائم کیے۔ لیکن کسی بھی تہذیب کے تعلیمی اداروں کا بنیادی مقصد موجودہ جدید سیکولر نظامِ تعلیم کی طرح مادہ پرستی اور شکم و شہوت پرستی نہیں تھا۔ ہر تہذیب نے اپنے علمی اداروں میں اعلیٰ ترین اخلاقی معیارات سکھانے اور صرف اور صرف علم حاصل کرنے کے بلند ترین مقصد کو آگے رکھا۔لیکن جدید سیکولر تعلیمی نظام کا اولین اور بنیادی مقصد روٹی کمانا ہے۔
علم، حقیقت اور کائنات کے رازوں سے آگاہی ہرگز نہیں۔اسی لیئے موجودہ نظامِ تعلیم ڈگری یا سند کے حصول کے گرد گھومتا ہے اور ہر یونیورسٹی کی ڈگری یا سند کی مارکیٹ میں الگ الگ قیمت ہے۔ اگر کوئی شخص یہ تصور کرتا ہے کہ پورا نظام علم کی اعلیٰ ترین اقدار اور اس کے حصول پر قائم ہے تو اس سے بڑا مذاق کوئی نہیں۔ اگر دنیا بھر کی حکومتیں یا کارپوریٹ سرمایہ دار یہ اعلان کر دیں کہ ہم یونیورسٹی سے حاصل ہونے والی ڈگریوں یا اسناد پر لوگوں کو ملازمت نہیں دیں گی تو صرف چند ماہ کے اندر یہ تمام تعلیمی ادارے ویران ہو جائیں اور علم کے حصول کے دھوکے میں آباد کی گئی یہ تمام بستیاں تباہ و برباد ہو جائیں۔
یہ جدید سیکولر نظام تعلیم کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے اور کیوں ہماری ضرورت بنا دیا گیا ہے؟ ۔اس تعلیم کو نوکری یا پیسہ کمانے کے ساتھ وابستہ کر کے ہمیں وہ تمام تہذیبی اور ثقافتی اقدار بھی پڑھائی جاتی ہیں جس کے نتیجے میں ہم بچپن ہی سے مغربی سرمایہ دارانہ نظام کے سامنے اپنی شکست تسلیم کر لیتے ہیں۔ دس سال کی عمر تک بچہ اپنے دماغ کی دیوار پر ایک اجنبی ماحول کے نقوش بناتا ہے اور یہ نقوش دائمی ہوتے ہیں۔ اس نظامِ تعلیم میں پڑھنے والا بچہ سنڈریلا، سانتا کلاز، سنووائٹ اور انگوروں کی فصل پکنے پر شراب کشید کرنے کے گیت اس کے دماغ پر نقش ہوتے ہیں۔
ابتدائی کلاسوں میں پڑھائی جانے والی تمام کتابوں میں جو ثقافت اور تہذیب ان کو ازبر کروائی جاتی ہے اس کا ایک نتیجہ نکلتا ہے کہ اسے سرسوں کا ساگ، مکئی کی روٹی، چکی کی گھر گھر اور صحراؤں کی بانسری کی آواز سے کوئی رغبت نہیں رہتی بلکہ وہ ان سب کو ایک کمترین اور کمزور درجے کی تہذیب سجھ کر مسترد کردیتا ہے۔ اس پورے تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد صرف اور صرف ایک ’’یک رخا‘‘ آدمی (One dimensional man) پیدا کرنا ہے جو خالصتاً مغربی کارپوریٹ تہذیب کا وفادار ہو۔ وہ اس کے ساتھ جذباتی طور پر وابستہ ہو جاتا ہے اور اس پر کسی قسم کی تنقید یا نقائص ڈھونڈنے کے لیے عقل استعمال نہیں کرتا بلکہ اس کا دفاع کرتا ہے اور جذباتی طور پر کرتا ہے۔ جب کہ اپنی ساری منطق اور سارا علم دین کی تنقید اور اس میں نقائص ڈھونڈنے میں لگاتا ہے۔
یہ جدید سیکولر تعلیمی نظام جس تہذیب کا اسے غلام بناتا ہے وہ تین چیزوں کی مرکب ہے، سیکولر ازم، سرمایہ داری اور جمہوریت۔ ان تینوں تصورات سے جس تہذیب نے جنم لیا ہے وہاں انسانی ترقی کا معیار علم یا سائنس نہیں بلکہ وہ کام، فن یا علم ہے جس سے سرمایہ حاصل کیا جا سکے۔ ایسی تمام محنت جس سے دولت حاصل نہیں ہوتی وہ اس تہذیب میں قابل عزت نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس تہذیب میں ایک عورت جو گھر میں چوبیس گھنٹے بچوں کو پالتی اور اس گھر کو اپنی محنت سے جنت کا نمونہ بناتی ہے اس کی کوئی عزت یا حقوق نہیں جب کہ بازار میں کھڑے ہو کر جسم بیچنے والی عورت کو عزت کے لفظ ’’سیکس ورکر‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اور اس کی فلاح کے منصوبے بنائے جاتے ہیں۔
اس جدید سیکولر تعلیمی نظام کا نتیجہ یہ ہے کہ علمی کام کرنے والے، سائنس دان یا دیگر فنون سے تعلق رکھنے والے افراد اپنے شوق سے یہ کام کرنا چاہیں تو کریں ورنہ معاشرتی طور پر تو عزت اسی علم اور اسی ڈگری کی ہے جسے مارکیٹ میں بیچ کر سرمایہ حاصل کیا جاسکے۔اس جدید مغربی تہذیب کا کمال یہ ہے کہ سرمایہ اور عزت کمانے کے لیے بعض اوقات نہیں بلکہ اکثر اوقات آپ کو علم ، ڈگری اور سند کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس معاشرے میں فٹ بال کا کوچ برکلے یا کسی بھی بڑی یونیورسٹی کے وائس چانسلر سے سوگنا زیادہ کماتا ہے۔ سٹے بازی سے زیادہ سرمایہ کہیں نہیں ہے۔
عریانی و فحاشی کی صنعت ایک سال میں جتنا سرمایہ کما لیتی ہے دنیا کی کوئی ملٹی نیشنل کمپنی بھی نہیں کما سکتی۔ آج کے دور کی مغربی سیکولر تہذیب کے سب سے بڑے مفکر جان رالز نے اپنی کتاب(Theory of justice) میں اس تہذیب کا نقشہ کھینچا ہے اور اسے جدید مغربی تہذیب پر اتھارٹی سمجھا جاتا ہے وہ لکھتا ہے کہ انسان کی زندگی کے صرف چار مقاصد ہیں’’آمدنی، دولت، قوت اور اقتدار‘‘ یہی چار مقاصد میں جو جدید سیکولر نظام تعلیم کے ذریعے لوگوں کے دلوں میں راسخ کرائے جاتے ہیں۔ اسی لیئے اقبال نے کہا تھا۔
یورپ میں بہت روشنیٔ علم و ہنر ہے
حق یہ ہے کہ بے چشمۂ حیواں ہے یہ ظلمات


Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours