ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا  از اوریا مقبول جان


پرچم اتار دیا گیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد فاتح اقوام کے سب سے بڑے اتحاد اور دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کا پرچم۔ وہ قوتیں جو آج سے تیرہ سال قبل دھاڑتی، چنگھاڑتی ہوئی اس کمزور، وسائل اور ٹیکنالوجی سے محروم ملک، افغانستان میں داخل ہوئی تھیں۔
دنیا بھر کے لیے ایک لکیر کھینچ دی گئی تھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ اس کمزور ملک سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہو تو پھر ہمارے دشمن ہو۔ 2001ء کی سردیاں اس ملک کے لیے عذاب کی صورت بنا دی گئیں۔ دنیا بھر میں سے تین ملک ایسے تھے جو اس ملک پر برسرِ اقتدار طالبان کی حکومت کو تسلیم کرتے تھے۔ جن میں سے ایک پڑوسی پاکستان بھی تھا۔ باقی پڑوسی ایران اور تاجکستان تو ویسے ہی ان کے خلاف شمالی اتحاد کو ہر طرح کی مدد دیتے ہوئے جنگ میں شریک تھے۔
لیکن جس پڑوسی نے انھیں ایک قانونی حکومت تسلیم کیا تھا، اسی پڑوسی کی سرزمین ان پر حملے کے لیے استعمال ہوئی۔ دنیا نے اس ملک کو دہشت گردی کا مبنع قرار دیا اور پھر دو سو کے قریب ممالک میں سے اڑتالیس ممالک نے اپنی فوجیں وہاں اتار دیں۔ دشمن پڑوسیوں میں گھرا ہوا یہ ملک، ایک جانب پاکستان جہاں سے57 ہزار دفعہ امریکی جہاز اڑے اور انھوں نے اس سرزمین پر بم برسائے، دوسری جانب تاجکستان جس نے قلاب والا زمینی راستہ دیا تا کہ نیٹو افواج شمالی اتحاد کے جلو میں اندر داخل ہو سکیں اور تیسری جانب ایران جس کے پاسداران شمالی اتحاد اور حزبِ وحدت کے ساتھ اس ملک پر چڑھ دوڑے۔ تیرہ سال قبل اس دنیا میں ٹیکنالوجی کے بت کی پرستش کرنے والے کیسی کیسی داستانیں سنایا کرتے تھے۔ پہلے چند ماہ تو ایسے تھے کہ ہر کوئی بلند آواز میں پکار رہا تھا، دیکھو ٹیکنالوجی نے آج اُس قوم کو شکست دے دی ہے۔

جس سے کوئی نہ جیت سکا۔ کوئی ان کے بھاگنے کے قصے سناتا اور کوئی کہتا کہ یہ تو چند ہزار لوگ تھے جنھیں کچھ طاقتوں نے اکٹھا کیا تھا، وہ پیچھے ہٹ گئیں تو دیکھو کیسے بھگوڑے ہو گئے ہیں یہ سب کے سب۔ اب افغانستان میں ایسے لوگوں کی کوئی گنجائش نہیں ہو گی۔ یہ اب دوبارہ واپس نہیں آ سکتے۔ اس کے بعد کے تیرہ سال آگ اور خون کے ساتھ کھیلتے ہوئے سال ہیں۔ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجی جو دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی سے لیس ہتھیاروں کے ساتھ یہاں خون کی ہولی کھیلتے رہے۔ ایسے ٹینک جو اپنے اندر سے ایک ایسے مقناطیسی ردّ عمل کا دائرہ بنا سکتے تھے جن سے میزائل بھی واپس لوٹ جاتا تھا۔
آسمانوں سے پہرہ دیتے جہاز۔ فضا کی بلندیوں پر موجود ایک ایک لمحے کو ریکارڈ کرتے اور معلومات فراہم کرتے سٹلائٹ۔ ان سب کے باوجود کوئی ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب نیٹو افواج یا ان کی بنائی ہوئی افغان فوج نے یہ دعویٰ کیا ہو کہ ہمارا پورے افغانستان پر کنٹرول ہو گیا ہے۔ بلکہ حقیقت یہ تھی کہ سوائے چند شہروں کے چند میل علاقوں کے پورے افغانستان میں امریکی یا نیٹو افواج کو کسی قسم کی کوئی دسترس تک حاصل نہ تھی۔ آخری سال تو شکست کے بدترین سالوں میں سے ایک تھا۔ یکم جنوری2014ء سے31 دسمبر تک9167 افراد اس جنگ کا شکار ہوئے۔ جن میں3,188 ایسے تھے جو اس بری طرح زخمی ہوئے کہ ناکارہ ہو کر رہ گئے۔
بوکھلاہٹ میں الزامات حقانی نیٹ ورک پر لگائے گئے جس کے خلاف اس دوران شمالی وزیرستان میں آپریشن جاری تھا۔ کون ٹیکنالوجی کی شکست مانتا ہے اور وہ بھی نہتے افغانوں کے ہاتھوں جن کا سارا تکیہ ہی تائید الٰہی پر تھا۔ کیا کبھی امریکا اور نیٹو کے اتحادیوں نے سوچا بھی ہو گا کہ اسقدر عظیم فوجی قوت کے باوجود ان کے تین ہزار چار سو اٹھاسی3488 سپاہی مارے جائیں گے۔ یہ وہ گنتی ہے جو وہ خود مانتے ہیں۔ جب سے سی آئی اے بنی ہے اس کے نوے کے قریب اہم ایجنٹ مختلف ممالک میں مارے گئے ہیں، جن میں سے گیارہ اس افغان جنگ میں قتل ہوئے۔ افغانستان ایک ایسا ڈراونا خواب تھا جس کے اختتام کی تقریب 28 دسمبر کو منعقد ہوئی۔ نیٹو افواج کے کمانڈر جنرل جان ایف کیمپبل (Joh F. Campbell) نے کہا ’’ہم اپنا طالبان کے خلاف جنگ کا ایجنڈا ادھورا چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ لیکن ہم بھاگ نہیں رہے‘‘۔ کیا خوبصورت فقرہ ہے (“We are not walking away”) یہ تسلی افغان قوم کو نہیں بلکہ اس افغان حکومت کو دی جا رہی جسے امریکیوں نے خود وہاں پر مسلط کیا ہے۔
جمہوری حکومت اور جمہوریت کے قیام کا کیا خوب تصور ہے کہ ایک ملک پر حملہ کرو، وہاں افواج اتارو، لوگوں کو قتل کرو، خود ایک آئین تحریر کرو، اپنی نگرانی میں الیکشن کراؤ اور بولو کہ ایسے زندگی گزار تے ہو تو ٹھیک ورنہ تمہیں دہشت گرد کہہ کر مار دیں گے۔ اسی لیئے اس ’’ٹوڈی‘‘ حکومت کو تسلی دی جا رہی ہے کہ ہم بھاگ نہیں رہے۔ لیکن اس اتوار کو امریکی صدر اوباما نے اپنے تحریری بیان میں کہا ہے کہ ’’ہم نے ایک محتاط طریقے سے اس جنگ کا خاتمہ کیا ہے جب کہ افغانستان آج بھی ایک خطرناک علاقہ ہے‘‘۔ اس ملک میں تین لاکھ پچاس ہزار افغان فوجیوں کو بھرتی کیا گیا ہے جن کی ٹرنینگ کے لیے12 ہزار نیٹو کے فوجی یہاں پر موجود رہیں گے۔ اس تقریب میں افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر محمد حنیف اعتماد نے کہا کہ آپ ہمیں ایسے وقت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔
جس وقت ہم انتہائی مشکلات میں ہیں۔ ہمیں کبھی بھی نیٹو افواج کی اتنی ضرورت نہیں تھی جتنی آج ہے۔ جس وقت یہ تقریب ٹیلی ویژن پر نشر ہو رہی تھی تو اس دوران افغان افواج کے افسران کے انٹرویو بھی نشر کیے جا رہے تھے۔ یہ افسران کہتے تھے کہ تیرہ سالوں سے ہم ایک ایسی جنگ کے عادی ہو چکے ہیں جو نیٹو کی تکنیکی اور فوجی مدد کے بغیر لڑی ہی نہیں جا سکتی۔ ہمیں ہوائی جہازوں کی بمباری اور ٹینکوں کی یلغار میں آگے بڑھنے کے سوا کچھ نہیں آتا۔ ہم ان کے بغیر ایک قدم بھی نہیں چل پاتے جب کہ ہمارے دشمن طالبان اس تمام تر ٹیکنالوجی سے بے نیاز جس طرف سے چاہیں ہم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔ اب جب کہ یہ سپورٹ (مدد) ختم ہو رہی ہے، ہم بہت مشکل میں ہو ں گے۔
جھنڈا اتار دیا گیا۔ وہ فتح کرنے آئے تھے اور اپنے زخم چاٹتے رخصت ہوئے۔ یہ تیسری دفعہ ہو رہا ہے کہ عالمی طاقتوں کا غرور خاک میں مل رہا ہے۔ یکم جنوری1842ء برطانوی افواج، وہ برطانیہ جس کی علمداری میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اس پر کابل میں حملہ ہوا۔ تقریباً سترہ ہزار فوجی تھے جن میں اکثر انڈین اور ایک رجمنٹ ’’44th‘‘برطانوی سپاہیوں پر مشتمل تھی ان سب کو غلزئی قبائل نے قتل کر دیا تھا اور ایک ڈاکٹر ولیم برائڈن کو زندہ چھوڑا تا کہ وہ جا کر اس عالمی طاقت کے کار پردازوں کو بتائے کہ افغان قوم کیا ہے اور آیندہ کابل کی طرف رخ مت کرنا۔ یہ ڈاکٹر گھوڑے پر سوار ہو کر 13جنوری کو جلال آباد پہنچا اور برطانیہ کے چہرے پر عبرت کا نشان تحریر ہو گیا۔
دوسری دفعہ یہ پرچم عظیم کیمونسٹ ریاست سوویت یونین کا تھا جو1988ء میں ایسے اترا کہ خود اپنی ریاست تک متحد نہ رکھ سکا۔ ٹیکنالوجی کے بت ٹوٹتے ہیں لیکن ان کی پوجا کرنے والے نئے بت تراش لیتے ہیں لیکن وہ جنھیں صرف اللہ کی نصرت اور تائید پر بھروسہ ہوتا ہے وہ بار بار ثابت کرتے ہیں کہ اس دنیا میں اصل طاقت کا سرچشمہ تو صرف اللہ کی ذات ہے اقبال نے کہا تھا۔
اللہ کو پامردیٔ مومن پہ بھروسہ
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours