ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق  از اوریا مقبول جان


مسلم امہ کی اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو گی کہ تین ایسے گروہوں میں تقسیم ہو چکی ہے جن کے عمل اور رویوں سے ٹھیک وہی مقاصد نکل رہے ہیں جو اس امت کو تقسیم کرنے والے چاہتے تھے۔ پہلے دو گروہ وہ ہیں جنہوں نے اپنے اوپر مسلط کیے ہوئے جدید مغربی تہذیبی نظام کو دل سے خواہ تسلیم نہ کیا ہو لیکن اس کے اندر زندہ رہنے‘ اس سے تمام تر فوائد اٹھانے اور اس کے تمام جائزو ناجائز اداروں کو تسلیم کرنے کا ڈھنگ سیکھ لیا ہے۔
اپنے اس رویے اور طرز زندگی کے لیے ان کے پاس دلائل کا انبار بھی ہے اور شرعی و فقہی جواز بھی۔ ان میں سب بڑا گروہ وہ ہے جو تزکیہ نفس کا علمبردار ہے اور تبلیغ کو ’’تامرون باالمعروف ‘‘یعنی نیکی کا حکم دینا اور ’’نہی عن المنکر‘‘ یعنی برائی سے روکنا جیسے اعلیٰ ارفع فریضے کا نعم البدل سمجھتا ہے۔ حج کے بعد دنیا میں سب سے بڑا مسلمانوں کا اجتماع رائے ونڈ میں ہوتا ہے۔ یہ ایک ایسا روح پرور ماحول ہوتا ہے کہ ہر کوئی اس کے روحانی کیف میں سکون محسوس کرتا ہے۔ دعوت اسلامی بھی اپنے مسلک کے مطابق گزشتہ کئی سالوں سے ایسا ہی ایک تبلیغی اجتماع منعقد کروا رہی ہے۔

ان کے افراد بھی ذاتی کردار کی پاکیزگی اور روحانی بالیدگی پر زور دیتے ہیں اور تزکیہ نفس کو اپنا مقصد گردانتے ہیں۔ ان اجتماعات کا ماحول بھی روح پرور ہوتا ہے اور روحانی بالیدگی کا باعث بنتا ہے۔ اسی طرح خانقاہوں پر بیٹھے افراد اپنی دعا‘ تسلی اور تشفی سے کتنے پریشان حال لوگوں کے لیے لمحاتی سکون کا باعث ہیں۔ غربت‘ پریشانی اور بیماری کے مارے لوگ جب ارد گرد اپنے دکھوں کا کوئی مداوا نہیں پاتے تو کسی خانقاہ کے سجادہ نشین کے پاس‘ کسی صاحب دعا کے سامنے یا کسی اہل نظر کے روبرو اپنا دکھڑا بیان کر کے بوجھ ہلکا کر لیتے ہیں۔ ک
ہیں کسی کامل کی دعا ان کے لیے مسائل میں آسانی کا باعث بن جاتی ہے۔ یہ سب کمال کے لوگ ہیں۔ انھیں اس بات سے کوئی غرض نہیں کہ معاشرے میں کیا ہو رہا ہے‘ ہم کونسے نظام میں جی رہے ہیں کونسا طرز حکومت ہم پر مسلط ہے‘ کیسی تعلیم ہمیں دی جا رہی ہے اور وہ کیسے نوجوان بنا رہی ہے۔ انھیں بس اپنے کام سے غرض ہوتی ہے۔ لوگوں کا تزکیہ کرنا‘ انھیں ازسرنو صحیح اور راسخ العقیدہ مسلمان بنانا ان کا مقصد ہے۔ دوسرا گروہ ان علمائے کرام اور فقیہائے ملت کا ہے جنہوں نے یہ یقین کر لیا ہے کہ ہم پر جو نظام مسلط ہو چکا ہے‘ اس نے تو آیندہ صدیوں میں بھی تبدیل نہیں ہونا۔
اس لیے اس نظام کی چھتری تلے اپنے زندہ رہنے کے لیے تھوڑی سی گنجائش پیدا کی جائے۔ یہ گروہ بھی دو حصوں میں منقسم ہے۔ ایک جدیدیت اور مغربیت سے متاثر علماء کرام ہیں‘ جو مغرب ہی کو اصل اسلام گردانتے ہیں اس کی ہر خوبی کو عین اسلام کے مطابق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی روشن خیالی اسقدر بڑھ جاتی ہے کہ ان مغرب زدہ مفکرین سے بھی دو ہاتھ آگے نکل کر ہر بے راہ روی کو بھی اجتہاد کی بنیاد سے جائز قرار دے دیتے ہیں۔
علماء کا دوسرا گروہ وہ ہے جو اس جدید مغربی تہذیب کے قائم کردہ اداروں کو یا تو مشرف بہ اسلام کرنا چاہتا ہے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو اس کے اندر رہ کر زیادہ سے زیادہ حلال و حرام کی تمیز بتا دیتا ہے تا کہ لوگ اپنے طور پر سکون کی نیند سو جائیں کہ ہم نے حرام نہیں کھایا اور مغرب کے لوگ بھی مطمئن رہیں کہ ان کا پورے کا پورا نظام صحیح و سالم زندہ و پایندہ ہے اور سرمایہ دارانہ نظام پوری آب و تاب سے چمک رہا ہے۔ لیکن اس نظام میں مسلمان گاہکوں کے لیے حلال کا ایک گوشہ مخصوص ہے۔
اس کی تازہ ترین مثال یہ ہے کہ اس سرمایہ دارانہ نظام نے مسلمان گاہکوں کی ترغیب کے لیے ایمسٹرڈیم کے بازار حسن میں ’’حلال طوائفوں‘‘ کا بھی اشتہار شایع کیا یعنی ایسی عورتیں جو سئور نہیں کھاتیں‘ شراب نہیں پیتیں‘ حجاب کرتی ہیں اور اگر آپ نکاح کرنا چاہیں تو کر لیں اور اگر مرضی ہو تو طلاق دے دیں لیکن اس بازار سے منہ نہ موڑیں اور اس کی قیمت بھی ادا کرتے رہیں۔ موجودہ دور کے اس نازک ترین موڑ پر جب سب کچھ مغرب زدہ ہو چکا ہے اور ہم نہیں بلکہ ہمارے اکثر صاحبان علم نے بھی طے کر لیا کہ انھوں نے اس نظام کو نہیں بدلنا اور اسی میں زندہ رہنا ہے تو مصر اور سعودی عرب کے بعض علماء نے ’’نکاح المسیار‘‘ کا تحفہ عطا کیا جس کے تحت نہ شوہر پر نان نفقہ کی ذمے داری ہے اور عورت کو گھر میں لا کر رکھنے کی۔
اس میں رخصتی نہیں ہوتی بلکہ میاں بیوی راز داری کے ساتھ ایک طے شدہ مقام پر جمع ہو سکتے ہیں۔ یہ کیوں کیا گیا۔ اس لیے ان ممالک میں گھروں اور دفاتر میں غیر ملکی خواتین ملازمین کا آنا جانا بہت بڑھ گیا تھا۔ بیویاں انھیں سوکن کے روپ میں دیکھنا نہیں چاہتی تھیں اور مردوں کی جنسی ہوس انھیں ایک آسان شکار تصور کرتی تھیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا اس مغرب زدہ مخلوط معاشرت کے خلاف آواز اٹھائی جاتی لیکن اس کے لیے ایک شرعی حیلے کے ساتھ جواز فراہم کیا گیا۔ یہ ہے وہ اصول جس کی بنیاد پر اسلامی جمہوریت‘ اسلامی ثقافتی مرکز‘ اسلامی معاشیات اور پھر اسلامی بینکنگ وجود میں آئی۔
سود پر بنی ہوئی عمارت اور سرمائے کے کاروبار اور مکمل طور پر جھوٹی اور جعلی کرنسی کی مدد سے بنائے گئے نظام میں حلال کا راستہ نکالا گیا۔ ان سب افراد کو معلوم ہے کہ تمام کا تمام بینکاری نظام اسلامی معیشت کے اصولوں کی ضد کے طور پر خالصتاً سودی بنیادوں پر استوار ہے۔ اس میں دراصل ایک غیر فطری سرمایہ تخلیق ہوتا ہے جس سے اس دنیا میں تمام جمہوری‘ معاشرتی‘ تعلیمی اور استحصالی معاشی نظام تخلیق ہوتا ہے لیکن سب اس بڑے نظام کے خلاف جدوجہد نہیں کرتے بلکہ اس کے اندر ایک حلال اور حرام کا معیار مقرر کرتے ہوئے کسی فرد کا سرمایہ پاک کرنے کا راستہ بناتے ہیں۔
وہ اسے شرعی حیلہ کہتے ہیں۔ ایک بہت بڑے مفتی صاحب نے لیزنگ میں عام بینکوں اور اسلامی بینکوں میں فرق کا جو موازنہ کیا اسے بیان کرتا ہوں اور لوگوں پر چھوڑتا ہوں کہ کیسے پورے لیزنگ کو مسلمان کیا گیا ہے۔ کہتے ہیں کنونشنل یا عام بینکاری میں اگر گاڑی چوری ہو جائے تو بینک ذمے داری نہیں لیتا جب کہ اسلامی بینک اس کی پوری ذمے داری لیتا ہے۔ اس لیے کہ کنونشنل بینک تو صاف سود کہہ کر زائد رقم اقساط میں لیتے ہیں اور اسلامی بینک اسے کرائے کا نام دیتے ہیں دوسرا نکتہ یہ کہ عام بینک فوراً قسطیں لینی شروع کر دیتا ہے جب کہ اسلامی بینک جب گاڑی مل جائے تو قسطیں شروع کرتا ہے۔ یعنی زائد رقم چند ماہ کے بعد شروع کرنے سے شرعی اور حلال ہو جاتی ہے۔
آخری نکتہ کمال کا ہے کہ عام بینک انشورنس کرواتا ہے تا کہ گاڑی کے مالک کا نقصان پورا ہو۔ جب کہ ایک اسلامی بینک شرعی انشورنس یعنی تکافل کرواتا ہے۔ دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام نے بینکوں کے ساتھ انشورنس کا نظام اسی لیے بنایا تھا کہ اگر بینکوں یا کمپنیوں میں سرمایہ ڈوبنے لگے تو ان کی مدد کے لیے انشورنس کمپنیاں آ جائیں یعنی ہر صورت میں عوام کے پیسے کو لوٹا جائے اور سرمایہ دار کا پیسہ محفوظ رہے۔ اس نکتے سے اس پہلے نکتے کی بھی نفی ہوتی ہے کہ اسلامی بینک گاڑی چوری ہونے پر ذمے دار ہوتا ہے‘ وہ بھی انشورنس کے پیسے سے ادائیگی کرتا ہے حیلے کو شرعی حیثیت فقہہ میں دی گئی اور اس میں حرام اور حلال حیلے کی تمیز کی گئی۔
یہی وجہ ہے کہ وہ سارا سرمایہ دارانہ نظام قائم رہتا ہے اور وہ سود جس کے خلاف اللہ اور اس کے رسول نے جنگ کا اعلان کیا اس کے بڑے بڑے اشتہارات تبلیغی جماعت کے اجتماع کے ارد گرد بھی لگے ہوتے ہیں اور صوفیاء کے مزاروں کے سامنے بھی‘ کسی بڑے مدرسے کے روبرو بھی اور کسی بڑی کانفرنس کے بیچوں بیچ بھی۔ لیکن ذرا بھر بھی کراہت نہیں ہوتی۔ ہم نے ایک مکمل ناجائز نظام کے اندر اپنے لیے حلال خوراک کا بندوبست کر کے جینا سیکھ لیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ یہود پر لعنت فرمائے۔ جب ان پر مردار کی چربی حرام کی گئی تو وہ چربی پگھلاتے اور بیچ ڈالتے اور پھر اس کی قیمت کھا جاتے‘‘ (نسائی)۔ تیسرا گروہ وہ ہے جس نے تزکیہ نفس اور ذاتی کردار کو تو اہمیت نہ دی لیکن خود پر مغرب کے خلاف جہاد فرض کر لیا۔ تربیت کے فقدان نے ان میں اغوا برائے تاوان سے لے کر عصبیت تک قتل و غارت کو ایسا فروغ دیا کہ مغرب کیا خوفزدہ ہوتا‘ پوری امت خوفزدہ ہو گئی۔ اس گروہ کے درست اور حق پر ہونے کے لیے بھی شریعت سے جواز ڈھونڈے گئے۔ اقبال نے خوب کہا تھا
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours