اقامتِ دین‘ جمہوریت اور مذہبی جماعتوں کا المیہ از اوریا مقبول جان

 
نظام کے تسلسل‘ جمہوریت کی بقاء اور انسانی آزادی کے تحفظ کی جتنی آوازیں آج پاکستان کی مذہبی جماعتوں کی جانب سے اٹھ رہی ہیں اس کا شاید ہی اندازہ آج سے بیس پچیس سال پہلے کسی نے کیا ہو۔ یہاں تک کہ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی قائم کردہ جماعت اسلامی بھی اس ہر اول دستے کی سرخیل ہے۔
مولانا مودودی موجودہ دور میں مسلم امہ کی وہ آواز تھے جنہوں نے اپنے ارد گرد موجود جدید تہذیبی نظام کو ایک جہل
مرکب جانتے ہوئے اسلام کے انقلابی پیغام کی جانب لوگوں کو بلایا تھا۔ سیکولر اخلاقیات اور جدید مغربی اصطلاحات پر قائم شدہ ریاست کے مقابلے میں ایک اسلامی ریاست کا خاکہ دیا تھا۔ اپنے اس سارے کام اور جماعت اسلامی کی جدوجہد کو اقامت دین کا نام دیا تھا۔ اس آواز نے دنیا بھر میں لوگوں کو متاثر کیا اور ہر جگہ اسلامی تحریکوں نے ایک نئی شکل میں ترتیب پانا شروع کیا۔
جماعت اسلامی سے قبل برصغیر میں سیاسی منظرنامے پر جمعیت العلمائے ہند‘ مجلس احرار اور خاکسار جیسی سیاسی مذہبی پارٹیاں اپنے مخصوص مسلکی تصور کے ساتھ سیاسی جدوجہد میں شریک تھیں۔ انگریز کے بنائے گئے جمہوری نظام حکومت‘ بقول اقبال ’’الیکشن، ممبری‘ کونسل‘ وزارت‘‘ میں حصہ لیتی تھیں اور اکثر ناکام ہو کر زمانے کے تنزل کا گلہ کرتی تھیں۔
حیرت اس بات پر تھی کہ دین کے معاملے میں اپنے مدرسے یا دارالعلوم کا مہتمم مقرر کرنے کے لیے تو کبھی مدرسے میں موجود طلبہ اساتذہ سے رائے نہیں لی جاتی تھی‘ کوئی سیکرٹ بیلٹ باکس رکھ کر یہ نہیں پوچھا جاتا تھا کہ کون اس ادارے کو بہتر طور پر چلا سکتا ہے جب کہ انتخاب کے ایسے میدان میں ایک نیک پارسا اور متقی شخص کو اتار دیا جاتا تھا جہاں ایک شریف‘ ایماندار اور نیک شخص کا ووٹ اور ایک اسمگلر‘ ڈاکو‘ شراب خانہ‘ جواء خانہ اور ناچ گھر چلانے والے کا ووٹ برابر ہوتا ہے۔ دونوں صاحب الرائے ہیں۔ دونوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ ریاست چلانے کے اہم ترین کام میں برابر کی رائے دے۔
مذہبی جماعتوں نے اس ’’شاندار‘‘ اور ’’مساوات انسانی‘‘ پر مبنی نظام کو وقتی مصلحتوں کے تحت اپنے اوپر جائز قرار دیا اور آج تک اس بات کا ماتم کرتی ہیں کہ چونکہ لوگوں کی اکثریت نہیں چاہتی اس لیے یہاں اللہ کا قانون نافذ نہیں ہو سکتا۔ جماعت اسلامی نے بھی اسی راستے کو وقتی مصلحت کے تحت اختیار کیا اور 1970ء کے پہلے عام انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا کیا۔
ایسا ہی کچھ حال دیگر مذہبی جماعتوں کا تھا جن کے مسلکی پیروکار انھیں مسجد میں نماز‘ نکاح پر خطبہ اور موت پر دعائے مغفرت تک تو اپنا قائد تسلیم کرتے تھے لیکن انھوں نے جب خود کو ’’اہل الرائے‘‘ کی منصب پر سرفراز دیکھا تو فیصلہ دے دیا کہ ہمیں نظام کار حکومت چلانے کے لیے کسی متقی‘ پرہیز گار یا ایماندار شخص کی ضرورت نہیں۔
یہ ایک ایسا عوامی فیصلہ تھا جس کی گونج آج بھی سنائی دیتی ہے۔ یہاں تک کہ کوئی بھی غیر ملکی فرد‘ حکمران یا وفد آئے ہمارے تخت حکومت پر بیٹھے لوگ یہ دلیل دیتے ہیں کہ پاکستان تو ایک روشن خیال ملک ہے جس کے عوام کی اکثریت نے ہر بار مذہبی جماعتوں کو مسترد کیا ہے۔ یہ ہے وہ انجام جو اب تک کی جمہوری جدوجہد کے پھل کے طور پر ملا ہے اور اس نظام کے تسلسل میں اگلے سو سال بھی اسی بدترین انجم کی پیش گوئی کی جا سکتی ہے۔
اقامت دین یعنی دین کو قائم کرنے کا دعویٰ لے کر اٹھنے والی جماعت اسلامی کے بانی سید ابوالاعلیٰ کو اس بات کا ادراک ہو گیا تھا اور ان کی بصیرت افروز نگاہوں نے یہ تسلیم کر لیا تھا کہ اس جمہوری نظام اور انتخابی تسلسل سے دین کے غلبے کی راہ ہموار نہیں ہو سکتی۔ 1976ء کی ایک شام‘ عصر کی محفل میں کہا ’’اسلامی انقلاب برپا کرنے کے لیے انتخابات ہی واحد راستہ نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت سے ذرایع ہیں جن سے کام لیاجا سکتا ہے‘‘ تھوڑی دیر خاموش رہے اور پھر کہا ’’آبادی کی کثیر تعداد آپ کی ہم خیال ہو تو اسلامی نظام کا راستہ روکنا ممکن نہیں رہے گا۔
حکمران رکاوٹ بنیں تو ان پر موثر دبائو ڈال کر جھکنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ ماضی قریب میں انگریز کو عوامی رابطے Mass Contact کے ذریعے ہندوستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا صرف انتخابات پر انحصار نہیں کیا گیا‘‘ یہ انھوں نے ایک دفعہ نہیں بار بار کہا ‘‘(ہفت روزہ زندگی 5 اپریل 1976ء)۔ یہ تھا ایک ایسا لمحہ جو ہر صاحب علم پر کسی ایسے موقع پر آتا ہے جب اسے اس بات کا ادراک ہو جاتا ہے کہ بس میں موجود تمام مسافروں کے دلوں میں منزل بھی ایک ہے لیکن بس غلط راستے پر ڈال دی گئی ہے۔ ایسے میں وہ فوراً غلطی کا احساس کرتے ہوئے بس کا رخ موڑنے کی کوشش کرتا ہے‘ اور اگر بس کا سٹئرینگ اس کے ہاتھ میں نہ ہو تو آواز ضرور بلند کرتا ہے۔
سید مودودی نے آواز بلند کی لیکن جماعت اسلامی کی بس اسی راستے پر گامزن فراٹے بھرتی رہی۔ یہی حال باقی مذہبی جماعتوں کا بھی رہا۔ اسمبلی میں چند سیٹیں اور کبھی کبھار چند وزارتیں لیکن اس مختصر سی کامیابی کی جو قیمت ان سب نے چکائی وہ کسی المیے سے کم نہیں۔آج اس ملک میں مذہبی‘ سیاسی جمہوری پارٹی تو آپ کو مل جائے گی لیکن اقامت دین کی جدوجہد والا گروہ ملنا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ لوگ جن کے دلوں میں صرف اور صرف اللہ کا خوف ہونا چاہیے تھا۔
تعجب ہے کہ وہ اس بات کے ڈر سے اس نظام کی مخالفت نہیں کرتے کہ کوئی طالع آزما نہ آ جائے۔ جو عمر بھر اسٹیٹس کو (Status quo) کی مخالفت کرتے رہے آج اسی کے سب سے بڑے وکیل بن بیٹھے۔ وہ دل جہاں اللہ کا خوف ہونا چاہیے تھا وہاں ’’طالع آزما‘‘ کا خوف بیٹھا ہے۔ جمہوریت اور جمہوری نظام کی بنیاد انسانی آزادی کے خمیر سے اٹھی ہے۔ لفظ انسانی آزادی اسلامی تعلیمات کے بالکل برعکس لفظ العبد‘ یعنی بندے کے مقابل تخلیق کیا گیا۔
انسانی آزادی کے تصور کے تحت ہر شخص اپنے تمام فیصلے کرنے میں مکمل طور پر آزاد اور خود مختار ہے جب کہ لفظاً العبد‘‘ یعنی بندہ اسے اللہ کی غلامی میں قید ایک فرد کو ظاہر کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام مذہبی جماعتیں اگر اپنی سب سے بڑی کامیابی 1973ء کے متفقہ آئین کو ہی تصور کر لیں تو اللہ کا کوئی بھی قانون اس وقت تک قابل نفاذ نہیں ہو سکتا جب تک پارلیمنٹ کی اکثریت اسے منظور نہیں کرتی۔
یہی وہ اکثریت ہے جو انسان کو اللہ کے برابر بلکہ اس سے برتر مقام پر لا کر کھڑا کر دیتی ہے۔ جب آپ یہ تصور کر لیتے ہیں کہ اصل طاقت عوام کے پاس ہے تو پھر آپ کی تمام سرگرمیوں کا مرکز رضائے الٰہی کا حصول نہیں بلکہ ووٹ کا حصول بن جاتا ہے۔ ایسے میں آپ وہ نیکیاں جو لوگ اللہ کو خوش کرنے کے لیے خاموشی سے کرتے ہیں تا کہ آخرت میں اس کا اجر پائیں‘ آپ اسے ووٹ حاصل کرنے کا ذریعہ بنا لیتے ہیں۔ آپ خدمت خلق کے کاموں میں بھی اس لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں کہ آیندہ آنے والے الیکشنوں میں آپ کی پوزیشن مستحکم ہوگی۔
ووٹ حاصل کرنے کی اس دوڑ میں آپ ووٹنگ کو شورائیت کے ہم پلہ کھڑا کر دیتے ہیں۔ کیا اسلامی تاریخ‘ خلفائے راشدین کے سنہری دور یا کسی بھی اسلامی مفکر کے خیالات کے مطابق ایک عابد و زاہد‘ یا عالم و باقر کی رائے ایک اسمگلر‘ چور‘ ڈاکو‘ زانی اور قاتل کے برابر ہو سکتی ہے۔ کس قدر مضحکہ خیز ہے یہ ووٹنگ کا نظام جس میں ووٹ دینے کے لیے کم از کم ایک پابندی ضرور ہے کہ کم سے کم عمر 18 سال ہونی چاہیے۔ جب سب کی رائے برابر ہے تو پھر 15 سال کے ذہین بچے کے ووٹ پر کیوں پابندی ہے اور کیا 90 سال کا ایک فاتر العقل شخص اس قابل ہوتا ہے کہ مستند رائے دے سکے۔
کیا کسی نے یہ آواز بلند کی کہ یہ اسلام کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔ اگر 18 سال کی عمر کی پابندی ہو سکتی ہے ووٹ یا رائے دینے کے لیے تو پھر تعلیم‘ کردار اور اخلاق کی اسلام پابندیاں عائد کرتا ہے۔ کسی نے آواز اٹھائی کہ ووٹ بنائے‘ یا رائے دینے کے حق کے لیے صرف بلوغت شرط نہیں ہونا چاہیے اور بھی شرطیں رکھی جا سکتی ہیں۔

اقامتِ دین، اسلامی نظام کا قیام، شریعت کا نفاذ یا نظام مصطفیٰﷺ ایسے تمام نعرے مذہبی جماعتیں، اپنی الیکشن کی مہم، رکنیت سازی یا عمومی گفتگو میں لگاتی ہیں۔ یہ سب گزشتہ چھ دہائیوں سے انتخابی سیاست کر رہی ہیں۔ ان کے ہاتھوں میں وزارتوں کے قلمدان بھی رہے اور صوبائی حکومتیں بھی۔ اس پورے عرصے میں کبھی ان تمام جماعتوں نے نفع و نقصان کا گوشوارہ مرتب کرنے کی کوشش کی ہوتی تو انھیں اندازہ ہو جاتا کہ انھوں نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ تعجب کی با ت یہ ہے کہ لادینیت اور سیکولرزم کے اس طوفان میں نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد اسلام کی جانب بھی راغب ہو رہی ہے۔
آج سے چالیس سال قبل یونیورسٹیوں کے مخلوط ماحول میں شاید ہی کوئی لڑکی حجاب پہنے نظر آتی تھی لیکن اب آپ کو جابجا ایسی لڑکیاں نظر آئیں گی بلکہ ایک اندازے کے مطابق سرکاری یونیورسٹیوں میں تیس فیصد لڑکیاں حجاب پہنتی ہیں۔ ایک زمانے میں تعلیمی اداروں میں اکا دکاّ داڑھی والے نوجوان نظر آتے تھے اور ان کی داڑھی بھی مختصر سی ہوتی لیکن اب ایسے نوجوانوں کی بھی کثیر تعداد ان اداروں میں موجود ہے جو عمامہ، شلوار قمیض اور لمبی داڑھی سمیت اس مخلوط تعلیم میں اپنی انفرادیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان نوجوانوں کی اکثریت نے دین کے ساتھ یہ تعلق اپنے تجسس اور کوشش سے استوار کیا ہے۔
گیارہ ستمبر کے ہنگام میں جس پڑھی لکھی نسل نے مغرب کا کریہہ چہرہ اپنی انٹرنیٹ تک رسائی سے دیکھا، وہ اسلام کو سیکھنے کی جستجو میں لگ گئی۔ ان کے پاس ان مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کا کوئی علمی کام مشعل راہِ کے طور موجود نہ تھا۔ جماعتِ اسلامی ان میں سے ایک مختلف حیثیت رکھتی ہے کہ مولانا سیّد ابوالعلیٰ مودودی کا علمی ورثہ آج بھی ان کے کام آ رہا ہے۔ جب کہ دیگر مذہبی جماعتیں اپنے مسلکی اور فقہی علماء کے ذخیرۂ علم پر بھروسہ کرتی ہیں۔ یہ تمام کام بھی تقریباً چالیس سال پرانے ہیں اور موجودہ دور میں جو علمی کام میسر ہے وہ ذاتی نوعیت کا ہے۔
اجتماعی سطح پر دین کے کام سے جتنی یہ مذہبی جماعتیں آج دور ہیں اس کی مثال گزشتہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ جہاں علمی کام میں تنزل آیا وہیں ان کی قیادتوں کے معیار اور علمی حیثیت بھی اس قابل نہ رہی کہ ان کی جانب ایک علم دین کے ماہر یا عالم کی حیثیت سے رجوع کیا جا سکے۔ سب کے سب سیاسی رہنما بن گئے۔ مولانا فضل الرحمن ہوں یا سراج الحق، انس نورانی ہوں، صاحبزادہ حامد رضا  یا علامہ ناصر عباس، کسی کے کھاتے میں کوئی ایسی تحریر موجود نہیں جو موجودہ مسائل کے تناظر اور اسلام کے حوالے سے لکھی گئی ہو۔
انھیں آئین کی دفعات یاد ہوتی ہیں، جمہوریت کی تاریخ ازبر ہوتی ہے، آمریت کے شب خون اور اس کے اثرات پر ان کے پاس دلائل موجود ہوتے ہیں لیکن نہ یونیورسٹی میں پڑھنے والے کسی نوجوان کے ذہن میں اٹھنے والے سوالوں کا جواب ان کے پاس ہوتا ہے اور نہ ہی مدرسہ کے فارغ التحصیل، درسِ نظامی پڑھے ہوئے شخص کو یہ قائل کر سکتے ہیں کہ اسلام کا آفاقی نظام موجودہ دور کی ضروریات کیسے پوری کر سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تمام کی تمام تحریکیں عملاً اس صورت میں ڈھل چکی ہیں جس میں دینی قیادت اور ہے اور سیاسی قیادت اور۔ وہی جنگ جو یہ جماعتیں صدیوں سے لڑتی چلی آئی ہیں کہ جو دینی معلامات میں رہنما ہے وہی سیاسی معاملات میں بھی قائد ہو گا۔ لیکن اب خود ان کے سیاسی قائد اور ہیں اور دینی قائد اور۔ یہ ہے اس انتخابی عمل کا بھیانک نتیجہ جس نے ان مذہبی جماعتوں کو ٹھیک اسی رنگ سے رنگ دیا ہے جو جمہوری نظام کی عین منشا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ ان کے قائدین چہرے مہرے سے شرعی وضع قطع رکھتے ہیں، عبادات میں پہل کرنے والے ہیں اور ذاتی کردار میں بہتر ہیں۔
لیکن کیا اس جمہوری نظام کی گندگی اور غلاظت، الزامات کی صورت میں ان کے وزیروں اور مشیروں کے سر پر نہیں تھوپی گئی۔ کیا ان کا روّیہ خالصتاً ان تمام وزیروں کا جیسا نہیں تھا جو اپنے حلقے کی اسکیموں، وہاں کے افراد کی خوشنودی اور ان کے لیے نئی نئی ملازمتوں کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا اس سارے عمل میں اقامتِ دین کا کام پسِ پشت نہیں چلا گیا۔ کیا اقامتِ دین کی آواز بلند کرنے والا کوئی شخص کوئی ایسا عہدہ قبول کر سکتا ہے جس میں اسے ایک ایسا بجٹ بنانا پڑے جس میں سود ایک جزولاینفک ہو۔ لیکن یہ بلوچستان میں بھی ہوا اور خیبر پختونخوا میں بھی۔ یہ تو جان بوجھ کر گلے میں ڈالا گیا طوق تھا، دین کی کوئی تعبیر اسے مصلحت یا مجبوری کا نام نہیں دے سکتی۔ بلوچستان کی اسمبلی میں1988ء سے لے کر آج تک جمعیت العلماء پاکستان کئی دفعہ واحد اکثریتی پارٹی کے طور پر انتخاب جیتتی رہی ہے لیکن سیاسی مصلحت اور عوامی مفاد اسے سیکولر، قوم پرست اور بعض دفعہ دین سے متنفر افراد کے ساتھ اتحاد کر کے اقتدار کو بحال رکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
اس اقتدار کے بعد وہ سارے کام انھوں نے کیے جو انتخابی سیاست میں جیتنے والے دیگر وزیر بھی کرتے تھے۔ لیکن کیا یہ سب کرنے کے بعد سیاست  میں کامیابی ان کے ہاتھ آئی۔ روز بروز ان کے ووٹروں کی تعداد کم ہوتی گئی۔1970ء سے لے کر آج تک اپنے ہم خیال ووٹروں کا جائزہ لے لیں اور ان ووٹروں کو نکال دیں جو وہ وقتاً فوقتاً سیاسی مصلحت کے طور پر برادری والے یا قبیلے والے امیدوار کھڑا کر کے حاصل کرتے ہیں تو آپ کو انداز ہو جائے گا کہ آپ کسی مقام پر کھڑے ہیں۔ آپ نے صرف کھویا ہی کھویا ہے۔
جمہوریت کی جس ٹرین پر یہ مذہبی جماعتیں سوار ہیں اس کا ایندھن کارپوریٹ سرمایہ ہے۔ سیاسی پارٹیاں اسی لیے بنائی جاتی ہیں، تا کہ ان میں انوسٹمنٹ کی جا سکے۔ اوباما کو اگر 6.8 ارب ڈالر نہ ملتے تو اس کی پارٹی الیکشن جیتنے کا تصور بھی نہیں کرتی، یہی حال تمام ممالک کی سیاسی پارٹیوں کا ہے۔ اسی لیے جمہوری نظام میں غیر جماعتی انتخابات گالی بنا دیے گئے ہیں کیونکہ اس طرح پارٹی فنڈنگ کا تصور ختم ہو جاتا ہے۔ اس سرمائے سے جو راستہ جیت کی طرف جاتا ہے وہ میڈیا کا ہے۔
اس وقت دنیا کا 97 فیصد میڈیا تین بڑی کمپنیوں کی ملکیت ہے جن کی کوئی محبت ان مذہبی سیاسی پارٹیوں سے نہیں ہے۔ جب تک آپ اس نظام کا پرچم اٹھا کر جمہوری انتخابی راستے پر گامزن ہیں وہ آپ کو برداشت کریں گے ورنہ حزب التحریر جیسی تنظیم جو ریاست کے قیام سے پہلے ہتھیار اٹھانا حرام سمجھتی ہے اس کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کر کے اکثر مسلم ممالک میں پابندی لگوا دی گئی۔ کیونکہ نہ تو وہ اس جمہوری نظام کا حصہ ہے اور نہ ہی انتخابی سیاست کی حمایتی۔ لوگ سوال کرتے ہیں کہ پھر کیا یہ مذہبی جماعتیں بھی وہی راستہ اختیار کریں اور خود پر پابندی لگوا کر بیٹھ جائیں اور جو تھوڑا بہت دین کا کام ہو رہا ہے وہ بھی ختم ہو جائے۔
کیا ان سب جماعتوں کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہے؟کیا یہ سب اقامتِ دین اور نفاذِ شریعت کے اعلیٰ مقصد کے لیے وجود میں آئی تھیں؟ کیا ان کے نزدیک انتخابی جمہوریت صرف ایک مصلحتی راستہ ہے اور ہرگز منزل نہیں؟ تو پھر ان تمام جماعتوں کو ایک دفعہ پھر غور کرنا چاہیے کہ کہیں ان کی منزل کھوٹی تو نہیں ہو رہی۔ ان کی سیاسی قیادتیں نہ خالصتاً مذہبی اور فقہی سوالات کا تسلی بخش جواب دینے کے قابل ہے اور نہ مغرب کی یلغار اور سیکولر ازم کے طوفان سے اٹھنے والی تشکیک کو حل کرنے کے لیے کوئی تسلی بخش گفتگو کر سکتی ہیں۔ جہالت کا ایسا راج ہو تو پھر پیپلز پارٹی، نون لیگ یا تحریکِ انصاف کے لیڈروں سے کیا گلا کہ انھیں سیاست بازی کے سوا کچھ نہیں آتا۔ کیا ان جماعتوں کے پاس بھی صرف کھوکھلی نعرہ بازی کے سوا کچھ رہ گیا ہے۔
جو افراد اس دینی اور فقہی سوالوں کا جواب چاہتے ہیں وہ شدت پسند مسلکوں کے ہاتھ چڑھ جاتے ہیں اور جو سیکولر یلغار کا سامنا کرنا چاہتے ہیں وہ معذرت خواہ اور مغرب سے متاثر علماء کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔ اس لیے کہ  ان جماعتوں کے رہنماؤں کے پاس علم رہ گیا اور نہ تزکیہ، برداشت رہ گئی نہ حسنِ خلق۔ بس سیاست کی جادو نگری میں ایک رقص ہے جس میں سب رقصاں ہیں اور کسی کو اندازہ تک نہیں کہ وہ کتنے بڑے علمی ورثے سے جنم لینے والی تحریکوں کو تباہ کر رہے ہیں۔ ایسا تصور کر لیا گیا ہے کہ اگر ہماری جماعت ختم ہو گئی تو ملک میں کوئی اسلامی انقلاب کا نعرہ لگانے والا باقی نہ رہے گا۔
کیا اللہ نے انقلاب لانے کی ذمے داری آپ کو سونپ دی ہے۔ اس نے تو یہ ذمے داری پیغمبروں کو بھی نہیں سونپی تھی۔ انھیں بھی یہی کہا تھا کہ جو ہے کھول کھول کر بیان کر دو، ہدایت دینا ہمارا کام۔ جو سچ ہے کھول کر بیان کرو، خواہ اس میں جان چلی جائے یا آپ کی تنظیم۔۔۔ اصل سرخروئی تو آخرت میں ہو گی، ورنہ پارلیمنٹ کی سیٹیں، وزارتیں اور حکمرانی جیسے لالچ تو آپ کی منزل پہلے ہی کھوٹی کر چکے ہیں۔۔۔۔ ختم شد
نوٹ: اس موضوع پر یہ سب انتہائی درمندی سے لکھا تھا۔ میں غلط بھی ہو سکتا ہوں، لیکن جس شدت سے مجھے جماعت اسلامی کے تیار کردہ سیاسی کارکنان نے سوشل میڈیا پر ملعون قرار دیا۔ اس کا مجھے بالکل دکھ نہیں۔ میرے ذہن میں جو آیا کھول کر بتا دیا۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours