آگ گھروں تک آ پہنچی ہے از اوریا مقبول جان

افغانستان اور عراق پر قبضہ کرنے کے بعد امریکا اور اس کے حواری اپنے ایک خواب کی تکمیل کے لیے منصوبہ بندیوں میں لگ گئے۔ امت مسلمہ کو ایک بار پھر کسی اور بنیاد پر تقسیم کیا جائے۔ ایک ایسی تقسیم اور تفریق کہ جس آگ کے شعلے صدیوں نہ بجھائے جا سکیں۔ جنگ عظیم اول کے بعد جہاں دنیا بھر میں قومی ریاستوں کا فیشن عام کیا گیا تو مفتوحہ مسلم

علاقوں میں پہلے اپنے منظور نظر افراد کو مسلم اجتماعیت کی علامت خلافت عثمانیہ کے خلاف ابھارا اور پھر زمین پر نسل اور زبان کی بنیاد پر لکیریں کھینچ کر پچاس کے قریب قومی ریاستیں وجود میں لائی گئیں۔

اقوام متحدہ میں ان سرحدوں کو مقدس اور محترم بنانے کی قسمیں کھائی گئیں۔ افغانستان اور عراق پر حملوں اور قبضے کے بعد جب یہ سرحدیں پامال ہوئیں تو جہاں ان عالمی طاقتوں کو یہ احساس ہوا کہ ان دونوں ملکوں میں ان کے خلاف لڑنے والے لوہے کے چنے ہیں تو ایک خوف یہ بھی سوار ہوا کہ ان کے مقابل جان دینے کے لیے اور ان سے لڑنے والے تو ہر مسلمان ملک سے جوق در جوق ان دونوں ملکوں میں اکٹھے ہو رہے ہیں‘ تو کہیں یہ سرحدیں بے معنی ہو کر نہ رہ جائیں۔ اس لیے بہتر ہے کہ خود ہی ایک نیا نقشہ ترتیب دے دو‘ سو سال پرانی سرحدوں کو توڑ کر نئی سرحدیں تخلیق کر دو۔

2006ء اس سلسلے کا بہت اہم سال تھا جب اس منصوبہ بندی پر کام مکمل ہوا مشہور زمانہ رینڈ کارپوریشن کی رپورٹ “Building Modrate Muslim Network” (ماڈریٹ مسلمانوں کے نیٹ ورک کی تشکیل) سامنے آئی۔ دو سو صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں پوری ملت اسلامیہ میں موجود گروہی تقسیم کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور دوست دشمن کی پہچان واضح کی گئی۔ اس کے بعد ان تمام حلقوں میں یہ بات زیر بحث آنے لگی کہ امت مسلمہ کو نئے سرے سے کیسے تقسم  کیا جا سکتا ہے۔ کونسی ایسی نفرتیں ہیں جنھیں ابھارا جا سکتا ہے۔

جون 2006ء میں ان نفرتوں اور اختلافات کی بنیاد پر امریکا کی افواج کے رسالے US Armed Forces Journal  میں امریکی فوج کے کرنل رالف پیٹرز کا مضمون Blood Borders چھپا جس میں اس نے مشرق وسطیٰ کا نیا نقشہ مرتب کیا۔ یہ نقشہ ملت اسلامیہ کو نسلی اور مسلکی اختلاف کی بنیاد پر تقسیم کر کے بنایا گیا تھا۔ اس میں سب سے زیادہ توسیع ایران کو دی گئی جو کابل کے دروازہ تک اور عراق میں بغداد شہر تک پہنچ گیا۔

عربی بولنے والے شیعوں کی علیحدہ سلطنت‘ مکہ اور مدینہ کی مقدس ریاست، چھوٹا سا سنی عراق‘ آزاد بلوچستان اور آزاد کردستان۔ افغانستان اور پاکستان کے پشتونوں کا علیحدہ ملک اور پاکستان صرف پنجاب اور سندھ پر مشتمل۔ اس نقشے کو ہر کسی نے دیوانے کا خواب قرار دیا۔ لیکن گزشتہ چھ سالوں میں صرف اسی نقشے کو ذہن میں رکھ کر پورے علاقے میں نفرت کے سیلاب کو عام کرنے کے لیے کام کیا گیا۔ اس کے لیے کوئی زیادہ محنت درکار نہیں ہوتی۔ لوگوں میں اختلافات موجود ہوتے ہیں صرف ایک گروہ کو زبردستی اقتدار پر قابض کر کے دوسرے گروہ پر ظلم اور زیادتی کی کھلی چھٹی دے دی جاتی ہے۔ پھر اسی ظلم و زیادتی سے وہ خانہ جنگی جنم لیتی ہے کہ سالوں اس آگ پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔

عراق وہ سرزمین ہے جہاں سے مسلمانوں میں مسلکی اختلاف کا آغاز ہوا۔ اسلام سے پہلے بھی یہ علاقہ عرب اور عجم کے جھگڑوں کا مرکز رہا ہے۔ اختلاف کی چنگاریاں موجود تھیں بس ذرا ہوا دینے کی ضرورت تھی‘ مسلکی آگ بھی اور نسلی منافرت بھی۔ ابھی تو چنگاریاں سرد بھی نہیں ہوئی تھیں۔ امریکی پشت پناہی سے صدام حسین کا ظالمانہ دور جس میں کردوں اور شیعوں پر عرصہ حیات تنگ کیا گیا۔

ایران کے ساتھ آٹھ سالہ طویل جنگ‘ پورا عراق خوف و دہشت کے سائے میں تھا۔ صدام کا تختہ الٹا تو پہلے براہ راست امریکیوں نے پورے عراق میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا اور پھر صدام کی سنی حکومت کے مقابلے میں ایک ایسی حکومت قائم کی جو تمام گروہوں کی نمایندہ نہ تھی۔ ان کی علامتی موجودگی نے عراقی شیعوں کو مرکزی کردار مہیا کر دیا۔ ابھی صدام حسین دور کے مظالم کی یاد تازہ تھی۔

اب نوری المالکی کی حکومت کے ہاتھ میں ایک ہتھیار آ گیا تھا‘ جس شہر پر حملہ کرنا ہے‘ وہاں کی سنی اقلیت کے خلاف ایکشن کرنا ہے‘ بس القاعدہ کا نام لو اور ٹوٹ پڑو۔ پانچ سال یہ سب القاعدہ کے نام پر ہوتا رہا اور دنیا بھر کا میڈیا اسے دہشت گردی کے خلاف جنگ قرار دیتا رہا لیکن جب اس کے نتیجے میں دولت اسلامیہ عراق و شام (داعش) نے جنم لیا تو ساری دنیا کا وہی میڈیا اب یہ تجزیہ نگاری کر رہا ہے کہ نوری المالکی کی حکومت نے فلاں فلاں ظلم کیے‘ ایسی زیادتیاں کیں جس کے نتیجے میں سنی علاقوں میں ستائے ہوئے لوگ داعش کے ساتھی بن گئے اور اسے کامیابیاں ملتی چلی گئیں لیکن داعش سے ایک ایسی غلطی سرزد ہوئی جو اس ساری پلاننگ کے برعکس تھی۔ عالمی طاقتیں نقشہ اپنا مرتب کرنا چاہتی تھیں‘ لیکن انھوں نے سرحدیں خود متعین کرنا شروع کر دیں۔

اب اس لڑائی کی آگ کو تیز کرنا مقصود تھا۔ دنیا بھر کا میڈیا داعش کے حملوں کے دوران ہونے والی بربریت اور ظلم کی داستانوں سے بھر گیا۔ انتقام کی آگ میں سلگتے ہوئے داعش کے لوگوں نے سنی علاقوں میں موجود شیعہ اور یزدی اقلیتوں کو قتل کیا‘ گھر سے بے گھر کیا‘ ان کے سر قلم کیے۔ اس خون خرابے میں سب سے بدترین روپ اس عراقی فوج کا سامنے آیا جسے اربوں ڈالر لگا کر امریکا نے منظم کیا تھا۔ صرف چند گھنٹوں میں اس نے ہتھیار ڈال دیے اور اپنا جدید ترین اسلحہ بھی داعش کے ہاتھ جانے دیا۔

فوج ناکام ہوئی تو پوری مغربی دنیا اور اس کے حواریوں پر یہ خوف سوار ہوا کہ کہیں اس خانہ جنگی کے نتیجے میں کوئی ایسا گروہ برآمد نہ ہو جائے جو اتحاد پر اکٹھا کر لے۔ یہ اتحاد کتنا آسان تھا کہ ایسی تمام حکومتیں اور طاقتیں جو امریکی اور مغربی پشت پناہی سے مسلمانوں کو تقسیم کر کے حکومت کر رہی ہیں ان کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ ایسے میں امریکا‘ سعودی عربخلیجی ریاستیں اور ایران متحد ہو گئے۔ زمینی فوج بھیجنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ٹھکانوں پر فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ داعش کے مقابلے میں حکومتی سرپرستی میں شیعہ ملیشیا منظم کرائے گئے تا کہ شیعہ سنی لڑائی کو تیز کیا جائے۔

اس وقت عراق میں چار شیعہ ملیشیا داعش سے لڑ رہے ہیں‘ آسیاب اہل حقبدر بریگیڈ‘ مہدی آرمی اور کتیب حزب اللہ۔ اس ساری لڑائی میں وہ ایلیٹ آرمی خاموش تماشائی ہے۔ ادھر داعش کے ہاتھ میں آنے والے تیل کے کنوئوں کی روزانہ آمدنی تیس لاکھ ڈالر ہے۔ یہ تیل ویسے ہی غیر قانونی طور پر فروخت ہوتا ہے جیسے ایران گزشتہ تیس سالوں میں پابندیوں کے باوجود تیل فروخت کر رہا ہے۔ داعش سنی عقیدے کا استعمال کر رہی ہے اور یہ چاروں شیعہ نظریات پر منظم ہیں۔

29 جون 2014ء کو قائم ہونے والی دولت اسلامیہ کے مظالم اور دہشت گزشتہ تین مہینوں سے پریس کی زینت ہیں لیکن چند دن پہلے ایمنسٹی انٹرنیشنل نے شیعہ ملیشیائوں کی رپورٹ بھی شایع کی ہے۔ یہ رپورٹ بھی اتنی ہی خوفناک ہے۔ بغداد سمارا اور کرکوک کے علاقے میں سنی اقلیت ویسے ہی گھر چھوڑ کر بھاگ رہی ہے جیسے داعش کے علاقوں سے شیعہ اقلیت۔ اس رپورٹ کا نام Absolute Impunity, Militia Rule in Iraq ہے۔ اس میں قتل‘ گھر کو جلانا‘ لوگوں کو بے گھر کرنا اور اغوا برائے تاوان کے قصے درج ہیں۔ جس نے دونوں جانب کے مظالم کی تفصیلات درج نہیں کیں کہ اس سے اختلاف کو ہوا ملتی ہے اور آگ مزید بھڑک سکتی ہے۔

دونوں جانب صرف قتل و غارت ہے‘ خونریزی ہے اور بدترین تشدد میں آگ اور خون کا کھیل ہے لیکن اس خوف سے یہ سب لکھ رہا ہوں کہ یہ آگ صرف عراق تک محدود نہیں رہنے والی۔ یہ آگ پوری امت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ کوئی گلی اور محلہ اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔ یہ آگ امریکی غلامی میں لڑی جانے والی دہشت گردی کی جنگ سے زیادہ خوفناک ہو گی۔ نہ حکومتوں کو اس کا ہوش ہے اور نہ علمائے امت کو۔ حکومتیں امریکی غلامی میں ڈوبی ہیں اور علماء اپنے عماموں کے پیج سنبھالے ہوئے ہیں۔ انھیں اندازہ تک نہیں کہ آگ ان کے دروازوں کے باہر آ پہنچی ہے جس میں سب جل کر خاکستر ہو جائے گا۔ خاک و خون میں لتھڑے عمامے اور جلے ہوئے گھر۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

2 comments so far,Add yours