تماشا دکھا کر مداری گیا از اوریا مقبول جان  

سکندر جسے یورپ کے متعصب مورخین نے ایک عظیم فاتح اور حکمران کے طور پر اس کے نام کے ساتھ اعظم  لکھا اور مغرب کی بالادستی کی علامت کے طور پر پیش کیا۔ یہ شخص تاریخ کے ظالم ترین لوگوں میں سے ایک تھا۔ مقدونیہ سے خاندانی تعلق کی وجہ سے اس کا باپ ہمیشہ یونان کی حکمت و علم سے مرعوب رہا۔ یونان کی شہری ریاستیں چونکہ تمام شہریوں کو ایک جمہوری اسمبلی کا درجہ دیتی تھیں‘ اس لیے وہ سکندر کے باپ کو اس کی خواہش کے
باوجود اپنا شہری تسلیم نہ کر سکیں۔
مقدونیہ کے اس بادشاہ مزاج شخص نے گھوڑے دوڑائے‘ علم کے مرکز تھیبس پر قبضہ کیا اور یوں وہ وہاں کا بلا شرکت غیرے عظیم شہری بن گیا۔ یہی شہریت سکندر کے ورثے میں آئی۔ دنیا فتح کرنے کا جنون سکندر پر سوار ہوا تو وہ اپنی مختصر سی فوج لے کر ارد گرد کے علاقوں پر چڑھ دوڑا۔ یہ دنیا کا پہلا حکمران تھا جو امن کے معاہدے کرتا‘ موقع کا انتظار کرتا اور پھر اس شہر کو فتح کر لیتا جسے وہ معاہدے کے تحت دوست بنا چکا تھا۔ اس کی جنگوں کا عرصہ سالوں پر محیط تھا کیونکہ جنگ ابھی تیر‘ تلوار اور گھوڑوں سے آگے نہیں نکلی تھی۔
لوگ جنگ پر نکلتے تو مہینوں ان کی خبر نہ ہوتی۔ کوئی راہ چلتا مسافر آ کر خیر خیریت بتاتا یا پھر کوئی قاصد فتح و شکست کے بارے میں اطلاع دیتا۔ سکندر مشرقی یورپ کے کسی علاقے میں مصروف تھا کہ تھیبس کے شہر میں کسی مسافر نے یہ اطلاع پہنچائی کہ سکندر کسی جنگ میں مارا گیا۔ شہر کے لوگ سقراط کے زمانے سے آزادی اظہار کی عادت کا شکار تھے۔ شہر میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی اور شہریوں نے سب سے پہلے میدان میں جمع ہو کر نعرے بازی کی اور پھر شہر کی دیواروں پر ایسے نعرے لکھے جن کا مفہوم تھا کہ ’’سکندر چلا گیا‘‘۔
سکندر واپسی کے سفر پر روانہ تھا کہ اس کو اس ’’وال چاکنگ‘‘ کی خبر ملی۔ اس نے آتے ہی پورے شہر کا محاصرہ کر لیا۔ تمام شہریوں کو شہرسے باہر نکلنے کا حکم دیا اور پھر نومولود بچے سے لے کر بوڑھے تک ہر کسی کو قتل کر وا دیا۔ سکندر کا شاہانہ اور ظالمانہ مزاج آج بھی آپ کو ہر ایسے حکمران میں ملے گا جو یہ تصور کر بیٹھتا ہے کہ لوگوں پر حکمرانی صرف اس کایا اس کے خاندان کا حق ہے۔ دنیا بدل جائے‘ لوگ شعور کی منزلیں طے کر لیں‘ اظہار کے نت نئے طریقے ایجاد کرلیں‘ لیکن ایسے حکمرانوں کی خواہشِ حکمرانی اور طرز بادشاہت میں فرق نہیں آتا۔
فرق صرف اتنا آیا ہے کہ وہ سکندر کی طرح لوگوں کی زبانیں خاموش کرنے پر قادر نہیں رہے۔ البتہ غصے میں تلملاتے ہوئے اور نفرت میں ابلتے ہوئے فقرے ان کے منہ سے ضرور نکل جاتے ہیں۔ شاید وہ سوچتے ہوں کہ کاش وہ سکندر کے عہد میں حکمرانی کی مسند پر بیٹھتے اور پھر دیکھتے کہ کون سی زبانیں ہیں جو ان کے خلاف زہر اگلتی ہیں اور کون سے ہاتھ ہیں جو وال چاکنگ کرتے ہیں۔
نوے کی دہائی‘ بلوچستان میں پشتون بلوچ تصادم کی دہائی تھی۔ وہ قوم پرست بلوچ اور پشتون جو 1974 میں ذوالفقار علی بھٹو کے آرمی ایکشن کے دوران متحد تھے‘ آج ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے۔ میدان جنگ کوئٹہ تھا کہ یہاں دونوں بکثرت آباد تھے۔ ذرا سی بات پر آپس میں بندوقیں تن جاتیں اور لاشیں گرنے لگتیں۔ کوئٹہ بار بار کرفیو کی زد میں آتا۔ دونوں جانب بڑے بڑے جلسے ہوئے اور ان میں ایسی آتش فشاں قسم کی تقریریں ہوتیں کہ یوں لگتا کہ جیسے ابھی دونوں جانب سے لشکر برآمد ہوں گے اور پورا صوبہ خون میں نہا جائے گا۔ شہر حقیقی طور پر بیروت کی طرح دو حصوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔
پشتون بلوچ علاقوں میں جانے سے گریز کرتے اور بلوچ پشتون علاقوں میں۔ زرعی کالج کی جگہ کے تنازع نے زور پکڑا تو ہر کوئی کہتا اس کو ہمارے علاقے میں بناؤ۔ یوں بلوچستان اس درسگاہ سے محروم رہ گیا۔ برج عزیز ڈیم بھی پاکستان کے کالا باغ ڈیم کی طرح ثابت ہوا۔ اس سیلابی پانی پر بننے والے ڈیم پر حق ملکیت جتانے کا جھگڑا اتنا طول پکڑا کہ وہ صوبہ جہاں پانی کی ایک ایک بوند بھی قیمتی تھی آج تک اپنے سیلابی پانی کو ذخیرہ بنانے کا کوئی منصوبہ نہ بنا سکا اور سیلابی پانی آج بھی پہاڑوں اور میدانوں سے تیزی سے گزرتا ہوا وسیع ریگستانوں کی نذر ہو جاتا ہے۔
انھیں دنوں میں یادش بخیر نواب محمد اسلم رئیسانی نے سیاست میں قدم رکھا‘ نوجوان ڈی ایس پی اور پھر بی ڈی اے کی جنرل مینجری کی نوکری چھوڑ کر سیاست میں آنے والا یہ شخص اپنے ذہن میں بہت سی اخلاقی قدروں کو لئیے ہوئے تھا۔ پشتون بلوچ جھگڑوں سے دور وہ الیکشن جیت گیا۔ مستونگ کی نشست سے اسے ہر قومیت کے فرد نے ووٹ ڈالے۔ اکثر اوقات وہ ان قوم پرست رہنماؤں کے بیانات اور تقریروں پر بات کرتا اور کڑھتا رہتا۔ وزیر خزانہ کی حیثیت سے وہ ایک دن بہت پریشان اور مضطرب حالت میں میرے کمرے میں آیا۔ ہاتھ میں پکڑی تسبیح کو پریشانی کے عالم میں گھماتا جا رہا تھا۔
سلیمانی چائے بلوچستان میں پسند کی جاتی ہے۔ کہا سلیمانی چائے پلاؤ اور پھر وہ پھٹ پڑا۔ کہنے لگا یہ تمام بلوچ اور پشتون قوم پرست لیڈر جو جلسوں میں ایک دوسرے کا خون پینے کے دعوے کرتے ہیں۔ ان کی تقریریں سن کر لوگ ایک دوسرے کو قتل کرتے اور گھر اجاڑتے ہیں۔ اسمبلی کی کنٹین میں کس طرح خوش گپیوں میں مصروف ہو کر ایک دوسرے کو کیک‘ پیسٹریاں اور سموسے کھلا رہے ہوتے ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے ’’خاص‘‘ بندوں کو میرٹ کے بغیر نوکریاں دیتے ہیں۔
ان کی اسکیمیں منظور کرتے ہیں ان کے ذاتی فوائد کے لیے آگے بڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ لیکن جب اسمبلی کے ہال میں مائیک پر کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے منہ سے نفرت کی جھاگ نکل رہی ہوتی ہے۔ اس زمانے کا اصول پرست نواب اسلم رئیسانی پریشان بھی تھا اور مضطرب بھی لیکن جمہوری پارلیمانی سیاست کی راہداریوں نے اسے ایسا بنا دیا کہ یقین نہیں آتا۔ نفسیات دان کہتے ہیں کہ انسان پر سب سے زیادہ اثر اس کے گروہ (PEER) کا ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ وہ ان کے رنگ میں ڈھلنے لگتا ہے لیکن اس جمہوری پارلیمانی تاریخ کا اس قوم پر ایک بہت بڑا احسان گزشتہ دنوں ہوا ہے۔
یہ احسان ایسا ہے جس نے پوری قوم کی آنکھوں پر پڑے دبیز پردے اتار پھینکے ہیں۔ دنیا کی کسی پارلیمنٹ نے آج تک کئی ہفتے صرف اس بات پر بحث نہیں کی  ہوگی کہ ان کے اپنے مفادات تباہ ہو رہے ہیں۔ وزارت اطلاعات یقیناً انعام کی مستحق ہے کہ اس نے لوگوں کو سیاست کا وہ روپ براہ راست دکھا دیا جو اسلم رئیسانی جیسے ممبران اسمبلی صرف اسمبلی کی کنٹین میں دیکھا کرتے تھے۔
قوم کو پچاس سال سے دست و گریباں کرنے والے‘ ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ اور نسلوں کو طعنے دینے والے‘ غدار کے لقب اور بددیانت کے تمغوں سے سجانے والے یوں اکٹھے ہوئے جیسے سیلاب کے دوران خونخوار جانور بہتے ہوئے تختے پر اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ سیلاب اب تھما نہیں تھا کہ انھیں احساس ہونے لگا کہ یہ کیا ہو گیا۔ لوگوں نے ہمیں دیکھ لیا‘ سن لیا۔ اب یہ جان گئے ہیں کہ ہم تو شکار کے معاملے میں ایک دوسرے سے لڑتے ہیں لیکن اپنے لیے متحد ہو جاتے ہیں۔ اب ہر کوئی علیحدہ علیحدہ شکار کو پھر گھیرنے کی تگ و دو میں لگ گیا ہے۔
الزامات دوبارہ زبانوں سے اچھل رہے ہیں لیکن شاید اب تک لوگوں کی آنکھوں اور ذہن میں کئی ہفتے چلنے والے پارلیمنٹ کے اجلاس میں اتحاد و یگانگت کی گفتگو گونج رہی ہے۔ اسی لیے اب ان سیاست دانوں کا لہجہ شاہانہ نہیں ملتجیانہ ہو چکا ہے۔ ورکروں سے معافی مانگتا ہوں‘ ہمارے خاندان کی قربانیاں ہیں۔ خدا کے لیے ہمیں بھولنا مت۔ لیکن شاید اب لوگ بھولیں گے بھی نہیں۔ انھیں گزشتہ پچاس سال میں اپنے بے وقوف بننے پر شرمندگی انھیں بھولنے ہی نہیں دے گی۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours