عدل جہانگیری کا دور لوٹ آیا ہے از رؤف کلاسرا

وزیراعظم نے ایک شاہی حکم جاری کیا ہے کہ نصاب میں ایک باب کا اضافہ کیا جائے اور وہ یہ کہ جمہوریت کے اندر کون کون سے احتساب کرنے کے ادارے ہیں تاکہ لوگوں کو پتہ چلے کہ کیسے کیسے پکڑ ہوتی اور انصاف ہوتا ہے .
شریف خاندان نے 1988ء سے بنک قرضے واپس نہیں کیے اور عدالت کا اسٹے چل رہا ہے . اس کیس کو بھی اس باب میں شامل ہونا چاہیے کہ کیسے جمہوریت کی مہربانی سے سولہ برس تک عدالت میں مقدمات چل سکتے ہیں . جس طرح ہر
کاروبار پر اپنے بچوں کو بٹھا دیا گیا ہے وہ بھی پاکستانی جمہوریت کی اپنی مثال ہے .

راولپنڈی میں حنیف عباسی پر عدالت نے فرد جرم عائد کردی ہے لیکن نوازشریف اور شہباز شریف نے اسے اربوں روپے کے میٹروبس منصوبے کا سربراہ بنا دیا ہے . فرد جرم کے باوجود عباسی صاحب کو بھی استعفٰی دینے کی ہمت نہیں ہوئی . پنجاب کے وزیر قانون مشہود صاحب کی ویڈیو سامنے آگئی کہ وہ پیسے لے رہے ہیں . کسی نیب، ایف آئی اے یا اینٹی کرپشن کو جرات نہیں ہوئی کہ ان سے پوچھ گچھ کر سکیں . یہ بھی جمہوریت میں احتساب کی شاندار مثال ہے . موجودہ وزیراعظم کی بیٹی کو ایک سو ارب روپے دےکر ایک ادارے کا سربراہ لگادیا جاتا ہے . اس پر نیب خاموش ہے . یہ ہے وہ انصاف جو اس جمہوریت نے متعارف کرایا ہے



Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours