گٹر ابلنے والے ہیں  از اوریا مقبول جان


بندگانِ الٰہی‘ درویشانِ خدا مست اور صاحبان بصیرت کی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ کتنے ہیں جو اس قوم کو جھنجھوڑتے‘ ڈراتے‘ و عید سناتے ہوئے اپنے رب کے پاس جا پہنچے‘ لیکن نہ اس قوم کے رویوں میں کوئی فرق آیا اور نہ ہی اس کی اکثریت نے اپنے اعمال پر نظر ڈالتے ہوئے اللہ کے حضور گڑگڑا کر معافی طلب کی۔
ہر کوئی اپنی انا کے بت میں قید رہا۔ کسی نے اپنے عقیدے‘ مسلک اور نظریے کا بت خانہ سجایا اور اس کی سرمستی میں بے حال ہو کر دوسروں کے خون کا پیاسا ہو گیا۔ کسی کو دولت کا خمار چڑھا تو اسے پرواہ تک نہ رہی کہ روز کتنے لوگ بھوک سے خود کشی کرتے تھے یا غربت و بیماری سے لقمہ اجل بن جاتے تھے۔ اقتدار کی طاقت میں بدمست لوگوں کے دلوں سے خوف خدا تو رخصت ہوا ہی تھا‘ خوفِ فساد خلق بھی جاتا رہا۔ گولیوں سے بھون دو‘ بستیاں اجاڑ دو‘ گھرانے برباد کر دو اور پھر مسکراتے ہوئے اسے ریاست کی بالادستی کا نام دے دو۔ دھن‘ دھونس اور دھاندلی سے الیکشن جیتو اور اسے عوام کی رائے قرار دے دو۔

فوج کی طاقت سے آئو تو انھی رہنمائوں کو ساتھ ملا کر اپنا چہرہ جمہوری بنانے کی کوشش کرو اور اگر جمہوری طور پر برسراقتدار آئو تو آمریت کی تمام صفات اپنانے کے باوجود خود کو متحمل مزاج اور نرم خو کہلواؤ۔ اس ملک پر مر مٹنے کی قسمیں کھائو اور اسی ملک کو لوٹ کر اپنی جنت دوسرے ملکوں میں بسائو۔ رنگ‘ نسل‘ زبان اور علاقے کے نام پر آنکھیں سرخ کرو‘ جتھے بنائو‘ قتل کرو‘ بھتہ لو‘ اغوا برائے تاوان حاصل کرو۔
کفر کی بھی اخلاقیات ہوتی ہیں وہ ایک نظریے اور ارادے کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے ‘ لیکن جس ملک میں منافقت کا راج ہو جائے وہاں سے نظریہ‘ انصاف‘ سچ اور عہد کی پاسبانی رخصت ہو جاتی ہے۔ جس معاشرے کے تمام طبقات منافقت کا لبادہ اوڑھ لیں وہاں ریا اور دکھاوے کو زہد و عبادت کہا جانے لگتا ہے‘ ایسے میں کسی فضل الرحمن کو کروڑوں لوگوں کے سامنے عورتوں کے بارے میں ذو معنی فحش فقرہ کہہ کر مسکراتے ہوئے جھجک نہیں آتی۔ ایسے معاشرے میں ملاوٹ‘ ذخیرہ اندوزی اور جعل سازی سے مال بنانے کو اعلیٰ دماغ کاروباری صلاحیت کا نام دیا جاتا ہے۔
عہد اور وعدے کی حرمت ختم ہو جائے تو کسی آصف زرداری کو یہ فقرہ بولنے پر حیا نہیں آتی ہے کہ یہ عہد ہے کوئی قرآن و حدیث تو نہیں۔ انصاف جتھوں اور گروہوں میں بٹ جائے تو شیعہ کے نزدیک شیعہ‘ سنی کے مطابق سنی‘ وکیل‘ ڈاکٹر یا نرسوں کے گروہ سب اپنوں کو ہی جائز اور دوسروں کو بدترین مخلوق قرار دیں تو پھر ایسے معاشرے اس کائنات کے مالک کی ناراضگی کو آواز دے رہے ہوتے ہیں۔ نسیم انور بیگ مرحوم کہا کرتے تھے کہ کچھ کشتیاں ایسی ہوتی ہیں کہ ڈوبنا ان کے نصیب میں نہیں ہوتا‘ وہ مستقل طوفان کے تھپیڑوں میں رہتی ہیں۔ ہماری کشتی بھی ایسی ہے۔ بقول غالبؔ ’’مرتے ہیں آرزو پہ مرنے کی۔
موت آتی ہے پر نہیں آتی‘‘۔
کشتی میں سوار جب سب کے سب منافقت اوڑھ لیں اور پھر اسے ایک طرز زندگی اور سسٹم کا نام دینے لگ جائیں اور پھر جب بھی اسی کشتی میں چند آوازیں ان کے خلاف اٹھیں تو وہ سب کے سب اس سسٹم کو بچانے کے لیے اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ مجھے اس فقرے پر حیرت نہیں ہوئی بلکہ میں سر سے پائوں تک کانپ اٹھا کہ جب پارلیمنٹ کی فضا سے یہ آواز گونجی کہ ’’دھاندلی تو بہت زیادہ ہوئی ہے لیکن ہم اس پارلیمنٹ کو بچانا چاہتے ہیں‘‘ لیکن پھر مجھے بالکل حیرت نہ ہوئی جب پتہ چلا کہ یہ الفاظ اعتزاز احسن نے کہے تھے۔
میرے شہر کا یہ سیاست دان سول سروس کے امتحان میں کامیاب ہونے کے بعد اس لیے نوکری اختیار نہیں کرتا کہ وہاں اصولوں پر سمجھوتہ کرنا پڑتا ہے۔ پیپلز پارٹی میں شامل ہوتا ہے۔ 1975ء میں انور سماں ایم پی اے قتل ہو جاتا ہے۔ اعتزاز احسن کو ٹکٹ ملتا ہے اور ڈپٹی کمشنر کو یہ حکم نامہ ملتا ہے کہ خبردار اس کے خلاف کوئی کاغذات نامزدگی جمع نہ کرائے‘ اور اگر کروائے تو اسے بزور واپس لینے پر مجبور کیا جائے۔ گجرات کا بچہ بچہ جو اس دور میں سانس لیتا تھا وہ اس سرکاری دھاندلی اور دھونس سے آگاہ تھا۔ میں زمیندار ڈگری کالج یونین کا سربراہ تھا۔ ہم احتجاجاً ڈپٹی کمشنر سے ملے۔
بزرگوں کی طرح سمجھاتے ہوئے اس نے کہا تم نوکری میں آئو گے تو تمہیں پتہ چلے گا کہ حکمران ہمیں کس طرح خوفزدہ کر کے غلط کام کرواتے ہیں اور ہماری کیا مجبوریاں ہوتی ہیں۔ عظیم لیڈر اعتزاز احسن ’’بلا مقابلہ‘‘ انتخاب جیت گیا۔ یہ ذوالفقار علی بھٹو کا پہلا بلا مقابلہ انتخاب تھا۔ وہ طریقہ جس نے اس کے زوال کی راہ ہموار کی۔ اعتزاز احسن اس ضلع سے بلامقابلہ جیتا جہاں چوہدری ظہور الٰہی کی صورت مضبوط اپوزیشن موجود تھی۔
یوں اس سیاسی لیڈر کاکیرئیر ایک ’’بلا مقابلہ‘‘ اور ’’شفاف‘‘ الیکشن سے اٹھا۔ 1970ء میں سول سروس چھوڑ کر میری آنکھوں میں ہیرو بننے والا شخص چکنا چور ہو گیا لیکن صرف دو سال بعد 1977ء میں جب ذوالفقار علی بھٹو کی انتخابی دھاندلی کے خلاف تحریک چل رہی تھی تو شاید ایک بار پھر اس کے ضمیر نے اسے آواز دی۔ وہ پیپلز پارٹی کا دوسرا لیڈر تھا جس نے احتجاجاً پارٹی چھوڑی۔ پہلا سردار شوکت حیات اور دوسرا اعتزاز احسن۔ مال روڈ کے جلوسوں میں اس کے حق میں نعرے لگے اور پھر وہ ائر مارشل اصغر خان کی تحریک استقلال میں شامل ہوگیا۔
وہی اصغر خان جس نے فوج کو بھٹو حکومت کے خاتمے کے لیے خط تحریر کیے تھے۔ 16 دسمبر 1985ء تک یہ اسی سیاسی پارٹی سے منسلک رہا۔ اس کے بعد کی کہانیاں سب جانتے ہیں۔ اپنی شعلہ بیانی اور دلیل کی دنیا میں رہتے ہوئے اس نے ایک ایسی دلیل دے دی ہے جسے مان لیا جائے تو اس دنیا میں ہر ظلم اور زیادتی کو سسٹم کے نام پر قبول کیا جا سکتا ہے۔ کیا وہ کل کسی عدالت میں یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ ایک لڑکی کو اغوا کر کے زبردستی سسٹم کے منظور شدہ رجسٹرڈ نکاح خواں سے نکاح پڑھوا گیا ہے‘ اس لیے لڑکی کے ماں باپ اب اغوا کرنے والے کو داماد قبول کرلیں۔ اگر ایسا نہ کیا گیا تو بہت سی پیچیدگیاں پیدا ہوجائیں گی۔
جمہوریت کی اکثریت میں یہ دلیل دی جاتی ہے کہ اگر چند ہزار لوگ اکٹھے ہو جائیں تو ہم ان کی بات کیوں مانیں۔ پوا شہر اگر اس لڑکی سے زیادتی کرنے والے کے ساتھ ہو جائے اور صرف اکیلے ماں باپ دہائی دیں تو کیا سچ کی قبر بنا دی جائے۔ سچ بھی وہ کہ جسے آپ خود مانتے ہوں۔ مجھے سراج الحق صاحب پر حیرت نہیں ندامت ہوئی۔ اس لیے کہ میری ایک عمر وہاں گزری ہے۔ کیا اللہ کے ہاں سراج الحق صاحب جواب دیں گے کہ ہم نے کراچی میں الیکشن کا دھاندلی کی بنیاد پر بائیکاٹ کرتے ہوئے سچ بولا تھا مگر آج اس سچ سے منہ پھیر لیا کہ ہم سسٹم اور جمہوریت بچانا چاہتے تھے۔ کیا اللہ ان کی یہ دلیل مان لے گا۔
کیا روز حشر اللہ سچ کے مقابلے میں جمہوریت کے حق میں فیصلہ کرے گا۔ درویشان خدا مست کی باتیں یاد آ رہی ہیں۔ کہتے ہیں کہ گٹر دیکھتے جائو سب ایک ساتھ ابلیں گے۔ سب کے چہرے بے نقاب ہوں گے۔ یہ ملک اللہ کی غیرت کی علامت ہے۔ اس کے ساتھ جس جس نے کھلواڑ کیا اس کی سزا تحریر ہو چکی۔ کوئی اپنی فتح پر پھولا نہ سمائے‘ نہ پارلیمنٹ والے اور نہ دھرنے والے۔ یہ میرے آقا کی بشارتوں کی سرزمین ہے۔ یہاں جس نے کانٹے بوئے ہیں اسے اپنی آنکھوں سے چننے ہوں گے۔ کہتے ہیں فساد ہو گا‘ انارکی ہو گی۔ ایسے سسکتے ہوئے منافق معاشروں میں کیا امن کی فصل اگا کرتی ہے؟۔
ریا کے پردے چاک ہوں گے۔ جس نے مسلک‘ عقیدے‘ رنگ‘ نسل اور زبان پر خون بہانے کی دعوت دی وہ خود اس خون کی اذیت کا مزا چکھے گا۔ میں نے درخواست کی رحم کی دعا کیجیے۔ فرمانے لگے جب سزا شروع ہو جائے تو بولا نہیں کرتے اللہ جب سزا دیتا ہے تو اس میں سے یقیناً خیر برآمد ہوتی ہے۔ لوگوں کو ایک بار پھر سنا دو اللہ کی سزا کے کیا روپ ہیں۔
سورہ الانعام کی 65 ویں آیت ’’کہہ دو‘ کہ وہ اس بات پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب تمہارے اوپر سے بھیج دے‘ یا تمہارے پائوں کے نیچے سے‘ یا تمہیں مختلف گروہوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے لڑوائے اور ایک دوسرے کی طاقت کا مزا چکھا دے۔ دیکھو ہم کس طرح مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں واضح کر رہے ہیں تا کہ یہ کچھ سمجھ سے کام لیں‘‘…بارشیں‘ طوفان‘ سیلاب‘ زلزلے اور آپس میں شدید خونریزی‘ یہ سزا کے موسم کی علامتیں ہیں۔ کہا… گٹر ابلیں گے‘ گندگی کھل کر سامنے آئے گی‘ بدبو اور تعفن سے تنگ آئی ہوئی خلق خدا ایک دن سب صاف کر دے گی۔ دیکھتے جائو۔ سزا شروع ہو جائے تو بولا نہیں کرتے۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

1 comments so far,Add yours