جماعت اسلامی عمران خان کی مخالفت کیوں کر رہی ہے ؟ از طارق اقبال سوہدروی

اصل بات یہ ہے کہ جماعت اسلامی پہلے پیپلز پارٹی کو ختم کرنے کےلیے نواز شریف کی ایک عرصے سے اتحادی رہتی رہی ہے کہ بڑی بُرائی کو ختم کرنےکے لیے چھوٹی بُرائی کا ساتھ دینا چاہیے ...مگر نواز شریف کی باربار کی بے وفائی نےجب ثابت کیا کہ یہ پالیسی بھی غلط ہے ...تو انہوں نے دونوں کو ایک ہی تصویر کے دو رخ قرار دے کر ...متحدہ مجلس عمل بنائی اور خیبر پختون خواہ میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے ..مگر وہاں مولانا فضل الرحمان کی زرداری سیاست نے بھی ان کو ناکوں چنے چبوائے ...اب حالیہ انتخابات میں اپنی کمزور پوزیشن کی وجہ سے پھر کوشش کی کہ نوازشریف یا عمران خان میں سے کسی ایک کے ساتھ ان کی سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو جائے تاکہ اپنے کارکنان کو مطمئن کیا جا سکے کہ ...ہمارا اتحاد نہیں ہورہا بلکہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو رہی ہے 


 .

جماعت کی کوشش تھی کہ عمران خان کی بجائے ن لیگ سے اتحاد ہو جائے کیونکہ امکان یہی تھا کہ ن لیگ کو ہی اکثریت ملے گی ...مگر ن لیگ نے 6 مرتبہ مذاکرات کرنے کے باوجود اتحاد نہ کیا اور ان معاملات کو اس طریقے سے طول دیا کہ جماعت ....عمران خان کے ساتھ بھی سیٹ ایڈجسٹمنٹ نہ کر سکی ...اس مرحلے پر جماعت اسلامی نے بے اُصولی سیاست کی ...اور محض زیادہ سیٹوں کے لالچ میں دونوں میں سے کسی ایک کے ساتھ اتحاد کے موقع کو ضائع کردیا ...جس کی وجہ سے جماعت اسلامی کو پنجاب میں مکمل ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ...حتی کہ میاں اسلم کی سیٹ بھی نہ مل سکی کہ جس کا 99 فیصد یقین تھا ...خیر پختون خواہ میں حکومت بنانے کے لیے جماعت نے ن لیگ کے رویے سے شاکی ہونے کی وجہ سے عمران خان سے اتحاد کیا اور اتحادی حکومت بنائی ...یہ حکومت بہتر چلی آرہی تھی کہ بیچ میں دھرنے آ گئے ....اور عمران خان نے واضح طور پر ملکی انتخابی نظام کو چیلنج کردیا ...اس نظام کو بہتر بنانے کے لیے جماعت بھی ایک عرصے سے خواہاں تھی اور مطالبات کرتے چلی آ رہی تھی مگر شنوائی نہ ہوتی تھی ...اسی وجہ سے جماعت کے موجودہ رویے اور کردار پر حیر ت ہوتی ہے کہ جس بات کے لیے وہ ایک عرصے دہائی دے رہی تھی اگر اس کو عمران خان لے کر اُٹھ ہی گیا ہے تو پھر وہ کس منہ سے اس کی مخالفت کر رہی ہے ؟؟؟

شاید آپ یہ کہہ کر میری بات سے اتفاق نہ کریں کہ سراج الحق صاحب نے کب مخالفت کی ہے ؟..ا نہوں نے تو خود ان مطالبات کی تائید کی ہے ...مؤدبانہ گزارش ہے کہ فیس بک پر یا سوشل میڈیا پر جتنی منفی تنقید جماعت اسلامی کے کارکنان کر رہے ہیں ...شاید اتنی ن لیگ کے لوگوں نے بھی نہ کی ہو ...اگر جماعت سچے دل سے مطالبات کی تائید کر رہی ہوتی تو یہ صورت حال کبھی نہ ہوتی ... ایسا کیوں ہے ؟؟ میرے خیال میں جماعت اسلامی ایک عرصے سے کوشش کر رہی تھی کہ کسی طرح قوم کو خبردار کر دیا جائے کہ پیپلز پارٹی اور ن لیگ ... میں کوئی فرق نہیں ہے ...دونوں ایک ہیں ...مگر اب ان دونوں کےساتھ ساتھ ... عمران خان کی پارٹی بھی میدان مین آگئی ہے ...اور اس بات کاواضح امکان ہے کہ قوم ...جماعت اسلامی کو چھوڑ کر اب عمران خان کے پیچھے چل پڑے تو ... یہ ہمارے لیے سر اسر باعث نقصان ہو گا ... شاید یہی وجہ ہے کہ جماعت اسلامی کے لوگ ..مثبت تنقید کی بجائے ..منفی تنقید میں رات ،د ن ایک کیے ہوئے ہیں ...کہ کہیں لوگ ہماری بجائے ...اب عمران خان کو نجات دہندہ نہ سمجھ لیں .

میرے نزدیک جماعت کی یہ پالیسی ملک کے مفاد کے لیے مضر ہے ...اور اس سے چوروں اور ملک لوٹنے والوں کو استحکام مل رہا ہے ...اس لیے کہ جب پی پی پی اور ن لیگ کے لوگ ...سوشل میڈیا پر جماعت کے لوگوں کو عمران خان کے خلاف برسرپیکار دیکھتے ہیں تو وہ سمجھتے ہیں کہ عمران خان ایک غلط آدمی ہے اور ا س کے مطالبات بھی غلط ہیں .... یاد رکھیں میں مثبت تنقید سے منع نہیں کر رہا ...بات ہور ہی ہے منفی تنقید کی ....اور بدقسمتی سے جماعت کے لوگ اسی پر ہی اپنی توانائیاں اور وقت لگا رہے ہیں ... کاش وہ سمجھ جائیں کہ اگر نظام میں کچھ مثبت تبدیلی ہو جاتی ہے تو اس کا فائد ہ ان کو بھی پہنچے گا ...صرف عمران خان کو نہیں ...بعض لوگ میری اس عاجزانہ رائے کو بھی منفی لیں گے ...اور جماعت کا مخالف جبکہ عمران خان کا پٹھو قرار دے کر ...کلمہ حق کہنے کی کوشش فرمائیں گے تاکہ اللہ کے دربار میں سرخرو ہو سکیں ..بحرحال میرے نزدیک جو بہتر ہو گا میں اس کا برملہ اظہار کرتا رہوں گا ..خواہ مجھے اس کے لیے کوئی بھی قیمت دینا پڑے .ان شاء اللہ....اللہ ہمیں مثبت سوچنے اور سمجھنے کی توفیق دے ...آمین

منفی تنقید کی سب سے بڑی مثال

اکثر لوگ عمران خان پرمنفی تنقید اُن کے بعض ساتھیوں  کی وجہ سے کر رہے ہیں کہ ان لوگوں کی  موجودگی میں کون سا انقلاب آے گا یا کیا یہ   لوگ نظام بدلنے کی صلاحیت  رکھتے ہیں ؟۔ وغیرہ

مؤدبانہ گزارش ہے کہ ایسے لوگ صحیح صورتحال کو سمجھنے سے قاصر ہیں  ۔۔یہ بات اپنی جگہ درست ہے کہ عمران کے ساتھ کھڑے ہونے والے کئی لوگوں کا ماضی میں کردار قابل تنقید ہے ۔۔۔مگر مسئلہ یہاں یہ نہیں ہے   ۔۔عمران خان انتخابی اصلاحات  چاہتا ہے ۔۔جس کا ان لوگوں کے ماضی سےکوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔نظام کی تبدیلی کے لیے حکومت سے اپنے مطالبات منوانا اور چیز ہے ۔۔۔جبکہ ان لوگوں کے ماضی کے کردار کے حوالے سے تنقید بالکل الگ معاملہ ہے ۔۔۔فی الحال ضرورت ہے کہ اس انتخابی نظام کو بدلنے کےلیے حکومت پر دباؤ بڑھا یا جائے ۔۔۔ہاں اگر نظام کی تبدیلی کے بعد عمران اپنے وعدوں کا پاس نہیں کرتا  تو عوام اس کو خود چھوڑ دے گی ۔۔۔دوبارہ عرض کردوں کہ عمران نظام کو بدلنے کے لیے  جن انتخابی اصلاحات کی بات کر رہا ہے ان پر عملددرآمد حکومت نے کروانا ہے ۔۔ عمران کے ساتھیوں نے نہیں ۔۔۔اور اس کافائدہ سب جماعتوں کو ہوگا سڑف عمران خان کو  نہیں ۔۔۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس  وقت ان اصلاحات پر بات کریں اور ان کا جائزہ لیں جن پر عمران خان کے حکومت کے ساتھ مذاکرات چل رہے ہیں ۔۔۔افسوس کہ پاکستانی قوم ہمیشہ شخصیات کی حمائت اور مخالفت پر ہی وقت ضائع کرتی رہتی ہے ۔۔۔ان سے یہ نہیں ہوتا کہ  مثبت اور فکری بحث و مباحثہ میں بھی حصہ لیا جائے ۔۔۔جو عمران خان سے شخصی اختلاف رکھتے ہیں ا ن کے لیے عرض کرتا ہوں کہ اگر ان انتخابی اصلاحات  کے پیچھے عمران خان کی بجائے ۔۔۔الطاف حسین یا زرداری صاحب بھی ہوتے تو میں ان کی بھی تائید کرتا ۔۔تاکہ قوانین میں تبدیلی ہو ۔

 چناچہ   دوستوں سے گزار ش ہےپارٹی وابستگیوں سے ہٹ کر  مثبت  سوچ و فکر کو فروغ دیں ۔ اور فضول اور منفی تنقیدبند کریں۔ شکریہ 

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours