اصطلاحات کا خوف از اوریا مقبول جان

 
کیا عجب ملاپ ہے، گٹھ جوڑ ہے، مقصد کی ہم آہنگی ہے۔ جدید مغربی تہذیب کی تخلیق کردہ قومی ریاستوں کی انجمن، اقوام متحدہ میں بھی اس کی گونج سنائی دی ہے۔ پہلے بان کی مون گرجے کہ دنیا کو اسلامی شدت پسندوں سے خطرہ ہے، انسانی حقوق کی پامالی ہو رہی ہے۔ اس کے بعد دنیا پر خود کو بلا شرکت غیرے حکمران تصور کرنے والے امریکا کا صدر اوباما اس شدت پسندی پر دنیا کو متحد ہو کر مقابلہ کرنے کے لیے آواز دیتا دکھائی دیا۔
لیکن اپنی اس تقریر سے صرف ایک دن پہلے، خطے کے چھ عرب ممالک کے ساتھ مل کر، اس نے اس گروہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا تھا جس نے جدید مغربی تہذیب کے تصور ِ قومی ریاست و حکومت کے برعکس اسلامی ریاست اور خلافت کے لفظ استعمال کیے تھے۔ کیسا گٹھ جوڑ ہے کہ تمام عرب ریاستیں اور امریکا جو شام کی بشار الاسد کی حکومت کو ظالم قرار دیتے تھے، ابھی اسی کے باغیوں کے ٹھکانوں پر بم برسا رہے ہیں۔ وہ ایران جو ان عرب ریاستوں کے خلاف نبرد آزما تھا، وہ بھی اس گروہ کے خلاف کارروائی کرنے میں شریک ہے، اور اس کا قلع قمع چاہتا ہے۔ آخر اس لفظ خلافت کے ادا ہوتے ہی ایسا طوفان کیوں کھڑا ہو جاتا ہے۔

مغربی سانچے میں ڈھلا ہوا کوئی بھی نظام حکومت بنا لو اور اس کا نام اسلامی جمہوریہ رکھ لو، دنیا کے کسی خطے میں خوف کی لہر نہیں دوڑتی۔ انقلابِ ایران بھی نظام حکومت پر مغربی اصلاحات کی چھاپ کی وجہ سے آج تک قابلِ قبول ہے۔ صدر، پارلیمنٹ، اسپیکر، الیکشن، یہ سب کیا ہے۔ کیا خلیفہ المسلمین یا امیر المومنین کا لفظ استعمال کرتے ہوئے شرم آتی ہے، پسماندگی کا احساس ہوتا ہے، دقیا نوسی کی چھاپ لگ جاتی ہے۔ نہیں اس لیے کہ لوگوں کے ذہن میں پرکھنے کے معیار بدل جاتے ہیں۔ جب حکمران کو صدر یا وزیر اعظم کہا جاتا ہے تو معیار چرچل، نکسن یا ڈیگال ذہنوں میں گونجتے ہیں۔ لیکن اگر خلیفہ یا امیر کہا جائے تو ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی طرزِ حکومت اور دورِ خلافت معیار بن جاتا ہے۔ پھر لوگ اسی معیار پر حکمرانوں کو تولنے لگتے ہیں۔
برداشت تو جمہوری طور پر منتخب صدر مرسی بھی نہیں ہوتا اور کہاں لفظ خلیفہ استعمال کرنے والا ابوبکر البغدادی۔ دنیا بھر میں گزشتہ ایک صدی سے سیکڑوں ایسی تنظیمیں بنیں جو مسلح تھیں، جو اپنے خطوں کو آزاد کروانے کے لیے مسلح جنگ لڑتی رہیں۔ وہ بے تحاشا قتل بھی کرتے تھے، اغوا برائے تاوان سے پیسے بھی کماتے تھے، بستیوں کو آگ بھی لگاتے تھے، ایک خاص علاقے پر کنٹرول حاصل کر کے حکومت کا اعلان بھی کرتے تھے۔ لیکن کبھی اقوام متحدہ کے ایوانوں میں ایسی صدا نہیں گونجی کہ سب مل کر ان کو نیست و نابود کر دو۔ ان قوم پرست مسلح تنظیموں کے تو ہیڈ کوارٹر برطانیہ، امریکا اور فرانس میں قائم ہوتے رہے ہیں۔
ان کے وہ لیڈر جن کے حکم پر ان کے علاقوں میں قتل و غارت برپا ہوتی تھی، وہ مزے سے لندن، پیرس اور نیویارک سے بیٹھ کر احکامات جاری کرتے تھے آئرلینڈ کی مسلح جدوجہد کا سب سے زیادہ چندہ امریکا سے اکٹھا ہوتا تھا۔ کیا کسی کو سوویت یونین انقلاب کی ریڈ آرمی کے ہاتھوں یوکرین کے ان پچاس ہزار شہریوں کا قتل عام یاد نہیں جنھیں ہاتھ باندھ کر گولیوں سے بھون دیا گیا تھا اور کیا ان ظالمانہ کارروائیوں کا سربراہ یقیناً مغرب کے ممالک میں پنا ہ کے نام پر عیش کی زندگی نہیں گزارتا رہا۔ لیکن اس سب کو آزادی کی جدوجہد اور انقلاب کے لوازمات کے طور پر قبول کر لیا جاتا ہے۔ لیکن ابوبکر البغدادی جب عراق اور شام کے وسیع علاقے میں برطانیہ سے بھی رقبے میں بڑی حکومت قائم کر کے اسے خلافت کا نام دیتا ہے تو جہاں مغرب اس سے خوفزدہ ہو کر متحد ہو جاتا ہے وہیں مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ غیر مسلموں کے ہاں بھی اسے پرکھنے کا معیار بدل جاتا ہے۔
وہ اسے خلفائے راشدین کے معیار پر پرکھنے لگتے ہیں۔ وہ اس سے رحمدلی اور اقلیتوں کے تحفظ کی توقع کرتے ہیں، وہ اسے انتقام سے بالاتر حکومت کا سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ ہے صرف ایک اصطلاح (Terminolgy) کو بدلنے یا استعمال کرنے کا فرق۔ اس فرق کو مغرب والے ہم سے بہت بہتر جانتے ہیں جنہوں نے آج سے نوے سال قبل اس خلافت کو توڑ کر قومی ریاستیں قائم کی تھیں۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ لفظ مسلمانوں کی مرکزیت کی علامت ہے۔ ایک ایسی طاقتور مرکزیت، جو دنیا کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکتی ہے اور اس مرکزیت کا تصور صرف اور صرف روزمرہ زندگی میں اسلام کی اصطلاحات کے نفاذ سے جنم لیتا ہے۔
مسلمانوں کو ان اصطلاحات سے دور کرنے کے لیے گزشتہ تین صدیوں سے محنت کی گئی ہے۔ پوری مسلم امہ تقریباً سو سے زیادہ سالوں تک مغربی قوتوں کی غلام رہی ہے۔ اس دوران پوری دنیا سے عیسائی مشنریاں یہاں مختلف داؤ پیچ کے ساتھ تبلیغ کے کاموں میں سرگرم رہیں۔ رفاۂ عامہ کے کام، مریضوں کے اسپتال اور تعلیمی ادارے کھولے گئے لیکن پوری مسلم دنیا میں اسلام کو چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والوں کی تعداد چند سو سے بھی کم تھی۔ ایسے میں ایک اور وار کیا گیا کہ مسلمانوں میں ان کے اندر سے دشمن پیدا کیے جائیں جو ان کو ترقی، تہذیب اور معاشرت کے نام پر پرانی اسلامی تصورات سے علیحدہ کر دیں۔ علمِ سیاسیات، معاشرت، معاشیات اور بشریات کی کتب تحریر کی گئیں اور ان میں قومیت، نسلی برتری، تہذیبی اور جمہوری نظام کی اصطلاحات اور نظریات کو ترویج دی گئی۔
اس کی ایک مثال عالمی انسانی حقوق ہیں جب کہ اس تصور سے پہلے پوری مسلم دنیا حقوق العباد کا لفظ استعمال کرتی تھی۔ عالمی انسانی حقوق کے تصور کے تحت اگر کسی ملک میں پانچ لاکھ بوڑھے شاندار اولڈ ایج ہوم میں بہترین سہولیات کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں تو وہ ملک عالمی انسانی حقوق کے معیار کی بہترین سطح پر ہے۔ لیکن اسلام کے تصورِ حقوق العباد میں ایسے پانچ لاکھ گھرانے قابلِ ملامت ہیں اور اللہ کے نزدیک عذاب کے مستحق۔ یہی وہ اصطلاح کا فرق ہے جو ایک مسلمان معاشرے کو جدید مغربی، تہذیب کے معاشرے سے علیحدہ کر دیتا ہے۔ ان تمام اصطلاحات کا منبع اور مرکز لفظ خلافت یا امارت ہے جسے اسلامی اصطلاح میں خلافت علیٰ منہاج البنوہ کہا جاتا ہے۔ اسی لیے جو گروہ بھی اس اصطلاح کا استعمال کرے گا وہ واجب القتل ہے۔ دہشت گرد ہے۔
پوری دنیا میں استعمال ہونے والی مغربی اصطلاحات میں صدر، وزیر اعظم پارلیمنٹ یا دیگر خواہ بدترین آمر بھی استعمال کریں، سوہارتو کی طرح انڈونیشیا میں چھ لاکھ لوگوں کو قتل کر دیں لیکن انھیں تیس سالوں تک برداشت کیا جاتا ہے۔ اقوام متحدہ کی نشستوں پر انھیں جگہ دی جاتی ہے۔ وہ قاتل، ظالم، اور بدترین حاکم ہونے کے باوجود اس پوری مغربی دنیا کو اس لیے قابل قبول ہوتے ہیں وہ ایسی اصطلاحات استعمال کرتے ہیں جو مسلم امہّ کی مرکزیت کی علمبردار نہیں ہوتیں اور صرف مغرب ہی یہ جانتا ہے کہ یہ سب تقسیم انھوں نے خود بے نام اور جعلی لکیریں کھینچ کر پیدا کی ہے۔ ہر جگہ اقتدار کے بھوکوں کو تخت پر بٹھایا ہے اور اسلحے کی ترسیل اور فوجی مدد سے مستحکم کیا ہے۔
انھیں علم ہے کہ یہ دنیا کی وہ واحد امت ہے جو آج بھی یمن، مصر، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے گھر بار چھوڑ کر بوسینا، چیچنیا، عراق، افغانستان اور کشمیر میں لڑتی ہے، جان دیتی ہے۔ اگر یہ حکمران بیچ میں سے نکل جائیں تو انھیں متحد ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ ان کی مرکزیت قائم ہو گئی تو یورپی یونین سے بڑا اتحاد بن سکتا ہے جو تیل کی دولت اور معدنیات کے خزانوں سے مالا مال ہو گا۔ اسی لیے دسمبر 2004میں امریکا کی نیشنل انٹیلیجنس کونسل (NIC)  نے ایک رپورٹ صدر کو پیش کی جس کا نام (Mapping Global Future) تھا۔ اس میں پوری دنیا کو جس خطرے سے آگاہ کیا گیا تھا وہ ایک نئی خلافت کا قیام تھا۔ اسی بنیاد پر اکتوبر2005ء میں جارج بش نے خبردار کرتے ہوئے کہا تھا۔
“They believe that controlling one country will rally the Muslim masses, enabling them to overthrow all moderate governments in the region, and establish a radical Islamic empire that spans from Spain to Indonesia.”
’’وہ یقین رکھتے ہیں کہ ایک ملک پر اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ اردگرد کی تمام ماڈریٹ حکومتوں کا تختہ الٹ کر ایسی حکومت قائم کر دیں گے جو اسپین سے انڈونیشیا تک ہو‘‘۔ ایسے میں خوف القاعدہ کی کا نہیں کہ وہ تو حملے کر کے ایک سمت ہو جاتی ہے۔ خوف ملا محمد عمر تھا جس نے امیر المومنین کی اصطلاح استعمال کی اور اس کی حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ خوف شام اور عراق کی امارات اسلامی کا ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے کہ ان دونوں امارات کی اینٹ سے اینٹ بجانے میں امریکا، عرب ریاستیں اور ایران سب کا گٹھ جوڑ ہے۔ سب پر خوف سوار ہے۔ سب کس قدر خوفزدہ ہیں۔ سب صرف ایک اصطلاح کے استعمال سے ڈرتے ہیں، جانتے ہیں کہ اس کے استعمال کرنے سے مسلمانوں کے دلوں میں کونسے معیارات زندہ ہو جاتے ہیں۔
Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours