میں عمران خان کی حمایت کیوں کر رہا ہوں ؟   از طارق اقبال سوہدروی

یہ حقیقت ہے کہ میری تربیت میں اسلامی جمعیت طلبہ اور جماعت اسلامی کا بہت بڑا کردار ہے . .میں 25 سال تک جمعیت اور جماعت میں رہا ...ایک سال قبل ایک فکری اختلاف کی بنا پر الگ ہو ا اور خاموش رہا ... اس اختلاف کو میں  یہا ں بیان کر چکا ہو ں ....

دھرنوں کے آغاز تک میں نے جماعت کے خلاف کبھی  کچھ نہ کہا ...جب عمران خان  کے مطالبات کو دیکھا تو وہ  گویا میرے ہی دل کی آواز کا ایک حصہ تھے جس کی وجہ سے میں جماعت سے الگ ہوا تھا ...اسی طرح  طاہر القادری صاحب کے بھی مطالبات درست تھے ...پھر جب دیکھا کہ  جماعت کے مرکزی قائدین تو عمران خان اور طاہر القادری کے مطالبات کی حمایت کرتے ہیں  اور دھرنوں کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں ...مگر فیس بک پر جماعت کے اکثر ارکان مطالبات تو ایک طرف ...الٹا شخصیات کو زیر بحث لا کر تعن و تفنن کے تیر چلارہے ہیں اور ہر ممکن طریقے سے ان کی تذلیل کرتے ہوئے  ایک فریق مخالف کا کردار نبھار ہے ہیں  توبہت دُکھ ہوا...جماعت کے لوگوں کایہ روپ میں نے پہلی دفعہ دیکھا تھا ...عام طور پر کارکنان جماعت اسلامی  اسی پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہیں جو جماعت کی مجلس شوریٰ تجویز کرتی ہے ...چناچہ بدقسمتی سے جماعت کی تربیت  نے مجھے  جماعت کے خلاف ہی بولنے پر مجبور کردیا ...مجھے سے یہ دوغلاپن اور منافقت ہضم نہ ہو سکی ...اب بھی میر ا یہ سوال توجہ طلب ہے کہ ...صحیح اور دُرست رویہ کس کا ہے ؟...سراج الحق یا لیا قت بلوچ کا  ...یا ....فیس بک پر جماعت کے کارکنان کا ؟

دیکھیں ...جیسا کہ میں نے اپنے لنک والے مضمون میں لکھا ہے کہ  جماعت کو انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے  آج 63 سال ہو گئے ہیں مگر آج تک ان کو مرکزی تو کُجا کسی ایک صوبے کی حکومت بھی انفرادی طور پر نہیں مل سکی ...یہ ٹھیک ہے کہ اس کی ایک وجہ تو جماعت کی کچھ اپنی تنظیمی کمزوریاں بھی   ہیں مگر میرے نزدیک اس کی بنیادی وجہ   ہمارے انتخابی نظام کی خرابیاں ہیں  جن کو میرے  مضمون میں دی گئی تجاویز کے مطابق جب تک دُرست نہیں کر لیتے اس وقت تک الیکشن کے نام پر ہونے والے ڈراموں میں بالخصوص دینی جماعتوں کا حصہ لینا نہ صرف فضول بلکہ اسلام کی بدنامی کا بھی باعث بنتا ہے  . چناچہ موجودہ  نظام کے تحت 63 سالوں سے اہل پاکستان نہ تو اصل جمہوریت کے ثمرات سے مستفید ہو سکے اور نہ ہی اسلام کا نفاذ ممکن ہو سکا   ... دینی جماعتوں کے آپس میں اتحاد و اتفاق کی جو حالت ہے اس کے پیش نظر یہ انتہائی مشکل نظر آتا ہے کہ وہ اس نظام کی بہتری کے لیے عملی طور پر کوئی فیصلہ کن کردار ادا کرسکیں  اور نہ ہی آج  سے 2 ماہ قبل تک کسی غیر دینی شخصیت نے اس نظام کو بدلنے کے لیے کوئی فیصلہ کن تحریک شروع کی تھی ...

چناچہ عمران خان  یا طاہر القادری جیسے بھی ہیں ...میں تسلیم کرتا ہوں  کہ ان دونوں شخصیات کی ذات میں اور جماعتی سرگرمیوں میں کئی قابل اعتراض پہلو موجود  ہیں ... مگر کیا مجھے کوئی بتا سکتا ہے کہ بشمول جماعت اسلامی ، کوئی ایسی قابل ذکر شخصیت یا جماعت کے جو 100 فیصد دُرست ہو ...سب اُس پر راضی ہوں ..وہ  ہر طرح کے الزامات سے بر ی ہوں ...ان سے کبھی کوئی سیاسی غلطی واقع نہ  ہوئی ہو ...کیا کوئی ایسا پاک دامن ہے کہ جو برملا کہہ سکے کہ ہاں میں اس زانی کو پتھر مار سکتا ہوں کہ میں جملہ  بُرائیوں سے پاک ہوں .؟

چناچہ میں نیک نیتی سے  سمجھتا ہوں کہ اگر 63 سال بعد اللہ نے کسی کو اس نظام کو چلنج کرنے کی ہمت و توفیق دی ہے تو اس کا ساتھ دینا چاہیے ...ہمارے نظام میں جتنی بھی بہتری آجائے وہ ہماری نسلوں کے لیے بہتر ہے ...قائد اعظم بھی کوئی معروف مذہبی لیڈر و شخصیت نہ تھے اور ان کے ساتھ بھی کئی روائتی وڈیرے اور جاگیر دار شامل تھے مگر پھر بھی اللہ نے ان سے کام لیا اور ان کی سربراہی میں تحریک پاکستان کامیاب ہوئی .

محترم قارئین ...عمران خان اور طاہر القادری صاحب یہ مطالبات نہیں کر رہے کہ ہمیں حکومت دی جائے ...اسلام آباد کے دھرنوں میں کوئی بیلٹ باکس نہیں رکھے ہوئے کہ وہ کہہ رہے ہوں کہ آو ہمیں ووٹ ڈالو...بلکہ وہ کہہ رہے ہیں کہ موجود ہ  انتخابی نظام میں اصلاحات کرو ...اور جب الیکشن ہوں تو آپ اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ ڈالیں ...اورآپ کو یقین ہو کہ آپ کا ووٹ ضائع نہ جائے گا .

اب مجھے بتائیں کہ ان مطالبات کی حمایت کرنے کی بجائے ...ان کے ٹھٹھے اور مذاق اُڑائیں جائیں اور ان کوناحق ذلیل کرنے کی کوشش کی جائے ..سکینڈل تراشے جائیں ...بدل بدل کر سکرپٹ ائیٹر تجویز کیے جائیں ...میں یہاں پر اس بات کو بھی تسلیم کرتا ہوں کہ کچھ غلطیاں دھرنے والوں کی بھی ہیں کہ ان کی  بعض باتوں کی وجہ سے غیر ضروری بحث وتکرار نے جنم لیا ہے ...تاہم اب بھی وقت ہے کہ ہم محض مخالفت برائے مخالفت کی بجائے ٹھنڈے دل ودماغ سے کام لے کر عمران خان اور طاہر القادری  کے مطالبات کی حمایت کریں  تاکہ ہم الیکشن میں اچھے لوگوں کا انتخاب کر سکنے کے قابل ہوسکیں ..

یہ تو سب مانتے ہیں کہ دھاندلی ہوئی  تو پھر کیا وجہ ہے کہ جنہوں نے دھاندلی کی ، وہ تو اپنی چوری کو چھپانے کے لیے ایک ہونے کے دعوے کررہے ہیں جبکہ ہم عوام...جن کے ساتھ دھوکے بازی ہوئی ...وہ اکھٹے نہ ہوں او راپنی پارٹی وابستگیوں سے انحراف کرتے ہوئے...  . اپنے باہمی اختلافات کو بھلاتے ہوئے ایک نہ ہوں ...دینی جماعتیں یاد رکھیں کہ وہ اس موقعہ کو قیمتی جانیں ...یہ بہت اچھا موقع ہے کہ وہ اپنی تجاویز بھی ان دھرنے والوں کے ساتھ شامل کرکے اس نظام کو بہتر بنوا لیں ...وگرنہ شاید پھر اگلے 60 سالوں تک کوئی اور لیڈر اس بات کی جرات نہ کرسکے اور ہم پُرامن طریقے سے انقلاب لانے کے خواب ہی دیکھتے رہ  جائیں ..

چناچہ میں دل کی گہرائیوں سے سمجھتا ہوں کہ اگر پاکستان میں ابھی تک اسلام نافذ نہیں ہو سکا (گو کہ میں زیادہ تر اس کاذمہ دار اور قصور وار دینی جماعتوں کو ہی سمجھتا ہوں) تو کم از کم ہم اصلی جمہوریت کے کے کچھ ثمرات سے ہی مستفید ہو جائیں ...یہ ہماری بیوقوفی اور بدقسمتی ہوگی کہ ہم ان دونوں میں سے کچھ بھی حاصل نہ کر سکیں اور اپنی بھاگیں انہی  پیشہ ور سیاستدانوں کے ہاتھوں میں دئیے رہنے پر مطمئن و فرحاں رہیں ..جو آج تک نسل در نسل باری باری لوٹ رہے ہیں .

آخری بات ....کہا یہ جارہا ہے کہ مسئلہ وزیرا عظم کے  استعفیٰ کی وجہ سے لٹکا ہوا ہے ...دونوں فریق ضد پر ہیں ...میرے نزدیک جمہوری اصولوں کے مطابق نوازشریف  یا شہباز شریف ، دونوں میں سےکم از کم  کسی ایک کو استعفی دے دینا چاہیے ...جیسا کہ خود جناب شہاز شریف نے کمیشن قائم کرتے ہوئے اس بات  کا اعلان کیا تھا ...اوراب جب کہ دو مقدمات میں دونوں بھائی ملز م بھی قرار دئیے جا چکے ہیں تو پھر ان کی ضد غیر جمہوری رویے کی عکاس ہے ...جب کہ ان کے استعفے کے بعد بھی ان کی پارٹی کی حکومتیں  باقی رہیں گی تو یہ ضد آخر کیوں ؟ ...جرگہ میں بھی تو سراج الحق صاحب کے ماسوا سب غیر جمہوری لوگ شامل ہیں تو پھر وہ کس طرح کوئی مناسب فیصلہ کر پائیں گے ؟ ملزم نامز د ہونے پر کسی وزیر کے مستعفی ہونے کی روایت اگر ہمارے ملک بھی قائم  ہو جائے تو اس میں کیا خرابی ہے ؟ یہ سب غیر جمہوری پارٹیاں کیوں اس روایت کے جاری ہونے سے ڈر رہی ہیں اور وزیراعظم کا ناجائز دفاع کر رہی ہیں . ؟

 بعض لوگ عجیب دلیل دیتے ہیں کہ اگر دھرنوں کے ذریعے استعفٰی لیا گیا تو پھر ہر کوئی لاکھوں کا دھرنہ دے کر حکومت کو چلتا کرے گا ۔۔ مؤدبانہ گزارش ہے ۔۔۔ طاہر القادری صاحب اسلام آباد میں 14 لاشیں گروانےکے بعد اور عمران خان 14 ماہ رونے پیٹنے کے بعد یہاں پہنچا ہے ۔۔ اگر کل کلاں کوئی بھی حکومت کسی کے جائز مطالبات کو نہیں مانتی تو اس کو حق حاصل ہے کہ وہ دھرنوں کے ذریعے تبدیلی لائے ۔۔ یہ آپ کے جمہوری اصولوں کے عین مطابق ہے ۔۔کیا دنیا کے تمام ممالک میں دھرنے نہیں ہوتے اور کیا خود پاکستان میں اس سے قبل کسی اور نے دھرنہ نہیں دیا تھا ؟

اللہ سے دعا ہے کہ اگر میرا یہ مضمون درست ہے تو  میری اس تحریر کو عوام الناس کے لیے نافع بنا دے اور ہم سب کو تمام باہمی اختلافات دور کرکے ملک وملت کے لیے بہتر سوچنے اور سمجنے اور کچھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے . آمین..(طارق اقبال سوہدروی)

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

1 comments so far,Add yours


  1. بہت اچھا لکھا ہے ۔۔ یہ جماعت اسلامی آج کل منافقت کی بلندیوں پر ہے ۔ ان کا اصل چہرہ لوگوں نے دیکھ لیا ہے ۔
    1 min · Like

    جواب دیںحذف کریں