آتش فشاں کا دھواں از اوریا مقبول جان

 
ایسی ہی ایک پارلیمنٹ کا اجلاس 5 مئی1789ء کو فرانس کے شہر، پیرس میں منعقد ہوا تھا۔ یہ پارلیمنٹ عوام کے غیظ و غضب اور غصے کے بعد وجود میں آئی تھی۔ وہ بھوکے ننگے عوام جو صدیوں سے غربت و افلاس کا شکار تھے اور گزشتہ کئی سالوں سے عوام کی حکمرانی کے لیے سڑکوں پر نکلے ہوئے تھے۔ انھیں تسلی دینے کے لیے عوام کی حکمرانی کا ایک ڈھونگ رچایا گیا تھا۔ پارلیمنٹ میں تین مختلف جماعتیں سامنے آئی  تھیں۔ ایک جماعت طبقہ امراء کی نمایندگی کرتی تھی جس میں لافیطی، لالی، چارلس اور تونری نمایاں تھے۔
مذہبی رہنماؤں اور پادریوں کے نمایندے علیحدہ جماعت کے طور پر وہاں موجود تھے۔ عام آدمیوں کی نمایندگی کرنے والوں میں میرا بیو، راپسٹر، گیولی ٹن، سائیس اور بیلی شامل تھے جو بہت سخت رویہ رکھے ہوئے تھے۔ عام لوگوں کی نمایندگی اس پارلیمنٹ میں بہت کم تھی اور وہ بھی امراء اور پادریوں کے سامنے دبے دبے رہتے تھے۔ لیکن 5 مئی کے دن یہ نمایندے تلخ لہجے میں بولنے لگے۔ انھوں نے برطانیہ کے دارالعوام اور امریکا کی کانگریس کی مثالیں پیش کیں اور کہا کہ آیندہ ٹیکسوں کا نفاذ ان سے پوچھے بغیر نہ کیا جائے۔ پارلیمنٹ میں مراعات یافتہ طبقہ ایسی تقریریں سننے کا عادی نہ تھا۔
بادشاہ لوئی کا غصہ عروج پہ تھا اس نے ان گستاخ اراکین کو اجلاس سے باہر نکال دیا۔ یہ سب پارلیمنٹ کے باہر ایک ٹینس کورٹ میں جمع ہو گئے اور انھوں نے وہاں ایک حلف اٹھایا کہ جب تک وہ عوام کی آرزؤں اور امنگوں کے مطابق آئین مرتب نہیں کروا لیتے، یہاں سے نہیں جائیں گے۔ اس واقعہ کو تاریخ میں ’’اوتھ آف دی ٹینس کورٹ‘‘ کے نام سے یا د کیا جاتا ہے۔ طاقت کے استعمال کا وقت آیا تو بادشاہ نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ ان باغی ارکان کو طاقت کے ذریعے پارلیمنٹ کے سامنے سے منتشر کردیا جائے لیکن سپاہیوں نے طاقت کے استعمال سے انکار کردیا۔ یہ انقلاب کا وہ اہم ترین مرحلہ ہوتا ہے جب حکومت کے زیر انتظام پولیس اور فوج عوام کی امنگوں اور خواہشات کا احترام کرتے ہوئے اپنے ہم وطن بھائیوں پر حملہ آور ہونے سے انکار کر دیتی ہے۔
پارلیمنٹ کے ارکان بحثیں کر رہے تھے اور باہر بپھرا ہوا ہجوم ایک نئی تاریخ رقم کرنے کو تھا۔ پارلیمنٹ کے ارکان نے ایک متفقہ قرار داد منظور کی کہ ان باغیوں کو کچل دو۔ یہ چند ہزار لوگ ہمیں بلیک میل کر رہے ہیں نہ فوج نے ساتھ دیا اور نہ پولیس نے، اب کیا کریں۔ بادشاہ نے غیر ملکی فوجی بلائے 13 جولائی کے دن اس ہجوم کو طاقت کے ذریعے منتشر کر دیا گیا جو پارلیمنٹ کو گھیرے ہوئے تھا۔ 13جولائی کی شام  وارسائی کے محل میں ایک ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔ رقص و موسیقی اور ناؤ نوش میں ڈوبے بادشاہ کے قریبی ساتھی اور اراکین پارلیمنٹ اس بات پر مسکرا رہے تھے کہ ہم نے ان مٹھی بھر شرپسندوں پر فتح حاصل کر لی ہے۔سب کو پکڑ کے بیسٹائل کے قید خانے میں ڈال دیا گیا۔
یہ لوگ پارلیمنٹ کے باہر چھ ہفتوں سے مقیم تھے، کس قدر پرامن طریقے سے بیٹھے تھے۔ بس انھوں نے نیکر اور ڈیوک اور آورلیننر کے مجسمے اٹھا رکھے تھے۔ سپاہیوں نے پہلے مجسمہ اٹھانے والوں پر گولیاں برسائیں تا کہ مجسمے گر جائیں۔ لوگ ان گولیوں کا جواب پتھروں اور ٹوٹی ہوئی بوتلوں سے دیتے رہے۔ یہ تو بھوکے ننگے لوگ تھے جو گھنٹوں قطار میں کھڑے ہو کر روٹی خریدتے تھے، انھوں نے ان چھ ہفتوں میں کسی عمارت کو نقصان نہیں پہنچایا، کسی دکان کو نہ لوٹا، کسی عورت کی عصمت دری نہ کی۔ لیکن 13 جولائی، ان نہتے لوگوں پر ریاستی طاقت کی فتح کا دن تھا۔ مٹھی بھر لوگ پارلیمنٹ کے سامنے سے منتشر ہو گئے۔ ارکان پارلیمنٹ جشن منانے لگے۔ انھیں اندازہ تک نہ تھا کہ یہ مٹھی بھر لوگ ان کروڑوں لوگوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہے تھے جو صدیوں سے غربت و افلاس اور جبر و استبداد کی چکی میں پستے چلے آ رہے ہیں۔
اگلے دن 14 جولائی کی صبح طلوع ہوئی تو یہ پورے فرانس کے لیے حیران کن تھی۔ وہ ارکان پارلیمنٹ جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم عوام کی نمایندگی کرتے ہیں۔ جو اصلاحات کے نام پر گیارہ جون کو ایک آئین مرتب کر چکے تھے۔ جو عوام کو مراعات کے نام پر لالی پاپ دے کر اپنا اور بادشاہ کا اقتدار قائم رکھنا چاہتے تھے۔ لیکن صبح پیرس کی ہر گلی سے ہجوم صرف ایک سمت روانہ تھا۔ اور وہ تھا بیسٹائل کا قید خانہ۔ وہ قید خانہ جو فرانس کے تاج و تخت اور اشرافیہ کی نمایندہ پارلیمنٹ کے مظالم کی تصویر تھا۔ لوگوں کو معلوم تھا کہ وہاں ان کے اپنے بھائی بند قید ہیں اور جہاں وہ لوگ بھی ہیں جنھیں کل گرفتار کیا گیا۔
لوگوں کو یہ بھی علم تھا کہ اس قید خانے میں تیس ہزار بندوقوں کی صورت میں اسلحہ بھی موجود ہے۔ 13 جولائی کے ظلم پر احتجاج پر مائل پیرس کا ہر شہری اس قید خانے کے گرد جمع ہو گیا۔ پانچ گھنٹے محافظوں اور شہریوں میں جنگ جاری رہی اور بالآخر بیسٹائل فتح ہو گیا۔ ہجوم نے قیدیوں کی زنجیریں کاٹ ڈالیں، تالے توڑ دیے۔ سالوں اندھیری کو ٹھریوں میں رہنے والے باہر نکلے تو ان کی خوشی دیدنی تھی۔ تیس ہزار بندوقیں اب پیرس کے عوام کے ہاتھ میں تھیں۔ جب یہ سب کچھ ہو رہا تھا تو ورسائی کے محل میں جام و سبو کی کی محفل بر پا تھی۔ بادشاہ کے وفاداروں نے اسے اس سب سے بے خبر رکھا، وہ مزے سے سونے جا رہا تھا تو ایک درباری نے جا کر اسے خبر دی کہ یہ سب کچھ ہو گیا۔ اس نے کہا یہ سب فساد ہے۔
دربار ی نے کہا نہیں یہ انقلاب ہے۔ اگلے دن اسمبلی کا اجلاس بلایا گیا۔ کرائے کے غیر ملکی فوجیوں کو واپس کر دیا گیا۔ پارلیمنٹ میں عوام کے ترجمان نیکر کو وزارت دینے کا اعلان کیا گیا۔ بادشاہ پیرس پہنچا تو اس کی حفاظت کے لیے ڈیڑھ لاکھ فوج مقرر تھی۔ سات شہزادے ملک چھوڑ کر بھاگ گئے تھے۔ اس کے بعد کی تاریخ بہت طویل بھی ہے اور درد ناک بھی۔ لوگوں نے پارلیمنٹ کو مسترد کر دیا اور پیرس کی میونسپل کمیٹی کو اپنا مرکز بنایا اور اسے عوام کی نمایندہ پارلیمنٹ کا درجہ دے دیا۔ ادھر پارلیمنٹ نے بہت سی انقلابی اصلاحات کیں، لیکن اب لوگوں کا غم و غصہ کم ہونے کو ہی نہیں آتا تھا۔
21 جون1791ء کو بادشاہ اور ملکہ بھیس بدل کر فرار ہونے لگے تو لوگوں نے انھیں پکڑ کر واپس محل پہنچا دیا۔ لوگ اب ان سب کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے تھے جنہوں نے صدیوں انھیں محکوم بنا کررکھا تھا۔ پیرس اب عام آدمی کے ہاتھ میں تھا۔ عوام کی عدالتیں لگنے لگیں اور ہر اس شخص کا سر قلم کر دیتیں، جس کا ہاتھ نرم یا کالر صاف ہوتا۔ آخری عدالت 16 جنوری 1793ء کو لگی جس نے بادشاہ کی گردن زدنی کا حکم دیا۔ تیز دھار چھرے نے گردن تن سے جدا کر دی۔ ایک شخص نے بادشاہ کے خون میں انگلی ڈبو کر ہونٹوں کو لگائی اور پکارا اوہ! بادشاہ کا خون بھی نمکین ہوتا ہے۔ نہ کسی آنکھ میں آنسو آیا اور نہ کسی گھر میں ماتم۔
ہر وہ معاشرہ جہاں ناانصافی، بھوک، افلاس اور غربت نے ڈیرے جما رکھے ہوں۔ جہاں لوگوں کی قسمت سے کھیلنے والے چند سو گھرانے اپنے آپ کو قوم کا نمایندہ تصور کرتے ہوں، وہاں احتجاج اور غصہ آتش فشاں کے لاوے کی طرح اندر ہی اندر کھول رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں برسرِ اقتدار لوگوں کو یہ چند ہزار احتجاج کرنے والے لوگ ایک مختصر سا گروہ نظر آتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں، انھیں کچل دیا گیا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ لیکن یہ ہجوم تو آتش فشاں سے خارج ہونے والا دھواں ہوتا ہے، اس کے پیچھے کھولتا، ابلتا لاوا چلا  آ رہا ہوتا ہے جو سب کچھ خس و خاشاک میں تبدیل کر دیتا ہے۔

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours