جمہوریت اسلام کی نظر میں  از پروفیسر حافط عبداللہ بہاولپوری

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

برادرانِ اسلام ! اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے‘ جو خالق کائنات نے انسانوں کے لیے تجویز فرمایا ہے:

( وَ رَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا )[5:المائدہ:3]اسلام نظام کائنات کے ساتھ پوری طرح سے ہم آہنگ ہے کیوں کہ کائنات کا بھی یہی نظام ہے۔

( وَلَہ‘ اَسْلَمَ مَنْ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ طَوْعًا وَّ کَرْھًا )[3:آل عمران:83]

(وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلاَّ یُسَبِّحُ بِحَمْدِہٖ )[17:الاسراء:44]

جس طرح کائنات کا ذرہ ذرہ اپنے خالق و مالک کا مطیع و منقاد اور اس کا ثنا خواں ہے اسی طرح اسلام انسانوں سے بھی یہی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ بھی اپنے خالق و مالک کے فرمانبردار بن کر زندگی گزاریں۔ نظام فطرت کے ساتھ ہم آہنگی کی وجہ سے ہی اسلام کو دین فطرت کہتے ہیں۔(اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ ﷲِ الْاِسْلَامُ )[3:آل عمران:19]چوں کہ اسلام دین فطرت ہے۔ اس لیے جس

قوم نے بھی اسلام کو اپنایا اﷲ نے اس قوم کو بہت اونچا اٹھایا۔ عرب اسلام سے پہلے کیا تھے ‘ اسلام لانے کے بعد وہ کیا سےکیا بن گئے۔ مسلمانوں کی چودہ سو سال کی تاریخ عروج و زوال بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی اسلام کے ساتھ ہے۔ جتنا انھوں نے اسلام کو بلند کیا اتنے وہ بلند ہوئے۔ جتنا انھوں نے اسلام کو گرایا اتنے وہ ذلیل و پست ہوئے۔ جب تک مسلمان اسلام کو مکمل نظام حیات سمجھ کر اس پر کاربند رہے وہ دنیا میں غالب رہے اور کبھی کسی سے مرعوب نہیں ہوئے۔ جب سے انھوں نے اسلا م کو مکمل نظام حیات سمجھنا چھوڑ دیا‘ غیر اسلامی نظاموں کو امپورٹ کرنے لگ گئے وہ ذلیل و مرعوب ہو گئے۔ مسلمانوں کو اس کا احساس ہو یا نہ ہو یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام مسلمانوں کی صحت و سلامتی اور عزت و وقار کا ضامن ہے۔ جب تک مسلمان غیر اسلامی نظاموں کو چھوڑ کر خالص اسلام کو ضابطہ حیات نہیں بناتے ‘ وہ کبھی دنیا میں ترقی نہیں کر سکتے۔

مسلمانوں کے قول و عمل میں تضاد

یہ کیسی عجیب بات ہے کہ زبان سے تو مسلمان کہتے ہیں اسلام دین فطرت ہے ‘ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ لیکن طرز عمل ان کا بتاتا ہے کہ اسلام کوئی جامع نظام نہیں‘ اس کا کوئی اپنا سیاسی یا معاشی نظام نہیں۔ اس لیے انھوں نے جمہوریت اور سوشلزم جیسے مغربی نظاموں کو اپنا رکھا ہے۔اور اسلامی جمہوریت اور اسلامی سوشلزم کی اصطلاحیں وضع کر رکھی ہیں۔ دیکھنے کی بات ہے کہ جب اسلام دین فطرت ہے تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اسکا اپنا کوئی سیاسی یا معاشی نظام نہ ہو۔ اگر اسلام کا اپنا کوئی سیاسی یا معاشی نظام نہ ہو تو پھر وہ مکمل نظام حیات اور دین فطرت کیسے ہو سکتا ہے۔ مکمل نظام حیات ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ اس کا ہر نظام اپنا ہے اور وہ زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کی پوری رہنمائی کرتا ہے۔ کہیں فیل نہیں ہوتا۔ اور دین فطرت ہونے کا مطلب یہ ہے کہ یہ اﷲ کا تجویز کردہ ہے۔ کسی انسان کی تخلیق نہیں کہ اس میں کوئی نقص ہو۔ جب اسلام دین فطرت ہے تو لازمی بات ہے کہ اس کے تمام نظام قدرتی اور فطری ہوں گے۔ مغربی نظاموں کی طرح مصنوعی اور ناقص نہیں ہوں گے۔ لیکن مسلمان بجائے اس کے کہ اسلام کے فطری نظاموں کو اپنا کر اپنی دنیا و آخرت کو کامیاب بناتے مغرب کی پرفریب ترقی کو دیکھ کر اس پر فریفتہ ہو گئے اور یہ سمجھنے لگ گئے کہ ترقی کا راز مغرب کی تقلید میں ہے۔ اسلام کی پیروی میں نہیں‘ بلکہ یہاں تک کہ اگر دنیا میں زندہ رہنا ہے تو ان مغربی نظاموں :جمہوریت‘ یا کمیونزم کو اپنا نا ضروری ہے۔ یہ مرعوب اور شکست خوردہ ذہنیت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج مسلمانوں کی معاشرت ‘ معیشت اور سیاست سب مغربی طرز کی ہو گئی ہیں اور تو اور جماعت اسلامی جو پاکستان میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی دعوے دار ہے وہ بھی مغربی نظام جمہوریت کی دلدادہ ہے۔ وہ کہتی ہے کہ یہ دور ہی جمہورت کا ہے۔ خلافت کے زمانے لد گئے۔ ظاہر ہے کہ یہ بھی مغرب سے متاثر اور مرعوب ہونے کی دلیل ہے اور یہ مرعوبیت ہی حقیقت میں مسلمانوں کی ناکامی کا سب سے بڑا سب ہے جو باطل سے مرعوب ہو ‘ وہ باطل کامقابلہ کیا کرے گا؟

اسلام سے محرومی کی وجہ

اسلام اپنی فطرت میں حاکم ہے۔ حکومت اس کا حق ہے ۔ یہ احکم الحاکمین کا نظام ہے جو ساری کائنات میں جاری و ساری ہے۔ یہ آتا ہی ان کے پاس ہے جو اس کے مقام کو پہچانتے اور اس کو حاکم مانتے ہیں۔ جن کی تعلیم و تربیت مغربی ہو ‘ جو مغرب سے متاثر اور مرعوب ہوں ‘ جو اسلام کے دین فطرت اور مکمل نظام حیات ہونے پر کامل ایمان نہ رکھتے ہوں۔ اسلام کا تفوق ان کے دل و دماغ میں رچا بسا ہوا نہ ہو اسلام ان کے پاس آتا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل مسلمان عملی طورپر اسلام سے محروم ہیں۔

مغرب کی تقلید کا نقصان

اس میں شک نہیں مغرب نے مادی ترقی بہت کی ہے ‘ لیکن یہ ترقی غبارے کی مانند ہے جو کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے؂

وہ  قوم  کہ   فیضان  سماوی  سے  ہو  محروم

حد اس کے کمالات کی ہے  برق و بخارات

مغرب کی ترقی ان نظاموں کی پیداوار ہے جو انکار خدا اور مادہ پرستی پر مبنی ہیں۔ جہاں اخلاق و آخرت کا کوئی تصور نہیں‘ صرف دنیا ہی دنیا ہے اور جو ترقی آخرت کے تصور کے بغیر ہو وہ مادے کی ترقی ہے۔ انسانیت کی وہ ترقی نہیں‘ انسانیت کا تو تنزل ہی ہے جو کسی وقت بھی انسانیت کی ہلاکت پر منتج ہو سکتی ہے۔ ترقی وہی جس میں انسانیت کی بھی ترقی ہو اور وہ اسلام کے نظام فطرت کے تحت ہی ہو سکتی ہے۔ کوئی مغربی نظام اس کی ضمانت نہیں دے سکتا ۔ اس دور میں مادی ترقی تو بہت ہوئی ہے‘ انسانیت کی ترقی بالکل ہی نہیں ہوئی‘ بلکہ تذلیل ہی ہوئی۔ بلکہ انسانیت کی تذلیل جتنی اس دور میں ہوئی ہے شاید آج تک کبھی نہ ہوئی ہو اور اس کی وجہ یہ غیر فطری اور مصنوعی نظام ہے ۔جو مسلمان ملک اسلام چھوڑ کر مغربیت کی طرف لپکا وہ برباد ہی ہوا۔ ترکی اور مصر کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ پاکستان کو بھی جمہوریت کے اس مغربی نظام نے ہی تباہ کیا ہے۔ اسلام کے جذبے نے مختلف قوموں کو جمع کرکے پاکستان بنا دیا تھا‘ لیکن جب پاکستان میں اسلام نہ آیا ‘ جمہوریت آئی‘ا لیکشن بازی شروع ہو گئی ‘ عصبیتیں ابھر کھڑی ہوئیں۔ اسلام کا جذبہ باقی نہ رہا۔ پاکستان ٹوٹ گیا۔ اس جمہوریت نے نہ صرف یہ کہ پاکستان کو دو ٹکڑے کیا‘ اس نے ساری دنیا کے مسلمانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ آج ساری دنیا کے مسلمان چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں بٹے ہوئے ہیں اور اسلامی جذبہ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اتحاد کی نعمت سے محروم ہیں۔ اسلام خلافت الٰہیہ کے تصور کے تحت ایک مرکز کی دعوت دیتا ہے ‘ دینی اخوت اور مودت کے تحت عصبیتوں کو مٹاتا ہے۔ جمہوریت قوم پرستی کے تصور کے تحت عصبیت اور افتراق پیدا کرتی ہے۔ جب سے مسلمانوں میں یہ جمہوریت آئی ہے‘ مسلمانوں کا اتحاد پارہ پارہ ہو گیا ہے۔ اس جمہوریت سے یہی نقصان نہیں ہوا کہ مسلمانون کی مرکزیت ختم ہو گئی اور وہ سیاسی طورپر کمزور ہو گئے اس سے یہ نقصان بھی ہوا کہ مسلمان عملی طور پر اسلام کو خیر باد کہہ گئے۔آج مسلمان صرف رسمی طور پر ہی مسلمان ہے‘ عملی طور پر وہ اسلام سے بہت دور ہے۔ حتی کہ اب وہ اسلام نہیں چاہتے جمہوریت چاہتے ہیں۔ پاکستان میں جو اسلام نافذ نہیں ہو رہا تواس کی وجہ کوئی ہندو یا انگریز نہیں۔ یہ جمہوریت زدہ مسلمان ہی اس کے لیے رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلام آئے۔ وہ چاہتے ہیں کہ جمہوریت آئے ‘ اگر پاکستانی مسلمان دل سے اسلام چاہتے ہوتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ پاکستان میں اسلام نافذ نہ ہوتا۔ وہ اسلام چاہتے ہی نہیں وہ جمہوریت چاہتے ہیں ۔ کمال یہ ہے کہ آج کل کے مسلمان کہلاتے مسلمان ہیں ‘ چاہتے جمہوریت ہیں۔ ان کو اسلام پسند ہی نہیں۔ اسلام دینی اور اخلاقی پابندیاں لگاتا ہے۔ حکومت کا سودا دماغ سے نکالتا ہے ‘ جمہوریت چھٹی دیتی ہے اور حکومت کے خواب دکھاتی ہے۔ اسی لیے آج کل کے مسلمان نام کا اسلام چاہتے ہیں‘ کام کا اسلام نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نام اسلام کا رہے اور مرضی اپنی کرتے رہیں‘ تاکہ اسلام بھی ہاتھ سے نہ جائے اور چھٹی بھی ملی رہے۔

اسلامی جمہوریت کا مرکب

اسلام کی پابندیوں سے جان چھڑانے کے لیے ماڈرن مسلمانوں نے اسلام اور جمہوریت کو ملا کر ایک نیا مرکب تیار کیا ہے جس کا نام اسلامی جمہوریت ہے۔ اسلامی جمہوریت میں اسلام کا حصہ بس اتنا ہی ہوتا ہے کہ لوگ نسلی طور پر مسلمان ہوتے ہیں اور تبرک کے لیے جمہوریت سے پہلے اسلام کا نام لگالیتے ہیں اور ہوتی وہ جمہوریت ہی ہے۔ اسلام صرف نام کا ہوتا ہے۔ نظام جمہوریت کا ہی چلتا ہے۔ جو عوام چاہیں وہی ہوتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ عوام نہ چاہتے ہوں اور اسلام کا کوئی حکم نافذ ہو جائے۔ اسلامی جمہوریت میں کیوں کہ اسلام عوام کے تابع ہوتا ہے اور دبا رہتا ہے ‘ اس لیے جو کچھ مسلمانوں کی اکثریت کرتی جاتی ہے وہ سب اسلام سمجھا جاتا ہے۔ آج کل مزار بنانا۔۔۔ تعزیے نکالنا۔۔ ۔ گیارہویں دینا۔۔۔ مزاروں پر پھولوں کی چادریں چڑھانا ۔۔ ۔عرس اور میلے لگانا۔۔۔ میلاد اور مولود کروانا وغیرہ وغیرہ۔ ۔۔۔ یہ تمام بدعات اسی اصول کے تحت اسلام سمجھی جاتی ہیں ورنہ کہاں اسلام‘کہاں یہ جہالت کی رسمیں۔اس جمہوری دور میں اسلام مسلمانوں کے لیے معیار نہیں‘ بلکہ مسلمان اسلام کے لیے معیار ہیں۔ اس جمہور ی دور میں مسلمان اسلام سے اتنا بے گانہ ہو چکا ہے کہ وہ یہ نہیں جانتا کہ اسلام کہتے کسے ہیں ‘ اس کی پہچان کیا ہے‘ کسی نے جمہوریت کو اسلام سمجھ لیا ہے‘ کسی نے سوشلزم کو اسلام بنا لیا ‘ کوئی مسلمان کے رسوم و رواج کو اسلام سمجھتا ہے۔ کوئی اپنی مرضی کو اسلام کہتا ہے۔ یہ سمجھ الا ماشاء اﷲ ہی کسی کو ہے کہ اسلام اپنے بنائے ہوئے مذہبوں اور رسم و رواج کو نہیں کہتے۔ اسلام تو اﷲ کا دین ہے جسے محمد صلی اﷲ علیہ وسلم لے کر آئے تھے ۔ اگر وہ خالص ہے ملاوٹ سے پاک ہے‘ تو اسلام ہے۔ ذرا بھی ملاوٹ یا ردوبدل ہے تو کفر ہے‘ اسلام نہیں ہے۔ اسلام تو ملاوٹ کو بالکل برداشت نہیں کرتا۔جیسے اﷲ مشرک کی خالص عبادت کو بھی جو وہ اﷲ کے لیے کرتا ہے قبول نہیں کرتا صرف اس وجہ سے کہ وہ مشرک ہے۔ اس طرح اﷲ تعالیٰ ملاوٹ کرنے والے کی خالص چیز کو بھی قبول نہیں کرتا۔ اس لیے کہ وہ ملاوٹ کا مجرم ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ لوگ محمد ﷺ کے لائے ہوئے اسلام کے تابع رہیں تو مسلمان ہیں‘اسلام کو اپنے تابع بنانے لگ جائیں تو کافر ہیں۔ اس سے وہ خرابی ہوتی ہے جس کی سزا سارا جہان بگھتتا ہے۔

( وَ لَوِ اتَّبَعَ الْحَقُّ اَھْوَآءَ ھُمْ لَفَسَدَتِ السَّمٰوٰتُ وَالْاَرْضُ )[23:المومنون:71]

اسلامی جمہوریت کہیں کامیاب نہیں

ماڈرن مسلمانوں نے اسلامی جمہوریت کامرکب تیار تو کر لیا ہے لیکن یہ نسخہ کامیاب نہیں ہوا۔ آج دنیا کے کسی ملک میں اسلامی جمہوریت نام کی عملاً کوئی چیز موجود نہیں‘ بلکہ مسلمانوں میں جہاں بھی یہ جمہوریت ہے سیاسی انتشار ہے اور بے راہ روی کی سی کیفیت ہے۔وہاں نہ اصلی جمہوریت ہے ‘ نہ اصلی اسلام۔ دونوں کا حلیہ بگڑا ہو اہے ۔ اسلام بھی اپنی مرضی کا ‘ جمہوریت بھی اپنی مرضی کی۔ کوا چلا ہنس کی چال اپنی بھی بھول گیا ‘ ‘ والی مثال ہے۔ مسلمان ملکوں میں جمہوریت کے ناکام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ جمہوریت مسلمانوں کے مزاج کے خلاف ہے۔ اسلام میں دین اور سیاست ایک اکائی کا حصہ ہے۔ اسلامی اثر کے تحت مسلمانوں کا جو مزاج بن گیا ہے وہ اس کو قبول نہیں کرتا۔ اسلام جو اپنی فطرت میں حاکم ہے‘ کیوں کہ احکم الحاکمین کا نظام ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اگر عوام مسلمان ہیں تو حکومت میری ہو۔ عوام ہر شعبہ زندگی میں میرے تابع ہوں‘ جمہوریت چاہتی ہے ملک کا نظام عوام کے تابع ہو۔ مذہب کا کوئی دخل نہ ہو۔ اس طرح مسلمان ملکوں میں مذہب اور جمہوریت میں رسہ کشی رہتی ہے۔ استحکام کسی کو نصیب نہیں ہوتا۔ نہ مذہب کو ‘ نہ جمہوریت کو۔ مغربی ممالک میں جمہوریت جو کسی حد تک کامیاب ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہاں مذہب اور جمہوریت میں رسہ کشی نہیں۔ وہاں سیاست کے میدان میں جمہوریت اکیلی ہوتی ہے ‘ جو چاہتی ہے کرتی ہے۔ مذہب سے مقابلہ نہیں ہوتا۔ وہاں مذہب اور سیاست کے شعبے علیحدہ علیحدہ ہیں۔ وہاں مذہب ایک پرائیویٹ معاملہ ہے۔ سیاست میں اس کا کوئی دخل نہیں۔ مغربی ممالک میں اسلامی جمہوریت والا فراڈ نہیں ہوتا‘ کہ جمہوریت کو مذہب کا برقعہ پہنایا جائے۔ وہاں جمہوریت اپنے اصلی روپ میں ننگی ہوتی ہے۔ اس لیے اپنی ظاہری دلکشی کی وجہ سے وہ کامیاب رہتی ہے۔ مسلمان ملکوں میں جمہوریت کے ناکام ہونے کی دوسری اصل وجہ یہ ہے کہ جب مسلمان اسلام کا وفادار نہیں رہتا تو اﷲ کی لعنت کے تحت وہ کسی کا بھی وفاد ار نہیں ہوتا۔ اس سے غداری ہوتی رہتی ہے۔ جب وہ اسلام کا غدار بن گیا تو اﷲ اسے جمہوریت کا بھی وفادار نہیں بننے دیتا۔ جب وہ مسلمان ہو کر اپنی آخرت کو بربادکرتا ہے تو اﷲ اس کی دنیا کو بھی برباد کر دیتا ہے۔ جب مسلمان اعلیٰ چیز کو رد کر دیتا ہے تو اﷲ اسے ادنیٰ بھی نہیں لینے دیتا۔ اس لیے کافر تو جمہوریت سے فائدہ اٹھاتے ہیں ‘ مسلمان اس سے وہ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ اسلام وہ نظام ہے جس میں دنیا اور آخرت دونوں کی کامیابی کی ضمانت ہے۔ جب مسلمان اسلام سے منہ پھیرتا ہے تو اﷲ اسے جمہوریت سے بھی محروم کر دیتا ہے۔ جو صرف دنیا کا دھندہ ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمان ملکوں میں نہ اسلام ہے ‘ نہ جمہوریت۔ اسلام مسلمانوں نے نہیں رکھا ‘ جمہوریت اﷲ نے نہیں دی۔ یہ اسلامی جمہوریت والا ذہن ہی ہے جو پاکستان کے کرتا دھرتا ایک طرف تو کہتے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے ‘ جو اسلام کے لیے بنی ہے۔ دوسری طرف وہ اسے جمہوری بنانا چاہتے ہیں۔وہ نہیں سوچتے کہ پاکستان اگر اسلامی ملک ہوگا تو جمہوری کیسے ہو گا؟ اگر جمہوری ہوگا تو اسلامی کیسے رہے گا۔ کسی ملک کے اسلامی ہونے کے تو معانی ہی یہ ہیں کہ وہاں صرف اسلام ہو۔ اسلام کے علاوہ کوئی اور مذہب یاازم نہ ہو‘ کیوں کہ اسلام تو اپنے سوا سب مذاہب کو باطل کہتا ہے ‘ اور مٹاتا ہے۔ اس لیے کہ اسلام آیا ہی باطل کو مٹانے کے لیے ہے۔

( قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَ زَھَقَ الْبَاطِلُ )[17:الاسراء:81]

جونہی حق آیا باطل گیا۔ کسی ملک کے جمہوری ہونے کے معنی یہ ہیں کہ وہاں مذہب سے آزادی ہو۔ ہر کوئی جو چاہے نظریہ رکھے ‘ اسلام کے خلاف یا اسلا م کے حق میں۔ مذہب ہر ایک کا پرائیویٹ معاملہ ہو جیسا کہ جمہوری ملکوں میں ہوتا ہے۔جمہوریت میں سوشلزم اور کیمونزم کے لیے بھی کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی۔ ہر قسم کا کفر پھل پھول سکتا ہے۔ چنانچہ پاکستان میں جوں جوں جمہوریت کے لیے کوشش ہوئی اسلام غائب ہوتا چلا گیا۔ آج حالت یہ ہے کہ جس اسلام نے پاکستان کو جنم دیا تھا وہ اسلام مغلوب ہے اور جمہوریت کی پیدا کردہ خار دار جھاڑیاں از قسم سوشلزم‘ کیمونزم اور نیشنلزم غالب ہیں اور غالب بھی ایسی کہ اب پاکستان میں اسلام کا گزر مشکل ہے۔ یہ تو اﷲ کا فضل ہوا کہ اﷲ نے بالکل آخری لمحے جنرل ضیاء کے ہاتھوں جمہوریت کو بریک لگوا دی اور پاکستان بچ گیا‘ ورنہ اگر جمہوری عمل جاری رہتا یا اب بھی جاری ہو جائے تو اسلام اور پاکستا ن دونوں کا خاتمہ ہے۔ا س لیے جمہوریت کوبالکل ختم کر کے اسلام کو نافذ کرنا چاہیے۔ تو شاید پاکستان بچ جائے‘ ورنہ اگر اسلامی جمہوریت کا یہ فریب کام کرتا رہا تو پاکستان نہیں بچ سکتا۔پاکستان اسلام کے لیے بنا ہے اور اسلام ہی پاکستان کو بچا سکتا ہے۔ اگر پاکستان میں اسلام نہ آئے تو پاکستان نہیں بچ سکتا اور جمہوریت کے ہوتے ہوئے اسلام کے آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کیا 35سال کی پاکستان کی تاریخ اس پر شاہد عدل نہیں کہ جوں جوں جمہوریت کے لیے کوشش ہوئی اسلام ختم ہوتا چلا گیا۔ جب اسلام اور جمہوریت میں ہے ہی تضاد تو ایک کی موجودگی میں دوسرا کیسے آ سکتا ہے؟

جمہوریت کیا چیز ہے ؟

جمہوریت کی مسلمہ تعریف یہ ہے:

Government of People by the People for the People

حُکْمُ النَّاسِ عَلَی النَّاسِ لِلنَّاسِ

لوگ اپنے اوپر خود حکومت کریں۔ اﷲ کی حاکمیت کا کوئی تصور نہ ہو۔ جمہوریت میں غلبہ ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے اور عوام کا لانعام ہوتے ہیں۔ اکثریت ہمیشہ گندے اور بے دین لوگوں کی ہوتی ہے‘ جو اسلام کی پابندیوں سے بھاگتے ہیں اور آزادی چاہتے ہیں۔ اور یہ جمہوریت کی آزادی پہلے سرمایہ داری کو جنم دیتی ہے ‘ جس کے رد عمل میں سوشلزم اور کمیونزم پیدا ہوتے ہیں جس سے پھر اسلام کا بھی خاتمہ ہوتا ہے اور جمہوریت کا بھی۔ سمجھ نہیں آتا کہ آج کل کامسلمان ایسا بے بصیرت کیوں ہو گیا ہے؟ کہ وہ مسلمان ہو کر جمہوریت کا مطالبہ کرتا ہے۔ کیا اسے یہ معلوم نہیں کہ جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جو کافروں نے ایجاد کیا ہے ‘ جس میں خدا کا کوئی تصور نہیں۔ دین اسلام کی اس کے نزدیک کوئی حقیقت نہیں۔ مذہب اس میں ایک پرائیویٹ معاملہ ہے۔ اگر یہ نظام مسلمانوں میں رواج پا جائے تو یہ اسلام نہیں رہتا۔ جمہوریت جب اسلام کی ضد ہے اور کفر ہے تواس کی تقسیم اسلامی اور غیر اسلامی بھی نہیں ہو سکتی‘ کہ ایک کو اسلامی جمہوریت کہا جائے دوسری کو غیر اسلامی یا مغربی۔ کفر بھی کبھی اسلامی اور غیر اسلامی ہو سکتا ہے؟ کافر مسلمان ہو جائے تو ہو جائے ‘ کفر کبھی اسلام نہیں ہوتا۔ پلیدی کبھی پاک نہیں ہوتی۔ جمہوریت فی نفسہٖ اگر کوئی اچھی چیز ہے تو وہ اچھی ہے۔ پھر اس کے مغربی اور مشرقی ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اور اگر وہ فی نفسہٖ کوئی بری چیز ہے تو وہ بری ہے۔ پھر اس کے اسلامی ہونے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ اچھی چیز جہاں بھی ہو اچھی ہے۔ بری چیز جہاں بھی ہو بری ہے۔ اسلام ہر جگہ اسلام ہے۔ مشرق میں ہو یا مغرب میں۔ کفر ہر جگہ کفر ہے ‘ مغرب میں ہو یا مشر ق میں۔ جمہوریت اس لیے کفر نہیں کہ وہ مغربی ہے ‘جمہوریت اس لیے کفر ہے کہ وہ جمہوریت ہے‘ اسلام نہیں۔اور جو اسلام نہ ہو بلکہ اسلام کی ضد ہو وہ کفر ہے۔ اسلام اور جمہوریت میں صریحاً تضاد ہے۔ اسلام میں حاکم اﷲ ہے ‘ جمہوریت میں حاکم عوام ہیں۔ وہ عوام کافر ہوں یا مسلمان ۔ عوام کے مسلمان ہونے سے جمہوریت نہیں بدلتی۔ جمہوریت کا اصول وہی رہتا ہے۔ حکومت اﷲ کی نہیں بلکہ عوام کی۔ عوام خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں ‘ جمہوریت مسلمانوں میں ہو یا کافروں میں‘ جیسے زنا ہے کرنے والا کوئی ہو ‘ یہ نہیں کہ کافر کرے تو زنا ہے ‘ مسلمان کرے تو نکاح ہے۔ جب زنا کہتے ہی مرد عورت کے ناجائز اور غیر قانونی تعلق کو ہیں تو یہ فعل جہاں بھی ہوگا زنا ہو گا اور حرام ہوگا۔ ایسے ہی جمہوریت مسلمانوں میں ہو ‘ یا کافروں میں ‘ جب تک جمہوریت ہے ‘کفر ہے‘ کیوں کہ اس میں حکومت کا حق عوام کو حاصل ہوتا ہے ۔ ملک میں جو عوام چاہتے ہیں وہی ہوتا ہے۔ ہمیں اسلامی جمہوریت کو جانچنے کے لیے جمہوریت کو دیکھنا چاہیے کہ جمہوریت کیا چیز ہے نہ کہ عوام کو؟ عوام تو بدلتے رہتے ہیں لیکن جمہوریت نہیں بدلتی۔ کیوں کہ یہ ایک نظام ہے ‘ نظام نہیں بدلا کرتا‘ جمہوریت اسلامی ہو یا غیر اسلامی ۔ اصول ایک ہی ہوتا ہے‘ کہ چلے گی اکثریت کی خواہ حق کے خلاف ہو یا موافق۔ عملاً حاکمیت عوام کی ہوگی۔ وہ عوام مسلمان ہوں یا کافر۔ جمہوریت جیسا کہ عام طور پر دھوکا لگتا ہے آزادی رائے اور حق گوئی و بے باکی کو نہیں کہتے۔ جمہوریت عدل و مساوات اور عوام کی خیر خواہی کو بھی نہیں کہتے۔ بعض شخصی حکومتوں میں یہ سب کچھ ہوتا ہے ۔ اس کے باوجود وہ حکومتیں جمہوری نہیں کہلاتی۔جمہوریت الیکشنوں کے نظام کو کہتے ہیں۔ اگر الیکشن ہوتے رہیں۔ عوام اپنا حکومت کا حق ووٹوں کے ذریعے استعمال کرتے رہیں۔ طالع آزماؤں کو طالع آزمائی کا موقع ملتا رہے‘ تو جمہوریت ہے ورنہ نہیں۔ جمہوریت سوشلزم اور کیمونزم ۔۔۔ یہ سب حسد کی پیدا وار ہیں۔ جو غلط قسم کی حکومتوں کے رد عمل کے طو رپر پیدا ہوئی ہیں کہ ایک ہی آدمی یا ایک ہی خاندان مالک و حاکم بن کر مزے کرے اور ہم محروم رہیں ‘ یہ کیسے ہو سکتا ہے ؟اسلام کہتا ہے حکومت کسی کا بھی حق نہیں۔ حکومت صرف اﷲ کا حق ہے۔ اس لیے حکومت کی آرزو کوئی نہ کرے۔ پھر اﷲ جس کو اسلامی اصولوں کے تحت خلیفہ بنا دے‘ جس کا کام صرف اﷲ کے احکام کو نافذ کرنا ہوتا ہے ‘ اپنے اوپر بھی اور اوروں پر بھی۔ اس کو حکومت کرنے کا حق ہے۔ وہ بھی جیسے اﷲ کا حکم ہو۔ اﷲ کے حکم سے آزاد حاکم کا تو اسلام میں تصور ہی نہیں۔ یونہی کسی نے اپنی چلائی‘ وہ اﷲ کا باغی ٹھہرا۔

جمہوریت شرک و کفر ہے

عوام کو حاکمیت کا درجہ دینے کی وجہ سے یہ جمہوریت کفر ہے۔ اسلام میں یہ درجہ اﷲ کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔ حاکمیت اور خود مختاری صرف اﷲ کا حق ہے۔ اسلام یہ حق کسی کو نہیں دیتا۔ نہ کسی نبی کو ‘ نہ کسی ولی کو ‘ نہ کسی فرشتے کو ‘ نہ کسی جن کو۔ نہ عوام کو ‘ نہ خواص کو ‘ نہ شخص واحد کو جیسا کہ آمریت میں ہوتا ہے‘ نہ کسی جماعت کو جیسا کہ جمہوریت یا دیگر نظاموں میں ہوتا ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

( مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّؤْتِیَہُ ﷲُ الْکِتٰبَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُوْلَ لِلنَّاسِ کُوْنُوْا عِبَادًا لِّیْ مِنْ دُوْنِ ﷲِ )[3:آل عمران:79]

یعنی کسی انسان کو یہ لائق نہیں کہ اﷲ تو اسے صاحب کتاب و حکم نبی بنائے اور وہ لوگوں کو اپنے بندے بنائے ۔ ان پر حکومت کرے ۔ نبی تو یہی کہے گا کہ اﷲ کے بندے بنو‘ اس کا حکم مانو‘ نبی یہ کبھی نہیں کہہ سکتا کہ تم فرشتوں اور نبیوں کو رب بناؤ۔ اﷲ کے سوا کسی اور کو ایسا درجہ دینا تو کفر ہے۔ کیا پیغمبر مسلمانوں کو ایسے کفر کا حکم دیتا ہے۔

اسلام میں حکومت صرف اﷲ کا حق ہے اور حکومت سے مراد صرف حکم اور قانون ہے۔ جس کا حکم اور قانون چلے گا اسی کی حکومت ہوگی۔ اگر اﷲ کا حکم بغیر کسی کی منظوری کے جاری ہوتا ہے تو ﷲ کی حکومت ہے۔ اگر عوام کا منظور شدہ دستور و قانون نافذ ہو اور عوام کی منظوری کے بغیر ﷲ کا حکم بھی جاری نہ ہو تو جمہوریت ہے۔ اقامت صلوٰۃ ا ﷲ کا حکم ہے اور فرض ہے ‘ حکومت وقت کے فرائض میں شامل ہے‘ لیکن اسلامی جمہوریتوں میں اقامت صلوۃ کا حکم اس وقت تک جاری نہیں ہو سکتا ‘ جب تک اسے عوام کی منظوری حاصل نہ ہو‘ اسمبلی قانون پاس نہ کرے۔

اسلامی جمہوریت اور اسلامی نظام کا فرق

اسلام کا کوئی قانون کتنا بھی اہم اور واضح کیوں نہ ہو جب تک اسے ملک کی مقنّنہ قانون کا درجہ نہ دے اس وقت تک وہ اسلامی جمہوریہ میں قانون نہیں بن سکتا۔ اسلامی جمہوریہ میں اسلام کے ہر حکم کا یہی حال ہوتا ہے کہ اسے قانون کا درجہ دینے کے لیے عوام کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے‘ لیکن اگر ملک میں اسلامی جمہوریت کی بجائے ‘ اسلامی نظام ہو تو ایسا نہیں ہوتا۔ اسلامی نظام میں اﷲ کا ہر حکم جو قرآن و حدیث سے ثابت ہو جائے قانون کا درجہ رکھتا ہے اور نافذ العمل ہوتا ہے۔ کسی عوامی یا خصوصی ادارے کی منظوری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسلامی نظام میں تصور یہ ہوتا ہے کہ حاکم اﷲ ہے۔ حکومت اس کی ہے۔ جو حکم اﷲ کے نبی کے ذریعے آ چکا ہے وہ نافذ العمل ہے اور ملک کا قانون ہے۔ اس کے لیے کسی قانون سازی یا منظوری کی ضرورت نہیں۔ وہ جیسے ایک عام آدمی پر لاگو ہے ویسے ہی خلیفہ پر لاگو ہے۔ سب اﷲ کے محکوم ہیں‘ اﷲ کے حکم سے کوئی مستثنیٰ نہیں۔اسلامی جمہوریت میں چونکہ حکومت عوام کی ہوتی ہے اس لیے عوام کی منظور ی کے بغیر اسلام کا کوئی حکم بھی جاری نہیں ہو سکتا۔ اسلامی نظام اور اسلامی جمہوریت میں یہی فرق ہے۔ اسلامی جمہوریت میں اسلام عوام کے تابع ہوتا ہے۔ اسلامی نظام میں عوام اسلام کے تابع ہوتے ہیں‘پاکستان کو اسلامی جمہوریہ بنے ہوئے کتنا عرصہ ہو گیا لیکن آج تک پاکستان میں نماز کا حکم جاری نہیں ہوا‘ کیوں کہ پاکستان میں اسلامی جمہوریت ہے ‘ اسلامی نظام نہیں۔ جہاں اسلام عوام کے تابع ہے ‘لہٰذا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ اسلامی جمہوریتوں میں اسلام نہیں ہوتا۔ جمہوریت ہوتی ہے‘ وہی جمہوریت جو مغرب میں ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ وہاں عوام مسلمان نہیں ہوتے غیر مسلم ہوتے ہیں۔ یہاں عوام رسمی طور پر مسلمان ہوتے ہیں۔ نظام ایک ہی ہوتا ہے ‘ یعنی حاکمیت عوام کی ۔ عوام جو چاہیں وہی ہو اور یہ کفر ہے۔ کیوں کہ اﷲ کے سوا کسی کی حاکمیت ہو نہیں سکتی۔ ہو بھی کیسے ؟ جب مخلوق ﷲ کی تو حکم بھی اﷲ کا چلنا چاہیے نہ کہ مخلوق کا۔ جب والد زندہ اور قائم ہو تو اولاد پر حکم والد کا چلنا چاہیے نہ کہ اولاد کا۔ جب مالک موجود ہو تو حکم مالک کا چلنا چاہیے ‘ نہ کہ محکوم کا۔ قرآن مجید میں ہے :

(اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ )[7:الاعراف:54]

جب مخلوق اﷲ کی تو حکم اور قانون بھی اسی کا۔ جو حاکم زمین پر اپنا حکم نہ چلائے بلکہ اﷲ کا حکم چلائے وہ منتخب ہو یا غیر منتخب وہ جائز حاکم ہے۔ وہ اﷲ کا نائب (وائسرائے) اور خلیفہ ہے اور جو اپنا حکم چلائے خواہ وہ عوام کا منتخب کردہ ہی ہو ‘ وہ ناجائز حاکم ہے۔ وہ اﷲ کا شریک اور اس کو منتخب کرنے والے عوام اس کو اﷲ کا شریک بنانے والے ہیں‘ جو صریحاً شرک اور ارتداد ہے۔روے زمین پر جو اپنا حکم چلاتا ہے ‘ وہ فرد واحد ہو یا جماعت سب باغی ہیں۔ اس طرح اسلام نہ آمریت کو برداشت کرتا ہے ‘ نہ جمہوریت کو۔ ہمارا جمہوریت زدہ طبقہ ‘ آمریت کے تو سخت خلاف ہے ‘ لیکن جمہوریت پر جان دیتا ہے۔ وہ بے دینی اور جہالت کی وجہ سے جمہوریت کو اپنا دین ایمان سمجھتا ہے۔ حال آنکہ اسلام کی رو سے دونوں کفر ہیں۔ کیوں کہ دونوں اپنی اپنی حاکمیت کے قائل ہیں۔ کیوں کہ اپنا اپنا قانون چلاتے ہیں۔ آمریت میں شخص واحد اپنا حکم چلاتا ہے‘ اور من مانی کرتا ہے۔ جمہوریت میں اکثریت اپنا حکم چلاتی ہے‘ جب سب انسان ہیں‘ سب مخلوق ہونے میں برابر ہیں‘ تو ایک دوسرے پر حکم چلانے کا کیا حق ہے؟ حکومت کا حق صرف مخلوق کے خالق‘ مالک اور رازق کو ہی ہو سکتا ہے‘ یا پھر جس کو اﷲ اپنے حکم کے تحت حکومت کرنے کا حق دے اور کسی کو نہیں۔ جب حکومت کرنا صرف اﷲ کا حق ہے تو حاکمیت اﷲ کی خاص صفت ہوئی اور اﷲ کی کسی خاص صفت میں ‘کسی کو شریک ٹھہرانا شرک ہے۔ جمہوریت اﷲ کی اس خاص صفت میں ‘ عوام کو شریک ٹھہراتی ہے ‘ اس لیے جمہوریت ایک واضح شرک ہے۔ قرآن مجید میں ہے :

1–( اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ )[7:الاعراف:54]

سن لو! مخلوق بھی اسی کی ہے اور حکومت کا حق بھی اسی کو ہے۔

2–( اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ)[6:الانعام:57]

حکم صرف ﷲ کا چلتا ہے۔

3–( وَلاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا )[:18الکہف:26]

اﷲ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں ٹھہراتا۔

4–( اَلاَ لَہُ الْحُکْمُ وَ ھُوَ اَسْرَعُ الْحَاسِبِیْنَ )[6:الانعام:62]

خبردار!حکومت کا حق صرف اﷲ کو حاصل ہے‘ اور وہ سب سے جلدی حساب لینے والا ہے۔ (خصوصاً ان سے جو اﷲ کا یہ حق غیروں کو دیتے ہیں )

5–( اَمْ لَھُمْ شُرَکَآءُ شَرَعُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْم بِہِ ﷲُ )[42:الشوری:21]

کیا ان کے ایسے معبود ہیں جو ان کے لیے ایسی قانون سازی کرتے ہیں جس کی اﷲ نے انھیں اجازت نہیں دی۔

یہ آیات بتلاتی ہیں کہ اﷲ جیسے معبود ہونے میں یکتا ہے ‘ کوئی اس کا شریک نہیں‘ جیسے غیر اﷲ کی عبادت کرنے والا مشرک ہے‘ ایسے ہی عوام کی حاکمیت کا قائل و فاعل بھی مشرک ہے۔ وہ عبادت میں شریک ٹھہراتا ہے‘ یہ حاکمیت میں۔ چوں کہ جمہوریت عوام کی حاکمیت کی قائل ہے‘ اس لیے جمہوریت کھلا ہوا شرک ہے۔

جمہوریت مغرب کی کج فکری پر مبنی ہے

جمہوریت کفر وشرک ہونے کے علاوہ ویسے بھی کج فکری پر مبنی ہے۔ اس کی بنیاد ہی صحیح نہیں۔ جمہوریت عوام کی حاکمیت کی قائل ہے ۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ عوام حاکم ہیں تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ پھر محکوم کون ہے ؟ اگر عوام محکوم ہیں تو پھر حاکم کون ہے ۔ ایک ہی ذات حاکم و محکوم نہیں ہو سکتی۔ حاکمیت اور محکمومیت دو متضاد وصف ہیں‘ جو ایک ذات میں جمع نہیں ہو سکتے۔حیف ہے ان مسلمانوں پر جو بے سوچے سمجھے مغرب کی تقلید میں ایسی جمہوریت کے قائل ہیں ۔ جمہوریت کہتی ہے :’’عوام خود مختار ہیں‘ حکومت ان کا حق ہے‘ وہ جس کو چاہیں حکومت کا اختیار دے کر بے اختیار ہو جائیں‘‘ وہ خود مختار کیسا؟ عوام جب ووٹ دے دیتے ہیں تو بے اختیا رہو جاتے ہیں۔ پھر وہ مسلط ہونے والے اپنے منتخب کردہ نمائندوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ ان کی حاکمیت و خود مختاری جاتی رہتی ہے۔ جن کو وہ اپنے نمائندے کہتے ہیں‘ ان کے وہ محکوم ہو جاتے ہیں۔ اسلام کہتا ہے ‘حاکم و خود مختار صرف اﷲ ہے‘ جو ہمیشہ حاکم و خود مختار ہوتا ہے۔ کبھی محکوم و بے اختیار نہیں ہوتا۔ اسلام میں کاروبار مملکت چلانے کے لیے خلافت کا منصب ہے۔ خلیفہ اور عوام سب اﷲ کے حکم کے تابع ہوتے ہیں۔ خلیفہ کو اختیار ات عوام نہیں دیتے‘ وہ اختیارات کے لیے عوام کا محتاج نہیں ہوتا۔ کیوں کہ اسلام میں اختیارات کا سرچشمہ عوام نہیں اﷲ ہے۔خلیفہ اﷲ کے مقرر کردہ اصولوں کے تحت بنتا ہے۔عوام کے انتخابی اصولوں کے تحت نہیں بنتا۔ اس لیے وہ عوام سے اطاعت کروا سکتا ہے ‘وہ اﷲ کے حکم کے تحت عوام پر حکومت کرتا ہے۔ جمہوریت میں عوام ہی حاکم اورعوام ہی محکوم ‘ عوام کے نمائندے عوام پر ہی حکومت کرتے ہیں۔ عوام کی حاکمیت اور پھرعوام کی نمائندگی اور پھر اپنے نمائندوں کی محکومیت ۔۔۔ یہ ایسا غلط اور پرفریب تصور ہے جو جمہوریت کے کافرانہ اور غلط نظام میں ہی چل سکتا ہے۔اسلام کے فطری نظام میں اس کی کوئی اہمیت نہیں۔

جمہوریت کسی صورت بھی اسلام کا سیاسی نظام نہیں ہو سکتی

اسلام عقائد اور اعمال کے مجموعے کا نام ہے۔ عقائد کو ہم نظریہ حیات کہہ سکتے ہیں اور اعمال کو نظام حیات ۔ جس طرح اعمال عقائد کی فرع ہیںیعنی عقائد سے اعمال پیدا ہوتے ہیں اسی طرح نظام حیات نظریہ حیات سے تشکیل پاتا ہے۔ جیسا نظریہ حیات ویسا نظام حیات تشکیل پائے گا۔اگر نظریہ حیات اسلامی ہے تو نظام حیات اسلامی وجود میں آئے گا اگر نظریہ حیات غیر اسلامی ہے تو نظام حیات غیر اسلامی ظہور پذیر ہوگا۔ اسلام اور کفر کے جب نظریات مختلف ہیں تو ان کے نظاموں کا مختلف ہونا یقینی امر ہے۔ جمہوریت مسلمانوں کا سیاسی نظام کیسے ہو سکتی ہے؟ اسلام کے نظریہ حیات کے تحت مسلمانوں کے سیاسی نظام کی غرض و غایت اور ہے ‘ کافروں کے نظریہ حیات کے تحت ان کے سیاسی نظام کی غرض و غایت اور ہے۔ جب اسلام کے نظریہ حیات کے تحت انسان کی تخلیق کی غرض و غایت اﷲ کی بندگی ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے:

( وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلاَّ لِیَعْبُدُوْنِ )[51:الذاریات:56]

تو اسلام کے نظام حیات کی مجموعی غرض وغایت بھی یہی ہوگی ۔ کیوں کہ اسلام کے نظریہ حیات اور اس کے نظام حیات میں مطابقت کلی کا ہونا لازمی ہے۔جب اسلام کے نظام حیات کی مجموعی غرض و غایت اﷲ کی بندگی ہے تو اس کے تینوں نظاموں : نظام معاشرت‘ معیشت اور سیاست کی فردا فردا بھی یہی غایت ہوگی۔ ان تینوں نظاموں میں ربط باہمی ایسا ہے کہ یہ تینوں باہم مدغم ہو کر کسی نظام حیات کی اکائی بناتے ہیں۔ اسلام میں ان تینوں نظاموں میں پوری ہم آہنگی اور یگانگت ہے ‘ کیوں کہ ان تینوں کے احکام ایک مرکز سے ایک مقصد کے تحت جاری ہوتے ہیں اور وہ مقصد اﷲ کی بندگی اور اس کی رضا کا حصول ہے۔ جب اﷲ نے انسان کو اپنی بندگی کے لیے پیدا کیا ہے تو امتحان کے لیے انسان کو تین چیزیں دی ہیں۔ مال ‘جان اور قدرت و اختیار۔ اﷲ دیکھتا ہے کہ انسان ان کو اپنی مرضی سے آزادانہ استعمال کرتا ہے یا ان تینوں کے استعمال میں اﷲ کی رضا اور اس کی بندگی ‘ اس کے ملحوظ خاطر رہتی ہے۔ اگر وہ ان تینوں نعمتوں کو جو بنیاد ہیں‘ معاشرت ‘ معیشت اور سیاست کی ۔ اﷲ کے حکم کے تحت اس کی رضا میں استعمال کرتا ہے تو وہ اپنے مقصد حیات میں کامیاب ورنہ ناکام ہے۔ جب اسلام کے نظام حیات کا مقصد اﷲ کی رضا اور اس کی بندگی ہے تو جمہوریت اسلام کا نظام سیاست نہیں ہو سکتی۔ کیوں کہ جمہوریت کا مقصد اﷲ کی بندگی نہیں‘ بلکہ حکومت کی بندگی ہے۔ جمہوریت تو حکومت چاہتی ہے‘ وہ کہتی ہے کہ حکومت سب کا حق ہے ‘ اکیلا کوئی کیوں حکومت کرے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ حصول اقتدار کی خاطر الیکشن لڑیں اور حکومت حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ ہر تین یا پانچ سال بعد الیکشن ہوں کہ حکومت کرنے کا سب کو باری باری موقع ملے۔ اسلام کہتا ہے کہ حکومت کسی بھی انسان کا حق نہیں ‘ اس لیے حکومت کی آرزو کوئی نہ کرے۔ یہ ان کے مقصد حیات کے خلاف ہے۔ حکومت حق نہیں‘ ایک ذمہ داری اور بوجھ ہے۔ اس لیے ہر ایک اس سے گریز کرے۔ جب اسلام اور جمہوریت کے مقاصد و مسالک میں اتنا فرق ہے تو وہ دونوں ایک کیسے ہو سکتے ہیں ؟ جمہوریت اسلام کا نظام سیاست اس لیے بھی نہیں ہو سکتی کہ ان دونوں نظاموں میں حکومت کے مقاصد مختلف ہیں‘ اسلامی نظام میں حکومت کا مقصد ‘ اﷲ کے قانون کو جاری کرکے اﷲ کی حاکمیت کو قائم کرنا ہے۔ جب واقعتا اﷲ حاکم ہے ‘ اس کے سوا کوئی حاکم نہیں تو اس کی حاکمیت قائم کیوں نہ ہو۔ اسلامی حکومت کا اولین فرض اﷲ کی حکومت کا قیام ہے۔ امن و امان کا قیام ‘ اسلامی حکومت کا لازمہ تو ہے مقصد نہیں‘ کیوں کہ یہ مقصد حیات نہیں۔ بلکہ مقصد حیات کے لیے ایک ذریعہ ہے۔ دنیا میں امن و امان اس لیے قائم کیا جاتا ہے کہ لوگ امن و سکون کے ساتھ اپنے مقصد حیات کو پورا کر سکیں۔ مقصد حیات کی تحصیل میں ان کو کوئی دقت نہ ہو۔ جب اسلام میں حکومت کا مقصد اﷲ کے احکام کی تعمیل کرنا اور کرانا ہے۔ کسی کی حکومت قائم کرنا نہیں تو یہ کام جمہوری نظام کے تحت نہیں ہو سکتا۔ یہ کام عوام نہیں کر سکتے۔یہ کام وہی کر سکتا ہے جو اﷲ کے احکام کو خوب سمجھتا ہو اور ان پر عمل پیرا ہو اور تعمیل احکام الٰہیہ کی پوری صلاحیت رکھتا ہو۔ ایسے شخص کا انتخاب بھی عوام کا کام نہیں۔یہ کام ان لوگوں کا ہے جو خود اﷲ کے احکام کے پابند ہوں اور صاحب الراے ہوں ۔ ان کی راے معاشرے میں وزن رکھتی ہو۔ جب اسلامی حکومت کے یہ تقاضے ہوں تو ایسی حکومت جمہوری اصولوں سے کیسے قائم کی جا سکتی ہے۔ایسی حکومت کے قیام کو جمہوریت کے تحت عوام کے ہاتھوں میں دینا ایسے ہی ہے جیسے گھر کا نظام والدین سے چھین کربچوں کے سپرد کر دینا۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت اسلامی نظام حیات میں کسی طرح بھی فٹ نہیںآتی ‘ کیوں کہ اسلام کے تقاضے بالکل اور ہیں۔مسلمانوں نے اسلام کے مزاج کو تو نہ سمجھا ‘ بلکہ اندھا دھند مغرب کی تقلید میں جمہوریت کو اپنا نظام سیاست اپنا لیا۔ جس کا نتیجہ یہ رہا کہ آج مسلمانوں کی معاشرت اور معیشت دونوں غیر اسلامی ہیں۔ معاشرت ‘ معیشت اور سیاست ایک ہی جسم کے اعضا ہیں‘ جن میں روح ایک ہے۔ یہ تینوں نظام باہم ایسے مربوط ہیں کہ ان کو علیحدہ علیحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ سیاست مغربی اختیا رکر لی جائے اور معاشرت اور معیشت کو اسلامی رکھ لیا جائے۔ سیاست معاشرت و معیشت دونوں کی کنٹرولر ہے۔ جیسی سیاست ہوگی ویسی معاشرت و معیشت ہوگی۔ کیوں کہ وہ دونوں سیاست کے تابع ہیں۔ اس کے علاوہ ان تینوں نظاموں میں ‘ ربط و ضبط باہمی بھی ایسا ہے کہ جب ایک بدلے گا تو منطقی طورپر دوسرا ضرور بدل جائے گا۔ یہ تینوں نظام مل کر کسی نظام حیات کی اکائی بناتے ہیں۔ ان کے ربط باہمی کو کسی صورت بھی توڑا نہیں جا سکتا۔ یہ جب بدلتا ہے پورا سیٹ کا سیٹ بدلتا ہے۔ یہ نہیں کہ ایک بدل جائے اور دوسرا نہ بدلے۔ جب مسلمان انگریز کی غلامی میں آئے ان کا نظام سیاست جمہوریت ہوا تو مسلمانوں کا پورا نظام حیات بدل گیا۔ جب مسلمانوں کی سیاست مغربی ہوئی تو ان کی معاشرت و معیشت بھی مغربی ہو گئی اور جب کسی قوم کے یہ تینوں نظام مغربی ہو جائیں تواس قوم کا نظام حیات اسلامی کیسے رہ سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل مسلمان اسلام سے بہت دور ہیں اور نفاذ اسلام ان کے لیے ایک لاینحل مسئلہ بنا ہوا ہے۔ جتنی وہ جمہوریت کے لیے کوشش کرتے ہیں اتنے وہ اسلام سے دور ہوتے جا تے ہیں۔

بہت بڑا مغالطہ

جمہوریت کی طرف سے مسلمان بہت بڑے مغالطے میں ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جمہوریت کوئی اسلامی چیز ہے ‘ حالاں کہ جمہوریت کا اسلام سے کوئی تعلق نہی۔ جمہوریت کو اسلامی ثابت کرنے کے لیے خلافت راشدہ سے عدل و مساوات کی مثالیں دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں جتنی جمہوریت اسلام میں ہے اتنی اور کسی مذہب میں نہیں۔ بلکہ بعض جاہل تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جمہوریت مغرب نے اسلام سے سیکھی ہے۔ اور یہ ایسا مغالطہ ہے کہ جس میں تقریباً آج کل کے اکثر مسلمان مبتلا ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں جو آزادی رائے یا عدل و مساوات مخلوق خدا کی فلاح و بہبود کا عنصر موجود ہے وہ جمہوریت نہیں‘ نہ اسلام اسے جمہوریت کہتا ہے‘ نہ جمہوریت کی تعریف میں یہ آتا ہے۔ اسلام میں اس کو نصح یا نصیحت کہتے ہیں۔ چنانچہ تمیم داریؓ کی حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم نے فرمایا:((اَلدِّیْنُ النَّصِیْحَۃُ ثَلاَ ثًا)) تین دفعہ آپ ؐنے فرمایا کہ دین اسلام نصیحہ کو کہتے ہیں۔ صحابہؓ نے پوچھا لِمَنْ یَا رَسُوْلَ ﷲِ صلی ﷲعلیہ وسلم نصیحت کس کے لیے ؟ آپ نے فرمایا:(( ﷲِ وَ لِکِتَابِہٖ وَ لِرَسُوْلِہٖ وَلاَ ئمَّۃِ الْمُسْلِمِیْنَ وَعَامَّتِھِمْ ))۱ اﷲ کے لیے‘ اﷲ کی کتاب کے لیے ‘ اﷲ کے رسول صلی اﷲعلیہ وسلم کے لیے ‘ مسلمان حاکموں کے لیے اور مسلمان عوام کے لیے۔ یعنی ہر حق والے کا حق ادا کرنا اسلام ہے۔ اسی کو عدل و مساوات کہتے ہیں۔ اسی کو دوسروں کی خیرخواہی کہتے ہیں۔ اس کو جمہوریت ہر گز نہیں کہتے۔ جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے جس کی بنیاد یہ عقیدہ ہے کہ حکومت عوام کا حق ہے۔ عوام اپنے اس حق کو الیکشنوں کے ذریعے استعمال کریں۔ جب ہی جمہوری ملکوں میں ہر تین یا پانچ سال کے بعد الیکشن ہوتے ہیں۔ حقیقت میں جسے جمہوریت کہتے ہیں وہ اسلام میں نہیں اور جو عوام کی خیر خواہی وغیرہ اسلام میں ہے وہ جمہوریت نہیں۔ نہ اسلام میں جمہوریت ہے ‘ نہ جمہوریت میں اسلام ہے۔ آج کل کا بے بصیرت مسلمان اس حقیقت کو نہیں سمجھتا۔ وہ جمہوریت کو ہی اسلام سمجھتا ہے۔ بحالی جمہوریت کو ہی نفاذ اسلام کا نام دیتا ہے ۔ وہ نفاذ اسلام کی بجائے بحالی جمہوریت کے لیے کوشاں ہے ۔ وہ اس کے لیے جان دینے کو شہادت سمجھتا ہے ۔حال آنکہ حرام کی موت ہے کیوں کہ جمہوریت ایک کافرانہ سیاسی نظام ہے جو اسلام کی ضد ہے اس کی بحالی کے لیے جان دینا جان کو ضائع کرنا ہے۔ اسی نے مسلمانوں کے دین و ایمان کو بگاڑا ہے۔ اسی کی وجہ سے آج مسلمان اسلام سے دور اور اپنے اسلامی کردار سے محروم ہوئے ہیں۔ اسلام مسلمانوں کو توحید سکھاتا ہے ‘ یہ مشرک بناتی ہے۔ اسلام ایک خدا کا مطیع بنا کر وحدت ملی کا سبق دیتا ہے‘ جمہوریت عصبیتیں پیدا کرکے مسلمانوں کا شیرازہ بکھیرتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت کی موجودگی میں اسلام اپنا کردار ادا کر ہی نہیں سکتا۔ بلکہ اسلام زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ اسلام کی زندگی جہاد فی سبیل اﷲ اور تبلیغ دین سے ہے اور جمہوری نظام میں یہ دونوں کام کبھی نہیں ہو سکتے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ جب سے مسلمانوں میں یہ جمہوریت آئی ہے مسلمان پیچھے تو ہٹے ہیں‘ ایک قدم آگے نہیں بڑھے۔ مسلمانو ں کے دلوں سے جہاد کا جذبہ ہی نکل گیا ہے۔ مسلمان بے غیرت اور بزدل ہو کر رہ گئے ہیں۔ تاریخ شاہد ہے‘ کہ اسلام جتنا بھی پھیلا فتوحات جتنی بھی ہوئیں سب خلافت وملوکیت کے دور میں ہوئیں۔ جمہوریت کے دور میں کچھ نہیں ہوا۔ جمہوریت کے دور میں مسلمانوں نے کھویا ہی ہے کمایا کچھ نہیں۔ جمہوریت شرک ہے اور شرک کی یہ تاثیر ہے کہ اس سے مرعوبیت اور بزدلی پیدا ہوتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے ( سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا الرُّعْبَ بِمَآ اَشْرَکُوْا بِاللہ )[3:آل عمران:151] ہم شرک کی وجہ سے کافروں سے مرعوب ہیں‘ مسلمانوں کی مرعوبیت اور ذلت کا سبب یہ جمہوریت ہے۔ جب سے جمہوریت کا یہ مشرکانہ نظام مسلمانوں میں آیا ہے مسلمان مرعوب اور ذلیل ہو گئے ہیں۔ موحدین اور مجاہدین والی جرأت ان میں نہیں رہی۔ وہ غیروں کے دست نگر ہو کر رہ گئے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ جمہوریت ہے شرک و کفر ‘ لیکن جیسے مشرک مانتے نہیں کہ ہم مشرک ہیں اور شرک کرتے ہیں اسی طرح جمہوری مسلمان مانتے نہیں کہ جمہوریت شرک ہے۔ نہ انھیں یہ ڈر ہے کہ ہم جمہوری بن کر مشرک و کافر ہو جائیں گے ۔ وہ مشرکوں کی طرح اپنے اس شرک کی تاویلیں کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مغربی جمہوریت تو شرک و کفر ہو سکتی ہے۔ ہماری پاکستانی اور اسلامی جمہوریت شرک نہیں ‘ کیوں کہ پاکستان کے دستور میں لکھا ہو اہے کہ حاکم رب العالمین ہے ۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ جمہوریت ‘ جمہوریت ہے اور جب وہ جمہوریت ہے تو کفر ہے۔ کیوں کہ جمہوریت کہتے ہی عوام کی حاکمیت کو ہیں اور اﷲ کے سوا کسی کی حاکمیت شرک و کفر ہے۔ جمہوریت کے ہوتے ہوئے دستور میں حقیقی حاکم رب العالمین کو تسلیم کرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ جس دستور میں حقیقی حاکم رب العالمین تسلیم کیا گیا ہے وہ بھی عوام کا ہی بنایا ہوا ہے اور عوام کے بنائے ہوئے دستور کا کیا اعتبار اگر آج عوام یہ دستور بنا سکتے ہیں کہ حقیقی حاکم اﷲ ہے تو کل کے عوام یہ دستور بنا سکتے ہیں کہ حقیقی حاکم اﷲ نہیں عوام ہیں۔ چنانچہ مساوات 14 اکتوبر1978ء کے اداریے میں یہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ جمہوریت کو آگے بڑھایا جائے اور عوام کی حاکمیت کو تسلیم کیا جائے۔ جب تک کسی ملک میں جمہوری نظام ہے۔ اس وقت تک دستور وقانون کو اسلامی نہیں کہہ سکتے‘ خواہ اس میں کچھ بھی کیوں نہ تسلیم کیا گیا ہو‘ کیوں کہ وہ عوام کے تابع ہے ۔ اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ جیسے عوام ہوں گے ویسا دستور و قانون بنتا اور بدلتا رہے گا۔ جب جمہوریت ہے بالادستی عوام کی ہی رہے گی۔ دستور یا قانون سب کچھ عوام کے رحم و کرم پر ہوگا۔

اس کے علاوہ اگر کسی ملک کا قانون غیر اسلامی ہو تو دستور میں حقیقی حاکم اﷲ کو تسلیم کرنے کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں اور پاکستان کا یہی حال ہے۔ دستور میں تو یہ لکھا ہو اہے کہ حقیقی حاکم رب العالمین ہے اور ملک میں رائج قانون سب غیر اسلامی ہیں۔ اگر کوئی لا الہ الا اﷲ پڑھ کر شرک کرے تو کیا مشرک نہیں ہوتا۔ جیسے شرک کرنے والے کو لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھ لینا کوئی فائدہ نہیں دیتا ‘ وہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھنے کے باوجود شرک کر کے مشرک ہو جاتا ہے‘ اسی طرح پاکستانی دستور میں یہ لکھ کر بھی کہ حقیقی حاکم رب العالمین ہے‘جب جمہوریت کو جو صریحاً شرک ہے رواج دیا جاتا ہے ‘ حکومت کا حق عوام کے لیے تسلیم کیا جاتا ہے اور اس کے لیے ہر تین یا پانچ سال بعد الیکشن ہوتے ہیں‘ قانون غیر اسلامی چلائے جاتے ہیں تو شرک خود بخودثابت ہو جاتا ہے۔کہنا یہ کہ حقیقی حاکم رب العالمین ہے‘ اور نظام جمہوری چلانا ‘ ایسا ہی ہے جیسے کوئی پڑھے لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ ا ور سجدہ کرے غیر اﷲ کو۔ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھنے سے شرک ‘ توحید نہیں بن جاتا۔ بسم اﷲ پڑھ کر ذبح کرنے سے حرام حلال نہیں ہوجاتا۔ شرک شرک ہی رہتا ہے اور حرام حرام ہی رہتا ہے۔ توحید تو شرک مٹانے ہی سے آتی ہے۔ صرف لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھ لینے سے توحید نہیں آجاتی۔

اسلامی جمہوریت ایک بہت بڑی شرکیہ بدعت ہے

اس نے مسلمانوں کو دینی اور دنیا وی دونوں اعتبار سے بدل دیا ہے‘ عام بدعتوں کا تو لوگوں کو شاید کچھ نہ کچھ احساس ہو جاتا ہو لیکن جمہوریت جیسی بدعت کا کوئی احسا س نہیں ہوتا‘ کیوں لوگ عام طور پر سیاست کو بدعت نہیں سمجھتے۔ اس لیے وہ سیاسی بدعتوں کو بدعت خیال نہیں کرتے‘ حال آنکہ یہ دوسری بدعتوں سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اس سے پورا نظام حیات بدل جاتا ہے۔ اس بدعت کی بدولت آج مسلمان اپنے اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ بدعات کی خاصیت جیسا کہ حدیث میں آتا ہے یہ ہے کہ جونہی کوئی بدعت آتی ہے اس قسم کی ایک سنت اٹھ جاتی ہے جو تاقیامت نہیں لوٹتی۔ اس جمہوریت کی وجہ سے ہی آج مسلمانوں سے اسلامی سیاست ایسی گئی ہے کہ اب اسلامی سیاست ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ وہ جمہوریت کو ہی اسلامی سیاست سمجھنے لگ گئے ہیں حال آنکہ کہاں جمہوریت اور کہاں اسلام؟ جب تک مسلمانوں میں اسلامی سیاست کا شعور پیدا نہیں ہوتا اسلام کبھی نافذ ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اگر اسلام نافذ نہ ہو تو آدمی مسلمان ہی نہیں ہوتا۔ کوئی انسان مسلمان ہوتا ہی اس وقت ہے جب وہ اسلام کو نافذ کرتا ہے۔اسلام کے معانی اﷲ کے حکم پر عمل کرنے کے ہیں۔ اگر مقدور بھر اﷲ کے حکم پر عمل نہ کیا جائے تو اسلام کہاں ؟آج مسلمان جمہوریت کو اسلامی کہتے ہیں اور اس کے ذریعے ہی اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں‘ جو قریباً ناممکن ہے۔ کبھی بدعتوں سے بھی اسلام آیا ہے بدعتیں تواسلام کو مٹاتی ہیں لاتی نہیں۔ جمہوریت سے بھی اسلام کو ٹالا اور نکالا جا سکتا ہے ‘لایا کبھی نہیں جا سکتا۔ 35سال سے پاکستان میں یہی تجربہ ہو رہا ہے۔ جمہوریت لاتے لاتے پاکستان بھی کٹ گیا اور اسلام بھی مٹ گیا۔ اسلام کو تو اسلامی طریقوں سے ہی لایا جا سکتا ہے۔ جمہوریت سے اسلام کبھی آیا ہے نہ آسکتا ہے۔ اسلام وہی لوگ لا سکتے ہیں ‘ جن کے ذہن اسلامی ہوں ‘ جمہوری نہ ہوں۔ باطل سے مرعوب اور مغرب سے متاثر نہ ہوں۔ جو باطل سے مرعوب اور مغرب سے متاثر ہوں وہ کبھی اسلامی انقلاب نہیں لا سکتے۔ اسلامی انقلاب کے داعیوں کا خواہ وہ کسی پارٹی سے بھی تعلق رکھتے ہوں۔ آج یہ حال ہے کہ وہ خود مغرب سے متاثر ہیں۔ جس مغرب کے خلاف وہ آواز اٹھاتے ہیں اسی سے وہ مرعوب ہیں ۔ وہ اسلام کیا لائیں گے۔ کسی کے مرعوب ہونے یا نہ ہونے کا پتا اس کی تہذیب سے لگتا ہے۔ تہذیب بہت بڑا انڈکس ہے۔ مغرب جب مسلمانوں سے مرعوب تھاتو وہ مسلمانوں کی تہذیب کو اپناتا تھا ۔ اب ہم مرعوب ہیں‘ تو ہم مغرب کی تہذیب کو اپناتے ہیں۔ زبان سے مغرب کو کتنا ہی برا کیوں نہ کہا جائے۔ جب تک اس کی تہذیب کو نہ چھوڑا جائے اور اپنے آپ کو کلی طور پر اسلامی رنگ میں نہ رنگا جائے اسلامی انقلاب نہیں لا یا جا سکتا۔بڑی بنیادی چیز جس کو آج اسلامی انقلاب کے داعی ذہن میں نہیں رکھتے یہ ہے کہ اسلامی انقلاب کبھی جزوی نہیں ہوتا۔ وہ پورے نظام حیات کا انقلاب ہوتا ہے جس میں معاشرت ‘ معیشت اور سیاست تینوں آتی ہیں۔ اسلامی انقلاب لانے کے لیے تمام شعبوں میں عمل بیک وقت شروع ہونا چاہیے۔ سب سے زیادہ اہمیت نظام تعلیم کو دینی چاہیے۔ تعلیم کے ذریعے ہی اذہان و قلوب کو مغربیت سے پاک و صاف کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی نظام لانے کے لیے سب سے پہلے کافرانہ نظام کو بیخ و بن سے اکھاڑ پھینکنا بہت ضروری ہے‘ خصوصاً جمہوریت کو جس نے ذہنوں کو بہت خراب کر دیا ہے۔ ہر ایک ہی قسمت آزمائی کے لیے الیکشن لڑتا ہے ‘ آج کل کوئی مسلمان یہ برداشت ہی نہیں کرتا کہ کوئی حکومت کرتا رہے اور وہ حکومت سے محروم رہے۔ لوگوں کے ذہنوں کو حکومت کے سودا سے پاک کرنا بہت ضروری ہے۔ ہر مسلمان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حکومت کسی کا حق نہیں‘ کہ کوئی اس کے لیے کوشاں ہو اور الیکشن لڑتا پھرے۔ حکومت صرف اﷲ کا حق ہے ‘ ہمارا فرض تو صرف اﷲ کے کام کی تکمیل کرنا ہے۔ حکومت کرنا نہیں۔ حکومت بہت بڑی ذمہ داری ہے جس سے عہدہ برا ہونے ہر ایک کا کام نہیں۔ اﷲ کے ہاں اس کی جواب دہی بہت مشکل ہے۔ اس سے آدمی جتنا گریز کرے اتنا ہی اچھا ہے۔ حکومت کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن دیدنی ہوگا۔ جس نے حکومت کی وہ گویا کند چھری سے ذبح ہوا۔۲ اگر عہدے کی بھوک نہ ہو تو کسی عہدے دار کا انتخاب کوئی مشکل نہیں۔انتخاب کے مسئلے کو اس جمہوری ذہن نے پیچیدہ بنایا ہے۔ اگر ذہن سے یہ جمہوری سودا کہ حکومت ہر ایک کا حق ہے نکل جائے تو انتخاب کا مسئلہ بالکل آسان ہو جائے ۔ حکومت کے حصول کے لیے تگ و دو کرنا اسلا م کی تعلیم کے صریحاً خلاف ہے۔ اگر صحیح اسلامی تعلیم کو عام کیا جائے اور لوگوں کے ذہنوں کو اسلامی بنایا جائے تو اسلامی طریقے سے اسلامی حکومت قائم کرکے اسلام کانفاذ کوئی مشکل کام نہیں۔ اس دورمیں نفاذ اسلام کی کوششیں تو کی جا رہی ہیں ‘ لیکن یہ کام ان لوگوں کے سپرد ہے جو مغرب سے سند یافتہ ہیں اور مرعوب ذہنیت کے مالک ہیں‘ حالا نکہ یہ کام ان لوگوں کا نہیں ۔ ایسے لوگوں سے اسلام کو نقصان تو پہنچ سکتا ہے فائدے کی امید نہیں۔ یہ کام ایسے لوگوں کے سپرد ہونا چاہیے جو مغرب سے بالکل مرعوب نہ ہوں ۔ اسلام کا تفوق ان کے دل و دماغ میں رچا بسا ہوا ہو۔ وہ اسلام کے مکمل نظام حیات ہونے پر کامل ایمان رکھتے ہوں اور اسلام میں بھی وسیع نظر وفکر کے مالک ہوں۔ کسی تقلیدی تنگ نظری کا شکا ر نہ ہوں۔

*****

۱ ( مسلم : کتاب الایمان ‘باب بیان ان الدین النصیحۃ‘ رقم …95ارواہ الغلیل 62/1 رقم 26‘ابوداو‘د : کتاب الادب ‘ باب فی النصیحۃ ‘ عن سہیل بن ابی صالح۔۔ مسند احمد 103/4 رقم 16499-16498-16494 )

۲ (ترمذی:ابواب الاحکام ‘ باب ماجاء عن رسول اﷲ فی القاضی‘ رقم 1322 ۔۔ ابوداو‘د: کتاب القضاء ‘ باب فی طلب القضاء ‘رقم 3571‘ ۔۔ ابن ماجۃ : احکام ‘ باب ذکرالقضاۃ رقم: 2308)

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours