جمہوریت اسلامی کیسے ؟ از پروفیسر حافط عبداللہ بہاولپوری

بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم

یہ دور مسلمانوں کے لیے سخت ابتلاء کا دور ہے۔ جو زوال و انحطاط اس دور میں مسلمانوں کو ہوا ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا۔ مغربیت اب ذہنوں میں ایسی گھسی ہے کہ اسلامی اقدار بالکل ہی بدل گئی ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک اب اسلام کامعیار قرآن و حدیث نہیں رہا‘ بلکہ مسلمانوں کی اکثریت ہو گیا ہے۔ آج جس کو مسلمانوں کی اکثریت اسلام کہے وہ اسلام ہے‘ قرآن و حدیث جسے اسلام کہیں وہ اسلام نہیں۔ آج مسلمان جمہوریت کو اسلامی کہتے ہیں۔ یہ نہیں دیکھتے کہ جمہوریت اسلامی کیسے ہے ؟

 کیا قرآن وحدیث جمہوریت کو اسلامی کہتے ہیں یا اسلامی تاریخ جمہوریت کو اسلامی مانتی ہے۔ اسلام کا معیار اصل میں قرآن وحدیث ہے۔اگر قرآن و حدیث ہی جمہوریت کو اسلامی نہ کہیں تو جمہوریت اسلامی کیسے ہو سکتی ہے۔ اگر جمہوریت اسلامی چیز ہوتی تو خلفا اربعہ کے مثالی دور کو دور اسلامی جمہوریت کہتے‘ خلافت نہ کہتے ۔ جب اسلامی تاریخ کے اس بہترین دور کو خلافت راشدہ کہتے ہیں ۔ دور اسلامی جمہوریت نہیں کہتے تو ثابت ہوا کہ جمہوریت کوئی اسلامی نظام نہیں۔ قرآن وحدیث اور اسلامی تاریخ سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کا نظام حکومت خلافت ہے جمہوریت نہیں۔ قرآن و حدیث میں خلافت کا ہی ذکر ہے ۔ جمہوریت کا کہیں ذکر نہیں ۔ چنانچہ خلافت کے بارے میں قرآن مجید میں ہے:

( اِنِّیْ جَاعِلٌ فِی الْاَرْضِ خَلِیْفَۃً)[2:البقرہ:30]

انسان کی پیدائش سے پہلے ہی اﷲ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ میں انسان کو پیدا کرکے زمین میں نظام خلافت قائم کرنے والا ہوں۔

( عَسٰی رَبُّکُمْ اَنْ یُّھْلِکَ عَدُوَّکُمْ وَ یَسْتَخْلِفَکُمْ فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرَ کَیْفَ تَعْمَلُوْنَ)[7:الاعراف:129]

’’عنقریب اﷲ تمھارے دشمن کو ہلاک کرکے تمھیں زمین میں خلیفہ بنائے گا‘ پھر دیکھے گا کہ تم کیا کرتے ہو۔‘‘

( یَادَاو‘دُ اِنَّا جَعَلْنٰکَ خَلِیْفَۃً فِی الْاَرْضِ فَاحْکُمْ بَیْنَ النَّاسِ بِالْحَقِّ وَ لاَ تَتَّبِعِ الْھَوٰی فَیُضِلُّکَ عَنْ سَبِیْلِ اﷲِ )[26:ص:38]

اے داؤد! ہم نے آپ کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے‘ پس لوگوں کے درمیان فیصلے (اﷲ کے اتارے ہوئے) حق کے ساتھ کرنا ‘ اپنی خواہش کے پیچھے نہ چلنا ‘ اس سے آ پ گمراہ ہوجائیں گے۔‘‘

(وَعَدَ اﷲُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْکُمْ وَ عَمِلُوْا الصَّلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّھُمْ فِی الْاَرْضِ کَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِھِمْ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَھُمْ دِیْنَھُمُ الَّذِی ارْتَضٰی لَھُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّھُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِھِمْ اَمْنًا۔ یَعْبُدُوْنَنِیْ لاَ یُشْرِکُوْنَ بِیْ شَیْئا وَّ مَنْ کَفَرَ بَعْدَ ذٰلِکَ فَاُولٰئکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ )[24:النور:55]

تم میں سے جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اﷲ کا ان سے وعدہ ہے ‘ کہ وہ ان کو زمین میں خلیفہ بنائے گا‘ جیسے اس نے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا‘ ان کی خلافت میں اﷲ کے دین کو جو اﷲ کو پسند ہے‘ غالب کرے گا اور ان کے خوف کو امن سے بدل دے گا۔ اس دور میں لوگ اﷲ کی بندگی کریں گے۔ اﷲ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے۔ پھر جو اس کے بعد کفر کرے وہ فاسق ہے۔‘‘

( وَ اَنِ حْکُمْ بَیْنَھُمْ بِمَا اَنْزَلَ ﷲُ وَ لاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآءَ ھُمْ )[5:المائدہ:49]

’’ اﷲ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ ان میں فیصلے کیا کر‘ لوگوں کی مرضی پر نہ چل۔‘‘

(وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ ﷲُ فَاُولٰئکَ ھُمُ الْکٰفِرُوْنَ )[5:المائدہ:44]

جو اﷲ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ حکومت نہ کرے وہ کافر ہے۔

(وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ ﷲُ فَاُولٰئکَ ھُمُ الْظّٰلِمُوْنَ )[5:المائدہ:45]

جو اﷲ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ حکومت نہ کرے وہ ظالم ہے۔

(وَ مَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ ﷲُ فَاُولٰئکَ ھُمُ الْفَاسِقُوْنَ)[5:المائدہ:47]

جو اﷲ کے اتارے ہوئے قانون کے ساتھ حکومت نہ کرے وہ فاسق ہے۔

بخاری و مسلم کی صحیح حدیث میں ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:بنی اسرائیل میں سیاست کا کام انبیا کیا کرتے تھے۔ جب کسی ایک نبی ؑ کا انتقال ہو جاتا تو دوسرا نبی ؑ اس کی جگہ لے لیتا۔ لیکن اب میرے بعد کوئی نبی ؑ نہیں ہوگا۔ اب خلفا ء ہی کثرت سے ہوں گے ‘ جو سیاست کے فرائض سرانجام دیں گے۔ صحابہ کرامؓ نے پوچھا: اس سلسلے میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں ؟ آ پ نے فرمایا یکے بعددیگرے ہر خلیفہ کی بیعت کرنا ور ان کے وفاد ار رہنا۔ ان کا حق ان کو دینا ۔ ان کی کسی کوتاہی کو بہانہ بنا کر ان کی اطاعت سے رو گردانی نہ کرنا۔ اﷲ ان سے پوچھے گا کہ انھوں نے رعیت کا حق ادا کیا یا نہیں۔ تم اپنے کسی حق کو آڑ بنا کر ان سے بغاوت نہ کرنا ۔ یعنی جب تک وہ کفر بواح کے مرتکب نہ ہوں ان کے وفادار رہنا‘ ان کی بیعت سے دست کش نہ ہونا۔

یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام حکومت تو خلافت ہی ہے لیکن اگر مسلمان اس مثالی حکومت کو قائم نہ رکھ سکیں تو پھر دوسرے نمبر پر مسلمانوں کا رائج نظام حکومت ملوکیت ہے۔ مسلمانوں کی تیرہ سو سال کی تاریخ خلافت و ملوکیت کی ہی تاریخ ہے۔ خلافت و ملوکیت کا زمانہ ہی مسلمانوں کی شوکت اور عروج کا زمانہ ہے۔ چودہویں اور پندرہویں صدیاں جو جمہوریت کی صدیاں ہیں‘ مسلمانوں کی انتہائی زوال کی صدیاں ہیں‘ ان میں مسلمانوں نے کھویا ہی ہے کمایا کچھ نہیں۔ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:

((خَیْرُ الْقُرُوْنِ قَرْنِیْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ثُمَّ الَّذِیْنَ یَلُوْنَھُمْ ))۱

اسلام کی ترقی اور غلبہ کے لحاظ سے سب سے بہتر میرا اور پھر اس کے بعد کے دو زمانے ہیں۔ ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا کہ اس امت کی عافیت اس کے پہلے حصے میں ہے‘ مسلمانوں کی تاریخ کے جس دور کو آپ نے غلبہ اسلام اور عافیت کا دور بتایا ہے اس دور میں خلافت و ملوکیت ہی تھی‘ جمہوریت نہ تھی۔ احادیث سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کا غلبہ خلافت اور خلافت کی طرز کے نظام حکومت یعنی ملوکیت میں ہی ہو سکتا ہے۔ جمہوری نظام میں اسلام کا غلبہ تو درکنار‘ اسلام کی خیر ہی نہیں۔ جمہوریت میں اسلام اور مسلمان دونوں کو خطرہ ہے۔ تجربہ شاہد ہے‘ تاریخ گواہ ہے کہ جمہوریت اسلام کے مزاج کے خلاف ہے۔ اسی لیے جمہوریت آج تک مسلمانوں کے کسی ملک میں کامیاب نہیں ہوئی۔ جب جمہوریت کا نام تک قرآن و حدیث میں نہیں ‘ کسی اسلامی جمہوریہ کا نشان تک مسلمانوں کی بارہ سو سال کی تاریخ میں نہیں‘ تو اب چودہویں یا پندرہویں صدی میں جب کہ اسلام اور مسلمان اپنے زوال کی آخری حدکو پہنچ چکے ہیں‘ جمہوریت اسلامی کیسے ہو سکتی ہے؟ مسلمانوں کی بارہ تیرہ سو سال کی تاریخ جو جمہوریت کا نام نہیں لیتی تو دو باتوں میں سے ایک ضرور ہے‘ یا تو پہلے جمہوریت نہ تھی ‘ اگرتھی تو مسلمان جمہوریت کے نام سے واقف نہ تھے۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جمہوریت مسلمانوں میں ہو اور مسلمان جمہوریت کے نام سے واقف نہ تھے اور اسلامی جمہوریہ نام نہ رکھیں۔ اصل بات یہی ہے کہ پہلے مسلمانوں میں جمہوریت تھی نہیں یہ پیدا وار ہی مغرب کی ہے اور مغرب کی ذہنی غلامی کے صلہ میں مسلمانوں کو ملی۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریز مرحوم کی آمد سے پہلے الیکشن کہاں تھے؟ کون جانتا تھا کہ جمہوریت کس بلا کا نام ہے۔ مسلمانوں میں نظام حکومت کے دو ہی تصور تھے۔ ایک خلافت اور دوسرا ملوکیت۔ مغرب کے غلبہ سے پہلے مسلمان کسی تیسرے نظام حکومت کو جانتے ہی نہ تھے۔ رسول اﷲ ﷺ نے بھی اپنی پیش گوئیوں میں دو نظاموں کا ہی ذکر فرمایا ہے‘ جیسا کہ اس حدیث میں ہے:

((تَکُوْنُ النَّبُوَّۃُ فِیْکُمْ مَا شَاءَ ﷲُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا ﷲُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلاَفَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النَّبُوَّۃِ مَا شَاءَ ﷲُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا ﷲُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ مَلِکًا عَاضًّا فَتَکُوْنُ مَا شَاءَ ﷲُ اَنْ تَکُوْنَ ثُمَّ یَرْفَعُھَا ﷲُ تَعَالٰی ثُمَّ تَکُوْنُ خِلَافَۃٌ عَلٰی مِنْھَاجِ النَّبُوَّۃِ ثُمَّ سَکَتَ)) ۲

آپ نے فرمایا: پہلے نبوت ہوگی ۔ جب تک ﷲ تعالیٰ چاہے گا یہ رہے گی۔ پھر خلافت علی منہاج نبوت کا دور ہوگا۔ یہ بھی جب تک اﷲ چاہے گا‘ رہے گا۔ پھر ملوکیت گزندہ کا دور ہوگا۔ یہ دور بھی جب تک اﷲ چاہے گا رہے گا۔ پھر جبر و استبداد کی ملوکیت ہوگی ۔ جب اﷲ چاہے گا یہ ختم ہو جائے گی۔آخر میں پھر خلافت علی منہاج نبوت کا دور ہوگا۔ پھر آپ خاموش ہو گئے۔ یعنی اس خلافت پر دنیا کا خاتمہ ہو جائے گا۔‘‘

اس حدیث سے صاف ظاہر ہے کہ اسلام کا آئیڈیل نظام حکومت تو خلافت علی منہاج نبوت ہی ہے جو شروع میں بھی تھی اور آخر میں امام مہدی اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بھی ہوگی۔ ملوکیت اگرچہ اسلام کا کوئی آئیڈیل نظام نہیں‘ لیکن اگر کوئی بادشاہ نیک ہو تو بادشاہت اسلام میں ناقابل برداشت بھی نہیں۔ کیوں کہ جمہوریت کی طرح یہ کوئی مستقل نظریاتی نظام نہیں جو اسلام سے متصادم ہو۔ جیسا کہ جمہوریت متصادم ہے۔ بادشاہ اچھا بھی ہو سکتا ہے اور برا بھی۔ خلافت راشدہ کے بعد بہت سے مسلمان بادشاہ ایسے بھی گزرے ہیں جنھوں نے خلافت راشدہ کی یاد تازہ کر دی۔ اس لیے اسلام جس طرح جمہوریت کے خلاف ہے‘ ملوکیت کے خلاف نہیں۔ ملوکیت خیر بھی ہو سکتی ہے اور شر بھی۔ جمہوریت شر ہی شر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملوکیت کا ذکر خیر قرآن میں بھی ہے‘ اور حدیث میں بھی‘ لیکن جمہوریت کا نام تک قرآن و حدیث میں نہیں۔ یہ بالکل برعکس نہند نام رنگی کافور والی بات ہے‘ جو آج مسلمان ملوکیت کو تو غیر اسلامی کہتے ہیں اور جمہوریت کو اسلامی ۔ یہ ان کے مغرب سے متاثر اور اسلام سے ناواقف ہونے کی دلیل ہے۔ ورنہ اگر بادشاہ نیک اور خوف خدا والا ہو ‘اسلام کا پابند ہو تو خلیفہ میں اور بادشاہ میں کوئی فرق نہیں۔ جو اﷲ کے احکام کو نافذ کرے‘ وہ منتخب ہو یا غیر منتخب وہ اﷲ کا خلیفہ ہے۔ کیوں کہ اس نے زمین میں اﷲ کی حکومت قائم کر رکھی ہے۔ اسلام میں خلافت کا مقصد اﷲ کی حکومت قائم کرنا ہے۔ عوام کی نمائندگی کرنا نہیں کہ عوام کا منتخب کردہ شخص ہی خلیفہ ہو اور جو عوام کا منتخب کردہ نہ ہو وہ خلیفہ ہی نہ ہو۔ جو حاکم اﷲ کے قانون کا پابند ہو اور اﷲ کے قانون کے ساتھ حکومت کرے وہ خلیفہ ہے۔ اگر جمہوریت کی طرح ملوکیت بھی مطلقا اسلام میں ناقابل برداشت ہوتی تو رسول اﷲ ﷺ اپنے تبلیغی خطوط میں کافر بادشاہوں کو کبھی نہ لکھتے کہ اگر تم مسلمان ہو جاؤ تو تمھاری بادشاہت برقرار رہے گی۔ چنانچہ آپ نے ہرقل شاہ روم کے نام جیفر اور عبدشاہان ‘ عمان کے نام‘ حارث غسانی ‘ شاہِ دمشق کے نام ‘ ہودہ بن علی گورنر یمامہ کے نام جو خطوط لکھے ان میں لکھا تھا اگر تم مسلمان ہو جاؤ گے تو تمھارے ملک بدستور تمھارے قبضے میں رہیں گے۔ اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا۔ ملاحظہ ہو بخاری شریف ‘ طبقات ابن سعد اور دیگر کتب سیر و تاریخ ‘ مواہب لدینہ وغیرہ ۔

جب آپ نے اپنے خطوط میں بادشاہتوں کے بحال رکھنے کا وعدہ فرمایا تو ثابت ہوا کہ ملوکیت اسلام میں قابل برداشت ہے۔ جمہوریت کی طرح ناقابل برداشت نہیں کیوں کہ اس سے اسلام کی نفی نہیں ہوتی۔ جمہوریت سے تو اسلام کی کلی نفی ہوتی ہے۔ اگر اس جمہوری دور کے مسلمانوں کی بصیرت قائم ہو تو وہ ضرور سوچیں کہ مغرب جو خلافت و ملوکیت کا دشمن ہے اور مسلمانوں میں جمہوریت چاہتا ہے تو کیا وہ اسلام یا مسلمانوں کا خیر خواہ ہے۔ کیا کفر کبھی مسلمانوں کا خیرخواہ ہو سکتا ہے؟ ظاہر ہے کہ کفر مسلمانوں کے لیے وہی چاہے گا جو مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہو۔ مسلمانوں کا سب سے بڑا نقصان دین کا نقصان ہے۔ جو چیز مسلمانوں کو لا دین بنائے ‘ وہ چیز مسلمانوں کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ ہے‘ جمہوریت یہی کام کرتی ہے۔ جمہوریت خود لادین ہے اور لادین بناتی ہے۔ تجربہ گواہ ہے کہ جب سے مسلمانوں میں یہ جمہوریت آئی ہے‘ مسلمان لا دین ہو گئے ہیں اور مسلمان جوں جوں لادین ہوتے جا تے ہیں ان کی دینی غیرت و حمیت اور اسلامی اخوت و مودت ختم ہوتی جاتی ہے اور یہ اسلام کو ختم کرنے کا طریقہ ہے اور یہ ایک ایسا سلسلہ ہے کہ جب دینی غیرت گئی تو جذبہ جہاد گیا۔ اسلامی اخوت گئی تو اتحاد گیا اور جب دونوں گئے تو اسلام گیا۔ کفر چاہتا ہی یہ ہے کہ اسلام مسلمانوں سے نکل جائے اور مسلمان ناکارہ ہو کر رہ جائیں۔ قرآن نے پہلے ہی مسلمانوں کو خبردار کیا تھا۔

( وَدُّوْا لَوْ تَکْفُرُوْنَ کَمَا کَفَرُوْا فَتَکُوْنُوْنَ سَوَآءً )[4:النساء:89]

وہ چاہتے ہی یہ ہیں کہ مسلمان بھی کفر کرکے کافروں جیسے بن جائیں تاکہ کفر کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہ رہے۔ جمہوریت مغرب کاآزمایا ہوا ہتھیار ہے۔ اس سے وہ مسلمانوں کو لادین بنانے کا کام لیتا ہے۔ مسلمان جب لادین ہوجاتے ہیں تو پھر ان میں قومی اور وطنی عصبیتیں ابھر آتی ہیں۔ جس سے ان میں تفریق پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور وہ کمزور سے کمزور تر ہو کر کفر کے لیے تر نوالہ بن جاتے ہیں۔ پاکستان کو پہلے بھی اس جمہوریت نے دو ٹکڑے کیا تھا۔ اب بھی روس اور بھارت اور اس کی حامی پارٹیاں جو پاکستان میں یہی چاہتی ہیں کہ پاکستان میں جمہوریت بحال ہو ‘ الیکشن ہوں اور چار قومی نظریے کے تحت چاروں صوبے خود مختار ہوں اور اس طرح پاکستان ختم۔ اسلامی اخوت نے مختلف قوموں کو اکٹھا کر کے پاکستان بنا دیا تھا۔ اب جب کہ جمہوریت سے وہ اخوت ختم ہو گئی تو پاکستان کے ٹکڑے ٹکڑے ہو نے کے لیے تیار ہے۔ صرف الیکشن کا انتظار ہے۔ یہ تو فوجی حکومت ہے جو جمہوریت کی تباہ کاریوں کے لیے رکاوٹ بنی ہوئی ہے اور پاکستان بچا ہوا ہے۔ ورنہ جونہی جمہوریت بحال ہو جائے گی ‘ ٹوٹ پھوٹ کا عمل شروع ہوجائے گا۔

یہ سمجھنا کہ خلافت راشدہ میں جمہوریت تھی‘ بہت بڑا دھوکا ہے۔ خلافت راشدہ میں جمہوریت قطعاً نہ تھی۔

1– کیا یہ جمہوریت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے رسول ﷲ ﷺ کی حدیث : ((اَلاَئمَۃُ مِنْ قُرَیْشٍ))۳ سنائی تو انصار نے خلافت کا خیال ہی دل سے نکال دیا اور کبھی خلافت کے حصول کی کوشش نہیں کی۔

2– کیا یہ جمہوریت ہے کہ ایک حضرت عمرؓ کی بیعت نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کو اور حضرت قیس بن سعد بن عبادہ کی بیعت نے حضرت حسنؓ کو خلیفہ بنا دیا۔

3– کیا یہ جمہوریت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے اپنی زندگی میں ہی حضرت عمرؓ کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا اور کسی نے کوئی اعتراض کیا بھی تو انھوں نے اس کا مسکت جواب دیا۔

-4 کیا یہ جمہوریت ہے کہ عثمانؓ نے اپنی زندگی میں ہی عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو خلیفہ نامزد کر دیا تھا۔ لیکن جب وہ ان کی زندگی میں ہی فوت ہو گئے تو ان کا ارادہ حضرت زیبر کوخلیفہ نامزد کرنے کا تھا‘ جیسا کہ بخاری شریف کی روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔

5– کیا یہ جمہوریت ہے کہ خلفاء راشدین میں سے ہر خلیفہ زندگی بھر خلیفہ رہا۔ یہ سوال کبھی پیدا ہی نہیں ہوا کہ عوام کا اعتماد حاصل کرنے کے لیے تین یا پانچ سال کے بعد الیکشن ہوں۔

6– مسلمانوں کی ساری تاریخ میں خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے لے کر آخر تک نامزدگی اور ولی عہدی کا ہی رواج رہا۔ اگرا سلام میں جمہوریت ہوتی تو نامزدگی کا یہ غیر جمہوری فعل کبھی جائز نہ ہوتا۔ صحابہ کرام ؓ ا ور ائمہ عظام ؓ ضرور اس کے خلاف آواز اٹھاتے‘ جب کسی نے کبھی بھی اس کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھائی تو ثابت ہوا کہ نامزدگی اسلام کاایک اجماعی مسئلہ ہے۔ علامہ ماوردی تک اس کو اجماعی قرار دیتے ہیں۔

شرح مواقف میں جو عقائد کی مسلمہ ترین کتاب ہے‘ مرقوم ہے:

وَ اِنَّھَا تَثْبُتُ بِالنَّصِّ مِنَ الرَّسُوْلِ وَ مِنَ الِامَامِ السَّابِقِ بِالْاِجْمَاعِ وَ تَثْبُتُ بِبَیْعَۃِ اَھْلَ الْحَلِّ وَالْعَقْدِ عِنْدَ اَھْلِ السُّنَّۃِ وَالْجَمَاعَۃِ

خلافت تین طرح سے منعقد ہوتی ہے:

اولاً: رسول ﷲ ﷺ کے فرمان سے۔

ثانیاً : پہلے خلیفہ کی نامزدگی سے اور اس پر سب کا اجماع ہے۔

ثالثاً: اہل حل وعقد کی بیعت سے ۔ جب یہ ثابت ہو گیا کہ نامزدگی مسلمانوں کا ایک اجماعی مسئلہ ہے تو ثابت ہو گیا کہ اسلام میں جمہوریت نہیں‘ کیوں کہ نامزدگی سے تو جمہوریت کا تصور ہی باطل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی یہ اعترا ض کرے کہ یزید کی نامزدگی پر حضرت عبدالرحمٰن بن ابوبکر اور بعض دیگر صحابہؓ نے اعتراض کیا تھا تواس کا جواب یہ ہے کہ اعتراض نامزدگی پر نہ تھا اعتراض یزید کی وجہ سے تھا۔ اگر معاویہؓ یزید کی بجائے کسی اور کو نامزد کر جاتے تو کسی کو کوئی اعتراض نہ ہوتا۔ جب خلافت راشدہ میں جمہوریت کی جڑ کاٹنے والی نامزدگی اور ولی عہدی موجود اور جمہوریت کے لوازمات ‘ مثلا سیاسی پارٹیاں‘ الیکشن‘ حق بالغ رائے دہی اور کنویسنگ وغیرہ مفقود تو کیسے کہہ سکتے ہیں کہ خلافت راشدہ میں جمہوریت تھی اور جب خلافت راشدہ میں جمہوریت نہ ہو تو جمہوریت کو اسلامی کیسے کہا جا سکتا ہے۔ کیوں کہ کسی نظام کے اسلامی ہونے کے لیے اس کا دور رسالت اور خلافت راشدہ میں پایا جانا ضروری ہے۔ جو نظام خیر القرون میں نہ پایا جائے ‘ وہ اسلامی نہیں ہو سکتا۔

جمہوریت کو آج کل عام مسلمان اسلامی تو کہتے ہیں ‘ لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اسلام کا جمہوریت سے کیا تعلق ہے ؟ آخر ان دونوں میں نسبت کیا ہے ؟ نسبتیں کل چار ہو سکتی ہیں۔ تساوی ‘ تباین‘ عموم خصوص مطلق عموم خصوص من وجہ دو چیزیں یا ایک دوسرے کا عین ہو سکتی ہیں‘ یا غیر پھر ان میں عام خاص کی نسبت ہو سکتی ہے۔

—1اگر اسلام اور جمہوریت میں نسبت تساوی ہو‘ یعنی یہ دونوں ایک ہوں ‘ اسلام عین جمہوریت ہو اور جمہوریت عین اسلام تو پھر ماننا پڑے گا کہ جن ملکوں میں جمہوریت ہے وہاں اسلام ہے ‘ حالانکہ ایسا نہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ جن ملکوں میں جمہوریت ہوخواہ وہ ملک مسلمانوں کے ہیں یا کافروں کے ‘وہاں اسلام نہیں ۔ وہاں صرف جمہوریت ہے۔ اس کے علاوہ مغربی جمہوریت کو اسلامی جمہوریت کے دعوے دار بھی اسلام نہیں مانتے ۔ وہ بھی کہتے ہیں کہ مغربی جمہوریت اسلام سے متصادم ہے ۔ اگر جمہوریت عین اسلام ہوتی اور اسلام عین جمہوریت ہوتا تو مغربی جمہوریت بھی ضرور اسلام ہوتی۔ جب مغربی جمہوریت اسلام نہیں اور یہ مسلم عندالطرفین ہے تو ثابت ہوا کہ جمہوریت اسلام کا عین نہیں بلکہ غیر ہے۔ اگر اسلام اور جمہوریت متراد ف ہوں تو اسلامی جمہوریت کی ترکیب بھی صحیح نہ ہو۔ کیوں کہ دو مترادف آپس میں یوں صفت موصوف نہیں ہو سکتے۔ پھر تو اسلامی جمہوریت کا نام ہی غلط ہوا۔

—2اگر اسلام اور جمہوریت میں نسبت تباین ہو توپھر جمہوریت کفر ہے۔ کیوں کہ جن دوچیزوں میں تباین ہوتا ہے وہ ایک نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کا غیر ہوتی ہیں اور جو چیز اسلام کا غیر ہوگی وہ یقیناًکفر ہوگی۔اگر جمہوریت اور اسلام میں نسبت تباین ہو تو پھر اسلامی جمہوریت کا معنی اسلامی کفر ہوگا اور چونکہ کفر کبھی اسلامی نہیں ہوسکتا۔ جیسے سوشلزم کفر ہونے کی وجہ سے اسلامی نہیں ہو سکتا ۔ ایسے ہی جمہوریت کفر ہونے کی وجہ سے اسلامی نہیں ہو سکتی۔ پھر اسلامی جمہوریت کی ترکیب ایسے ہی لغو ہوگی جیسے اسلامی شوشلزم کی۔ جیسے شوشلزم کفر ہونے کی وجہ سے اسلامی نہیں ہو سکتا۔ ایسے ہی جمہوریت کفر ہونے کی وجہ سے اسلامی نہیں ہو سکتی۔ پھر جمہوریت کو اسلامی کہنا اور اس کے لیے کوشش کرنا کفر اور اسلام کو جمع کرنا ہے‘ جو ناممکن ہے اور سعی لا حاصل ہے۔

—3 اگر اسلام اور جمہوریت میں عموم خصوص ‘ مطلق یا عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہو تو پھر اسلام اور جمہوریت میں جزو کل کا تعلق ہو سکتا ہے۔ لیکن پھر اسلامی جمہوریت پورااسلام نہیں ہو سکتی بلکہ اسلام کا جز و ہوگی ۔ پھر اسلامی جمہوریت کے لیے کوشش کرنا پورے اسلام کی کوشش نہیں بلکہ ادھورے اسلام کی کوشش ہے جو سخت مذموم ہے۔ اگر جمہوریت اسلام کا جزو ہے جیسا کہ اسلامی جمہوریت کے دعوے دار کہتے ہیں اور اسلامی جمہوریت کے نام سے بھی واضح ہے تو پھر اسلامی جمہوریت کا مطالبہ کرنے والوں کو اگر وہ مسلمان ہیں ‘ تو اسلامی جمہوریت کا مطالبہ چھوڑ کر پورے اسلام کا مطالبہ کرنا چاہیے۔ جب پورا اسلام آ جائے گا تو جو جمہوریت اسلام کے اندر ہوگی وہ خود بخود آ جائے گی۔ کیوں کہ جزو کل کے اندر آ جاتا ہے۔ کل کے آ جانے کے بعد پھر جزو کے لیے علیحدہ کوشش کرنے کی ضرورت نہیں رہتی۔ اگر یہ صحیح ہے کہ تو اسلام میں جمہوریت ہے تو پھر صرف اسلامی جمہوریت کا مطالبہ کرنا اور پورے اسلام کا مطالبہ نہ کرنا ‘ چہ معنی دارد۔ کیا اسلامی جمہوریت والوں کو اسلام میں سے صرف جمہوریت ہی کی ضرورت ہے باقی اسلام کی ان کو ضرورت نہیں جو وہ پورے اسلام کا مطالبہ نہیں کرتے مطلب کا اسلام لینا تو ایسا گناہ ہے کہ جس کی سزا دنیا میں بھی رسوائی ہے اور آخرت میں سخت عذاب ‘ جیسا کہ قرآن مجید میں سورہ البقرہ سے ثابت ہے۔ آج مسلمانوں کی ذلت و رسوائی کا واحد سبب بھی یہ ہے کہ وہ پورے مسلمان نہیں۔ اگر وہ پورے مسلمان ہوں تو قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح دنیا میں بھی حکمران ہوں اور آخرت میں بھی کامران ۔ روس اور امریکہ والے جو دنیا کے مزے لیتے ہیں تو وہ اس وجہ سے کہ وہ ہماری طرح مذہب کے نام پر دھوکا نہیں دیتے۔ جو غیرت اور غصہ اﷲ کو ایک منافق پر آتا ہے وہ کافر پر نہیں آتا۔ ہم اسلام کے نام پر اﷲ سے منافقت کرتے ہیں ۔ اس لیے اﷲ ہم پر زیادہ غصب ناک ہے۔ ادھورا مسلمان دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوتا ہے اور آخرت میں بھی نامراد۔

حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نہ کل اسلام ہے نہ اسلام کا جزو‘ بلکہ اسلام کا غیر اور اس کی ضد ہے کیوں کہ اسلام ایک دین ہے اور جمہوریت لادینیت ہے۔ جمہوریت چاہتی ہے کہ اﷲ کا کوئی تصور نہ ہو‘ حاکمیت عوام کی ہو۔ اسلام چاہتا ہے کہ حاکمیت اﷲ کی ہو‘ اﷲ کے سوا کسی کی نہ چلے۔ اگر کوئی کہے کہ جمہوریت کا یہ تصور تو مغرب کا تصور ہے۔ اسلامی جمہوریت کا یہ تصور نہیں تو اس سے کہا جا سکتا ہے کہ جب جمہوریت کوئی اسلامی چیز ہی نہیں تو اس کا کوئی اسلامی تصور کیسے ہو سکتا ہے۔ جمہوریت مغرب کا نظام ہے اور مغرب کا تصور ہی اس کا اصل قصورہے۔ رہ گیا آج کل کے مسلمانوں کا جمہوریت کو اسلامی کہناتو ان کے کہنے سے جمہوریت اسلامی نہیں ہوسکتی۔ کفر کو کوئی کتنا بھی اسلامی کہے کفر اسلامی نہیں ہو سکتا‘ کفر تو کفر ہی رہتا ہے۔ کافر مسلمان ہو جائے تو ہو جائے ‘ کفر کبھی اسلام نہیں ہوتا۔ مسلمانوں کا پیش کردہ تصور اسلامی تصور نہیں کہلا سکتا۔ اسلامی تصور وہی ہو تا ہے جس کو قرآن و حدیث پیش کریں جس کو صرف مسلمان پیش کریں اور قرآن و حدیث اور اسلامی تاریخ اس کا نام تک نہ لیں اس کو مسلمانوں کا تصور تو کہہ سکتے ہیں اسلامی تصور اسے نہیں کہہ سکتے۔ اسلامی تصور کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اصل قرآن و حدیث میں ہو اور اس کا پریکٹیکل خیرالقرون میں ہو۔ جس کا پریکٹیکل خیر القرون میں نہ ہو‘ وہ اسلامی نہیں ہوتا۔ ایسا ہی فرق اسلامی تاریخ اور مسلمانوں کی تاریخ کاہے۔ اسلامی تاریخ اس دور کی تاریخ کو کہتے ہیں جس میں اسلام کی حکومت ہو ‘ مسلمان اسلام کے تابع ہوں اور اسلام مسلمانوں کے تابع نہ ہو۔ جیسا کہ خلافت راشد ہ میں تھا۔ جب اسلام مسلمانوں کے تابع ہو جائے ‘ اس طرح سے کہ جو مسلمان کہتے یا کرتے جائیں اس کو اسلام سمجھا جائے ۔ جب اسلام کا معیار قرآن و حدیث نہ ہو بلکہ مسلمانوں کی اکثریت ہو جیسا کہ آج کل ہے تو اس دور کی تاریخ کو مسلمانوں کی تاریخ تو کہہ سکتے ہیں ‘ اسلامی تاریخ نہیں کہہ سکتے۔اسلامی تاریخ تو اسلامی اصولوں کی فرمانروائی کی تاریخ ہے۔ اشخاص کی حکمرانی کی تاریخ کو اسلامی تاریخ نہیں کہتے۔

جمہوریت کا ایک مستقل نظام ہے‘ جس کی داغ بیل موجودہ شکل و صورت میں انقلاب فرانس کے بعد پڑی۔ یہ مغرب کا نظام ہے‘ اس کو اسلام میں تلاش کرنا یا اسلام میں داخل کرکے اسے اسلامی کہنا اسلام سے بے خبری کی دلیل ہے۔ اسلام ایک جامع اور مکمل نظام حیات ہے اس کے تمام نظام اپنے ہیں۔ اس کو باہر سے کوئی نظام امپورٹ کرنے کی ضرورت نہیں۔ بدعت کو جو اسلام میں بہت برا سمجھا جاتا ہے تو اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ اسلام بذات خود ایک جامع نظام ہے جو بالکل کامل اور مکمل ہے۔ا س میں کسی قسم کی کوئی کمی نہیں کہ کسی اضافے کی ضرورت ہو۔ اگر اسلام کامل نہ ہوتا ‘ اس میں کسی اضافے کی ضرورت ہوتی تو بدعات کو ممنوع قرار نہ دیا جا تا‘ بلکہ اسلام کی تکمیل کے لیے ہر زمانے میں بدعات کی اجازت ہوتی۔ جب اسلام بدعات کی بالکل اجازت نہیں دیتا بلکہ(( اِیَّاکُمْ وَ مُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ ))۴ کہہ کر بدعات سے خبر دار کرتا ہے اور ڈراتا ہے تو یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اسلام اپنی ذات میں بالکل مکمل ہے۔ اس میں کسی بھرتی کی قطعا کوئی گنجائش نہیں۔ بدعات خواہ مذہبی ہوں یا سیاسی ‘ معاشرتی ہوںیا معاشی سب مذموم ہیں۔ آج مسلمان مذہبی بدعتوں کو بدعت سمجھتے ہیں ‘ سیاسی یا معاشی بدعتوں کو بدعت نہیں سمجھتے کیوں کہ وہ جہالت کی وجہ سے سیاست اور معیشت کو دین نہیں سمجھتے۔ ان کے خیا ل میں اسلام صرف چند عبادات اور مذہبی رسومات کا نام ہے۔ سیاست‘ معیشت اور معاشرت سے اسلام کاکوئی تعلق نہیں۔ یہ جیسی بھی ہو ‘ سب ٹھیک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل عام مسلمان مذہبی رسومات کی حد تک تو مسلمان ہے‘ سیاست ‘ معیشت اور معاشرت میں وہ مسلمان نہیں بلکہ انگریز ہے اور یہی اس کی اسلام سے دوری کا اصل سبب ہے۔ اﷲ کے نزدیک تو پورا مسلمان ہی وہ ہوتا ہے جو زندگی کے تمام شعبوں میں مسلمان ہو۔ ادھورا مسلمان اﷲ کے نزدیک مسلمان نہیں ہوتا‘ وہ تو بلکہ منافق ہوتا ہے۔ جس کو اﷲ دنیا و آخرت دونوں میں ذلیل کرتا ہے۔

تعجب تو یہ ہے کہ آج کل مسلمان ایک طرف تو کہتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے۔ دوسری طرف وہ کہتے ہیں کہ اسلام کا اپنا کوئی سیاسی یا معاشرتی نظام نہیں۔ اسی لیے وہ مغربی نظاموں کو اسلام کا لیبل لگا کر اسلامی بنا لینے کے درپے ہیں۔ جبھی آج اسلامی جمہوریت اور اسلامی سوشلزم جیسے قبیح اور مکروہ نام سننے اور دیکھنے میں آتے ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اور یہ ہر لحاظ سے کامل اور مکمل ہے۔اس کا ہر نظام اپنا ہے اور عین فطرت کے مطابق ہے‘ اور شروع سے ہے۔ اسلام کا کوئی نظام کسی رد عمل کے طور پر پیدا نہیں ہوا ‘ جیسا کہ جمہوریت شخصی حکومتوں کی چیرہ دستیوں کے رد عمل کے طور پر پیدا ہوئی ہے۔ اگر اسلام کا سیاسی عمل ٹھیک طور پر جاری ہو تو جمہوریت کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔ جمہوریت کی ضرورت اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب شخصی حکومتیں من مانیاں کرتی ہیں اور عدل و مساوات غائب ہوتا ہے۔ جب حکومت اﷲ کے قانون کی ہو‘ جس کی نگاہ میں حاکم و محکوم سب برابر ہوتے ہیں تو جمہوریت کا وجود میں آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ خلافت راشدہ میں جمہوریت کا تصور تک نہ تھا۔ صرف اسلام کا سیاسی نظام ہی سرگرم عمل تھا جس کی وجہ سے عدل ‘ مساوات اور عوام کی آزادی اور خوشحالی کی وہ ریل پیل تھی کہ جمہوریت بھی اس کے آگے شرمندہ ہے۔ اس دور کی برکات کو دیکھ کر جاہل مسلمان کہہ دیتے ہیں کہ اس دور میں جمہوریت تھی جس کے وہ سارے کرشمے تھے۔ حالانکہ وہ اسلام کے کرشمے تھے وہ جمہوریت کے کرشمے نہ تھے۔ جمہوریت کا تو اس وقت نام و نشان تک نہ تھا۔ جمہوریت سے کبھی وہ برکتیں حاصل نہیں ہو سکتیں جو اسلامی نظام سے حاصل ہو سکتی ہیں۔ بشرطیکہ اسلامی الیکشن صحیح ہو۔

جب اسلام اﷲ کا دین ہے تو اسلام کا نظام سیاست بھی اﷲ کے دین ہی کا ایک حصہ ہے جس کی غرض و غایت اقامت دین ہے۔ اس میں کسی کی حق تلفی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اسلام میں ہر ایک کی پوری حق رسی ہوتی ہے۔ اسلام میں حقوق و فرائض اﷲ مقرر کرتا ہے کیوں کہ یہ اﷲ کا دین ہے۔ جمہوریت میں حقوق و فرائض لوگ مقرر کرتے ہیں جس میں بے اعتدالی ہوتی رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جمہوریت میں آئے دن حقوق و مطالبات کی یلغاریں ہوتی ہیں اور تحریکیں اٹھتی رہتی ہیں۔ اسلام دین فطرت ہے اس میں ایسی شورشیں کبھی پیدا نہیں ہو سکتی جیسی جمہوریت میں پیدا ہوتی ہیں۔ جو لوگ اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں‘ جمہوریت ہی ان کی آنکھوں کا تار ا ہے ۔ وہ جب نظام اسلام کے فیوض و برکات ‘ سیر و تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں تو کہنے لگ جاتے ہیں کہ اسلامی جمہوریت ہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اسلام پہلے ہے‘ جمہوریت بعد میں۔ جمہوریت اسلام میں کیسے ہو سکتی ہے۔ اسلام تو اپنی شکل و صورت میں اس وقت بھی موجود تھا جب ابھی جمہوریت پیدا بھی نہیں ہوئی تھی۔ اس کے علاوہ انھیں یہ بھی پتا نہیں کہ جمہوریت صرف عدل و مساوات اور عوام کی خیروخواہی اور آزادی کو نہیں کہتے۔ یہ عناصر تو بعض شخصی حکومتوں میں بھی بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں ۔ کتنے نیک دل بادشاہ ایسے گزرے ہیں جن کے دور میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے تھے۔ کیا ان کے دور کو جمہوری دور کہیں گے؟ حال آنکہ وہ ملوکیت تھی۔ جمہوریت تو ایک نظا م ہے ‘ جس کی باگ ڈور عوام کے منتخب نمائندوں کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ جس میں اکثریت جو چاہتی ہے کرتی ہے۔ اکثریت اپنی اکثریت کے بل بوتے پرظلم کرے تو جمہوریت ہے ‘ انصاف کرے تو جمہوریت ہے۔ غیر جمہوری طریقہ سے برسراقتدار آ کر اگر کوئی حکمران عدل و مساوات کے دریا بھی بہا دے تو اس کو جمہوریت نہیں کہتے۔ جنرل ضیاء یا کوئی اور اگر اقتدار پر قبضہ کرکے فرشتہ بھی بن جائے اور عوام کو ہر طرح کی آزادی بھی دے دے ‘ لیکن جمہوری الیکشن نہ کروائے تو جمہوریت کبھی بحال نہیں ہو سکتی۔ جمہوریت کی بحالی اسی وقت ہو سکتی ہے جب ملک میں ہر تین یا پانچ سال کے بعد کھلی الیکشن بازی ہو۔

الیکشن بازی ہی حقیقت میں جمہوریت ہے۔ آج کل کے مسلمان جب یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں جمہوریت ہے تو اسلام کے عدل و مساوات اورشخصی آزادی کو جمہوریت کی دلیل بناتے ہیں اور جب اسلامی جمہوریت کے نام پر بحالی جمہوریت کا مطالبہ کرتے ہیں تو عوامی الیکشنوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جمہوریوں کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک جمہوریت عدل و مساوات اور عوامی فلاح و بہبود کا نام نہیں بلکہ الیکشن بازی کا نام ہے‘ جب ہی وہ اس کا مطالبہ کرتے ہیں ۔ اگر ان کے نزدیک جمہورت عدل و مساوات اور عوام کی فلاح و بہود کا نام ہوتا تواس کا مطالبہ کرتے ‘ الیکشنوں کا مطالبہ نہ کرتے۔

اگر کوئی کہے کہ اسلام اور جمہوریت میں کوئی فرق نہیں اور دلیل یہ دے کہ جمہوریت کی بنیاد یہ پانچ نکات ہیں اسی طرح اسلامی نظام حکومت کی بنیادبھی یہ پانچ نکات ہیں

1– حکومت کسی کی ذاتی یا خاندانی ملکیت نہ ہو۔

2– تمام اہل ملک قانون کی نظر میں مساوی ہوں۔

3–خزانہ ملکی کسی کی ذاتی ملکیت نہ ہو‘ بلکہ عوام کی امانت ہو۔

4–تمام ملکی امور مشورے سے طے پائیں۔

-5رئیس ملک کا تقرر عام انتخاب سے ہو‘ اس کو دیگر باشندگان ملک پر کوئی ترجیح نہ ہو ۔اس سے کہا جا سکتا ہے کہ جس طرح جمہوریت کے ان پانچ نکات کی روح صرف ایک یہ نکتہ ہے کہ السلطنۃ للشعب وحدہ ۔۔۔ یعنی چلے عوام کی ۔ اسی طرح اسلامی نظام حکومت کی رو بھی صرف ایک یہ نکتہ ہے۔

( اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ )[6:الانعام:57]

یعنی چلے اﷲ کی اور کسی کی نہ چلے۔ ملک میں قانون اﷲ تعالیٰ ہی کا ہو۔ عوام اسے پسند کریں یا نہ کریں۔ملک کا رئیس وہ ہو جو اﷲ کا پسندیدہ ہو‘ نہ کہ وہ جو عوام کے ووٹ زیادہ حاصل کرے۔ ان دونوں نکتوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام اور جمہوریت میں بڑا فرق ہے۔ اسلام میں اگر کوئی بادشاہ کسی ملک پر مسلط ہو کر وہاں اسلام کی حکومت قائم کر دے تو وہ وہاں کا جائز حاکم ہے۔ اس کی اطاعت فرض ہے۔ جمہوریت کے اصولوں سے بے شک وہ ناجائز ہو‘ لیکن اسلام کی رو سے وہ بالکل جائز ہے۔ پوری اسلامی تاریخ اس پر شاہد عدل ہے۔ رسول اﷲ ﷺ کو عوام نے منتخب نہیں کیا تھا ۔ آپ نے طاقت پیدا کرکے مکہ کو فتح کیا اور عرب میں اسلام کی حکومت قائم کی۔ اگر اسلام میں جمہوریت ہوتی تو عرب میں اسلام کی حکومت کبھی قائم نہ ہوتی۔ عرب عوام کب چاہتے تھے کہ بت پرستی ختم ہو اور وہاں اسلام کی حکومت قائم ہو۔ حضرت ابوبکر صدیق ؓ ‘ حضرت عمرؓ نے روم اور ایران کی سلطنتوں کو ختم کرکے وہاں اسلام کی حکومت قائم کی۔ وہاں کے عوام کب چاہتے تھے کہ اسلام کی حکمرانی ہو۔ بنو امیہ اور بنو عباس نے اور پھر اس کے بعد ترکوں نے اتنی فتوحات کیں ۔ ہر مسلمان کی زبان پر یہ نعرہ تھا ؂

چین  و  عرب  ہمارا  ‘ہ ندوستان  ہمارا

مسلم ہیں ہم وطن ہے سارا جہاں ہمارا

یہ نعرہ نظام اسلام کے تحت ہی لگایا جا سکتا ہے ‘ جمہوریت میں ایسا نعرہ نہیں لگ سکتا۔ آج مسلمان کہتے تو ہیں کہ اسلام میں جمہوریت ہے ‘ لیکن یہ نہیں دیکھتے کہ اگر جہاد فرض ہے تو اسلام میں جمہوریت کیسے ہو سکتی ہے۔ کیا جہاد اور جمہوریت جمع ہو سکتے ہیں۔ جہاد اسلام کی تو روح ہے لیکن جمہوریت کے لیے یہ موت ہے۔ اگر اسلام میں جمہوریت ہوتی تو اسلام عرب سے بھی باہر نہ نکلتا۔ یہ تو جہاد کی برکتیں ہیں جو اسلام ساری دنیا میں پھیل گیا۔ اگر جہاد نہ ہوتا تو ہمیں بھی اسلام نصیب نہ ہوتا۔ہم بھی آج غیرمسلم ہی ہوتے۔ اگر جمہوریت کے ساتھ اسلام چل سکتا تو اﷲ تعالیٰ بھی انبیاء کے انتخاب میں جمہورت سے کام لیتے۔انبیاء عوام کے منتخب کردہ اور اکثریت پارٹی کے ہوتے تو ان کو تبلیغ کرنے میں بھی آسانی ہوتی۔ اتنی اذیتیں بھی نہ پہنچتی ‘ لیکن انبیاکے انتخاب میں اﷲ نے جمہوریت سے کام نہیں لیا بلکہ انبیاء کو نامزد ہی کیا۔ صرف اسی وجہ سے کہ جمہوریت کی سرزمین میں اسلام کا بوٹا لگ نہیں سکتا۔ اس نامزدگی سے اگرچہ انبیاء کو تکلیفیں تو بہت اٹھانا پڑی ‘ لیکن اسلام خوب پھلا پھولا۔ اگر انبیاء جمہوری طریقہ سے آتے تو اسلام کبھی نہ پھلتا پھولتا ۔

جب اﷲ تعالیٰ نے انتخاب انبیا میں جمہوریت کو گوارہ نہیں کیا ‘ کیوں کہ یہ اسلام کے منافی ہے‘ تو انتخاب خلفاء میں اﷲ کو کیسے گوارا ہو سکتی ہے۔ آخر خلفاء اسلام کو بھی تو وہی کام کرنے ہوتے ہیں جو انبیاء کرتے ہیں۔ خلفا ء کا فرض بھی تو انبیاء کے مشن کو آگے چلانا ہوتا ہے۔ یہی نہیں کہ جمہوریت اسلام میں نہیں‘ جمہوریت فطرت کے کسی نظام میں بھی نہیں۔

فطرت کے ہر نظام میں سیادت و قیادت قدرتی ہوتی ہے ‘ سیادت و قیادت کے لیے جمہوری انتخاب کہیں بھی نہیں ہوتا۔ کیا خاندان کا نظام ‘ جہاں سے سیاست اور سٹیٹ کا تصور لیا گیا ہے ‘ جمہوری ہے۔ کیا خاندان کا بڑا آدمی جمہوری انتخاب لڑکر بڑا بنتا ہے یا کوئی بیوی الیکشن لڑ کر بیوی بنتی ہے۔ جس قدرتی طریقے سے خاوند اور بیوی کا انتخاب ہوتا ہے اسی قدرتی طریقہ سے خلیفہ کا انتخاب ہو سکتا ہے۔ جیسے ایک خاندان کے اہل حل وعقد صلاح مشورہ کرکے لڑکے لڑکی کے لیے رشتہ تلاش کرتے ہیں ۔ اسی طرح ہر ملک کے اہل حل و عقد جو ہر زمانے میں‘ ہر معاشرے میں پہلے سے موجود ہوتے ہیں‘ صلاح و مشورہ کر کے اپنا امیر منتخب کر سکتے ہیں اور یہ قدرتی طریقہ ہے اور یہی اسلام کا نظام ہے۔ جس طرح موزوں رشتہ تلاش کرنے میں عوامی الیکشنوں کی ضرورت نہیں ‘ کیوں کہ یہ طریقہ خلاف فطرت ہے اسی طرح سربراہ مملکت کے انتخاب کے لیے بھی جمہوری الیکشن کرانا خلاف فطرت ہے۔ اس لیے ہم کہتے ہیں کہ جمہوریت کوئی فطری نظام نہیں ۔ یہ ایک مصنوعی اور غیر فطری نظام ہے جو نظام فطرت میں کہیں نہیں پایا جاتا ۔ جب جمہوریت ایک غیر فطری نظام ہے تو یہ سوال ہی نہیں پیدا ہو سکتا کہ یہ اسلام کا نظام ہو جو دین فطرت ہے۔ لہٰذا جمہوریت کو اسلامی کہنا غیر فطری کو فطری بنانا ہے۔

جمہوریت شرک اور کفر ہے۔ جمہوریت وہ نظام ہے جس میں حاکمیت عوام کی ہوتی ہے۔ عوام جس کو چاہتے ہیں منتخب کرتے ہیں۔ جو چاہتے ہیں ملک کا دستور بناتے ہیں۔ حتی کہ قرآن و حدیث کا کوئی قانون ملکی قانون نہیں بن سکتا۔ جب تک عوام کی نمائندہ اسمبلی اس کی منظور ی نہ دے۔ جمہوریت میں اسمبلی جب تک قانون نہ بنائے نماز جیسا اہم رکن اسلام بھی کسی مسلمان پر فرض نہیں ہوتا۔ اسی لیے اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نماز کا انکار یا اس کا نہ پڑھنا کوئی جرم نہیں۔ غرضیکہ جمہوریت میں ملک کی ساری گاڑی عوام کی مرضی پر چلتی ہے‘ جس کی وجہ سے یہ شرک و کفر ہے۔ شرک اس لیے کہ حاکمیت اﷲ کی خاص صفت ہے۔ زمین اس کی‘ آسمان اس کا‘ خالق و رازق وہ ‘ مالک وہ۔ اس میں اس کا کوئی شریک نہیں‘ لیکن جمہوریت اﷲ کی اس خاص صفت میں عوام کو شریک ٹھہراتی ہے۔ قرآن مجید میں ہے:

1–( اَلاَ لَہُ الْخَلْقُ وَالْاَمْرُ )[7:الاعراف:54]

2–( اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ )[6:الانعام:57]

3– ( اَلاَ لَہُ الْحُکْمُ وَ ھُوَ اَسْرَ عُ الْحَاسِبِیْنَ )[6:الانعام:62]

4– (وَ لاَ یُشْرِکُ فِیْ حُکْمِہٖ اَحَدًا )[18:الکہف:28]

یہ آیات بتلاتی ہیں کہ اﷲ جیسے معبود ہونے میںیکتا ہے۔ اسی طرح حاکمیت میں بھی یکتا ہے۔ جیسے غیراﷲ کی عبادت کرنے والا مشرک ہے ایسے ہی عوام کی حاکمیت یعنی جمہوریت کا قائل بھی مشرک ہے۔ وہ عبادت میں غیر اﷲ کو شریک ٹھہراتا ہے۔ یہ حاکمیت میں عوام کو شریک مانتا ہے۔ کس قدر افسوس کا مقام ہے کہ اہل حدیث(اَمْ لَھُمْ شُرَکَآءُ شَرَعُوْا لَھُمْ مِنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْ بِہِ ﷲُ )[42:الشوری:421]کو مقلدوں پر فٹ کرکے ان کو مشرک کہتے ہیں‘ کیوں کہ وہ قرآن و حدیث کے ہوتے ہوئے اپنے ائمہ کے بنائے ہوئے مسئلوں کو مانتے ہیں۔ لیکن نہیں دیکھتے کہ جمہوریت کے قائل ہو کر وہ مقلدوں سے بھی بڑے مشرک بنتے ہیں۔ کیوں کہ جمہوریت میں عوام کی نمائندہ اسمبلی دستور بھی خود بناتی ہے اور ملکی قانون بھی خود وضع کرتی ہے اور یہ کھلا ہوا شرک و کفر ہے۔ پھر مغالطہ یہ دیا جاتا ہے کہ پاکستان کے دستور میں تو یہ لکھا ہوا ہے کہ حقیقی حاکم اﷲ رب العالمین ہے۔ اس لیے پاکستانی جمہوریت کوئی شرک نہیں۔ حالا نکہ یہ سراسر دھوکا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر کوئی لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھ کر شرک کرے تو کیا شرک نہیں ہوتا جیسے شرک کرنے والے کو لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھنا کوئی فائدہ نہیں دیتا۔ اسی طرح پاکستانی دستور میں یہ لکھنا کہ حقیقی حاکم اﷲ رب العالمین ہے۔ اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ جب جمہوریت کو جو صریحاً شرک ہے رواج دیا جاتا ہے تو شرک خود بخود ثابت ہو جاتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ حقیقی حاکم ﷲ رب العالمین ہے اور چلانا نظام جمہوریت یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے کوئی پڑھے لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ اور کر ے شرک ۔ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھنے سے شرک توحید نہیں بن جاتا جیسا کہ بسم اﷲ پڑھ کر ذبح کرنے سے حرام حلال نہیں بن جاتا۔ شرک شرک رہتا ہے خواہ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اﷲُ کتنا پڑھے‘ اور حرام حرام رہتا ہے خواہ بسم اﷲ بار بار پڑھے۔ توحید شرک کو مٹانے سے آتی ہے‘ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ ﷲُ پڑھنے سے نہیں آتی۔ جب عملاً عوام کی حاکمیت موجود ہو تو اﷲ رب العالمین کو حقیقی حاکم لکھنے سے جمہوریت کی حقیقت نہیں بدلتی۔ جمہوریت شرک ہی رہتی ہے۔ کیوں کہ جمہوریت کی حقیقت اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِشِعْبٍ ہے۔ یعنی چلے گی عوام کی اور اسلام کہتا ہے اِنِ الْحُکْمُ اِلاَّ لِلّٰہِ۔۔۔ چلے گی صرف اﷲ کی ۔ اس لیے جمہوریت اسلام کی ضد اور شرک و کفر ہے ۔ اس سے ہر مسلمان کو بچنا چاہیے خاص کر اہل حدیث کو ورنہ اہل حدیثی ختم۔

وَ مَا عَلَیْنَا اِلاَّ الْبَلاَغُ الْمُبِیْنُ

*****

۱ (مشکوۃ 1695/3‘کتاب المناقب ‘ باب مناقب الصحابۃ رقم 6001۔۔۔ سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 319/2۔۔۔ اخرجہ احمد فی مسندہ بالفاظ مختلفۃ ‘ عن نعمان بن بشیر 276/4‘ رقم 17960:)

۲ (سلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ 8/1 رقم 5۔۔۔ مسند احمد 273/4 رقم 17939)

۳ (مسند احمد 129/3رقم 11898‘بخاری: کتاب الاحکام ‘ باب الامراء من قریش رقم (7139

۴ (ابوداو‘د ‘ کتاب السنۃ ‘باب فی لزوم السنۃ‘ رقم4607: ۔۔ ابن ماجۃ ‘ کتاب السنۃ ‘ باب اجتناب البدع والجدل‘ رقم (46

Share To:

tariq iqbal

Post A Comment:

0 comments so far,add yours