اہم زمرہ جات


بسم اللہ الرحمن الرحیم
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

ایک دن ایک شخص اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ گاڑی میں سفر کررہا تھا۔
راستے میں ایک آدمی کھڑا ملا تو اس شخص نے پوچھا کہ تم کون ہو ؟
اس نے جواب دیا میں "مال ہوں"

اس شخص نے اپنی بیوی اوربچوں سے پوچھا کہ کیا ہم اس کو اپنے ساتھ سوار کرلیں ؟
سب نے مل کر کہا کہ بالکل ! مال کے ذریعہ ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں اور جو چاہیں خرید سکتےہیں۔
پھر مال ان کے ساتھ سوار ہوا۔
گاڑی آگے چلی تو ایک اور آدمی ملا۔
تو باپ نے پوچھا کہ تم کون ہو؟
اس نے جواب دیا میں" طاقت اور منصب ہوں"


باپ نے اپنی بیوی اور بچوں سے پوچھا کہ کیا ہم اس کو بھی اپنے ساتھ سوار کرلیں؟
سب نے مل کر ایک آواز میں‌کہا:
بالکل ! طاقت اور منصب کے ذریعہ ہم کچھ بھی کرسکتے ہیں اور جو چاہیں خرید سکتےہیں۔
پھر طاقت اور منصب بھی ان کے ساتھ سوار ہوا۔
اور اسی طرح دنیاوی لذتوں اور شہوتوں میں مبتلا لوگوں سے ان کو سامنا پڑتا رہا ۔

یہا ں تک کہ ایک اور آدمی ملا ۔
باپ نے پوچھا کہ تم کون ہو؟
اس نے کہا " میں دین ہوں"

باپ ، بیوی اور بچوں نے مل کر ایک آواز میں کہا کہ ابھی اس کا وقت نہیں !ہم دنیا اور اس کا سامان چاہتےہیں۔
دین ہمیں ان چیزوں سے محروم اور پابند کردے گا۔
اس کی تعلیمات کی پابندی سے ہم تھک جائیں گے۔
حلال و حرام ، نماز و حجاب اور روزہ یہ ہم پر سخت گزرے گا۔
ہمارے لیے یہ ممکن ہے کہ ہم دنیا اور اس کے سامان سے لطف اندوز ہونے کے بعد تمہاری طرف واپس آئیں۔
پھر دین کو چھوڑ کر وہ آگے بڑھیں یہاں تک کہ سفر مکمل ہونے کے قریب ہوا کہ اچانک چیک پوائنٹ اور "رک جائیے کے الفاظ" دکھائی دئیے۔


ایک شخص نے باپ کی طرف اشارہ کرکے گاڑی روکنے اور نیچے اترنے کو کہا۔
پھر اس شخص نے باپ سے پوچھا:
تمہارا سفر یہی پر ختم ہوا اور تمہیں اب میرے ساتھ جانا ہے۔
باپ کے ہوش و حواس اڑ گئے اور کچھ بول نہ سکا۔
اس شخص نے کہا کہ میں دین کی تلاشی کروں گا ۔۔۔ کیا تمہارے ساتھ دین ہے ؟
باپ نے کہا کہ نہیں ! اس کو تھوڑی سی مسافت پر چھوڑا ہے۔ مجھے موقع دیں میں واپس لوٹتا ہوں اور اس کو اپنے ساتھ لاتا ہوں۔
اس شخص نے کہا کہ تم یہ ہرگز نہیں کرسکتے کیوں کہ یہ سفر ختم ہوگیا اور واپسی ناممکن ہے۔
تو باپ نے کہا کہ میرے ساتھ گاڑی میں بیوی، بچے، مال، طاقت و منصب وغیرہ۔۔۔۔ ہیں ۔
تو اس شخص نے جواب دیا:
یہ تمہیں اللہ کے دربار میں کسی چیز سے نہیں بچا سکتےاور یہ تمہیں چھوڑ دیں گے، اور جو چیز تمہیں فائدہ پہنچائے گی وہ دین ہے جس کو تم نے راستے میں چھوڑ دیا۔
باپ نے پوچھا تم کون ہو؟
اس شخص نے جواب دیا:
میں موت ہوں!!!
جس سے تم غافل تھے اور تم نے اپنا محاسبہ نہیں کیا۔
پھر باپ نے گاڑی کی طرف دیکھا تو اس کی جگہ اس کی بیوی گاڑی چلانے لگی اور گاڑی اس کی بیوی، اولاد ، مال ، منصب اور طاقت کو لے کر سفر کاٹنے لگ گئی اور کوئی اس سے نہیں اترا۔

اللہ تعالی فرماتا ہے:
 قُلْ إِنْ كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِيَ اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ
آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ کے جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں، تو تم انتظار کرو کہ اللہ تعالٰی اپنا عذاب لے آئے اللہ تعالٰی فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا
 (التوبہ :24)
اور فرمایا:
 كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ۗ وَإِنَّمَا تُوَفَّوْنَ أُجُورَكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۖ فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ ۗ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ
ہر جان موت کا مزہ چکھنے والی ہے اور قیامت کے دن تم اپنے بدلے پورے پورے دیئے جاؤ گے، پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بیشک وہ کامیاب ہوگیا اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے (آل عمران: 185)


خلیفہ کا انتخاب کیسے ھوگا
تحریر :عاطف بیگ

بھلا یہ بات بھی سمجھنی کیا مشکل تھی ! اور کچھ نہیں تو جمہور پسندوں نے اپنے سسٹم پر ہی غور کرلیا ھوتا!
مسئلہ زھن میں یہ الجھا ھوا ھے کہ "خلیفہ" کا انتخاب آخر "جمہوریت" کے بغیر ھوکیسے سکتا ھے !!یعنی ان گنت لوگوں کا ایک ھجوم ھے اور ان میں سے ایک خلیفہ منتخب کرنا ھے یہ ووٹنگ کے بغیر آخر ھوکیسے سکتا ھے !!اب ھر کوشش ھورھی ھے کہ کسی نہ کسی طرح چناو کے اس طریقے کو "اسلامی جمہوریت" ثابت کردیا جائے اور کثرت کو اس کی دلیل بنا دیا جائے !کچھ ظریف تو یہاں تک پہنچے ھیں کہ "جمہوریت اور اسلام " کے فرق کو صرف "اصطلاحات" کا فرق مان بیٹھے ھیں اور کیونکہ یہ دونوں ہی "نظام حکمرانی" ھیں اس لیے ان کی واقعاتی مشابہت سے دھوکا کھا کر یہ تصور کرلیا گیا ھے کہ ان کی بنیاد میں بھی کوئی فرق نہیں ھے !

بہرحال اس مضمون کا مقصد ابھی اس فرق کو اجاگر کرنا نہیں ھے بلکہ "جمہوریوں" کو انہی کے نظام سے یہ سمجھانا ھے کہ لیڈر کیسے جنم لیتا ھے !اور آپ خود اپنے نظام کے زیر اثر کسی کو کب لیڈر مانتے ھیں !
تو پیدا ھونے والے سوالات کچھ یوں ھیں
1) خلیفہ کا انتخاب کیسے ھوگا
2) خلیفہ پر لوگ جمع کیسے ھوں گئیں
3)!! کیا خلیفہ کا انتخاب ووٹنگ کے علاوہ بھی ھوسکتا ھے
4)اگر خلیفہ کو شوری منتخب کرے گی تو شوری کو کون لوگ منتخب کریں گئیں !
5) اہل حل و عقد کا فیصلہ کیسے ھوگا
شومئی قسمت سے امت کا ایک طویل دور جس میں اس بدنصیب کے سامنے جمہوریت
کے مظہر کے علاوہ فیصلہ کرنے کا کوئی اور مظہر نہیں ھے اور حقیت حال یوں ھے کہ مقابلہ بھی جمہوریت سے نہیں بلکہ "سیکولرازم" کہ اس گھناونے زہر سے ھے جو کہ "خدائی سلیکشن کے مقابلے میں عوامی سیلکیشن" کو امت کی رگوں میں اتارنا چاھتا ھے ۔ اس طویل دور نے ان سوالات کا جواب بھی مشکل بنادیا ھے جو کہ کبھی سرے سے سوالات ہی نہ تھے !
جمہوریت کے ھاں بھی لیڈر بننے کی واقعاتی ترتیب یوں نہیں ھے کہ کوئی شخص پہلے الیکشن جیتتا ھے تو پھر وہ لیڈر کہلاتا ھے ، بلکہ ترتیب یونہی ھے کہ ایک شخص "ملک و قوم" کی خدمت کا جزبہ لے کر اٹھتا ھے ، اس کے کارھائے نمایاں نظر آنے شروع ھوتے ھیں ، آھستہ آھستہ ایک گروپ کی صورت اختیار کرتا ھے ، یہ گروپ ایک طویل سیاسی جدوجہد سے گزرتا ھے ، جو کسی ایک شخص کی قیادت میں ھوتی ھے اور یہ شخص عام طور پر دعوت کنندہ ہی ھوتا ھے ،جو کہ اپنی سوچ و فکر کو پیش کرتا ھے ، اگر بالفرض محال وہ کنگ کی بجائے کنگ میکر بننے کو ترجیح دے ، جیسا کہ برصیغیر پاک و ھند میں بھی اس کی مثالیں گاندھی ، الطاف حسین یا کچھ اور لوگوں کی صورت میں مل جاتیں ھیں تو یہ سمجھنا پھر بھی محال ھے کہ کوئی بھی فیصلہ اس کی منظوری کے بغیر ھوتا ھوگا!
سیکولر یا بے دین سیاسی جماعتیں جو کہ اپنی جماعتوں کے اندر بھی الیکشن کی حامی ھیں ، وہ بھی اپنی جماعت کے ھربندے کو جماعتی قیادت کا حق نہیں دیتے ، بلکہ کارھائے نمایاں یا طویل خدمات سرانجام دینے والے بندے کو جس کی جماعت اور اس کے عقیدے کے ساتھ شک و شبہ سے بالاتر وابستگی ھو اسی کو جماعتی سطح پر الیکشن لڑنے کی اجازت دیتے ھیں اور یہ بندے کوئی نامعلوم کارکنان نہیں ھوتے !
ان جماعتوں کی دعوت ، ان کا طریق کار ،ان کا نکتہ ہائے نظر ان کی بنیاد اسی ایک شخص کی مرھون منت ھوتی ھے ،"اکثر معاملات میں لوگ کسی جماعت پر جمع نہیں ھوتے بلکہ جماعت کسی فرد واحد پر جمع ھوتی ھے !
یاد رھے کہ یہاں موضوع زیربحث ایک لیڈر کی تشکیل ھے ، نہ کہ اس لیڈر کے سیاسی جانشینوں کا تزکرہ ،جو کہ بعد میں اسی سوچ و فکر کو لے کر آگے بڑھتے ھیں اور بعض اوقات ایک "لیڈر" کا روپ بھی دھار جاتے ھیں مگر یہ امر واقعہ ھے کہ ان کے لیڈر بننے کے پیچھے ایک ازم کارفرما نہیں ھوتا بلکہ پہلے سے موجود ایک ازم کی پاسداری ھوتی ھے !
تشکیل کے اس ابتدائی مرحلے میں ہی اس فرد ،جماعت یا گروہ کے نظریات و عقائد،بالکل واضح ھوتے ھیں ایک واضح و متعین مقصد کے لیے جدوجہد کرنے کا اعلان کیا جاتا ھے اور اس کے مخالفین و حمایتی بالکل کھل کا آمنے سامنے آجاتے ھیں ، یہ پارٹی سیکولر ھوگی یا وطن پرستوں اعتدال پسندوں پر مشتمل ،اس کا جھکاو لیفٹ ونگ کی طرف ھوگا کہ رائٹ ونگ کی طرف! یہ کس طرز معاشرت ،نظام معشیت کی طرف دعوت دیتی ھے ،مختلف پیش آمدہ مسائل سے نبٹنے کے لیے یہ کیا حل تجویز کرتی ھے ،اور پھر اس دعوت کو لے کر یہ میدان عمل میں کود جاتی ھے اور ایک طویل مدت کے بعد معاشرے میں ایک اثر پزیر قوت بن جاتی ھے یا دم توڑ دیتی ھے
اس فرد کو جماعت کو یا گروہ کو اگر حکمرانی بھی مل جائے تو یہ سارے فیصلے کم و بیش پہلے سے فیصل ھوچکے ھوتے ھیں کہ پرائم منسٹر کون ھوگا ،ایڈوائزری کونسل کن اراکین پر مشتمل ھوگی ،،وزرا کون ھوں گئیں ،مشیران کون ھوں گئیں !! کیا ان سب فیصلوں کے لیے بھی کبھی کوئی "عوامی رائے سازی" کروائی جاتی ھے !؟؟
اسلامی سیاسی جماعتیں جو کہ "امیر" کا فیصلہ مجلس شوری کے زریعے کرتی ھیں ، وہ بھی شوری کے اندر اپنی جماعت کے ھربندے کو "امارت کا ایک امیدوار" تصور نہیں کرتیں ، بلکہ چند کارھائے نمایاں والے اشخاص ہی ان شرائط پر پورا اترتے ھیں اور انہی کو زیربحث لایا جاتا ھے اور یہ "مجلس شوری" بھی ایسے لوگوں پر مشتمل ھوتی ھے جن کی جماعتی عقائد کے ساتھ وفاداری شک و شبہ سے بالاتر ھو اور ایک طویل جدوجہد و قربانی کی تاریخ اس پر گواہ ھو !
کیا آپ کوئی ایسی سیاسی جماعت بتا سکتے ھیں جو کہ اپنے ہر سیاسی قدم کا فیصلہ اپنے ھر سیاسی کارکن کی رائے جان کر کرتی ھو؟ اور تقریبا ہر معاملے میں الیکشن کرواتی ھو؟ یا کوئی ایسی سیاسی جماعت جس کی "مجلس مشاورت" اس جماعت کے خالص ترین اراکین پر مشتمل نہ ھوتی ھو؟ چاھے ان اراکین کا انتخاب کسی ووٹنگ سے ھوا ھو مگر ان کے خلوص کی گواھی یہ ووٹنگ نہیں ھوتی بلکہ وہ "طویل سیاسی جدوجہد و قربانی ھوتی ھے جو کہ ان کو اپنے حلقے میں معروف بنادیتی ھے اور ان کی وفاداری کو ہر قسم کے شک و شبے سے بالاتر" یہ ووٹ اس خلوص اور سیاسی جدوجہد کو پڑتے ھیں نہ کہ ان کی شخصیت کو!!
ابھی ھم معاملے کی آئیڈیل صورت لے رھے ھیں اس صورت کو ابھی زیربحث نہیں لارھے جسمیں مفاد پرست عناصر ،پیسہ ، دھونس و دھاندلی ، جبر ، دھوکا وغیرہ استعمال کرکہ کسی پارٹی کو ہائی جیک کرلیتے ھیں اور اس کو اس کی اساس سے بدل دیتے ھیں !
آپ چاھے کسی بھی پارٹی سے منسلک ھوں مگر لیڈر کے یہ خدو خال آپ کی نظروں سے اوجھل نہ ھوں گئیں ،
عمران کا جادو اگر آج کام کررھا ھے تو اس کے پیچھے ورلڈ کپ کی فتح ، شوکت خانم میموریل ھسپتال ، ایک مسمراتی شخصیت ،سترہ سال کی طویل سیاسی جدوجہد شامل ھے !کیا ان کے بغیر عمران کو کوئی لیڈر بھی کہہ سکتا ھے !
یاد رھے کہ تحریک انصاف نے عمران کو جنم نہیں دیا بلکہ عمران نے تحریک انصاف کو جنم دیا ھے !
الطاف حسین کے نام کی مالا اگر آج مہاجر جپ رھے ھیں تو اس کےپیچھے ایک خونیں تاریخ ھے جس میں الطاف پر ھوا بدترین تشدد، اس کی جرآت ،شعلہ بیانی اپنی کیمونٹی کے لیے بے انتہا قربانی کی ایک تاریخ موجود ھے !پھر یاد دلواتا چلوں
کہ ایم کیوایم نے الطاف کو جنم نہیں دیا بلکہ الطاف سے ایم کیوایم معرض وجود میں آئی ھے "
بھٹو وزیر خارجہ سے ایکدم عوام کی آنکھوں کا تارا نہ بن گیا تھا ، اس کی جرآت و شعلہ بیانی کی ادا پاکستانی عوام کے دل میں گھر کر گئی تھی ،
بھٹو پیپلز پارٹی سے نہ نکلا تھا بلکہ اس نے پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی تھی !
بعینہ اسی طرح گاندھی کانگرس سے نہ نکلا تھا بلکہ کانگرس اس کی وجہ سے مشہور ھے !
سید مودودی جماعت اسلامی سے نہ نکلے تھے بلکہ جماعت اسلامی سید مودودی سے معرض وجود میں آئی تھی !
جرمنی کی نازی پارٹی کسی کونے میں پڑی گل سڑ رھی تھی کہ ھٹلر جیسے شعلہ بیان مقرر نے اس کے تن مردہ میں جان ڈال دی !
ھزارھا مثالیں ھیں ، ایک سے بڑھ کر ایک عقلیں دنگ رہ جاتی ھیں ، ایک انسان اٹھا اور اس نے اپنی قوم کی فکر ، تاریخ وہ تمدن پر عہد ساز نقوش مرتب کردیئے ،انہی سے آپ کی جماعتیں بنیں یا پارٹیوں کے تن مردہ میں جان پھونکی گئی !
ان کے ھوتے ھوئے کسی اور لیڈر ، کسی اور رھبر کا تصور کرنا بھی ان جماعتوں کے لیے محال ھے ! یہ لیڈران کسی الیکشن کے زریعے معرض وجود میں نہیں آئے ! بلکہ کسی الیکشن میں ھارنے کہ باوجود ان میں سے کسی کی عظمت اس کی جماعت میں گہنا نہیں سکی اسی کو شائد قدرتی طریقہ انتخاب کہتے ھیں !
اب اگلا مرحلے پر جانے سے پہلے اس بات کو آپ ہی کے اصولوں کے مطابق سمجھ لیا جائے
1) لیڈر کسی پارٹی یا انتخاب کی وجہ سے معرض وجود میں نہیں آتے بلکہ پارٹیاں ان کی وجہ سے معرض وجود میں آتی ھیں یا دوبارہ سے زندہ ھوتی ھیں
2)
لیڈران کا چناو کسی قسم کا الیکشن یا کوئی طے کردہ طریق کار نہیں کرتا بلکہ اس کے کارھائے نمایاں کرتے ھیں ، الیکشن صرف اس پر ایک مہر ثبت کرتا ھے
3)
لیڈران کسی قسم کی اکثریت کے محتاج نہیں ھوتے ، بلکہ یہ کسی ایک یونٹ کی کل کہ مختار ھوتے ھیں
4)
جن لیڈران کا انتخاب کیا جاتا ھے ، وہ بھی کارھائے نمایاں سر انجام دینے والے لوگ ھوتے ھیں جن کی اپنے مخصوص یا جماعتی حلقہ میں خوب پہچان ھوتی ھے
5)
وہ مجلس مشاورت یا شوری جو کہ ان لیڈران کو منتخب کرتی ھے اس جماعت کے ان لوگوں پر مشتمل ھوتی ھے جن کی وفاداری ہر قسم کے شک و شبہ سے بالا تر ھوتی ھے
"الغرض، خلافت ہو یا جمہوریت، یہ لیڈران ہوتے ہیں جو سب سے پہلے کسی قوم میں ابھرتے ہیں اور جو اپنے کارہائے نمایاں کے ذریعے ایک کثیر خلقت کے دلوں پہ راج کرتے ہیں۔ اپنے اسی ابتدائی اور پہلے سے قائم شدہ لیڈرانہ تشخص کی بنیاد پر یہ اس بات کے اہل قرار پاتے ہیں کے نظامِ حکومت کی زمام ان کے ہاتھوں میں دی جائے۔ طریقہِ انتخاب کی باری تو بعد میں آتی ہے، سب سے پہلے لیڈرانہ تشخص اور اس کے نتیجہ میں ایک زیرِ اثر وسیع حلقہ پائے جانے کی یہ ابتدائی شرط پوری ہوئی ہونا ضروری ہوتی ہے۔ طریقہِ انتخاب جمہوری ہو تو یہ لیڈرانہ تشخص کے حامل افراد اپنی اپنی پارٹیوں یا حامیوں کے ہمراہ انتخابی معرکہ لڑتے ہیں، اور پھر اپنی اپنی مقبولیت و حمایت کے بقدر انتخابی فتح اور اس کے بعد جمہوری حکومت کے قیام میں اپنا حصہ وصول کرتے ہیں۔ جبکہ ایک خالص اسلامی طرزِ معاشرت میں جب امتِ مسلمہ کے مقبول سرکردہ افراد و کبار علما [نہ کہ کسی خاص مقامی جماعت یا تنظیم کے اپنے افراد!] امت کے اندرکسی ایسے ہی لیڈرانہ تشخص کے حامل شخص کے اوپر امت کے امور و معاملات کی نگرانی کے لیے مجتمع و متفق ہوجاتے ہیں تو خلیفۃ المسلین کا منصب ظہور پذیر ہوتا ہے۔"
اب بتایئے آپ کیا سمجھتے ھیں کہ امت کا دامن کسی بھی قسم کے ایسے شخص سے خالی ھے جس کہ کچھ کارھائے نمایاں صرف اور صرف اللہ کے دین کی سرفرازی کے لیے ھوں ؟ یا کہیں بھی ایسے اشخاص کا وجود نہیں ھے جن کی اسلام کے ساتھ وفاداری ھرقسم کے شک و شبہ سے بالا تر ھو؟ کیا آپ کے گمان میں امت میں اس وقت کوئی لیڈر ہی نہیں ھے !! اگر آپ کا یہ گمان ھے اور اسمیں کوئی حیرت بھی نہیں ھونی چاھیے کیونکہ لیڈر ھونے کا مطلب آپ کے ھاں "جمہوری" ھونے سے مشروط ھے تو پھر یقین کرلیجیے کہ مسلمان لیڈر نہ تو ایسے جنم لیتا ھے اور نہ ہی ایسے پہچانا جاتا ھے !
بلکہ خود جمہوری لیڈر اس طرح جنم نہیں لیتا، بلکہ اس کے لیڈر بننے میں پہلے پہل وہی فطری طریقہِ انتخاب کار فرما ہوتا ہے جس پر اوپر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے۔"
ایک جمہوری لیڈر اپنی دانست میں اپنی جماعت ،گروہ یا عوام کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے اٹھتا ھے اور ہر اس امر کا خیال رکھتا ھے جو کہ اسے اپنی جماعت ،گروہ یا عوام میں مقبول بنادے چاھے اس کے لیے اس کو رب العزت کی ناراضگی ہی کیوں نہ مول لینا پڑے ، اور ایک اسلامی لیڈر اللہ کے دین کے لیے اٹھتا ھے اور انسان کو انسان کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے ، وہ ہر اس امر کا خیال رکھتا ھے جو کہ اللہ کی نظروں میں غیر مقبول ٹہرے چاھے اس کے لیے انسانوں کہ ایک گروہ میں وہ ملامت زدہ ہی کیوں نہ ٹہرے اور بدلے میں اللہ مسلمانوں کے دلوں میں اس کا پیار ڈال دیتے ھیں !
غور کیجیے یہ چھوٹا سا فرق جو کہ واقعے میں آپ کو بالکل ایک سا لگتا ھے اصل میں کتنا عظیم الشان ھے ! ایک لیڈر کی ہر جدوجہد "عوامی مقبولیت و انقلاب" کے لیے ھے اور ایک لیڈر کی ہر کوشش "الہی انقلاب" کے لیے ھے
یہ خود ، اس کی جماعت ، اس کا گروہ ، اس کے مشیران ،اپنی مسلسل جدوجہد و قربانیوں کی وجہ سے ھرقسم کے شک وشبے سے بالاتر ھوجاتے
ھیں ،
ان کی دعوت ، ان کا منشور ، ان کے دوست و دشمن ،مختلف مسائل سے نبٹنے کا جو حل یہ رکھتے ھیں وہ امت میں معروف ھوتے ھیں ،یہ مجہول الحال اشخاص کا ایک گروہ نہیں ھوتا ، ان کا عقیدہ عین اسلامی عقیدہ ھوتا ھے اور اسی سے ان کا منہج و طریق کار تشکیل پاتا ھے ، یہ اس کولے کر میدان عمل میں کود جاتے ھیں اور یہ میدان عمل صرف جمہوریت ہی نہیں ھوتا بلکہ اللہ کے دین کی سرفرازی ھوتی ھے
ان کا فیصلہ امت میں قبول عام کی سند حاصل کرجاتا ھے ان کی شوری ہی "اسلامی شوری" ھوتی ھے اس کے کارکنان ہی "اسلامی کارکنان" ھوتے ھیں اسی کی جمہوریت ہی "اسلامی جمہوریت" ھوتی ھے اور اسی کا مقررکردہ خلیفہ ہی "اسلامی خلیفہ" ھوتا ھے خلافت علی منہاج النبوہ کا دعوے دار!
یہ اسی نیچرل پروسیس سے نکلتا ھے جہاں سے آپ کے لیڈران جنم لیتے ھیں مگر اس کے مقاصد میں اس کی بنیاد میں فرق ھوتا ھے ، اس لیے ایک"جمہوری لیڈر" لاکھوں دلوں کی دھڑکن ھونے کے باوجود اسلام کی نظر میں "نفس کے پجاری" سے زیادہ اھمیت نہیں رکھتا اور ایک اللہ کے دین کی تابعداری کی وجہ سے امت کا سرخیل بن سکتا ھے !
اگر آپ کو اس نظام کے لیے جدوجہد کرتے لوگ نظر نہیں آرھے تو یہ ان کا نہیں بلکہ آپ کی نظروں کا قصور ھے جن کے مطابق ہر لیڈر کا کم از کم "جمہوری" ھونا لازمی ھے اور یہ جمہوری ھونا بھی "آپ کے پیمانوں پر" نہ کہ خدائی تشکیل کے اس پیمانے پر جس کی وجہ سے کوئی بندہ قبولیت عامہ کا درجہ حاصل کرتا ھے ۔
یاد رھے کہ "خلافت اقامت دین کے راستے کی ایک منزل ھے نہ کہ اصل مراد"کوشش و جدوجہد اقامت دین کے لیے ھے اور اسی راستے پر وہ منزل بھی آتی ھے جس کو خلافت ارضی کہتے ھیں اور یہ خدائی انتخاب ھوتا ھے نہ کہ عوامی !
اور اس خلیفہ کو نہ کسی ووٹنگ کی ضرورت ھوگی اور نہ کسی اور مصنوعی عمل کی ! وہ خلیفہ ھوگا جس کے کارھائے نمایاں پوری امت پر کھلے ھوں گئیں نہ کہ کوئی مجہول الحال شخص جس کو اپنی لیڈری کے لیے بھی چند ٹکے کے ووٹوں کی ضرورت ھو جس کہ لیے وہ کفرکو کفر کہنے سے بھی دستبردار ھونےکو تیار ھو 


جس خاتون نے بھی یہ تحریر لکھی ہے کمال لکھا ہے


جس خاتون نے بھی یہ تحریر لکھی ہے کمال لکھا ہے*۔ *اسے ضرور پڑھیں*۔۔۔
مجھے اچھا لگتا ہے مرد سے مقابلہ نہ کرنا اور اس سے ایک درجہ کمزور رہنا۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کہیں باہر جاتے ہوئے وہ مجھ سے کہتا ہے "رکو! میں تمہیں لے جاتا ہوں یا میں بھی تمہارے ساتھ چلتا ہوں"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھ سے ایک قدم آگے چلتا ہے۔ غیر محفوظ اور خطرناک راستے پر اسکے پیچھے پیچھے اسکے چھوڑے ہوئے قدموں کے نشان پر چلتے ہوئے احساس ہوتا ہے اس نے میرے خیال سے قدرے ہموار راستے کا انتخاب کیا۔

مجھے اچھا لگتا ہے جب گہرائی سے اوپر چڑھتے اور اونچائی سے ڈھلان کی طرف جاتے ہوئے وہ مڑ مڑ کر مجھے چڑھنے اور اترنے میں مدد دینے کے بار بار اپنا ہاتھ بڑھاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب کسی سفر پر جاتے اور واپس آتے ہوئے سامان کا سارا بوجھ وہ اپنے دونوں کاندھوں اور سر پر بنا درخواست کیے خود ہی بڑھ کر اٹھا لیتا ہے۔ اور اکثر وزنی چیزوں کو دوسری جگہ منتقل کرتے وقت اسکا یہ کہنا کہ "تم چھوڑ دو یہ میرا کام ہے"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ میری وجہ سے شدید موسم میں سواری کا انتظار کرنے کے لیے نسبتاً سایہ دار اور محفوظ مقام کا انتخاب کرتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے ضرورت کی ہر چیز گھر پر ہی مہیا کر دیتا ہے تاکہ مجھے گھر کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ باہر جانے کی دقت نہ اٹھانی پڑے اور لوگوں کے نامناسب رویوں کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب رات کی خنکی میں میرے ساتھ آسمان پر تارے گنتے ہوئے وہ مجھے ٹھنڈ لگ جانے کے ڈر سے اپنا کوٹ اتار کر میرے شانوں پر ڈال دیتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے میرے سارے غم آنسوؤں میں بہانے کے لیے اپنا مظبوط کاندھا پیش کرتا ہے اور ہر قدم پر اپنے ساتھ ہونے کا یقین دلاتا ہے۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ بدترین حالات میں مجھے اپنی متاعِ حیات مان کر تحفظ دینے کے لیے میرے آگے ڈھال کی طرح کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے "ڈرو مت میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا"۔
مجھے اچھا لگتا ہے جب وہ مجھے غیر نظروں سے محفوظ رہنے کے لئے نصیحت کرتا ہے اور اپنا حق جتاتے ہوئے کہتا ہے کہ "تم صرف میری ہو"۔
لیکن افسوس ہم سے اکثر لڑکیاں ان تمام خوشگوار احساسات کو محض مرد سے برابری کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے کھو دیتی ہیں۔
شاید سفید گھوڑے پر سوار شہزادوں نے آنا اسی لئے چھوڑ دیا ہے کیونکہ ہم نے خود کو مصنوعات کی طرح انتخاب کے لیے بازاروں میں پیش کر دیا ہے۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔
*جب مرد یہ مان لیتا ہے کہ عورت اس سے کم نہیں تب وہ اسکی مدد کے لیے ہاتھ بڑھانا چھوڑ دیتا ہے۔ تب ایسے خوبصورت لمحات ایک ایک کر کے زندگی سے نفی ہوتے چلے جاتے ہیں، اور پھر زندگی بے رنگ اور بدمزہ ہو کر اپنا توازن کھو دیتی ہے*.
مقابلہ بازی کی اس دوڑ سے نکل کر اپنی زندگی کے ایسے لطیف لمحات کا اثاثہ محفوظ کر لیجیے۔ 🌹🌹🌹🌹