اہم زمرہ جات

گالف اسٹک
از جاوید چوہدری
’’بے گناہوں کو سزا کیوں ملتی ہے؟‘‘ میں نے عرض کیا اور خاموشی سے ان کی طرف دیکھنے لگا‘ وہ غور سے میری طرف دیکھنے لگے‘ ان کی آنکھوں میں حیرتپریشانی اور ملال کے ملے جلے رنگ تھے‘ وہ چند لمحے خاموش رہے اور پھر نرم آواز میں پوچھا ’’ کیا مطلب میں سمجھا نہیں‘‘ میں نے عرض کیا ’’ جناب پتنگ کوئی اڑاتا ہے لیکن گلہ کسی معصوم اور بے گناہ بچے کا کٹ جاتا ہے‘ جرم کوئی کرتا ہے لیکن قید کوئی دوسرا بھگتتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اگر دلوں کے بھید جانتا ہے تو پھر اس کی خدائی میں معصوم اور بے گناہ لوگوں کو سزا کیوں ملتی ہے‘ میں قدرت کی اس بے انصافی پر حیران ہوں‘‘ میں خاموش ہو گیا‘ وہ مسکرائے‘ انھوں نے مجھے غور سے دیکھا اور فرمایا ’’ یہ ایک وسیع اور باریک موضوع ہے‘ میں تمہیں سمجھانے کے لیے ایک چھوٹی سی مثال دیتا ہوں‘ احمد ایراچدی مراکش کا مسلمان تھا‘وہ لندن کے ایک ریستوران میں شیف تھا‘ وہ اٹھارہ سال تک شیف کا کام کرتا رہا ‘اس دوران اس کی فیملی مراکش میں مقیم رہی۔


شکوہ اور شکر از جاوید چوہدری

میں آپ کو تین لوگوں کی کہانی سناتا ہوں‘ یہ تینوں مختلف شہروں میں رہتے تھے‘ یہ تینوں میرے جاننے والے تھے اور ان تینوں کی کہانی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھی۔
پہلا شخص ٹام تھا‘ٹام بہت خوبصورت تھا‘ سرخ و سپید رنگ‘ لمبا قد‘ بال ریشمی اور نین نقش تیکھے‘ ٹام کی آواز بھی نشیلی تھی‘ وہ بولتا تھا تو کان کی دیواریں سرور میں آ جاتی تھیں‘ پورے شہر میں اس جیسا کوئی دوسرا خوبصورت نوجوان نہیں تھا‘ وہ جس محلے سے گزرتا تھا‘ لڑکیاں دوڑ کر چھتوں پر آ جاتی تھیں اور اسے اس وقت تک ٹکٹکی باندھ کر دیکھتی رہتی تھیں جب تک وہ ان کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو جاتا تھا‘ حسن  میں ہزار خوبیاں ہوتی ہیں بس اس میں صرف ایک خامی‘ ایک خرابی ہوتی ہے‘ اس کے دشمن بہت ہوتے ہیں۔



دینی جماعتوں سے ایک پُر خلوص‌ التجاء
طارق اقبال سوہدروی
برادران اسلام : اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
یاد رکھیں‌انقلاب لانے کا کوئی آسان طریقہ یا شارٹ‌کٹ نہیں‌ہوتا اور بغیر قربانی کے کوئی انقلاب نہیں‌آتا ، جمہوری طریقے کو آسان سمجھتے ہوئے اسلام کے نفاذ کی اُمید رکھنے والے احباب نادان ہیں ، آسان راستہ تو تب کہیں‌کہ یہ ہمیں‌ہماری منزل تک پہنچا دے ۔ جو طریقہ منزل تک لےہی نہ جا سکے اسے راستہ کہنا ہی زیادتی ہے۔





🌙ایک امت ۔۔۔ ایک آسمان ۔۔۔ ایک چاند  🌙
از  اوریامقبول جان
میں اکثر سوچتا ہوں کہ عین رمضان کے مہینے اور شوال کی عید کے دنوں میں ان لوگوں کی روحیں کس قدر خوش ہوتی ہوں گی، اپنی کامرانی پر ناز کرتی ہوں گی، جنہوں نے امت مسلمہ کو تقسیم کرنے کے لیے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیں۔ ڈیورنڈ لائن کے ایک جانب عید اور دوسری جانب روزہ، پاکستان کے شہر تفتان میں روزہ اور چند قدم دور ایران کے میر جادہ میں عید، اردن میں عید اور شام میں روزہ، سعودی عرب میں عید اور عراق میں روزہ۔ میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ یہ عید اور رمضان پر چاند کا اختلاف صرف پاکستان کا ہی خاصہ ہے لیکن 2005 میں برطانیہ اور 2007 میں ایران میں رمضان گزار کر مجھے اس امت مسلمہ کی بےبسی، کسمپرسی اور بیچارگی پر بہت ترس آیا۔ سب سے زیادہ حیرت تو مجھے برطانیہ کے مسلمانوں پر ہوئی جہاں ملک بھی ایک، مطلع بھی ایک، دیکھنے والے بھی ایک، لیکن کوئی دلیل لاتا ہے کہ چاند سعودی عرب نکل آیا ہے عید کرو، کوئی کہتا ہے کہ چاند ایران میں نکل آیا عید کرو، کوئی اردن اور کوئی انڈونیشیا، حیرت کی بات یہ ہے کہ جو علماءکرام وہاں عید کی نماز پڑھاتے ہیں وہ ہزاروں میل دور چاند دیکھنے کی گواہی پر روزہ بھی رکھواتے ہیں اور عید بھی پڑھاتے ہیں لیکن جب یہ سب اپنے ملک میں ہوتے ہیں تو ہر ایک کو اپنا ملک، اپنا مطلع، اپنی گواہی اور اپنی رویت یاد آ جاتی ہے۔



 کیا دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں اہم امور کے فیصلے کثرت رائے سے کیے جاتے تھے ؟؟



داعیانِ جمہوریت جہاں ایک طرف یہ مغالطہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کثرتِ رائے یا عوامی رائے دہندگی کی بنیاد پر ہوتا تھا ،وہاں یہ فریب کاری بھی کرتے ہیں کہ دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں ہونے والے فیصلوں کو توڑ مروڑ کر زبردستی جمہوریت کے حق میں دلیل بنانے کی مذموم ومردود کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں بھی فیصلے کثرتِ رائے اور عوامی رائے کے مطابق ہوتے تھے۔چناچہ ہم یہاں مختصراً اس بات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہوتا تھا یا صورتحال اس کی برعکس ہے۔