اہم زمرہ جات

 نوازشریف کو اصل خوف کیا ہے؟ اوریا مقبول جان

اگر بددیانتی، کرپشن، منی لانڈرنگ اور وسائل سے زیادہ جائیدادیں بنانے کے الزامات آج سے پندرہ سال پہلے لگائے گئے ہوتے، کسی ڈکٹیٹر نے تفتیش کروا کر فوجی عدالتوں سے سزا سنائی ہوتی یا کسی حکومتی ادارے نے گزشتہ ادوار کی طرح ثبوتوں کے انبار جمع کیے ہوتے، دنیا بھر کے ملکوں میں خاک چھان کر جائیدادوں کی تفصیل جمع کی ہوتی تو نواز شریف کبھی اتنے پریشان نہ ہوتے۔


 جمہوری عفریت سے نجات؟



حامد کمال الدین 

 

یہ مختصر کتابچہ: ہمارے یہاں قائم ’ڈیموکریسی‘ نامی ایک بدیشی نظام کے خاتمے اور شرعِ خداوندی کی مطلق رِٹ بحال کرانے کی دعوت ہے۔ ملک میں اِس ہدف کو عملاً ممکن بنانے کےلیے؛ قوم میں اس پر انتہا درجہ یکسوئی پیدا کرانا ضروری ہے۔ قوم کو یکسوئی کی اس مطلوبہ سطح پر لانے کےلیے؛ کسی باصلاحیت مسلم جمعیت کو یہاں ڈھیروں محنت کرنا ہوگی۔ ہمارے خیال میں اس عمل کا آغاز بھی تاحال کسی قابل ذکر حد تک نہیں ہوا ہے؛ کجا یہ کہ ہم ابھی سے توقع رکھیں کہ اس کے لیے کوئی بڑا قافلہ ترتیب پاجانے والا ہے یا قوم اس نظام کے خاتمہ کےلیے اٹھ کھڑی ہونے والی ہے۔ یہ البتہ واضح ہے کہ کوئی بڑا قافلہ ترتیب پائے بغیر اور قوم کے ایک معتدبہٖ حصے کو اس کے لیے تیار کئے بغیر یہ ہدف حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ اِس ہدف کی جانب پیش قدمی کا تمام تر انحصار اس بات پر ہوگا کہ:
1.     ہم داعیوں کے  ہاں اِس نظام کو رد کرنے پر کس درجہ کی یکسوئی پیدا ہوچکی ہے۔ (’اسلامی نظام‘ کی صدائیں بلند ہونا، جوکہ بڑی دیر سے ہورہی ہیں، ہماری نظر میں ثانوی حیثیت کا حامل ہے۔ پہلے اُس ’غیراسلامی نظام‘ کی بابت اپنی پوزیشن واضح کریں جس کو ہٹائے بغیر آپ کا یہ ’اسلامی نظام‘ کہیں فٹ ہونے والا نہیں ہے)۔
2.     قوم کو اس پہ تیار کرنے پر کس قدر محنت کرلی گئی ہے؟ عوامی ذہن سازی کے محاذ پر آپ کی  کیا  پیش رفت ہے؟
3.     اس ہدف کو حاصل کرنے کیلئے سرگرم افراد، اداروں، جماعتوں اور پروگراموں کے مابین کس درجہ کا اشتراک اور تعاون پایا جانے لگا ہے۔ جمہوریت کو رد کرنے کے معاملہ میں ایک عمومی اتفاق رکھنے کے باوجود، حالیہ مرحلوں کے دوران اس جمہوری نظام کے ساتھ ڈیل کرنے کے موضوع پر اگر اِن اسلامی جمعیتوں کے مابین راستوں اور طریقوں کا اختلاف پایا جاتا ہے  تو اس اختلاف کو قبول کرتے ہوئے، اور اس میں ایک دوسرے کو عذر دیتے ہوئے، ایک وسیع تر دائرہ میں مل کر قافلہ بننے کی، ان جماعتوں کے ہاں کیا کیا صورتیں اختیار کی گئی ہیں؟ باہمی شیرازہ بندی کی کیا تدبیر ہوئی ہے؟ ہر گروپ کے یہاں اپنے جیالوں کو حدود میں رکھنے کا کیا انتظام ہے اور ایک دوسرے کی قیادت کو قبول کرنے پر کس درجہ آمادگی پائی جاتی ہے؟
4.     باطل کو مسترد کرانے کی اِس دعوت کو آگے بڑھانے میں... آپ معاشرے کے باشعور تعلیم یافتہ طبقے کو متاثر کرلینے کی کیسی استعداد سامنے لائے ہیں؟ یہاں کے ادبی وثقافتی عمل کو متاثر کرنے کیلئے آپکے اسلوب اور خطاب میں کس قدر پختگی ہے۔  فکری وسماجی رجحانات کو رخ دینے پر آپکو کیسی دسترس ہے۔ کیونکہ سماجی صلاحیتیوں سے محروم افراد خواہ وہ کتنے ہی نیک، عبادت گزار، مخلص اور جذبے والے کیوں نہ ہوں کسی حقیقی تبدیلی کا علم اٹھاکر چلنے سے بہرحال قاصر ہوتے ہیں۔
5.     قربانی کے جذبے سے کس قدر سرشار ہیں۔ استقامت کس درجہ کی نصیب ہوئی ہے۔



لفظی‘ مشابہت کا خمیازہ!
حامد کمال الدین

لفظی مشابہت کا ’بے ضرر‘ معاملہ ابھی اور بھی سننے سے تعلق رکھتا ہے۔
ہمارے بعض راہنما ہمیں بتاتے رہے کہ مغربی جمہوریت اور ہماری اسلامی جمہوریت میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ ان میں اگر کچھ مشابہت ہے تو وہ محض لفظی قسم کی ہے۔ ان کی یہ بات تو بالکل درست ہے کہ’مغربی جمہوریت‘ اور ’ہماری جمہوریت‘ میں زمین آسمان کا فرق ہے؛ اور یہ تو ایک اندھا بھی دیکھ سکتا ہے۔ تاہم کفار سے اس ’بس ذرا سی مشابہت‘ نے ہمیں جو مار دی، وہ ایک طویل داستان ہے۔ پیچھے ہم اس پر کچھ بات کرچکے۔ لفظی مشابہت کے چند اور پہلو یہاں ذکر کئے جاتے ہیں:



جمہوریت‘ کے پسِ پردہ!
حامد کمال الدین

ایک ذہنی اور نفسیاتی حصار جو ہماری اِس ’جمہوریت‘ کی تہہ میں کارفرما ہے، تین وجوہات سے بےانتہا اہم ہے۔
پہلی اور بڑی وجہ: نظریاتی اور ثقافتی طور پر ہمارا مغرب کا دست نگررہنا؛ تاکہ ہماری جوان نسلیں پہلی نظر میں پہچان سکیں کہ ہمارا نظریاتی قبلہ کس طرف ہے اور سماجی معاملات میں ہمیں ’ہدایت‘ کہاں سے لینی ہے۔ ہمارے نونہال یہ سمجھنے میں دیر نہ لگائیں کہ ہماری اوقات اِس عالمی اسٹیج پر ایک نقال کی ہے؛  جس کی قابلیت کی آخری حد یہ ہے کہ وہ ایک  چلتے نظام کی کامیاب نقل ہی کرکے دکھادے اور جوکہ عام طور پر اس کے بس کی بات نہیں۔ اپنے بچوں پر مغرب کی امامت کی دھاک بٹھارکھنا ہمارے تعلیمی، ابلاغی اور سیاسی سیکٹر کو سونپے گئے مشن کا نہایت اہم حصہ ہے۔



جمہوریت کا عذاب
حامد کمال الدین
’ہمارے ساتھ براہو ا ہے‘...!
یہ شکایت اب بچے بچے کی زبان پر ہے ۔ پتہ چلتا ہے کہ قوم نے ایک بات سمجھی ہے ! یہ کوئی عقدہ نہیں تھا مگراسے کھلنے میں ہمارے ساٹھ سال لگے!!!
مگر یہ سب ہوا کیسے؟ یہ عقدہ کھلنے کے لیے شاید ابھی صدیاں درکار ہیں! اپنے دین کی حقیقت سے قوم کو لا علم رکھنا کتنا بڑا ظلم ہے!
یہ خواری ہوئی کیسے...؟
’مغربی جمہوریت‘ مغرب کی ایک بنیادی ضرورت سہی مگر ہم غریب ترقی پذیر معاشروں کیلئے اس کی نظر میں یہ ایک عیاشی ہے۔ خود مغربی جمہوریت میں بھی ضرور اچھے اور برے پہلو پائے جاتے ہونگے مگر ہمارے لئے ا س کے پاس صرف چھان بچتا ہے۔ جمہوریت کفر سہی پھر بھی اس میں کچھ تو ذائقہ ہو! بر ے پہلوؤں کے ساتھ ساتھ کچھ اچھے پہلو بھی تو ہم سنتے آئے تھے مگر’ہماری‘ جمہوریت میں وہ کہا ں گئے ؟ ہمارے حصے میں کنکر ہی کیوں آئے؟ یہودی اور عیسائی ہمارے ساتھ ہاتھ کر گئے ! بخدا وہ اس قابل کہا ں تھے۔ ہم نے آپ اپنے ساتھ ہاتھ کرلیا۔ ہمارے اسلاف کا پالا بھی تو اِنہی سپر طاقتوں سے پڑا تھا ۔ تب بھی یہی یہودی اور عیسائی تھے۔ مگر ہمارے بڑے ان کی اوقات پہچان گئے تھے کیونکہ وہ قرآن پڑھتے تھے۔ قرآن پڑھنے سے یہ سب باتیں خود بخود معلوم ہوجاتی ہیں ۔ یہودو نصاریٰ کے سب راز فاش ہوجاتے ہیں۔ ان کے بس کی گانٹھ مرجاتی ہے اور یہ بے دست و پا ہوکر رہ جاتے ہیں۔



مغربی‘ کس نے کہا ’’تھرڈ ورلڈ کی جمہوریت’’!
حامد کمال الدین
آج کے اس پوسٹ کولونیل دور (Post Colonialism Era) میں استعمار کی ہر کالونی جس جمہوریت کے قابل سمجھی گئی اسے ویسی ہی جمہوریت دی گئی۔ اگرچہ مسئلہ ’طلب‘ پر نہیں ’رسد‘ پر موقوف تھا مگر یہ مانناپڑےگا کہ ایجاب و قبول کی رسم پوری ہوئے بغیر یہاں کچھ نہیں کیا گیا۔ یہ ہم پر نرا پرا دھکا اور زبردستی نہیں تھی۔ خود جمہوریت کے ’اصول‘ بھی اس کی اجازت نہیں دیتے!
ہمیں جو دیا گیا اسے بخوشی قبول کرنا ہم نے اپنے لئے سعادت جانا۔ پچھلی نصف صدی سے یہاں اب کچھ بھی ہماری مرضی کے بغیر تو نہیں ہوا۔ کوئی کب تک کسی کے ساتھ زبردستی کرسکتا ہے! یہ محض طنز نہیں؛ بلاشبہ ہمیں ایک خاصے بڑے دائرے کے اندر آزادی حاصل ہے۔  یہ الگ بات کہ ہمیں آزادی کا استعمال اتنا ہی آتا تھا! اور اہم تر بات یہ کہ آزادی کا یہ استعمال ہماری ایک طویل ٹریننگ کا نتیجہ تھا! (اور یہ ایک ایسی بات ہے جس کی طرف ہمارے چارہ گروں کی توجہ تقریباً نہیں گئی ہے؛ نہ اس نظام کی حمایت کرنے والوں کی اور نہ اِس کے معترضین کی)۔ اِس لحاظ سے ماننا چاہئے ہماری تربیت اچھی ہوئی تھی! ہماری ’تعلیم‘ پر یونہی اتنا خرچہ نہیں کیا گیا، اور جوکہ استعمار نے یہاں آتے ہی (دوصدی قبل) شروع کردیا تھا۔ صدی بھرشاگرد رہ لینے کے بعد ہمیں اب ’ناں‘ کرنے کی عادت نہ رہی تھی۔ اُدھر سے جو آئے وہ اِدھر آپ سے آپ چلتا ہے۔  نام ہی کافی ہے!  وہ اصلی نہ ہو مگر حوالہ اُدھر کا ہو پھر بھی چلتا ہے۔ یوں جو بھی وہاں سے ملے اس کو غنیمت جاننا بڑے عرصے سے ہما را مسلک ہے۔ ناکارہ سے ناکارہ سسٹم بھی اگر بنا بنایا ملے تو کیا ہی خوب ہے اور اگر وہ کسی چھوٹی موٹی کارروائی سے ’اسلامی‘ بھی ہو سکے پھر تو زہے نصیب! کوئی اتنا بڑا فرق تو ہے نہیں ہم میں اور اُن اقوام میں؛ کسی ہلکی پھلکی بات سے اسلام کے تقاضے بھی پورے کرڈالے جائیں تو مسئلہ ہی حل ہوجائے!مغرب بھی خوش کہ ہم نے ’جمہوریت‘ کو اپنا رکھا ہے (اور جس کے وہ تھوڑی تھوڑی دیر بعد ہم سے روڈمیپ مانگتا ہے)... اور اسلام بھی خوش کہ کم از کم ہم نے اُس کے زبانی تقاضے[1] پورے کرڈالے ہیں!