اہم زمرہ جات




 کیا دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں اہم امور کے فیصلے کثرت رائے سے کیے جاتے تھے ؟؟



داعیانِ جمہوریت جہاں ایک طرف یہ مغالطہ پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ خلفائے راشدین کا انتخاب کثرتِ رائے یا عوامی رائے دہندگی کی بنیاد پر ہوتا تھا ،وہاں یہ فریب کاری بھی کرتے ہیں کہ دورِ نبوی ﷺاور دور خلفائے راشدین میں ہونے والے فیصلوں کو توڑ مروڑ کر زبردستی جمہوریت کے حق میں دلیل بنانے کی مذموم ومردود کوشش کرتے ہیں اور یہ بھی ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں یہاں بھی فیصلے کثرتِ رائے اور عوامی رائے کے مطابق ہوتے تھے۔چناچہ ہم یہاں مختصراً اس بات کا بھی جائزہ لیتے ہیں کہ کیا واقعی ایسا ہوتا تھا یا صورتحال اس کی برعکس ہے۔




فلسفہ چھوٹی بُرائی اور بڑی بُرائی  اور الیکشن میں دینی جماعتوں کی شرکت

حقیقت یہ ہے کہ ایک بڑی برائی کے سد باب کے لئے اس سے ایک کم تر برائی کو اختیار کئے بغیر کوئی چارہ کار نہ ہو تو ایسی کم تر برائی کو اختیار کرنا ایک شرعی اصول ہے۔ ہمیں یہ بات تسلیم ہے۔فقہا ءکرام اس کی مثال یہ بیان کرتے ہیں کہ جب سعد بن معاذ نے بطور ثالث یہود بنی قریظہ کے بالغ مردوں کو قتل اور نابالغوں کو زندہ چھوڑ دینے کا فیصلہ دیا اور رسول اللہ نے سعد کے اس فیصلے کو درست اور لاگو قرار دیا تو بالغ اور نابالغ لڑکوں کے تعین کے لئے صحابہ نے جہاں پر ضرورت محسوس کی ان کو برہنہ کیا۔ چنانچہ کسی کے زیر ناف ستر پر نظر ڈالنا اگرچہ شرعاً ممنوع ہے مگر کسی کی ناحق جان لے لینا اس سے زیادہ بڑا اور کبیرہ گناہ ہے۔ لہذا جہاں کسی کی بلوغت کے بارے میں شک ہوا وہا ں اس کاستر دیکھ لینا کم تر برائی قرارپایا اسی طرح خواتین کےلئے مرد طبیب کے سامنے جب کوئی اور چارہ یا متبادل نہ ہو، جسم کے بعض حصے بغرض علاج کھول دینا جائز قرار دیا گیا ہے۔ کیونکہ جسم کا کوئی حصہ کھولنا اگرچہ ایک برائی ہے مگر جان کا نقصان کرنا اس سے بڑی برائی ہے۔ کسی ظالم کو مال دے کر جان بچا نا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔
بنا بریں اس اصول کے اطلاق کے لئے ان دو شرطوں کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔



کیا  خلافت راشدہ میں خلیفہ کے انتخاب کا طریقہ کار جمہوری ہوتا تھا ؟؟مختصر جائزہ
مؤلف : طارق اقبال سوہدروی


جمہوریت کے دلدادہ لوگ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کا دور سب سے زیادہ جمہوری دور تھا۔خلفائے راشدین کا انتخاب بھی جمہوری طریقے سے ہواتھااور تمام عوام نے بیعت کرکے ان چاروں کو خلیفہ مقرر کیاتھا ۔چناچہ جمہوریت اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بلکہ بعض لوگ یہ کہنے کی جسارت کر بیٹھتے ہیں مغرب میں رائج جمہوری نظام دراصل خلافت راشدہ میں رائج جمہوری نظام سے اخذ کردہ ہے۔انا للہ والیہ راجعون۔ حالانکہ یہ بات قطعاً غلط اور سفید جھوٹ ہے ۔چناچہ اس شبہ کو رد کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے ہم خلفائے راشدین کے طریقہ ٔ انتخاب کا مختصراً جائزہ لینا پڑے گا تاکہ اصل صورتحال معلوم ہوسکے 



کیا  خلافت راشدہ میں خلیفہ کے انتخاب کے طریقےکار کو جمہوری قرار دینا درست ہے ؟؟

جمہوریت کے دلدادہ لوگ کہتے ہیں کہ خلافت راشدہ کا دور سب سے زیادہ جمہوری دور تھا۔خلفائے راشدین کا انتخاب بھی جمہوری طریقے سے ہواتھااور تمام عوام نے بیعت کرکے ان چاروں کو خلیفہ مقرر کیاتھا ۔چناچہ جمہوریت اور اسلام میں کوئی تضاد نہیں ہے۔بلکہ بعض لوگ یہ کہنے کی جسارت کر بیٹھتے ہیں مغرب میں رائج جمہوری نظام دراصل خلافت راشدہ میں رائج جمہوری نظام سے اخذ کردہ ہے۔انا للہ والیہ راجعون۔ حالانکہ یہ بات قطعاً غلط اور سفید جھوٹ ہے ۔چناچہ اس شبہ کو رد کرنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے ہم خلفائے راشدین کے طریقہ ٔ انتخاب کا مختصراً جائزہ لینا پڑے گا تاکہ اصل صورتحال معلوم ہوسکے
خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا انتخاب
جمہوریت کے شیدائی حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بنائے جانے والے واقعے کو توڑ مروڑ کر جمہوریت کے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ’’سقیفہ بنی ساعدہ‘‘اس وقت کا پارلیمنٹ ہاؤس تھا۔مہاجرین و انصار کے تمام قبائلی سرداروں جوکہ اپنے قبیلوں کے نمائندے تھے ،انہوں نے سقیفہ بنی ساعدہ میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔لہذا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کثرت رائے یعنی جمہوری طریقہ سے خلیفہ بنایا گیا‘‘۔


اسلامی حکومت کیسے قائم ہوگی؟الیکشن کامتبادل کیا ہے ؟

 
یہاں یہ دو باتیں واضح ہوجاناضروری ہے کہ:
١۔ اس وقت کی جمہوری انتخابی سیاست میں جس انداز سے اسلام پسندوں کی شرکت ہوتی ہے اس میں بے شمار شرعی مفاسد لازم آتے ہیں۔ جن کی کچھ نشاندہی پیچھے ہم کر آئے ہیں۔اس کی بنیاد پر ’اسلامی حکومت‘ کے قیام کا لہذا یہ کوئی شرعی طریق کار نہیں۔
انتخابی  جدوجہد میں دینی جماعتوں کی   شرکت ، اسلامی اُصولوں کی قربانی کے مترادف ہے !!

٢۔ پھر دوسری بات یہ کہ اس عمل پر شریعت کی موافقت یا ممانعت اگر ذرا دیر کے لئے زیر بحث نہ بھی لائی جائے تب بھی یہ بات شاید کسی سے اوجھل نہ ہو کہ ’اسلامی حکومت‘ کے ہدف تک پہنچنے کےلئے عملاً بھی یہ طریقہ کار گر نہیں۔ اسلام پسندوں کی پچاس سالہ جدو جہد اور انتھک و بے مثال محنت جو اس راستے میں کی گئی یہ بات واضح کردینے کے لئے بہت کافی ہے کہ اس راستے میں اور کچھ بھی ہو اسلامی حکومت قائم ہوجانے کی اس سے امید رکھنا ایک سراب سے زیادہ نہیں۔ درست ہے کہ بظاہر یہ راستہ بند بھی نہیں ہوتا ۔ 



انتخابی  جدوجہد میں دینی جماعتوں کی   شرکت ، اسلامی اُصولوں کی قربانی کے مترادف ہے !!

انتخابات میں شرکت فرمانے والے ہمارے بھائیوں کاکہنا ہے کہ ان کی اس انتخابی جدوجہد کی اصل غرض وغایت یہ ہے کہ ملک میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آجائے ۔ چونکہ رائج نظام کو بدلنے کے لئے بیلٹ بکس کا راستہ اپنانا ہی آج کل آسان اور موثر ترین جانا جاتا ہے اور پر امن راستوں میں یہی اس وقت معروف ترین ہے اس لیے اسلامی نظام کوملک میں قائم کرنے کے لئے اسی راستے کو مناسب ترین سمجھا گیا ہے۔
مگر اس سلسلے میں دیکھنا یہ ہے کہ ہم اپنے دین کے جن اصولوں کواس انتخابی جد وجہد کے ذریعے قائم کرنا چاہتے ہیں ہمارے وہ اصول آیا انتخابی سیاست کے قواعد و ضوابط سے متعارض تو نہیں؟ انتخابی سیاست کے تقاضوں اور ہمارے ان اصولوں کے درمیان کو ئی تعارض پایا جاتا ہے تو پھر انتخابی سیاست کے تقاضوں کوپورا کرنے کے لئے لازماً ہمیں اپنے اصولوں کو توڑنا یا نظرانداز کرنا پڑے گا۔