اہم زمرہ جات

میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں

میز پہ کھانا لگاتے ہوئے اسکا پورا دھیان پلیٹیں سجانے میں تھا اور میری آنکھیں اسکے چہرے پہ جمی تھیں۔ میں نے آہستگی سے اسکا ہاتھ تھاما تو وہ چونک سی گئی
"میں تم سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں" کافی ہمت جتانے کے بعد بلآخر میرے منہ سے نکلا
وہ چپ چاپ کرسی پہ بیٹھ گئی، اسکی نگاہیں چاہے میز پہ مرکوز تھیں پر ان میں سے اٹھتا درد میں بخوبی محسوس کررہا تھا۔ 
ایک پل کے لیے میری زبان پہ تالہ سا لگ گیا پر جو میرے دماغ میں چل رہا تھا اسے بتانا بہت ضروری تھا۔ 

"میں تمہیں طلاق دینا چاہتا ہوں۔۔۔۔" میری آنکھیں جھک گئیں
میری امید کے برعکس اس نے کسی قسم کی حیرانی یا پریشانی کا اظہار نہ کیا بس نرم لہجے میں اتنا پوچھا
"کیوں۔۔۔۔۔؟"
میں نے اسکا سوال نظرانداز کیا۔ اسے میرا یہ رویہ گراں گزرا۔ ہاتھ میں پکڑا چمچ فرش پہ پھینک کے وہ چلانے لگی اور یہ کہہ کے وہاں سے اٹھ گئی کہ
"تم مرد نہیں ہو۔۔۔"
رات بھر ہم دونوں نے ایکدوسرے سے بات نہیں کی۔ وہ روتی رہی۔ میں جانتا تھا کہ اسکے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر ہماری شادی کو ہوا کیا ہے۔۔۔ میرے پاس اس دینے کے لیے کوئی تسلی بخش جواب نہیں تھا۔ اسے کیا بتاتا کہ میرے دل میں اسکی جگہ اب کسی اور نے لے لی ہے۔۔۔ اب اسکے لیے میرے پاس محبت باقی نہیں رہی۔ مجھے اس پہ ترس تو بہت آرہا تھا اور ایک پچھتاوا بھی تھا۔ پر اب میں جو فیصلہ کر چکا تھا اس پہ ڈٹے رہنا ضروری تھا۔
طلاق کے کاغذات عدالت میں جمع کرانے سے پہلے میں نے اس کی ایک کاپی اسے تھمائی جس پہ لکھا تھا کہ وہ طلاق کے بعد گھر، گاڑی اور میرے ذاتی کاروبار کے 30 فیصد کی مالکن بن سکتی ہے۔
اس نے ایک نظر کاغذات پہ دوڑائی اور اگلے ہی لمحے اسکے ٹکڑے کرکے زمین پہ پھینک دیے۔ جس عورت کے ساتھ میں نے اپنی زندگی کے دس سال بتائے تھے وہ ایک پل میں اجنبی ہوگئی۔ مجھے افسوس تھا کہ اس نے اپنے انمول جذبات اور قیمتی لمحے مجھ پہ ضائع کیے پر میں بھی کیا کرتا میرے دل میں کوئی اور اس حد تک گھر کر چکا تھا کہ اس کھونے کا تصور ہی میرے لیے ناممکن تھا۔
بلآخر وہ ٹوٹ کے بکھری اور میرے سامنے ریزہ ریزہ ہوگئی۔ اسکی آنکھوں میں آنسوؤں کا سمندر امڈ آیا تھا۔ شائد یہی وہ چیز تھی جو اس طلاق کے بعد میں دیکھنا چاہتا تھا۔
اگلے روز پورا دن اپنی نئی محبت کے ساتھ بتا کے جب میں تھکا ہارا گھر پہنچا تو وہ میز پہ کاغذ پھیلائے کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔ میں نے اس پہ کوئی دھیان نہ دیا اور جاتے ہی بستر پہ سو گیا۔ دیر رات جب میری آنکھ کھلی تو وہ تب بھی کچھ لکھ رہی تھی۔ اب بھی میں نے اس سے کوئی سوال نہیں کیا۔
صبح جب میں اٹھا تو اس نے طلاق کی کچھ شرائط میرے سامنے رکھ دیں۔ اسے میری دولت اور جائیداد میں سے کچھ نہیں چاہیے تھا۔ وہ بس ایک مہینہ مزید میرے ساتھ رہنا چاہتی تھی۔ اس ایک مہینے میں ہمیں اچھے میاں بیوی کی طرح رہنا تھا۔ اس شرط کی بہت بڑی وجہ ہمارا بیٹا تھا جسکے کچھ ہی دنوں میں امتحانات ہونیوالے تھے۔ والدین کی طلاق کا اسکی تعلیم پہ برا اثر نہ پڑے اس لیے میں اسکی یہ شرط ماننے کو بالکل تیار تھا۔
اسکی دوسری اور احمقانہ شرط یہ تھی کہ میں ہرصبح اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے گھر کے دروازے تک چھوڑنے جاؤں۔ جیسا شادی کے ابتدائی دنوں میں مَیں کرتا تھا۔ وہ جب کام پہ باہر جانے لگتی تو میں خود اسے اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑ آتا تھا۔ حالانکہ میں اسکی یہ بات ماننے کو تیار نہیں تھا لیکن ان آخری دنوں میں اسکا دل توڑنا مناسب نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے یہ شرط بھی مان لی۔
اس کی ان شرائط کے بارے میں جب میں نے اپنی نئی محبت سے ذکر کیا تو وہ ہنس بولی
"وہ چاہے جو بھی کرلے ایک نہ ایک دن طلاق تو اسے ہونی ہی ہے"
میری بیوی اور میں نے اپنی طلاق کے معاملے سے متعلق کسی اور سے ذکر نہ کیا۔
شرط کے مطابق پہلے دن جب مجھے اسے اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے جانا تھا تو وہ لمحات ہم دنوں کے لیے بے حد عجیب تھے۔ ہچکچاتے ہوئے میں نے اسے اٹھایا تو اس نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔ اتنے میں تالیوں کی ایک گونج ہم دونوں کے کانوں میں پڑی
"پاپا نے ممی کو اٹھایا ہوا ہے۔۔۔۔۔ ہاہاہا" ہمارا بیٹا خوشی میں جھوم رہا تھا۔
اسکے الفاظوں سے میرے دل میں ایک درد سا اٹھا اور میری بیوی کی کیفیت بھی لگ بھگ میرے جیسی تھی۔
"پلیز۔۔۔ ! اسے طلاق کے بارے میں کچھ مت بتانا" وہ آہستگی سے بولی
میں نے جواباً سر ہلایا
اسے دروازے تک چھوڑ کے بعد میں اپنے آفس کی طرف نکل پڑا اور وہ بس سٹاپ کی طرف چل دی۔
اگلی صبح اسے اٹھانا میرے لیے قدرے آسان تھا، اور اسکی ہچکچاہٹ میں بھی کمی تھی۔ اس نے اپنا سر میری چھاتی سے لگا لیا۔ ایک عرصے بعد اسکے جسم کی خوشبو میرے حواس سے ٹکرائی۔ میں بغور اسکا جائزہ لینے لگا۔ چہرے کی گہری جھریاں اور سر کے بالوں میں اتری چاندی اس بات کی گواہ تھیں کہ اس نے اس شادی میں بہت کچھ کھویا ہے۔
چار دن مزید گزرے، جب میں نے اسے باہوں میں بھر کے سینے سے لگایا تو ہمارے بیچ کی وہ قربت جو کہیں کھو سی گئی تھی واپس لوٹنے لگی۔ پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ قربت کے وہ جذبات بڑھتے گئے۔
لمحے دنوں کو پَر لگا کے اڑا لے گئے اور مہینہ پورا ہوگیا۔
اس آخری صبح میں جانے کے لیے تیار ہورہا تھا اور وہ بیڈ پہ کپڑے پھیلائے اس پریشانی میں مبتلا تھی کے آج کونسا لباس پہنے۔ کیوں کہ پرانے سارے لباس اسکے نحیف جسم پہ کھلے ہونے لگے تھے۔ اس وقت مجھے اندازہ ہوا کہ وہ کتنی کمزور ہوگئی ہے۔ شائد اسی لیے میں اسے آسانی سے اٹھا لیتا تھا۔ اسکی آنکھوں میں امڈتے درد کو دیکھ کے نہ چاہتے ہوئے بھی میں اسکے پاس چلا آیا اور اسکے کندھے پہ ہاتھ رکھا۔
"پاپا۔۔۔ ! ممی کو باہر گھمانے لے جائیں۔۔۔۔ " ہمارے بیٹے کی آواز میرے کانوں میں پڑی۔ اسکے خیال میں اس پل یہ ضروری تھا کہ میں کسی طرح اسکی ماں کا دل بہلاؤں۔
میری بیوی بیٹے کی طرف مڑی اور اسے سینے سے لگا لیا۔ یہ لمحہ مجھے کمزور نہ کردے یہ سوچ کے میں نے اپنا رخ موڑ لیا۔
آخری بار میں نے اسے اپنی باہوں میں اٹھایا اس نے بھی اپنے بازو میری گردن کے گرد حائل کردیے۔ میں نے اسے مظبوطی سے تھام لیا۔ میری آنکھوں کے سامنے شادی کا وہ دن گردش کرنے لگا جب پہلی بار میں اسے ایسے ہی اٹھا کے اپنے گھر لایا تھا اور وعدہ کیا تھا کہ مرتے دم تک ایسے ہی ہر روز اسے اپنے سینے سے لگا کے رکھوں گا۔ میرے قدم فرش سے شائد جم سے گئے تھے اسی لیے میں بامشکل دروازے تک پہنچا۔ اس نیچے اتارتے ہوئے میں نے اسکے کان میں سرگوشی کی
"شائد ہمارے درمیان قربت کی کمی تھی"
وہ میری آنکھوں میں دیکھنے لگی اور میں اسے وہیں چھوڑ کے اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔ تیز رفتار میں گاڑی چلاتے ہوئے بار بار ایک خوف میرے دل میں گھر کررہا تھا کہ کہیں میں کمزور نہ پڑ جاؤں، اپنا فیصلہ بدل نہ دوں۔ میں نے اس گھر کے دروازے پہ بریک لگائی جہاں نئی منزل میرا انتظار کررہی تھی۔ دروازہ کھلا اور وہ مسکراتے ہوئے میرے سامنے آئی
"مجھے معاف کردو۔ میں اپنی بیوی کو طلاق نہیں دے سکتا" میرے منہ سے نکلے یہ الفاظ اسکے لیے کسی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ وہ میرے پاس آئی اور ماتھے پہ ہاتھ رکھ کے بولی
"شائد تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے یا پھر تم مذاق کررہے ہو"
"نہیں ۔۔۔ ! میں مذاق نہیں کررہا۔ شائد ہماری شادی شدہ زندگی بے رنگ ہوگئی ہے پر میرے دل میں اسکے لیے محبت اب بھی زندہ ہے۔ بس اتنا ہوا ہم ہر وہ چیز بھول گئے جو اس ساتھ کے لیے ضروری تھی۔ دیر سے سہی پر مجھے سب یاد آگیا ہے۔ اور ساتھ نبھانے کا وہ وعدہ بھی یاد ہے جو شادی کے پہلے دن میں نے اس سے کیا تھا"
نئے ہر بندھن کو توڑ کے بعد میں پرانے بندھن کو دوبارہ جوڑنے کے لیے واپس لوٹا۔ میرے ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ تھا جس میں موجود پرچی پہ لکھا تھا
"میں ہر روز ایسے ہی تمہیں اپنی باہوں میں اٹھا کے دروازے تک چھوڑنے آؤں گا۔ صرف موت ہی مجھے ایسا کرنے سے روک سکتی ہے"
میں اپنے گھر میں داخل ہوا اور دوڑتے ہوئے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔ میرے پاس اپنے بیوی کو دینے کے لیے زندگی کا سب سے بڑا تحفہ تھا۔
میں جب اس سے چند لمحوں کی دوری پہ تھا تبھی زندگی کی ڈور اسکے ہاتھوں سے سرک گئی۔
کئی مہینوں تک کینسر کی بیماری سے لڑتے لڑتے وہ ہار چکی تھی۔ نہ اس نے کبھی اپنی تکلیف کا مجھ سے ذکر کیا اور نہ ہی مصروف زندگی نے مجھے اس سے پوچھنے کا موقع دیا۔ جب اسے میری سب سے زیادہ ضرورت تھی تب میں کسی اور کے دل میں اپنے لیے محبت کھوج رہا تھا۔
وہ جانتی تھی کے اسکے پاس زیادہ وقت نہیں ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کے اسکی موت سے قبل طلاق کا اثر ہمارے بیٹے کے دل میں میرے لیے نفرت کا بیج بو دے۔ اس لیے بیتے ایک مہینے میں اس نے بیٹے کے سامنے انتہائی محبت کرنیوالے شوہر کا میرا روپ نقش کردیا۔۔۔ جو حقیقی تو نہیں تھا پر دائمی ضرور بن
یہ کہانی ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنے بے رنگ رشتوں میں رنگ بھرنے کی بجائے ان سے دور بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں۔
کئی بار یہ سمجھنے میں ہم دیر کر دیتے ہیں کہ نئے رشتے قائم کرنا زیادہ صحیح ہے یا پھر پرانے رشتوں میں رنگ بھرے جائیں۔۔۔۔؟ اسکا فیصلہ آپکے ہاتھ میں ضرور ہے لیکن ایسا نہ ہو کہ آپ وقت پہ فیصلہ نہ کر سکیں اور اس تاخیر میں ہاتھ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خالی رہ جائیں۔ تو دیر مت کیجئے۔

وزیرآباد کے ڈبل شاہ سے نوازشریف کے لندن فلیٹس تک از جاوید چوہدری

آپ قسمت ملاحظہ کیجیے۔
وہ غریب گھرانے میں پیدا ہوا‘ ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر بی ایس سی اور بی ایڈ کیا اور وزیر آباد کے قریب نظام آباد کے گورنمنٹ ہائی اسکول میں سائنس کا استاد بھرتی ہو گیا‘ غربت زیادہ تھی اور خواب اونچے‘ وہ نوکری سے اکتا گیا‘ چھٹی لی اور 2004ء میں دوبئی چلا گیا‘ وہ چھ ماہ دوبئی رہا‘ وہ چھ ماہ بعد وزیر آباد واپس آ گیا‘ وزیر آباد میں اس نے ایک عجیب کام شروع کیا‘ اس نے ہمسایوں سے رقم مانگی اور یہ رقم پندرہ دن میں دوگنی کر کے واپس کردی‘ ایک ہمسایہ اس کا پہلا گاہک بنا‘ یہ ہمسایہ جاوید ماربل کے نام سے ماربل کا کاروبار کرتا تھا۔
ہمسائے نے رقم دی اور ٹھیک پندرہ دن بعد دوگنی رقم واپس لے لی‘ محلے کے دو لوگ اگلے گاہک بنے‘ یہ بھی پندرہ دنوں میں دوگنی رقم کے مالک ہو گئے‘ یہ دو گاہک اس کے پاس پندرہ گاہک لے آئے اور یہ پندرہ گاہک مہینے میں ڈیڑھ سو گاہک ہو گئے‘ یوں دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کی لائین لگ گئی‘ لوگ زیورات بیچتے‘ گاڑی‘ دکان‘ مکان اور زمین فروخت کرتے اور رقم اس کے حوالے کر دیتے‘ وہ یہ رقم دوگنی کر کے واپس کر دیتا‘ یہ کاروبار شروع میں صرف نظام آباد تک محدود تھا لیکن پھر یہ وزیر آباد‘ سیالکوٹ اور گوجرانوالہ تک پھیل گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے وہ معمولی اسکول ماسٹر ارب پتی ہو گیا۔
یہ کاروبار 18 ماہ جاری رہا‘ اس نے ان 18 مہینوں میں 43 ہزار لوگوں سے 7 ارب روپے جمع کر لیے‘ کاروبار پھیل گیا تو اس نے اپنے رشتے داروں کو بھی شامل کر لیا‘ یہ رشتے دار سمبڑیال‘ سیالکوٹ‘ گجرات اور گوجرانوالہ سے رقم جمع کرتے تھے‘ پانچ فیصد اپنے پاس رکھتے تھے اور باقی رقم اسے دے دیتے‘ وہ شروع میں پندرہ دنوں میں رقم ڈبل کرتا تھا‘ یہ مدت بعدازاں ایک مہینہ ہوئی پھر دو مہینے اور آخر میں 70 دن ہو گئی‘ یہ سلسلہ چلتا رہا لیکن پھر اس کے برے دن شروع ہوگئے‘ وہ خفیہ اداروں کی نظر میں آ گیا‘ تحقیقات شروع ہوئیں تو پتہ چلا وہ ’’پونزی اسکیم‘‘ چلا رہا ہے۔
پونزی مالیاتی فراڈ کی ایک قسم ہوتی ہے جس میں رقم دینے والا گاہکوں کو ان کی اصل رقم سے منافع لوٹاتا رہتا ہے‘ شروع کے گاہکوں کو دوگنی رقم مل جاتی ہے لیکن آخری گاہک سارے سرمائے سے محروم ہو جاتے ہیں‘ مجھے چند برس قبل امریکا کے موجودہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ایک انٹرویو دیکھنے کا اتفاق ہوا‘ انٹرویو کرنے والے نے ان سے سوال کیا ’’آپ کو اگر اپنی عملی زندگی دوبارہ شروع کرنی پڑے تو آپ کون سا کاروبار کریں گے ’’ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا ’’میں نیٹ ورکنگ کا کاروبار کروں گا‘‘ میرے لیے یہ کاروبار نیا تھا‘ میں نے تحقیق کی‘ پتہ چلا نیٹ ورکنگ بھی پونزی اسکیم جیسا کاروبار ہے۔
اس کاروبار میں بھی گاہک کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر سرمایہ اکٹھا کیا جاتا ہے‘ یہ سرمایہ بعد ازاں میگا پراجیکٹس میں لگا دیا جاتا ہے اور ان میگا پراجیکٹ کا منافع گاہکوں میں تقسیم کر دیا جاتا ہے‘ نیٹ ورکنگ نسبتاً اچھی پونزی ہوتی ہے لیکن دونوں میں شروع کے گاہک فائدے اور آخری نقصان میں رہتے ہیں‘ یہ شخص بھی اپنے گاہکوں کے ساتھ پونزی کر رہا تھا‘ یہ لوگوں کو لالچ دے کر لوٹ رہا تھا‘ خفیہ اداروں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کر دیا‘ اس دوران ’’ڈیلی نیشن‘‘ میں اس کے خلاف خبر شایع ہوگئی۔
گوجرانوالہ ڈویژن میں کہرام برپا ہوا اور یہ اپریل 2007ء میں گرفتار ہو گیا‘ جی ہاں آپ کا اندازہ درست ہے یہ شخص سید سبط الحسن عرف ڈبل شاہ تھا‘ وہ ڈبل شاہ جس کا شمارپاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیوں میں ہوتا تھا‘ اس نے صرف ڈیڑھ سال میں تین اضلاع سے سات ارب روپے جمع کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔
آپ اب اس شخص کی چالاکی ملاحظہ کیجیے‘ یہ 2007ء میں نیب کے شکنجے میں آ گیا‘ نیب نے اس کی جائیداد‘ زمینیں‘ اکاؤنٹس اور سیف پکڑ لیے‘ یہ رقم تین ارب روپے بنی اور اس نے یہ تین ارب روپے چپ چاپ نیب کے حوالے کر دیے‘ ڈبل شاہ کا کیس چلا‘ اسے یکم جولائی 2012ء کو 14 سال قید کی سزا ہو ئی‘ جیل کا دن 12 گھنٹے کا ہوتا ہے چنانچہ ڈبل شاہ کے 14 سال عملاً 7 سال تھے‘ عدالتیں پولیس حراست‘ حوالات اور مقدمے کے دوران گرفتاری کو بھی سزا سمجھتی ہیں‘ ڈبل شاہ 13 اپریل 2007ء کو گرفتار ہوا تھا‘ وہ عدالت کے فیصلے تک پانچ سال قید کاٹ چکا تھا۔
یہ پانچ سال بھی اس کی مجموعی سزا سے نفی ہو گئے‘ پیچھے رہ گئے دو سال‘ ڈبل شاہ نے محسوس کیا چار ارب روپے کے عوض دو سال قید مہنگا سودا نہیں چنانچہ اس نے پلی بارگین کے بجائے سزا قبول کر لی‘ جیل میں اچھے چال چلن‘ عید‘ شب برات اور خون دینے کی وجہ سے بھی قیدیوں کو سزا میں چھوٹ مل جاتی ہے‘ ڈبل شاہ کو یہ چھوٹ بھی مل گئی چنانچہ وہ عدالتی فیصلے کے 23ماہ بعد جیل سے رہا ہوگیا۔
ڈبل شاہ 15مئی 2014ء کوکوٹ لکھپت جیل سے رہا ہوا تو ساتھیوں نے گیٹ پر اس کا استقبال کیا‘ یہ اسے جلوس کی شکل میں وزیر آباد لے آئے‘ وزیر آباد میں ڈبل شاہ کی آمد پر آتش بازی کا مظاہرہ ہوا‘ پاکستانی تاریخ کے سب سے بڑے فراڈیئے کو ہار پہنائے گئے‘ اس پر پھولوں کی منوں پتیاں برسائی گئیں اور اسے مسجدوں کے لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے مبارک باد پیش کی گئی‘ وہ ہر لحاظ سے کامیاب ثابت ہوا‘ وہ اسکول ٹیچر تھا‘ وہ معاشرے کا تیسرے درجے کا شہری تھا‘ اس نے فراڈ شروع کیا اور 18 ماہ میں سات ارب روپے کا مالک بن گیا‘ نیب نے اسے گرفتار کر لیا‘ وہ گرفتار ہو گیا۔
نیب ایڑی چوٹی کا زور لگانے کے باوجود اس سے چار ارب روپے نہیں نکلوا سکا‘ سزا ہوئی اور وہ بڑے آرام سے سزا بھگت کر باہر آ گیا‘ اس نے قید کے دن بھی جیل کے اسپتال اور سیکنڈ کلاس میں گزارے‘ اسے جیل میں تمام سہولتیں حاصل تھیں چنانچہ وہ جب رہا ہوا تو وہ مکمل طور پر کلیئر تھا‘ اس نے اب کسی کو کچھ ادا کرنا تھا اور نہ ہی پولیس اور نیب اسے تنگ کر سکتی تھی‘ یہ چار ارب روپے اب اس کے تھے‘ یہ ان کا بلا شرکت غیرے مالک تھا اور ایک سابق اسکول ٹیچر کے لیے چارب ارب روپے کی رقم قارون کے خزانے سے کم نہیں تھی‘ وہ وزیرآباد سے لاہور شفٹ ہوا اور دنیا بھر کی سہولیات کے ساتھ شاندار زندگی گزارنے لگا لیکن اب آپ اللہ کا نظام بھی ملاحظہ کیجیے۔
سید سبط الحسن شاہ عرف ڈبل شاہ کو رہائی کے 16 ماہ بعداکتوبر 2015ء میں لاہور میں ہارٹ اٹیک ہوا‘ یہ پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے جایا گیا‘ اس کی طبیعت تھوڑی سی بحال ہوئی‘ یہ گھر آیا لیکن پھر یہ 30 اکتوبر 2015ء کو انتقال کر گیا‘ یہ چار ارب روپے کا مالک ہونے کے باوجود دنیا سے چپ چاپ رخصت ہو گیا‘ ڈبل شاہ کی ساری بے نامی جائیداد‘ خفیہ اکاؤنٹس‘ کیش رقم‘ فیکٹریاں اور پلازے دنیا میں رہ گئے اور وہ خالی ہاتھ اگلے جہاں چلا گیا‘ وہ جائیداد‘ وہ رقم‘ وہ پلازے اور وہ خفیہ اکاؤنٹس آج کہاں ہیں؟ دنیا کا مال دنیا کے کتے چاٹ گئے۔
یہ کیا ہے؟ یہ ہماری زندگی‘ ہمارے نہ ختم ہونے والے لالچ اور ہماری لامتناہی حرص کی اصل حقیقت ہے‘ ہم انسان اپنے گرد لالچ کی وسیع دیوار بناتے ہیں‘ ہم مال جمع کرتے ہیں‘ ہم دوسروں کی عمر بھر کی کمائی لوٹتے ہیں اور قارون کی طرح خزانے بناتے ہیں لیکن آخر میں ہم چپ چاپ دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں اور یہ مال دوسروں کے کام آ جاتا ہے‘ نورجہاں کا مقبرہ نشئیوں کی پناہ گاہ بن جاتا ہے اور شاہ جہاں کے تاج محل میں انگریزوں کے گھوڑے باندھے جاتے ہیں۔
ہم انسان ان چیونٹیوں سے بھی بدتر ہیں جو عمر بھر اپنے جثے سے بڑے دانے کھینچتی رہتی ہیں‘ انھیں کھینچ‘ دھکیل کر بلوں تک لاتی ہیں اور جب دانوں کا انبار لگ جاتا ہے تو وہ ان کے سرہانے گر کر مر جاتی ہیں اور پھر ان کی عمر بھر کی جمع پونجی چوہوں کا نوالہ بن جاتی ہے‘ ہم میں سے زیادہ تر لوگ چونٹیاں ہیں‘ ہم لوگ ڈبل شاہ ہوں یا مشتاق رئیسانی ہوں یا پھر ان کے حکمران ہوں ہم سب چیونٹیاں ہیں‘ سرے محل کس کا تھا اور کیا اس کے مالک کو اس میں رہنا نصیب ہوا؟ آپ المیہ دیکھئے سرے محل سرے میں سڑتا رہا اور اس کا مالک پاکستانی جیلوں میں عبرت ناک زندگی گزارتا رہا۔
سوئس اکاؤنٹس سوئس بینکوں میں ذلیل ہوتے رہے اور ان کی مالکہ گڑھی خدا بخش کی مٹی میں مٹی ہو گئی‘ صاحبزادے نے حج‘ ایفی ڈرین اور ای او بی آئی سے اربوں روپے کما لیے لیکن پھر یہ تین سال تک طالبان کے ساتھ پہاڑوں میں دھکے کھاتا رہا اور خاندان دولت کے سلگتے بستروں پر کروٹیں بدلتا رہا اور اب آخر میں فلیٹس میاں نواز شریف کے لیے تنگ جوتا بنتے جا رہے ہیں‘ آپ دیکھ لیجیے گا یہ فلیٹس بھی دنیا میں رہ جائیں گے اور ان کو بچانے‘ ان کے لیے لڑنے والے رخصت ہو جائیں گے‘ میں اکثر حیران ہوتا ہوں‘ ہم انسان جانتے ہیں ہم خسارے کے سوداگر ہیں لیکن ہم اس کے باوجود خسارے کی فیکٹریاں لگاتے ہیں‘ ہم ان سے مزید خسارا پیدا کرتے ہیں اور ہم عمر بھر خسارا بیچتے اور خریدتے رہتے ہیں‘ کیوں؟ آخر کیوں؟ ہم انسان آخر ڈبل شاہ کی موت کیوں پسند کرتے ہیں‘ ہم دولت کے انبار میں کیوں دفن ہونا چاہتے ہیں؟ مجھے آج تک اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
سامری جادوگر کون تھا؟
فرعون کی ہلاکت کے بعد بنی اسرائیل اس کے پنجے سے آزاد ہو کر سب ایمان لائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خداوند کریم کا یہ حکم ہوا کہ وہ چالیس راتوں کا کوہِ طور پر اعتکاف کریں اس کے بعد انہیں کتاب (توراۃ) دی جائے گی۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر چلے گئے اور بنی اسرائیل کو اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے سپرد کردیا۔ آپ چالیس دن تک دن بھر روزہ دار رہ کر ساری رات عبادت میں مشغول رہتے۔اور ادھر سامری کو بنی اسرائیل کو گمراہ کرنے کا موقع مل گیا۔

بنی اسرائیل میں ایک حرامی شخص تھا جس کا نام سامری تھا جو طبعی طور پر نہایت گمراہ اور گمراہ کن آدمی تھا۔ اس کی ماں نے برادری میں رسوائی و بدنامی کے ڈر سے اس کو پیدا ہوتے ہی پہاڑ کے ایک غار میں چھوڑ دیا تھا اور حضرت جبرئیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے اس کو اپنی انگلی سے دودھ پلا پلا کر پالا تھا۔ اس لئے یہ حضرت جبرئیل علیہ السلام کو پہچانتا تھا۔ اس کا پورا نام ''موسیٰ سامری'' ہے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا نام بھی ''موسیٰ'' ہے۔ موسیٰ سامری کو حضرت جبرئیل علیہ السلام نے پالا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پرورش فرعون کے گھر ہوئی تھی۔ مگر خدا کی شان کہ فرعون کے گھر پرورش پانے والے موسیٰ علیہ السلام تو خدا کے رسول ہوئے اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کا پالا ہوا موسیٰ سامری کافر ہوا اور بنی اسرائیل کو گمراہ کر کے اس نے بچھڑے کی پوجا کرائی۔ اس بارے میں کسی عارف نے کیا خوب کہا ہے:۔ اِذَاالْمَرْءُ لَمْ یُخْلَقْ سَعِیْدًا مِّنَ الْاَزَل
فَقَدْ خَابَ مَنْ رَبّٰی وَخَابَ الْمُؤَمِّل
فَمُوْسَی الَّذِیْ رَبَّاہُ جِبْرِیْلُ کَافِرُ
وَمُوْسَی الَّذِیْ رَبَّاہُ فِرْعَوْنُ مُرْسَل
یعنی جب کوئی آدمی ازل ہی سے نیک بخت نہیں ہوتا تو وہ بھی نامراد ہوتا ہے۔ اور اسکی پرورش کرنے والے کی کوشش بھی ناکام اور نامراد ہوتی ہے۔ دیکھ لو موسیٰ سامری جو حضرت جبرئیل علیہ السلام کا پالا ہوا تھا وہ کافر ہوااور حضرت موسیٰ علیہ السلام جو فرعون کی پرورش میں رہے وہ خدا کے رسول ہوئے۔ اس کا راز یہی ہے کہ موسیٰ سامری ازلی شقی اور پیدائشی بدبخت تھا تو حضرت جبرئیل علیہ السلام کی تربیت اور پرورش نے اس کو کچھ بھی نفع نہ دیا،اور وہ کافر کا کافر ہی رہ گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ ازلی سعید اور نیک بخت تھے اس لئے فرعون جیسے کافر کی پرورش سے بھی ان کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
(تفسیر الصاوی،ج
۱،ص۶۳،پ۱،البقرۃ: ۵۱)
جن دنوں حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر معتکف تھے۔ سامری نے آپ کی غیر موجودگی کو غنیمت جانا اور یہ فتنہ برپا کردیا کہ اس نے بنی اسرائیل کے سونے چاندی کے زیورات کو مانگ کر پگھلایا اور اس سے ایک بچھڑا بنایا۔ اور حضرت جبرائیل علیہ السلام کے گھوڑے کے قدموں کی خاک جو اس کے پاس محفوظ تھی اس نے وہ خاک بچھڑے کے منہ میں ڈال دی تو وہ بچھڑا بولنے لگا۔
پھر سامری نے مجمع عام میں یہ تقریر شروع کردی کہ اے بنی اسرائیل! حضرت موسیٰ (علیہ السلام) خدا سے باتیں کرنے کے لئے کوہِ طور پر تشریف لے گئے ہیں لیکن خدا تو خود ہم لوگوں کے پاس آگیا ہے اور بچھڑے کی طرف اشارہ کر کے بولا کہ یہی خدا ہے ''سامری'' نے ایسی گمراہ کن تقریر کی کہ بنی اسرائیل کو بچھڑے کے خدا ہونے کا یقین آگیا اور وہ بچھڑے کو پوجنے لگے۔ اور بارہ ہزار آدمیوں کے سوا ساری قوم نے چاندی سونے کے بچھڑے کو بولتا دیکھ کر اس کو خدا مان لیا اور اس کے آگے سر بسجود ہو کر اس بچھڑے کو پوجنے لگے۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے:۔
ترجمہ:۔ اور موسیٰ کے بعد اس کی قوم اپنے زیوروں سے ایک بچھڑا بنا بیٹھی بے جان کا دھڑ تھا وہ۔گائے کی طرح آواز کرتا۔ (پ
۹،الاعراف:۱۴۸)
جب چالیس دنوں کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام خدا عزوجل سے ہم کلام ہو کر اور توراۃ شریف ساتھ لے کر بستی میں تشریف لائے اور قوم کو بچھڑا پوجتے ہوئے دیکھا تو آپ پر بے حد غضب و جلال طاری ہو گیا۔ آپ نے جوش غضب میں اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کی داڑھی اور سر کے بال پکڑ کر گھسیٹنا اور مارنا شروع کردیا اور فرمانے لگے کہ کیوں تم نے ان لوگوں کو اس کام سے نہیں روکا۔ حضرت ہارون علیہ السلام معذرت کرنے لگے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے:۔
ترجمہ:۔کہا اے میرے ماں جائے قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالیں تو مجھ پر دشمنوں کو نہ ہنسا اور مجھے ظالموں میں نہ ملا۔ (پ9،الاعراف:150)
حضرت ہارون علیہ السلام کی معذرت سن کر حضرت موسیٰ علیہ السلام کا غصہ ٹھنڈا پڑ گیا۔ اس کے بعد آپ نے اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کے لئے رحمت اور مغفرت کی دعا فرمائی۔ پھر آپ نے اس بچھڑے کو توڑ پھوڑ کر اور جلا کر اور اس کو ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوا کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی ہے وہ لوگ بچھڑا پوجنے والوں کو قتل کریں۔ چنانچہ سامری سمیت ستر ہزار بچھڑے کی پوجا کرنے والے قتل ہو گئے ۔اس کے بعد یہ حکم نازل ہوا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام ستر آدمیوں کو منتخب کر کے کوہِ طور پر لے جائیں اور یہ سب لوگ بچھڑا پوجنے والوں کی طرف سے معذرت طلب کرتے ہوئے یہ دعا مانگیں کہ بچھڑا پوجنے والوں کے گناہ معاف ہوجائیں۔
چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چن چن کر اچھے اچھے ستر آدمیوں کو ساتھ لیا اور کوہِ طور پر تشریف لے گئے۔ جب لوگ کوہِ طور پر طلب معذرت و استغفار کرنے لگے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آواز آئی کہ:۔
''اے بنی اسرائیل!میں ہی ہوں، میرے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں میں نے ہی تم لوگوں کو فرعون کے ظلم سے نجات دے کر تم لوگوں کو بچایا ہے لہٰذا تم لوگ فقط میری ہی عبادت کرو اور میرے سوا کسی کو مت پوجو۔
اللہ تعالیٰ کا یہ کلام سن کر یہ ستر آدمی ایک زبان ہو کر کہنے لگے کہ اے موسیٰ!ہم ہرگزہرگز آپ کی بات نہیں مانیں گے جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں۔ یہ ستر آدمی اپنی ضد پر بالکل اَڑ گئے کہ ہم کو آپ خدا کا دیدار کرایئے ورنہ ہم ہرگز نہیں ما نیں گے کہ خداوند عالم نے یہ فرمایا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کو بہت سمجھایا، مگر یہ شریر و سرکش لوگ اپنے مطالبہ پر اڑے رہ گئے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے غضب و جلال کا اظہار اس طرح فرمایا کہ ایک فرشتہ آیا اور اس نے ایک ایسی خوفناک چیخ ماری کہ خوف و ہراس سے لوگوں کے دل پھٹ گئے اور یہ ستر آدمی مر گئے۔ پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوند عالم سے کچھ گفتگو کی اور ان لوگوں کے لئے زندہ ہوجانے کی دعا مانگی تو یہ لوگ زندہ ہو گئے۔(تفسیر صاوی،ج
۱،ص۶۴،۶۵،پ۱،البقرۃ : ۵۵، ۵۶ )
(عجائب القرآن سے ماخوذ)